No Picture

لوح نصرت

September 9, 2011 admin 0

زحل کے ان اوقات میں جہاں دیگر مقاصد کے لئے کام کیا جا سکتا ہے وہیں جن میاں بیوی میں تفرقہ ہے یا کسی بڑی جماعت میں عرصہ سے دشمنی وخصومت چلی آرہی ہے یا کسی کو کسی دشمن کا خوف واندیشہ ہے یا کسی میدان جنگ یا خطرناک مقام پر جان جانے کا خوف ہے یا کسی بڑی جماعت پر فتح پانا مقصود ہے اور اس سے حفاظت بھی درکار ہے یا مقدمہ میں فتح پانا مقصود ھے تو ان تمام مقاصد کے لئے بھی اس وقت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے لوح نصرت تیار کی جا سکتی ہے۔

No Picture

Ghāyat al-Ḥakīm Saturn Talisman | طلسم زحل از غائت الحکیم

July 29, 2010 admin 0

سیارہ زحل جو کہ ان دنوں خانہ شرف میں سیر کناں ہے ، کی سعادت سے کس طرح فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے مفصل درج ہے ۔ گو کہ وقت شرف میں تاخیر ہے تاہم زحل کا ایک سعد ترین وقت 23 اگست 2010 ع کو آرہا ہے ۔ اس وقت سے فائدہ اٹھانا آپ کا کام ہے ۔ اس وقت مختلف امور کے لئے اعمال تیار کئے جا سکتے ہیں مثلا دو جماعتوں یا گروپوں یا دو افراد کی دشمنی کو دوستی میں بدل دینا۔ زمین ، جائداد یا ملازمت جانے کا خوف ہو یا کسی جگہ نکاح و نسبت ہو چکی ہو اور ٹوٹنے کا خطرہ ہو تو اسے روک دینا۔ زمین یا جائداد جس کی قسمت میں نہ ہو اسے صاحب جائداد بنانے میں بھی معاون ہے ۔ کسی لیڈر یا مقرر کا قوم پر سرفرازی حاصل کرنا ۔ خلقت پر تسلط حاصل کرنا وغیرہ۔ ۔ ۔ ۔

No Picture

الواح و طلسمات سیارگان از غائت الحکیم

May 15, 2010 admin 0

غائت الحکیم آسٹرالوجی میجک پر لکھی جانے والی ایک مشہور و معروف کتاب ہے جو کہ علامہ مجریطی کی تصنیف ہے ۔ یہ کتاب سنہ ۱۰۰۰ھجری میں اندلس میں عربی زبان میں شائع کی گئی تھی ۔ جس کا لاطینی ترجمہ سنہ ۱۲۵۶ ھجری میںبادشاہ انفسونو نے کروایا ۔اس کتاب میں درج الواح و طلاسم کو تیار کرنے کے لئے علم نجوم کے بہت سے اصولوں کو مد نظر رکھا جاتا ہے ۔ سیارگان کی سعادت و نحوست ، ان کی طاقت ، اور خصوصاََ پیدائشی طالع میں قمر کی طاقت کو دیکھا جاتا ہے اس کے بعد لوح یا طلسم کا انتخاب کیا جاتا ہے جن سے فوری اثرات کا ظہور ہوتا ہے ۔ ایک ہی لوح یا طلسم پوری زندگی کے لئے کافی ہوتا ہے ۔
ان الواح و طلاسم کی تیاری میں جیسا کہ بتایا گیا کہ علم نجوم کے بہت سے اصولوں کو مد نظر رکھنا پڑتا ہے ۔ اسی بات کو مد نظر رکھتے ہوئے ہم گاہے بگاہے ان اصولوں کے ہمراہ الواح و طلاسم تیار کرنے کے طریقہ کار کو پیش کرتے رہیں گے ۔ امید ہے کہ قارئین کے علم میں باعث اضافہ علمی ہوگا۔