Surah Al Ikhlas Ki Barkaat | برکات سورۃ اخلاص


برکات سورہ اخلاص


بسم اللہ الرحمن الرحیم
Bismillaahir Rahmaanir Raheem
قل ھواللہ احد
Qul huwal laahu ahad
اللہ الصمد
Allah hus-samad
لم یلد ولم یولد
Lam yalid wa lam yoolad
ولم یکن لہ کفوا احد
Wa lam yakul-lahu kufuwan ahad
وہ لوگ جو عربی رسم الخط پڑھنا نہیں جانتے ہیں اور اس سورہ مبارکہ سے فیض یاب ہونا چاہتے ہیں ان کی افادیت کے لئے رومن انگلش میں لکھ دیا گیا ہے تاکہ ہر فرد اس سورہ کی برکتیں حاصل کر سکیں جس کی تلاوت کے لئے آل محمد علیہم السلام نے کثرت سے تاکید فرمائی ہے ۔


اس سے قبل کہ اس سورہ مبارکہ کے بارے میں کچھ تحریر کروں چند احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پیش کرنے کی سعادت حاصل کروں گا 


اس سورہ مبارکہ کی تین بار تلاوت کرنے والے کو پورے قرآن کے ختم کا ثواب ملتا ہے
یا علیؑ تمہاری مثال میری امت میں ایسی ہے جیسی سورہ اخلاص کی پورے قرآن میں ہے ۔


اس سورہ مبارکہ میں چار آیتیں ہیں اور ” بسم اللہ الرحمن الرحیم” کے ساتھ پانچ آیتوں پر مشتمل ہوجاتی ہے کہا جاتا ہے کہ یہ سورہ مبارکہ مکہ شریف میں سورہ ناس کے بعد پہلی بار نازل ہوئی اس سورہ کی تلاوت کرنا مومن مخلص ہونے کی نشانی ہے ۔


اسمائے مبارکہ


اس مبارک سورہ کو سورہ توحید ، سورہ قل ھو اللہ ، سورہ الاساس اور سورہ نسبت الرب جیسے اسمائے مبارک سے یاد کیا جاتا ہے ۔ اس کے علاوہ دشمنوں کے شر سے محفوظ رہنے ۔ حفاظت اور امن کے لئے کفایت کرنے کی وجہ سے اس سورہ کو سورہ امان بھی کہتے ہیں


مولانا الحاج سید مقبول احمد اعلی اللہ مقامہ
ترجمہ : تم کہہ دو کہ وہ اللہ یکتا ہے ۔ اللہ بے نیاز ہے ۔ نہ وہ کسی کا والد ہے اور نہ (وہ خود) کسی سے پیدا ہوا اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے ۔


مولوی فرمان علی صاحب قبلہ مرحوم
ترجمہ : ( اے رسول ص) تم کہہ دو کہ خدا ایک ہے خدا برحق بے نیاز ہے ۔ نہ اس نے کسی کو جنا نہ اس کو کسی نے جنا اور اس کا کوئی ہمسر نہیں ۔ (بحوالہ قرآن حکیم ناشر نظمی پریس لکھنؤ صفحہ 959)۔


حجتہ الاسلام علامہ حسین بخش صاحب۔
ترجمہ : کہہ دو اللہ ایک ہے اللہ صمد ہے نہ اس نے جنا اور نہ جنا گیا اور نہ اس کا کوئی کفو ہے ۔ بحوالہ تفسیر قرآن انوار النجف جلد نمبر 14 صفحہ 283)۔


السید امداد حسین الکاظمی صاحب
ترجمہ : (اے رسول ص کہہ دو ) کہ اللہ تعالیٰ یکتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ بے نیاز ہے ۔ نہ اس نے کسی کو جنا اور نہ وہ جنا گیا ۔ اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے


مولانا شاہ عبدالقادر دہلوی
ترجمہ ۔ تو کہہ دو وہ اللہ ایک ہے ۔ اللہ بے نیاز ہے ۔ نہ کسی کو جنا نہ کسی سے جنا اور نہیں اس کے جوڑ کا کوئی
بحوالہ قرآن حکیم اردو ترجمہ ناشر تاج کمپنی لاہور ۔ کراچی


مولانا ابو الاعلیٰ مودودی صاحب قبلہ مرحوم
ترجمہ : کہہ دو وہ اللہ ہے ۔ یکتا ہے ۔ اللہ سب سے بے نیاز ہے اور سب اس کے محتاج ہیں نہ اس کی کوئی اولاد ہے اور نہ کسی کی اولاد ۔ اور کوئی اس کا ہمسر نہیں ہے ۔
تفہیم القرآن جلد ششم صفحہ نمبر 535


ترجمہ : اے پیغمبر ص یہ لوگ جو تم سے خدا کا حال پوچھتے ہیں تو تم ان سے کہہ دو کہ وہ اللہ ایک ہے اللہ بے نیاز ہے نہ اس سے کوئی پیدا ہوا اور نہ وہ کسی سے پیدا ہوا اور نہ کوئی اس کے برابر کا ہے
بحوالہ کتاب آفتاب ہدایت قرآن کا اردو ترجمہ صفحہ 752۔


علامہ عنایت اللہ مشرقی
سورہ اخلاص میں کہا ہے کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اعلان کر دو کہ خالق زمین و آسمان صرف ایک ہی ہے وہ تمام کائنات سے بے نیاز ہے وہ قائم بالذات ہے ۔ ازل سے ہے اور ابد تک رہے گا ۔ اس لئے وہ نہ کسی شے سے پیدا ہوا ، نہ اس کی ذات سے کوئی شے پیدا ہوئی ۔ اس بنا پر کوئی دوسری شے اس کی ہم پلہ نہیں ہو سکی ۔
بحوالہ کتاب قرآن حکیم کی تعلیم پر آخری لفظ صفحہ 160 ناشر دفتر اصلاح لاہور ۔


تشریح بزبان آئمہ معصومین علیہم السلام


محمد ابن ابی عمیر نے حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام وارث علم نبوت کے ساتویں تاجدار کی خدمت میں درخواست کی کہ اے فرزند رسولﷺ مجھے خدا کی توحید سے متعارف کروائیے ۔ امام عالی مقام ؑ نے فرمایا کہ خدا نے اپنی مبارک کتاب قرآن حکیم میں جو کچھ بیان کیا ہے اس سے آگے نہ بڑھو ورنہ ہلاکت میں پڑ جاؤگے ۔ یہ جان لو کہ اللہ ایک ہے ۔ یکتا ہے ، بے نیاز ہے ۔ اس نے کسی کو نہیں جنا کہ کوئی اس کا وارث ہو اور نہ ہی وہ کسی سے پیدا ہوا ہے کہ کوئی اس کا شریک ہو ۔ اس کا نہ ہی کوئی ساتھی اور نہ ہی شریک اور نہ ہی کوئی بیٹا ہے وہ ایسا زندہ ہے کہ جس کے لئے موت و فنا نہیں ہے اور ایسا قادر ہے کہ جس کے لئے عجز نہیں ہے اور ایسا قاہر و غالب ہے کہ مغلوب نہیں ہو سکتا ۔ ایسا برداشت کرنے والا ہے کہ اسے جلد بازی کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ ایسا ہمیشہ رہنے والا کہ اس کے لئے فنا نہیں اور ایسا ثابت و قائم ہے کہ اس کے لئے زوال نہیں ہے ایسا غنی ہے کہ اس کے لئے کسی طرح کی محتاجی نہیں ہے ایسا عزت والا ہے کہ اس کے لئے ذلت و رسوائی نہیں اور ایسا عالم ہے کہ اس کے لئے کسی طرح کا جہل نہیں ہے ۔ اور یہ ایسا عادل ہے کہ اس کے لئے ظلم کا وجود نہیں ہے اور وہ اپنی عطا میں بخیل نہیں ہے ۔ عقل اس کا احاطہ کرنے پر قادر نہیں نہ ہی اس تک رسائی کر سکتی ہے ۔ اقطار و اطراف اس کا احاطہ نہیں کر سکتے ۔ مکان و جگہ اسے گھیر نہیں سکتی ۔ نگاہیں اسے پا نہیں سکتیں ۔ وہ لطیف ہے ۔ خبیر ہے ۔ اس کی مثل کوئی شے نہیں ہے ۔ وہ سمیع و بصیر ہے ۔ اگر کہیں تین سرگوشیاں کرنے والے ہوں تو چوتھا وہ ہے ۔ اگر پانچ ہوں تو چھٹا وہ ہے ۔ اس سے کم ہوں یا زیادہ جہاں ہوں وہ (خدا) ان کے ساتھ ہے ۔ وہی اول ہے کہ اس سے پہلے کوئی شے نہیں ، اور آخر ہے کہ اس کے بعد کوئی شے نہیں ہے ، وہی قدیم ہے اس کے علاوہ وہ تمام ( کائنات ) مخلوق احادث ہے اور خدا مخلوق کی صفات سے بلند تر ہے ۔


خاص نکتہ


الاخلاص اس سورہ کا مخلص نام ہی نہیں بلکہ اس کے مضمون کا عنوان بھی ہے ۔ کیونکہ اس میں خالص توحید بیان کی گئی ہے ۔ قرآن مجید کی دوسری سورتوں میں تو بالعموم کسی ایسے لفظ کو ان کا نام قرار دیا گیا ہے جو ان میں وارد ہوا ہو لیکن اس سورہ میں لفظ اخلاص کہیہں وارد نہیں ہوا ہے اس کو یہ نام اس کے معنی کے لحاظ سے دیا گیا ہے ۔ جو شخص بھی اس کو سمجھ کر اس کی تعلیم پر ایمان لے آئے گا وہ شرک سے خلاصی پا جائیگا ۔ یہی وجہ ہے کہ سرکار رسالت ماب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نگاہ میں اس سورہ کی بڑی عظمت تھی اور آپ مختلف طریقوں سے مسلمانوں کو اس سورہ کی اہمیت محسوس کراتے رہتے تھے تاکہ لوگ کثرت سے اس سکی تلاوت کریں اور عوام الناس میں اس سورہ کی عظمت اور اہمیت کو خوب پھیلائیں ۔ کیوں کہ یہ اسلام کے اولین بنیادی عقیدے توحید کو ایسے مختصر فقروں میں جامع طریقہ سے بیان کیا گیا ہے ۔ حتی کہ مخالفین اسلام کو بھی اقرار کرنا پڑا کہ ایسی عمدہ توحید کی تعریف کسی آسمانی کتاب میں نہیں ہے اس سورہ کا اپنا معجزہ یہ ہے کہ اس کی تلاوت فوراً انسان کے ذہن نشین ہوجاتی ہے اور بہت آسانی سے زبانوں پر چڑھ جاتی ہے اور ہر ایک کو آسانی سے یاد ہوجاتی ہے ۔
اس عظیم سورہ کی افادیت کو سرکار رسالت ماب ﷺ نے مختلف طریقوں سے مختلف مواقع پر لوگوں کو بتایا اور کہا کہ اس کی تلاوت کا ثواب ایک تہائی قرآن کے پڑھنے کے برابر ہے ۔ اس حدیث کی روایت ابو سعید خدری ۔ ابو ایوب انصاری ۔ ابو الذردا۔ جابر بن عبداللہ انصاری۔ نسائی ۔ ترمذی ۔ ابن ماجہ ۔ مسند احمد وغیرہ میں منقول ہیں ۔
مفسرین نے حضورﷺ کے ارشاد کی بہت سے توجیہات بیان کی ہیں مگر ہمارے نزدیک سیدھی اور صاف بات یہ ہے کہ قرآن مجید جس کو پیش کرتا ہے اس کے بنیادی اصول توحید ۔ رسالت اور قیامت ہیں یہ سورہ چونکہ اصول دین کی اہم رکن توحید کو بڑے جامع الفاظ میں پیش کرتا ہے جو اللہ کی وحدانیت اور خالص توحید کو ظاہر کرتی ہے ۔ رسالت مآبﷺ کا وجود دنیا میں صرف توحید کی روشنائی کے لئے آیا تھا اس لئے سرکار رسالت ماب اس سورہ کو ہمیشہ اہمیت دیتے تھے اگر نماز میں اس سورہ کی تلاوت کا خیال آجائے اور قاری اس سورہ کو ترک کر دے اور دوسری سورہ کی تلاوت کرلے تو اس قاری کی نماز باطل ہوجائے گی ۔
امیر المومنین حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام اس سورہ مبارکہ کی تلاوت کثرت سے کرتے تھے اور اس سورہ کے الفاظ اور مطلب کو آپ ؑ نے اپنے خطبوں اور دعاؤں میں کثرت سے استعمال کیا ہے اس سورہ کی تلاوت کرنے والے کے گرد رحمت خداوندی سایہ فگن رہتی ہے اس کی تلاوت کے بعد ہر جائز کام کے لئے طلب دعا مقبول ہوتی ہے اس سورہ کے نزول کے بعد تمام مشرکانہ تصورات کا قلع قمع ہوجاتا ہے اور رب جلیل کی ذات کے ساتھ مخلوقات کی صفات میں سے کسی صفت کی آلودگی کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی ۔


شان نزول


اس سورہ کے مکی اور مدنی ہونے میں اختلاف ہے اور یہ اختلاف ان روایات کی بنا پر ہے جو اس کے سبب کے نزول کے بارے میں منقول ہوئی ہیں ذیل میں چند روایت کو تفہیم القرآن جلد ششم صفحہ 531 اور 532 از مولانا ابو الاعلیٰ مودودی ناشر ترجمان القرآن لاہور سے نقل کر رہا ہوں ۔


روایت نمبر 1۔


حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ارشاد فرماتے ہیں کہ قریش کے لوگوں نے حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا کہ اپنے رب کا نسب ہمیں بتائیے ۔ اس پر یہ سورہ نازل ہوائی (طبرانی)۔


خیال رہے کہ اہل عرب کا اپنا قاعدہ تھا کہ جب وہ کسی اجنبی شخص سے تعارف حاصل کرنا چاہتے تو کہتے تھے کہ اس کا نسب ہمیں بتاؤ کیونکہ اس کے یہاں تعارف میں سب سے پہلی چیز جو دریافت طلب ہوتی تھی وہ یہ تھی کہ اس کا نسب کیا ہے اور وہ کس قبیلہ سے تعلق رکھتا ہے اس لئے انہوں نے جب رسول خدا ﷺ سے یہ پوچھنا چاہا کہ آپ ﷺ کا رب کون ہے اور کیسا ہے تو انہوں نے کہا کہ اپنے رب کا نسب ہمیں بتائیے ۔


روایت نمبر 2۔


ابو العالیہ نے حضرت ابی بن کعب کے حوالہ سے بیان کیا ہے کہ مشرکین نے حضرت رسول خڈا ﷺ سے کہا کہ اپنے رب کا نسب ہمیں بتائیے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ مبارک سورہ نازل فرمائی ۔ ( مسند احمد )۔


روایت نمبر 3۔


حضرت جابر بن عبداللہ انصاری کا بیان ہے کہ ایک اعرابی نے ہمارے نبی سرکار رسالت مآب ﷺ سے کہا کہ اپنے رب کا نسب ہمیں بتائیے اس پر رب جلیل کی بارگاہ سے اس سورہ کا نزول ہوا ۔ ( ابو لیلی (بہیقی)۔ ابن جریر وغیرہ ۔


روایت نمبر 4۔


حضرت عکرمہ نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ یہودیوں کا ایک گروہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضڑ ہوا ۔ جس میں کعب بن اشرف اور حُی بن اخطب وغیرہ شامل تھے انہوں نے کہا ” اے محمد ﷺ ہمیں بتائیے کہ آپ کا وہ رب کیسا ہے جس نے آپ کو بھیجا ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ سورہ نازل فرمائی
(ابن ابی حاتم ۔ ابن عدی بہیقی فی الاسماء ولصفات)


تاریخی واقعہ نمبر 1 ۔ روایت نمبر 5


حضرت انس کا بیان ہے کہ خیبر کے کچھ یہودی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے کہا ” اے ابو القاسم ! اللہ نے ملائکہ کو نور حجاب سے ، آدم کو مٹی کے سڑے ہوئے گارے سے ، ابلیس لعین کو آگ کے شعلے سے ، آسمان کو دھوئیں سے اور زمین کو پانی کے جھاگ سے بنایا ۔ اب ہمیں اپنے رب کے متعلق بتائیے ( کہ وہ کس چیز سے بنا ہے ) رسول اللہ ﷺ نے اس با کا کوئی جواب نہ دیا ۔ پھر حضرت جبرئیل امین علیہ السلام آئے اور انہوں نے کہا اے محمد ﷺ ان سے کہو ھو اللہ احد ۔۔۔۔۔

 

تاریخی واقعہ 2 روایت نمبر 6۔


ضخــّاک ۔ قتادہ اور مقاتل کا بیان ہے کہ یہودیوں کے کچھ علماء حضور رسالت مآبﷺ کے پاس آئے اور انہوں نے کہا ” اے محمد ﷺاپنے رب کی کیفیت ہمیں بتائیے ۔ شاید کہ ہم آپ پر ایمان لے آئیں ۔ اللہ نے اپنی صفت توریت میں نازل کی ہے آپ بتائیے کہ وہ کس چیز سے بنا ہے ۔ کس جنس سے ہے ؟ سونے سے بنا ہے یا تانبے سے یا پیتل سے یا لوہے سے یا چاندی سے ؟ اور کیا وہ کھاتا اور پیتا ہے ؟ اور کس سے اس نے دنیا وراثت میں پائی اور اس کے بعد کون اس کا وارث ہوگا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ سورہ نازل فرمائی ۔


تاریخی واقعہ 3۔ روایت نمبر 7


علامہ فخر الدین رازی نے تفسیر کبیر میں اور علامہ طبرسی نے تفسیر مجمع البیان میں اس سورہ کے نزول کے لئے دو قسم کی روایت تحریر کی ہیں جس میں اکثر نے اس سورہ کا نزول مکگہ قرار دیا اور بعض نے مدینہ میں ۔
کہا جاتا ہے کہ مگہ میں پیغمبر اکرم ﷺ نے جب واحد و یکتا خالق عالم کی طرف دعوت دی اور آپ کا پیغام توحید تمام رکاوٹؤں کے باوجود پھیلنے لگا تو کفر و شرک کی دنیا میں تہلکہ مچ گیا ۔ تو مشرکین مگہ نے حضور اکرم ﷺ کو دعوت اسلام سے روکنے کے لئے تین تجاویز کے ساتھ عامر ابن طفیل اور زید بن ربیعہ کو پیغمبر اکرم ﷺ کے پاس بھیجا ۔ عامر ابن طفیل نے سرکار رسالت مآب ﷺ سے کہا آپ نے ہمارے شیرازے کو پارہ پارہ کر دیا ہے ۔ ہمارے معبودوں کو بہت برا بھلا کہا ہے ۔ اگر آپ غریب ہیں تو ہم آپ کو غنی کئے دیتے ہیں اگر دیوانگی ہے تو علاج کرائے دیتے ہیں ۔ اگر کسی خاتون کی خواہش ہے تو اس سے آپ کا عقد کئے دیتے ہیں ۔ پیغمبر اکرم ﷺ نے فرمایا میں نہ ہی محتاج ہوں اور نہ ہی دیوانہ ہوں ۔ نہ کسی خاتون کی خواہش ہے ۔
میں خدا کا رسول ہوں اور تمہیں ان خود ساختہ بتوں سے چھڑانے اور معبود حقیقی کی طرف دعت دینے آیا ہوں عامر نے کہا پھر اپنے معبود کی حقیقت و خاصیت بیان کیجئے کہ وہ سونے یا چاندی کا ہے یا لوہے و لکڑی کا ہے ۔ تو جبرائیل امین علیہ السلام سورہ اخلاص لے کر نازل ہوئے ۔ سرکار رسال مآب ﷺ نے ان لوگوں کے سامنے اس سورہ مبارکہ کی تلاوت کی تو عامر نے کہا جب 365 بت جو خدا ہیں ہماری حاجات پوری نہیں کر سکتے تو ایک خڈا تمام خلائق کی حاجات کیسے پوری کرے گا ۔ عامر ابن طفیل نے یہ سب کچھ سننے کے بعد سرکشی کی تو نتیجتاً بعد کو اس کے اوپر رب جلیل کی طرف سے بجلی گری اور یہ ملعون ہلاک ہوگیا
دوسری روایت میں ہے کہ مدینہ میں یہود کا ایک گروہ کعب بن اشرف کے ساتھ رسول خدا ﷺ کی خدمت میں آیا اور کہا اپنے رب کا تعارف کرائیے کہ سونے ، چاندی کاہے یا یاقوت و زبر جد کا ۔ جواباً پیغمبر اکرم ﷺ نے فرمایا ” کیونکہ وہی تمام مخلوق کا خالق ہے اسے کسی نے پیدا نہیں کیا ہے پھر یہ سورہ نازل ہوئی ۔

 


شان نزول کے متعلق صادقِ آلِ محمد علیہ السلام کا ارشاد


اس سورہ مبارکہ کی شان نزول کی بابت حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام اور حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام سے حدیث مروی ہے کہ معراج کے موقع پر اللہ تبارک تعالیٰ نے اپنے پیارے رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ارشاد فرمایا کہ کہو اقراء اور پھر سورہ قل ھو اللہ احد کی تلاوت کا حکم دیا ۔ سرکار رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سورہ مبارکہ کی تلاوت کی پھر ارشاد خداوندی ہوا ۔ اے میرے حبیب یہ سورہ مبارکہ میری نسب ہے ۔ یہ میری نعمت ہے ۔ اس حدیث پر غور کرنے سے دو باتیں سامنے آتی ہیں ایک تو یہ سورہ قل ھو اللہ احد کے نزول کا محل حالت معراج پیغمبر ہے ۔ اور معراج انتہائے قرب کی وہ منزل ہے جو کسی بندے اور اس کے رب میں ممکن ہو سکتی ہے ۔ یہ قاب قوسین کا مقام ہے ۔ جس کے بعد کسی اور بلندی کا تصور نہیں کیا جا سکتا ہے اس سورہ مبارکہ کا نزول اس انتہائے قرب کی منزل پر جسے اصطلاح میں معراج کہتے ہیں تو پھر یہ سورہ مبارکہ محل نزول سے آزاد ہے ۔ اب اس کی حیثیت ایک کائناتی اور آفاقی حقیقت کی سی ہے جسے زماں و مکاں میں مقید نہیں کیا جا سکتا ۔ خداوند کریم جو اپنی تمام تعریفوں میں اپنی نظیر آپ ہے جس کے تابع دنیا کے تمام امور ہیں ۔ اگر اس معبود کی تعریف اور توصیف کے ساتھ اس کی بارگاہ میں بندہ دالب دعا ہوتا ہے تو اس کی رحمت اپنے بندے کو مایوس نہیں کرتی بلکہ اس کی داد رسی کرتی ہے ۔ اگر ہم اپنی دعا میں اللہ کی تعریف میں وہ جملہ استعمال کریں جو خود اللہ پاک نے اپنی تعریف کے لئے ادا کئے ہیں تو ہماری دعا اس کی بارگاہ میں قبولیت کی منزل سے ہمکنار ہوتی ہے ۔

 


سورہ اخلاص کی برکتیں اقوال معصومین علیہم السلام کی روشنی میں

 


٭    حدیث نبویؐ میں ہے جس نے سورہ اخلاص کی تلاوت کی اس نے ایک تہائی قرآن ختم کی اور اس کی تلاوت کرنے والے کے نامہ اعمال میں ایمان لانے والوں کی تعداد سے دس دس گنا نیکیاں درج کی جائیں گی ۔


٭    سرکار رسالت مآب ؐ نے ارشاد فرمایا ، کیا تم لوگ سونے سے پہلے ایک تہائی قرآن نہیں پڑھ سکتے ۔ اس پر
اصحاب نے عرض کی یا رسول اللہ ؐ یہ کام مشکل معلوم ہوتا ہے ۔ آپ ؐ نے ارشاد فرمایا سونے سے پہلے سورہ اخلاص کی تلاوت کیا کرو۔

 


٭      ایک شخص نے سرار رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تنگدستی اور فقر کی شکات کی تو آپ ؐ نے ارشاد فرمایا کہ گھر میں داخل ہوتے وقت ” السلام علیکم ” کی صدا بلند کرتے ہوئے گھر میں داخل ہوا کرو۔ خواہ کوئی آدمی موجود نہ ہو اور پھر اس کے فوراً بعد سورہ اخلاص ایک دفعہ پڑھا کرو ۔ ایسا کرنے سے خداوند قدوس کی جانب سے تیرے اوپر رزق کے دروازے کھل جائیں گے (تفسیر درمنثور)۔


٭  اس شخص نے ارشاد رسولؐ پر عمل کیا چند دنوں میں اس کی حالت بدل گئی اور وہ اپنے پڑوسیوں کی بھی مدد کرنے لگا ۔ یہ بڑا کامیاب اور آزمودہ عمل ہے اور میرے اپنے روزمرہ کا معمول ہے ۔

 


٭ امیر المومنین حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے فرمایا جس نے صبح کی نماز کے بعد گیارہ مرتبہ سورہ توحید کی تلاوت کی گویا اس نے شیطان کی ناک زمین پر رگڑ دی ۔


٭      صادق آل محمد حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کا ارشاد گرامی ہے کہ گھر سے نکلتے وقت دس مرتبہ سورہ اخلاص کی تلاوت سلامتی کا موجب ہے ۔

 


٭  صادق آل محمد حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کا ارشاد گرامی ہے کہ سورہ توحید کا پڑھنا ہر چار آسمانی کتب کا ایک تہائی قرات کے ثواب کے برابر ہے ۔

 


٭    علامہ رازی نے تفسیر کبیر  میں لکھا کہ ایک روز پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جبرائیل ؑ امین
موجود تھے کہ ابو ذر غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ آتے دکھائی دئیے ۔ جبرائیل ؑ نے کہا یا رسول اللہ ؐ ابوذر آرہے ہیں ۔ رسول خدا ؐ نے کہا تم ابوذر کو پہچانتے ہو ۔ جبرائیل ؑ نے کہا ہاں یا رسول اللہ ؐ، وہ آپ کے یہاں سے زیادہ ہمارے یہاں معروف اور مشہور ہیں ۔


پیغمبر اکرم ؐ نے فرمایا کس فضیلت کی وجہ سے ، کہا وہ اپنے نفس کو حقیر سمجھتے ہیں اور کثرت سے سورہ اخلاص کی تلاوت کرتے ہیں اور آل محمد علیہ السلام پر درود کی بارش کرتے ہیں


تاریخی واقعہ


پیغمبر اکرمؐ نے ایک روز صحابہ سے فرمایا کہ تم میں کون ہے جو ہمیشہ روزہ دار ہو اور ہمیشہ رات عبادت میں بسر کرتا ہو ۔ اور روزانہ ختم قرآن کرتا ہو ۔ سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا یا رسول اللہ ؐ یہ تینوں باتیں میں انجام دیتا ہوں۔ صحابہ کو یہ ناگوار گزرا کہنے لگے یا رسول اللہ ؐ یہ عجمی خواہ مخواہ اپنی برتری قائم کرنا چاہتا ہے ۔ ہم نے اکثر اسے دن میں کھاتے پیتے اور رات کو سوتے ہوئے دیکھا ہے اور قرآن بھی کم پڑھتا ہے ۔
پیغمبر اکرم ؐ نے فرمایا کہ تم خود سلمان سے دریافت کرو۔ جب صحابہ نے دریافت کیا تو سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا میں ہر ماہ تین روزے رکھتا ہوں ، اور خدا کے نزدیک ایک ایک نیکی دس کا ثواب رکھتی ہے اور ماہ شعبان کے روزے بھی رکھتا ہوں جو صوم الدہر کا ثواب رکھتے ہیں اور پیغمبر اکرم ؐ سے میں نے سنا ہے کہ جو شخص رات کو وضو کرکے سوجائے تو اس کی تمام رات عبادت میں شمار ہوتی ہے اور میں روزانہ وضو کرکے سوتا ہوں اور میں نے سنا ہے کہ پیغمبر اکرم ؐ حضرت علی علیہ السلام سے فرما رہے تھے تیری مثال یا علیؑ میری امت میں ایسی ہے جو سورہ اخلاص کی پورے قرآن میں ہے کہ جو شخص سورہ اخلاص کو ایک دفعہ پڑھے تو اسے ایک تہائی قرآن کا ثواب ملے گا اور جو دو دفعہ پڑھے اسے دو تہائی اور جو تین دفعہ پڑھے تو اسے پورا قرآن پڑھنے کا ثواب ملے گا اسی طرح جو شخص تجھ سے (علیؑ سے ) صرف زبانی محبت کرے تو اس کے ایمان کا ایک تہائی حصہ مکمل ہوا اور جو دل و زبان سے تجھے محبوب رکھے اور ہاتھ سے تیری نصرت کرے تو اس کا ایمان مکمل ہوا یا علی ؑ اللہ کی قسم کہ جس نے مجھے برحق نبی بنا کر بھیجا ہے اگر زمین والے تجھ سے اس طرح محبت کرتے جس طرح آسمان والے تجھے چاہتے ہیں تو خدا کسی کو جہنم کی آگ میں نہ ڈالتا ۔ سلمان (رض) کے جواب سے صحابہ خاموش ہوگئے ۔ بحوالہ البرھان

 


تاریخی واقعہ


سعد بن ابی مدافہ صحابی کی میت پر جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز جنازہ پڑھی تو جبرائیلؑ بھی اس نماز میں ستر ہزار فرشتوں کے ساتھ شریک ہوئے ۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جبرائیل ؑ امین سے سعد پر نماز پڑھنے کا سبب دریافت کیا ۔ جبرائیلؑ نے جواب دیا ۔ اے نبی ؐ اللہ! سعد اٹھتے بیٹھتے ہر حالت میں سورہ اخلاص کی تلاوت کرتے تھے ۔ پیغمبر اکرمؐ نے فرمایا ” سورہ اخلاص ایک دفعہ پڑھنے سے ایک ثلث ، دو دفعہ پڑھنے سے دو ثلث اور تین دفعہ پڑھنے سے پورا قرآن پڑھنے کا ثواب ملتا ہے “۔

 


ابو بصیر نے علم نبوت کے پانچویں وارث حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے دانت کے درد کی شکایت کی کہ شدت تکلیف کی وجہ سے رات بھر میں سو بھی نہیں سکا ہوں ۔ امام ؑ نے فرمایا اے ابو بصیر تم درد کی جگہ پر ہاتھ رکھ کر سورہ الحمد اور سورہ اخلاص کی تلاوت کرو پھر اس آیت کو پڑھو
وَتَرَى الْجِبَالَ تَحْسَبُهَا جَامِدَةً وَهِيَ تَمُرُّ مَرَّ السَّحَابِ صُنْعَ اللَّهِ الَّذِي أَتْقَنَ كُلَّ شَيْءٍ إِنَّهُ خَبِيرٌ بِمَا تَفْعَلُونَ (سورہ نمل88)۔
انہوں نے ایسا ہی کیا اور اس کی تکلیف فوراً دور ہوگئی (بحوالہ نور الثقلین)۔
امام علی رضا علیہ السلام نے فرمایا تم میں سے اگر کسی کے سر میں درد ہو یا کوئی اور تکلیف ہو تو منہ کے سامنے ہاتھوں کو کھول کر سورہ اخلاص ، سورہ الفلق اور سورہ الناس پڑھ کر ہاتھوں کو منہ پر پھیرے انشاء اللہ شفاء ہوگی (نور الثقلین ۔ مکارم الاخلاق)۔
سورہ اخلاص کے متعلق حضرت حجت علیہ السلام کا ارشاد ہے کہ وہ نماز کسی طرح بہتر نہیں کہی جا سکتی جس میں سورہ اخلاص کی تلاوت نہیں کی جاتی ۔
حضرت حجت علیہ السلام سے منقول ہے کہ اگر کسی سورہ کا ثواب تم کو پہنچا ہو اور تم اس کو ترک کرکے نماز میں قل ھواللہ احد اور انا انزلناہ کی تلاوت کرو تو ان سوروں کا ثواب ملے گا جن کو ان سورہ کی خاطر ترک کیا(بحوالہ گوہریگانہ علامہ جزائری مدظلہ صفحہ66)۔
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ہے کہ سورہ اخلاص کا پڑھنا ہر چہار آسمانی کتب کی ایک تہائی قرآت کا ثواب رکھتا ہے ۔
حدیث نبویؐ میں ہے کہ جو شخص نماز تہجد کی پہلی دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ کے بعد ہر رکعت میں تیس تیس مرتبہ سورہ اخلاص کی تلاوت کرے تو اس کے تمام گناہ بخشے جائیں گے (بحوالہ تفسیر قرآن انوار النجف صفحہ 282 پارہ 30)۔
روایات اہلبیت علیہم السلام میں ہے کہ سورہ توحید ختم کرنے کے بعد تین مرتبہ کہے “کَذَالِکَ اللہ رَبۤی”۔
اور پھر دعا کرے ضرور مستجاب ہوگی ۔
طبرانی نے صغیر میں حضرت علی علیہ السلام کی روایت نقل کی ہے کہ حضور سرکار رسالت مآبؐ کو ایک دفعہ نماز کی حالت میں بچھو نے کاٹ لیا ۔ جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا ، بچھو  پر خدا کی لعنت ، یہ نہ کسی نمازی کو چھوڑتا ہے نہ کسی اور کو ۔ پھر پانی اور نمک منگوایا اور جہاں بچھو نے کاٹا تھا وہاں آپ نمکین پانی ملتے جاتے تھے اور سورہ قل یا ایھا الکافرون ، قل ھو اللہ احد ۔ قل اعوذ برب الفلق اور قل اعوذ برب الناس کی تلاوت کرتے جاتے تھے (بحوالہ تفہیم القرآن صفحہ 558 از مولانا مودودی صاحب جلد ششم)۔


تاریخی واقعہ

 


سرکار رسالت ؐ نے ایک لشکر کے ساتھ امیر المومنین حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کو سردار لشکر بنا کر بھیجا ۔ جب آپ ؑ فتح و کامرانی کے بعد سرکار رسالت مآبؐ کی خدمت میں واپس لوٹے تو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لشکر والوں سے حضرت علی علیہ السلام کا حال دریافت کیا تو چند افراد نے کہا ان میں سب خیر ہے مگر جب بھی انہوں نے نماز کی امامت کی ہر نماز میں سورہ الحمد کے بعد سورہ قل ھو اللہ احد کی تلاوت کی ۔ سرکار رسالت مآبؐ نے امیر المومنین حضرت علی ابن ابی طالب ؑ سے سورہ اخلاص کے کثرت سے پڑھنے کا سبب پوچھا تو امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے ماں باپ آپ پر فدا اور قربان ہوں یہ سورہ مجھے انتہائی محبوب ہے ۔ پیغمبر اکرمؐ نے فرمایا اے علیؑ اس سورہ کی دوستی سے خدا بھی تجھے دوست رکھتا ہے (بحوالہ مجمع البیان )۔


حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کا ارشاد ہے کہ جو شخص گھر سے نکلتے وقت دس مرتبہ سورہ اخلاص پڑھے گا اپنے گھر واپس لوٹنے تک حفظ و امان میں رہے گا۔

 


امام جعفرصادق علیہ السلام نے فرمایا اے مفضل! لوگوں کے شر سے سورہ اخلاص کے ذریعہ محفوظ رہو تم اپنے دائیں بائیں ۔ آگے پیچھے اور اوپر نیچے اس کی تلاوت کرکے دم کرو ۔ اور جب کسی حاکم کے پاس جاؤ تو اسے دیکھ کر تین بار اس سورہ کی تلاوت کرکے اپنے بائیں ہاتھ کو بلند کرلو اور جب تک حاکم کے سامنے رہو مٹھی بند رکھو۔
ایک روایت کے مطابق جو شخص او و آخر ” بسم اللہ الرحمن الرحیم ” پڑھ کر 52 مرتبہ سورہ اخلاص کی تلاوت کرکے اپنی اپنگی پر دم کرکے دکھتی ہوئی آنکھوں پر لگائے گا اس کی آنکھوں کا درد دورہوجائے گا۔
امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ جو شخص قید میں ہو اور ایک ہزار مرتبہ سورہ اخلاص کی تلاوت کرے گا تو انشاء اللہ قید سے نجات پائے گا ۔
امام جعفر صادق علیہ السلام کا ارشاد ہے کہ ایک سانس میں سورہ اخلاص کی تلاوت مت کرو کیوں کہ اس طرح پڑھنا مکروہ ہے ۔
سرکار رسالت مابؐ کا ارشاد ہے کہ جو شخص سوتے وقت الحمد کو مع سورہ اخلاص کے ساتھ تلاوت کرکے سوئے گا سوائے موت کے ہر چیز سے امن میں رہے گا
نماز کے بعد سورہ اخلاص کو چار مرتبہ تلاوت کرکے خداوند کریم کی بارگاہ میں دس دعا بلند کیا جائے تو دعا مستجاب ہوتی ہے (جو حضرات دعا کے قبول نہ ہونے کا شکوہ کرتے ہیں انہیں دعوت عمل ہے )۔
حدیث نبویؐ میں ہے کہ جب تم قبرستان سے گزرو تو گیارہ مرتبہ سورہ اخلاص کی تلاوت کرکے دفن ہونے والوں کو بخش دو تو ان کی تعداد کے برابر اس کا ثواب ملتا ہے
سورہ اخلاص کو تین یا سات یا گیارہ مرتبہ پڑھ کر آدھے سر کے درد (درد شقیقہ) پر دم کریں تو انشاء اللہ 11 مرتبہ کی تعداد پوری ہونے سے قبل ہی درد کافور ہوجائے گا۔
روایت میں ہے کہ نماز ہائے فریضہ میں پہلی رکعت میں سورہ انا انزلنا اور دوسری رکعت میں سورہ اخلاص کی تلاوت کرنا بہتر ہے ۔
ایک روایت میں ہے جس شخص نے نماز یومیہ میں سارے دن کسی نماز میں بھی سورہ توحید نہیں پڑھی تو گویا اس نے نماز ہی نہیں پڑھی ۔
حدیث نبویؐ میں ہے جو شخص نماز فریضہ کے بعد سورہ اخلاص کو پڑھے اس نے گویا دین دنیا کی بھلائی کو جمع کرلیا پس اس کے والدین کے اور اس کے اولاد کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں
روایت میں ہے جس شخص نے سات دن متواتر کسی نماز میں بھی سورہ اخلاص کی تلاوت نہیں کی اگر مر گیا تو وہ ابو لہب کے دین پر مرے گا ۔

 

 


سورہ اخلاص کے تین  مجرب ترین عمل

 


پریشانی اور مشکلات سے نجات کے لئے تین دن متواتر بعد نماز عشائ دو دو کرکے چار رکعت نماز حاجت کی نیت سے ادا کریں ہر رکعت میں سورہ الحمد کے بعد سورہ اخلاص پچاس مرتبہ تلاوت کرے اور خآتون جنت کا واسطہ دے کر اپنی حاجت طلب کریں

 


برائے ہر حاجت سات روز تک ہر روز بعد نماز فجر خضوع و خشوع کے ساتھ بغیر کسی سے بات چیت کئے ایک جگہ ایک وقت ، سو بار سورہ اخلاص کی تلاوت کریں انشاء اللہ ایک ہفتہ میں ہی حاجت روا ہوگی ۔

 


اول غسل کرکے لباس پاکیزہ پہنے ۔ ہاتھ میں عقیق سرخ یا فیرہزہ کی انگوٹھی پہن کر خلوت میں بیٹھے اور کسی سے بات چیت نہ کرے اس کے بعد دو رکعت نماز حاجت پڑھے اور سورہ الحمد کے بعد جو سورہ چاہے پڑھے بعد اناسی (79) بار سورہ الم نشرح کی تلاوت کرکے ایک ہزار ایک مرتبہ (1001)سورہ اخلاص کی تلاوت کرکے سو مرتبہ درود اور سات مرتبہ سورہ الحمد پڑھ کر رب جلیل کی بارگاہ میں سجدے میں جائے اور خضوع و خشوع کے ساتھ اپنی حاجت بارگاہ باری تعالیٰ میں رو رو کر پیش کرے ۔ انشاء اللہ دعا مستجاب ہوگی
پڑھتے وقت کسی خوشبو کا بخور کرے ۔ شب جمعہ اور عروج ماہ اس عمل کا کرنا زیادہ بہتر ہے البتہ بوقت ضرورت بغیر کسی وقت کی قید کے کسی بھی وقت اس عمل کو انجام دیا جا سکتا ہے ۔

سورہ اخلاص کا نقش

 


بحوالہ کتاب شمع شبستان رضا حصہ اول از حضرت احمد رضا خان بریلوی سورہ اخلاص مندرجہ ذیل ترتیب سے لوح محفوظ پر لکھی گئی ہے ملاحظہ فرمائیے ۔

naqsh surah e ikhlas az shama shabistan e raza


اس نقش کو لکھ کر دریا کے پانی سے دھو کر اس شخص کو پلائے جس کے شکم میں درد ہورہا ہے انشااللہ شفا پائے گا ۔


کوئی شخص لاپتہ ہوگیا ہو تو اس کی بازیا بی کے لئے اس نقش کو لکھ کر مسجد کے بیج دفن کرے غائب حاضر ہوجائے گا۔


جس شخص کو بخار ہو اس نقش کو لکھ کراس کے بازو میں باند دے انشااللہ صحت یاب ہوگا ۔
دیوانہ اور پاگل کے گلے میں لکھ کر ڈالے انشااللہ صحت یاب ہوگا ۔


آسیب جن اور پری کے شر سے محفوظ رہنے کے لئے اس نقش کو لکھ کر سیدھے ہاتھ میں باندھے صحت یاب ہوگا۔


اس نقش معظم کو لکھ کر قرآن کریم کے اندر رکھے جو آرزو ہوگی اس کے متعلق خواب میں علم ہوجائے گا ۔


اس نقش کو لکھ کر آب رواں میں ڈالے کسی مراد کے لئے وہ مراد بر آئے گی انشااللہ ۔


درد سر کی لئے اس نقش کو لکھ کر سر میں با ندھے انشااللہ درد سے نجات پائے گا ۔


شرف آفتاب یا مشتری یا شرف قمر میں اس نقش کو لکھ کر شربت کے ساتھ دھو کر مطلوب کو پلانے سے ایک لحظہ جدا ہونا نہ چاہے گا ۔


دشمن کی ہلا کت کے لئے (مگر خدو مظلوم ہو) اس نقش کو لکھ کر پرانی قبر میں دفن کردے انشاء اللہ دشمن نقصان اٹھائے گا ۔


اس نقش کو لکھ کر صاف پانی سے دھو کر کسی گونگے بچے کو پلایا جائے تو اس کی گویائی ٹھیک ہوجائے گی ۔


ہر قسم کے درد کے لئے اس نقش کے دیکھنے سے آرام ہوگا ۔


اس نقش کو لکھ کر اپنے پاس ، دوکان ، آفس وغیرہ میں رکھے انشااللہ رزق میں بہت برکت ہوگی ۔


اس نقش کو لکھ کر بازو میں باندھ کر جنگ پرجانے والا فتح اور کامرانی ونصرت کے ساتھ واپس آئیگا ۔


دشمن سے دوستی چاہتا ہو تو اس کا نام لے کر اس نقش کو لکھے دشمن دوست بن جائے گا ۔


اس نقش کو مردے کے کفن کے اوپر لکھنے سے عذاب قبر سے اس مرنے والے کو نجات ملے گی ۔


اس نقش کو پاس رکھنے والا خلق خدا کی نظروں میں عزیز ہوگا ۔


اگر شوہر چاہے کہ اس کی عورت کسی اور مرد کی طرف راغب نہ ہو تو اس نقش کو لکھ کر دھو کر اس کو پلا دے ۔ عورت وفادار رہے گی ۔


اس نقش کو رکھنے والا اگر مرے گا تو وہ دنیا سے با ایمان جائے گا ۔


اس نقش کو لکھ کر دریا کے پانی سے دھو کر پیئے تو ابلیس کے مکرو فریب وشر سے نجات پائے گا ۔


اگر اس نقش کو ہرن کی کھال پر لکھ کر اپنے پاس رکھے امن وامان خیر وبرکت کے ساتھ زند گی بسر کرے گا ۔


نافرمان لڑکوں اور بچوں کے گلے میں ڈالنے سے فرمانبردار ہوجایئں گے ۔


خلل مسان کے لئے بروز جمہ لکھ کر اور بچے کے گلے میں ڈالے انشااللہ شفایاب ہوگا ۔


اس نقش کو پاس رکھنے سے جادو ، سفلی اثر نہیں کرتا ۔


یوں تو اس نقش کے بے شمار فوائد ہیں جن کا احا طہ کرنا ممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے جب انسان اس نقش کی زکوٰۃ ادا کر لیتا ہے تو اس پر بے شمار ایسے رموزواسرار منکشف ہوتے ہیں کہ وہ حیران رہ جاتا ہے یہ سب اسی وقت ممکن ہے جب انسان اس ذات وحدت کا ہو کررہ
جائے ۔ پھر آہستہ آہستہ پردے اٹھنا شروع ہو جاتے ہیں مگر یہاں چند فوائد بطور خاص پیش کررہا ہوں کو میرے تجربے کی بنیاد ہیں ۔


اگر کوئی ایسا مریض ہے جس کا علاج کراکر تنگ آچکے ہوں اسے یہ نقش ہر روز پلائیں،یہ ایسی بیماریوں کا علاج ہے جسے ڈاکڑ حضرات لاعلاج تصور کرتے ہیں ۔


جب انسان کسی مصیبت میں گرفتار ہوجائے یا دشمنوں کے نرغے میں گھر جائے تو حیران کن طور پر وہ محفوظ رہتا ہے اور دوران سفر تمام تکالیف سے بچا رہتا ہے ۔
بچوں ، بوڑھوں اور عورتوں کے تمام امراض میں یکساں طور پر کام لیا جاسکتا ہے۔
اس کی برکت سے انسان میں حیران کن طور پر قوت تسخیر پیدا ہوتی ہے ۔


یہ نقش شرف شمس ، مشتری ، قمر اور نوروز عالم افروز میں جس قدر چاہیں لکھیں ۔
نوروز کے وقت  لکھے ہوئے نقوش تمام سال بہترین نتائج دیتے ہیں اور اثر بھی زیادہ رکھتے ہیں ۔

 

نقش لکھنے کا طریقہ 

 


پہلے ایک سے لے کر پندرہ نمبر تک لکھیں ایک بار سورۃ مکمل ہوجائے گی ۔
بھر دوسری لائن نمبر 2 سے شروع کریں یہ بھی دایئں سے بایئں لکھی جائے گی اس کے بعد اسی طرح تیسری اور چوتھی سطر مکمل کریں یہاں تک کہ نقش مکمل ہوجائے ۔
آپ اس نقش کو جدھر سے پرھیں گے سورۃ مکمل ہوگی نمبر 1سے 15تک پڑھیں ہر طرف سے سورۃ مکمل ہوگی ۔
تمام لائینں دائیں سے بائیں اور پھر نیچے تک پر کی جائیں گی ۔ یہی اس نقش کا راز ہے جس نے پالیا وہ کامیاب وہ کامران ہوجائے گا ۔

طریقہ زکوٰۃ

 


روزانہ 360 نقش 40 دن تک لکھیں یہ نقش سفید کاغذ کے ایک طرف لکھیں اور تمام نقوش آٹے کی گولیاں بناکر ان میں ڈال کر دریا میں بہا دیں جس میں مچھلیاں ہوں ۔ چالیسویں دن 361 نقش لکھیں ۔ آخری نقش زعفران سے ہرن کی جھلی پر لکھ کر محفوظ کرلیں ۔ زکوٰۃ میں سبھی پابندیاں ہیں جو عمل میں پائی جاتی ہیں روزانہ کے روزانہ نقش گولیاں بناکر دریا میں بہادیں یا پھر دوسرے تیسرے روزنقوش اکٹھا کرکے بھی بہا سکتے ہیں۔
نوروز عالم افروز یا شرف مشتری میں ایک ہی نشت یں 160 نقش لکیھں بعد میں ایک نقش زعفران سے ہرن کی جھلی پر لکھ کر محفوظ کرلیں ۔ عمل جاری ہوجائے گا اور نقش کو زود اثر بنانے کے لئے ہر روز کم ازکم تین نقوش سفید کاغذ پر ضرور لکھیں وہ روز کے روز ضرورت مندوں کو دے دیں یا پھر بہتے پانی میں بہادیں ۔
اعمال کی تاثیر کے منکرین کو دعوت عام ہے کہ وہ اس علمی کرامت کو ضرور آزمائیں ۔

حب و تسخیر و سورہ اخلاص

 


سورۃ الخلاص حب و تسخیر کے لئے اکسیر کا حکم رکھتی ہے اب جو نقش پیش کرنے جا رہا ہوں یہ بغیر زکٰوۃ کے کام نہیں دیگا یہ نقش محبت کے اعمال کے سلسلے میں چار طریق پر استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔


اول۔ یہ نقش لکھ کر انار کے درخت کے ساتھ لٹکا دیا جائے جیسے جیسے یہ نقش ہوا سے ہلے گا محبوب بے قرار ہوگا۔
دوم ۔ یہ نقش لکھ کر صحرا میں دفن کردیں ، دفن طلوع آفتاب کے بعد اور زوال کے وقت سے پہلے کرنا انسب ہے۔


سوم ۔ ہرروز 21نقش لکھ کر آٹے میں گولیاں بناکر برابر 21دن تک دریا / رواں پانی میںبہادیں یہ کام علی الصبح کریں۔


چھارم ۔ فتیلہ بناکر 21یوم تک برابر جلایئں اور چراغ کا منہ خانہ محبوب کی طرف کریں یا نقش لکھ کر خانہ محبوب میں دفن کردیں دونوں طرح ٹھیک ہے۔

surah e ikhlas naqsh bara e hub o taskheer


اب سب سے پہلے اس نقش کی زکات کا طریقہ تحریر کروں
زکٰوہ کے لئے ایسے ماہ کا اتخاب کریں ۔ جس کے شروع کے چودہ دنوں میں قمردرعقرب نہ ہو زکٰوۃ کے لئے الگ کمرہ مخصوص کرلیں ۔ کمرہ میں اگر بتی ضرور سلگائیں ۔ لباس پاک صاف اور معطر پہنیں بلکہ دوران عمل ایک ہی لباس مخصوص کرلیں ۔
قمری ماہ میں پہلی یعنی نو چندی جمعرات سے ابتداء کریں رجال الغیب پشت پر ہو ۔
مدت عمل اکتالیس یوم ہے ۔ حرام کھانا اور فحش گوئی سے پر ہیز ضروری ہے ۔
بعد نماز عشاء سورۃ الاخلاص 3125 مرتبہ پڑھیں ۔ اول و آخر گیارہ گیارہ مرتبہ درود شریف پڑھیں ۔ اور نماز فجر کے بعد 41 عدد نقش سورۃ الاخلاص لکھا کریں ، تمام نقش گولیاں بناکر ہر روز دریا میں یا رواں پانی میں پھیکنا شرط ہے ۔ تمام گولیاں ایک ایک کرکے ڈالیں ایک ہی وقت میں مت پھینکیں ۔
اگر دریا نزدیک نہ ہو تو اس تالاب کو متخب کریں جس میں مچھلیاں موجود ہوں ۔ اکتالیس یوم کے بعد آپ اس نقش کے عامل بن جایئں گے ۔
نقش تحریر کرنے کے لئے پال پوانٹ کا استعمال ممنوع ہے بہتر ہے کہ زعفران و عرق گلاب سے تیار کردہ سیاہی سے ہی نقوش تحریر کریں البتہ باامر مجبوری پینسل کا استعمال کرسکتے ہیں۔
زکات کی ادائیگی کے بعد چار نقش روزانہ لکھنا شرط ہے یہ نقش آپ خود استعمال کریں یا سائلین کو دے دیں۔
اگر آپ چاہتے ہیں کہ یہ عمل ہمیشہ ہمیشہ آپ کے قابو میں رہے تو روزانہ وقت مقررہ پر بطور وظیفہ سورہ اخلاص 101 مرتبہ پڑھنا ضروری ہے ۔
چند باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے مثلاً
یہ نقش سفید کا غذ پر ایک ہی طرف تحریر کریں ۔
نقش کے نیچے عزیمت ضرور تحریر کریں ۔
نقش صبح کی نماز کے بعد لکھ دیا کریں یا بصورت دیگر عشاء کی نماز کے چار فرض پڑھ کر نقش لکھیں اور بقیہ نماز بعد میں پوری کرلیں مگر ان دنوں قمر در عقرب نہ ہو ۔
محبت کے لئے نقش زعفران اور عرق گلاب کے ساتھ ہرن کی جھلی پر لکیھں ۔ با امر مجوری اچھا کاغذ بھی استعمال کر سکتے ہیں نقش چاندی کے خول میں بند کریں ۔
حاضری مطلوب کے لئے یہ نقش پارچہ محبوب پر لکھیں ۔ با امر مجبوری کاغذ پر لکھیں پاکیزہ روئی میں لپیٹ کر فتیلہ بنا کر تثلیث زہرہ و مشتری میں ساعت زہرہ میں چنبیلی کا تیل ڈال کر جلائیں ۔
چراغ کا منہ خانہ محبوب کی طرف رکھیں جب تک چراغ جلتا رہے آنکھیں بند کرکے مطلوب کا پختہ تصور کرکے چراغ کے سامنے بیٹھے رہیں اور خود برابر سورہ الاخلاص پڑھتے رہیں انشاء اللہ اکیس یوم کے اندر اندر مطلوب ضرور حاضر ہوگا ۔
اگر مطلوب اکیس یوم سے پہلے حاضر ہوجائے تو فتیلہ جلانا بند کریں ایک بار اس عمل کو ضرور ازمائیں انشاء اللہ ناکامی نہیں ہوگی ، ناجاز جگہ پر اسے استعمال نہ کریں ایسا کرنے پر موکلات تکلیف دیتے ہیں ۔
ایک مزید نکتہ بیان کردوں کہ یہاں مطلوب سے مراد کچھ بھی ہو سکتا ہے ۔
عمل ہٰذا پڑھنے میں بہت آسان نظر آتا ہے لیکن یہ کام اتنا آسان نہیں جتنا آپ سمجھ رہے ہیں اگر واقعی خود میں اتنی ہمت و حوصلہ پاتے ہیں تو عمل کی جانب توجہ دیجئے بصورت دیگر وقت کا ضیاع ہی ہوگا ۔
عمل شروع کرنے سے قبل اپنے استاد سے(جو واقعی فن کی گہرائیوں سے واقف ہو) مزید رہنمائی حاصل کرکے عمل کریں تو بہتر ہے اس سلسلہ میں مزید معلومات کے لئے ادارہ سے براہ راست رابطہ فرما سکتےہیں ۔
اس کے علاوہ بھی ایک عمل پیش کرنے کا ارادہ رکھتا تھاجس میں کسی قسم کی زکات کی ضرورت نہیں لیکن اب زمانہ خراب ہے میرے خیال میں اب تک جو لکھ چکا ہوں وہ کافی ہے ۔


اب تک سورہ اخلاص اور متعلقہ اعمال کی بابت کافی تفصیل سے لکھ چکا ہوں اب ایک ایسا عمل پیش کر رہا ہوں جو کسی نعمت سے کم نہیں ، ہدایات جو دی جا رہی ہیں ان پر عمل پیرا ہو کر اپنا دامن مرادوں اور خوشیوں سے بھر سکتے ہیں ۔وہ تمام افراد جو باموکل عمل کے پیچھے سرگرداں ہیں یقینا پسند فرمائیں گے ۔

سورہ اخلاص بامؤکل

 

 


حل المشکلات ، فرحت قلبی، مطلوب کو طالب بنانے ، تسخیر خلائق اور تسخیر مخصوص کے لئے یہ سورہ حد سے زیادہ موثر ہے عاملین کے فرمودات کے مطابق سورہ اخلاص جملہ حاجات کے لئے زود اثر ہے ۔ بے شمار طریق میری نظر سے اس عمل کے گزرے ہیں جن میں عمل کی عزیمتوں کے فرق کے ساتھ طریق بھی جدا ہیں میں یہ نہیں کہتا کہ وہ موثر نہیں البتہ میں وہ طریق پیش کررہا ہوں جس سے ہر فرد مستفید ہو سکتا ہے جو میرا اپنا ذاتی طور پر بارہا کا آزمودہ ہے ۔
یاد رکھیں کہ یہ عمل با موکل ہے اس لئے پرہیز لازمی کریں ترک حیوانات کے ساتھ جلالی جمالی پرہیز کامل اختیار کریں کئی احباب کے نزدیک پرہیز صرف لوگوں کو اعمال سے دور رکھنے کا بہانہ تھا
میں بحث میں نہیں پڑنا چاہتا کتابوں میں کیا لکھا ہے کیا نہیں؟
لیکن ملک پاکستان کے ایک نامور عامل کے جواں سالہ بیٹے کی موت صرف اس وجہ سے ہوئی تھی کہ دوران عمل دوست کے اصرار پر صرف انڈے کا ایک نوالہ کھا لیا تھا قصہ طویل ہے جسے یہاں درج کرنا موضوع کی افادیت کو ختم کر دے گا کبھی موقع ملا تو تفصیلی بیان کروں گا ۔

میں دیکھ رہا ہوں کہ لوگ عجیب عجیب اعمال پیش کر رہے ہیں فیس بک ، یوٹیوب پر بھرمار لگا دی ان اعمال کی ۔ ایسا لگتا ہے کہ ملک پاکستان کی آدھی سے زیادہ آبادی تسخیر موکلات و جنات کی عامل ہے۔


کہیں پریوں کی تسخیر کروائی جا رہی ہے تو کہیں ہر کام بذریعہ موکلات و جنات کیا جا رہا ہے قصور میرے خیال میں عاملین سے زیادہ ان طالب علموں کا ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ بس ایک آدھ جن یا موکل قابو کرلیں باقی کام کی ہمیں کوئی ضرورت ہی نہیں ہے دنیا کے تمام اعمال و فنون اسی موکل یا جن سے سیکھ لیں گے ۔ علمائے متقدمین شاید مرض جنون کا شکار رہے تھے جو اپنی زندگی ایک ایک حرف کو سمجھنے کے لئے وقف کردی انہیں چاہئے تھا کہ ایک جن کا بچہ یا موکل قابو کرلیتے باقی کسی کام کی ضرورت ہی نہ پڑتی ۔ خدارا ان باتوں سے احتیاط کریں یہ نذر  و نیاز کا حلوہ نہیں کہ ہر شخص ان چیزوں کا عامل ہوجائے ۔ عنقریب ان حضرات کے متعلق آنکھوں دیکھا حآل لکھوں گا کہ کس طرح ایک مریض موت کے دہانے پر پہنچ گیا ۔ فی الحال عمل کو بیان کرتا ہوں۔


اب غور سے پڑھئے ، بار بار پڑھئے سمجھئے پھر میدان میں کودئیے


عمل کے اول و آخر میں تین ، سات یا گیارہ مرتبہ درود شریف لازمی پڑھنا ہوگا۔


قلب و زبان اور آنکھ کا ممنوعات شرع سے محفوظ رکھنا ضروری ہے ۔


ظاہری طہارت کے ہمراہ باطنی طہارت و پاکیزگی و خوشبویات کا اہتمام ۔ لباس کی طہارت وغیرہ کا از بس خیال رکھنا ضروری ہے


اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ ان تمام شرائط پر پورا اترتے ہیں تو پھر استخارہ کریں جو بھی استخارہ آپ کے نزدیک معتبر ہوں اس سے مدد لیں یا پھر سات یوم تک ایک جگہ ایک وقت کی پابندی کے ساتھ
گیارہ سو مرتبہ درود نور
اللھم صلی علی محمد وآل محمد نور الانوار و سر الاسرار و سیدالابرار کا ورد اپنے عمل کو کرنے کا قصد رکھ کر پڑھئے اور عمل کی جگہ پر ہی سوجایا کریں بعد از عمل کھانا پینا بات چیت ممنوع ہے ۔ انشاء اللہ سات یوم میں واضح اشارہ مل جائے گا کہ عمل کرنا چاہئے یا نہیں
اگر ممانعت ظاہر ہوتی ہے تو پھر اپنے دل سے اس عمل کا ارادہ نکال دیجئے اگر اجازت ملتی ہے تو پھر ہدایات پر عمل کرتے ہوئے عمل کا آغاز کریں ۔


عمل جب کریں تو یہ نیت یہ ہو کہ فلاں کام کی تکمیل کے لئے اس عمل کو پڑھ رہا ہوں موکل کی تسخیر کا قصد نہ کریں
مقصد کوئی بھی ہو سکتا ہے جیسے ادائیگی قرض ، حصول ملازمت ، دشمنوں سے نجات وغیرہ ۔


جب یہ تمام امور حاضری موکل کے بغیر ہی سر انجام ہو سکتے ہیں تو پھر کوئی وجہ ہی نہیں کہ زبردستی موکل کی حاضری پر مصر ہوں


کسی بھی عروج ماہ میں پہلے عشرہ کے دوران یہ عمل شروع کیا جا سکتا ہے نو چندی جمعرات کا انتخاب زیادہ بہتر ہے اس عمل کے لئے ایک علیحدہ کمرہ ہو جہاں تصاویر یا ٹیلی وژن وغیرہ نہ ہوں ۔ کمرہ پاک و صاف ہو اور خوشبو سے بسا ہوا ہو عمل تنہائی میں باحصار کرنا ہوگا سب سے پہلے نقش کو زعفران اور عرق گلاب کی سیاہی سے اور سر کنڈے کے قلم سے لکھ کر سامنے رکھیں نقش کو بڑی احتیاط سے لکھیں تاکہ غلطی کا احتمال نہ رہے اور دوران عمل تمام وقت آپ کی نظر اس نقش پر رہنا ضروری ہے ۔


طریقہ عمل کے مطابق جاء نماز پر بیٹھ کر درود شریف ایک سو ایک مرتبہ پڑھیں
پھر دو رکعت نماز ہدیہ کریں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو
دو رکعت نماز ہدیہ کریں امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کو
دو رکعت نماز ہدیہ برائے خاتون جنت سلام اللہ علیھا
دو رکعت نماز ہدیہ برائے حسن مجتبی ٰ علیہ السلام
دو رکعت نماز ہدیہ برائے حسین شھید مظلوم کربلا علیہ السلام
اب اسی مقام جہاں نماز ادا کی ہے کھڑے ہوجائیں اور تین بار پڑھیں ” فریاد فریاد بدرگاہ تو بدستی علی مرتضی علیہ السلام ، و حسن مجتبی ؑ ، و حسین شھید مظلوم کربلا ۔ آنچہ مطلوب میدارم بانصرام رساں”۔
پھر اسی جگہ کھڑے رہتے ہوئے ہی حصار کھینچیں
طریقہ حصار اس عمل میں یہ ہے کہ تین بار آیتہ الکرسی ، تین تین بار چاروں قل شریف پڑھیں اور سیدھے ہاتھ کی انگشت شہادت پر دم کریں اور انگلی سے اپنے چاروں طرف فضاء میں ایک دائرہ کھینچ دیں۔
اب اس مقام پر بیٹھ جائیں اور سورہ اخلاص 167 مرتبہ اس طرح پڑھیں۔

Surah e ikhlas ba moakkil


اس کے بعد درود شریف 21بار پڑھنا ضروری ہے مگر یاد رہے کہ دوران عمل نظر نقش پر رہنا ضروری ہے ۔ اس طرح بلاناغہ 6روز تک عمل کریں ۔ آخری دن حسب توفیق دودھ کی فرنی پکا کر فاتحہ دیں ۔ خود بھی کھائیں اور احباب کو بھی کھلائیں ۔
ممکن ہے کہ دوران عمل حاضری ہوجائے ایسی صورت میں جب تک عمل مکمل نہ ہو بات نہ کریں البتہ اگر سلام کریں تو دل ہی دل میں جواب دیکر عمل میں مشغول رہے بعدہ دریافت کرنے پر مقصد بیان کر سکتےہیں ۔ لیکن ایسا ہر فرد کے ساتھ نہیں ہوگا بلکہ غائبانہ طور پر ہی مدد کردی جاتی ہے یا مطلوبہ مقصد کی تکمیل میں معاونت حاصل ہوجاتی ہے ۔
چھ دن میں ہی انشاء اللہ مطلوبہ مقصد پایہ تکمیل کو پہنچ جائے گا اس کے بعد نقش کو آٹے میں ڈال کر سمندر میں بہا دیں ، اس کا مزید ایک طریقہ کار ہے جو میں تحریر نہیں کر رہا ۔ جس کے نصیب میں ہوگا مل جائے گا۔
نقش مثلث و مربع کی چالیں علیحدہ علیحدہ درج کی جا رہی ہیں تاکہ سمجھنے میں دقت نہ ہو ۔
پہلے اصل نقش ملاحظہ فرمائیے ۔

naqsh e surah e ikhlas musallas wa murabba bema azeemat

naqsh e murabba wa musallas ki chaal


جس قدر میں اعمال کی وضاحت کر سکتا تھا کرچکا ہوں ، محنت شاقہ رکھتے ہیں تو عمل کیجئے اور فیض اٹھائیے ۔ آخر میں تمام قارئین خواہ وہ عملیاتی معلومات رکھتے ہوں یا نہ رکھتے ہوں کے لئے ایک گرانقدر تحفہ پیش کر رہا ہوں ، کسی قسم کی کوئی عملیاتی پابندی کی ضرورت نہیں ہر فرد اس عمل کو کر سکتا ہے ۔
اسم ذات اللہ کے اعداد ابجد قمری 66 ہیں ۔ طریقہ کار یہ ہے کہ اول و آخر 14 مرتبہ درود شریف ، 66 مرتبہ یا اللہ ، اس کے بعد 66 مرتبہ سورہ اخلاص کا ورد بعد از نماز عشاء اپنا معمول بنالیں ، عمل کا فائدہ کیا ہوگا ؟ تومناسب ہے کہ فائدے پر توجہ نہ دیتے ہوئے عمل کو عبادت سمجھ کر اپنے معمولات کا حصہ بنا لیں ، ایسے ایسے عجائبات ظہور میں آئیں گے کہ عقل دنگ رہ جائے گی لیکن تاحیات شرط ہے کہ کسی پر ظاہر نہ ہونے دیں کہ کیا وظیفہ پڑھتے ہیں اگر کسی کو بتلانا بھی چاہیں تو یہ ظاہر کرنے کی ضرورت نہیں کہ آپ کے معمول میں بھی یہ وظیفہ ہے ۔ اللہ آپ سب کا حامی و ناصر رہے ۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*