اقسام تکسیرات

آپ نے اکثر میرے جفری مضامین میں لفظ “تکسیر جفری ” ضرور پڑھا ہوگا۔ نئے قارئین کے لئے یقیناََ ایک الجھن ہے جبکہ پرانے قارئین اس اصطلاحی لفظ کے معنی سے بخوبی واقف ہیں ۔ اس مرتبہ ہم مختلف تکسیرات کا تذکرہ کرتے ہیں تاکہ مبتدی حضرات کے علم میں اضافہ ہونے کے ساتھ ساتھ ان کی اس الجھن کا بھی تدارک ہوجائے ۔
علم جفر کا شعبہ اخبار ہو یا آثار ۔۔۔۔ تکسیر بنیادی حیثیت کی حامل ہے ۔ اکثر مستحصلات میں اسی کے ذریعہ مستحصلہ برآمد کیا جاتا ہے جبکہ آثار میں بھی جا بجا مختلف تکسیرات کی ضرورت پڑتی ہے ۔
یوں تو تکسیر کی کئی اقسام ہیں لیکن یہاں ہم چند مشہور تکسیر کا تذکرہ کرتے ہیں ۔

تکسیر حرفی ۔ تکسیر کی اس قسم میں حروف کو دائیں سے بائیں جانب سطر میں پھیلایا جاتا ہے اور پھر ایک حرف دائیں سے اور دوسرا حرف بائیں سے لے کر اس وقت تک عمل کیا جاتا ہے جب تک کہ آخر سطر میں اول سطر ظاہر نہ ہوجائے ۔ مثلاََ کلمہ احمد
ا    ح     م    د
ا   د   ح    م
ا    م    د    ح
ا    ح    م   د

تکسیر مزاجین/امتزاج
اکثر اعمال حب میں اس کی ضرورت پڑتی ہے طالب و مطلوب کے ناموں کو باہم امتزاج کیا جاتا ہے اور ایک نئی سطر پیدا کی جاتی ہے ۔ اس نئی سطر کی زمام برآمد کی جاتی ہے ۔ مثلا ایک شخص محمد ہے جو حسین کے لئے عمل حب تیار کر رہا ہے تو ایسی صورت میں پہلے محمد اور حسین کو باہم امتزاج کریں گے جس کا طریقہ یہ ہے پہلے محمد کو بسط حرفی میں ایک سطر میں تحریر کریں گے پھر دوسری سطر میں حسین کو بسط حرفی کی صورت میں تحریر کریں گے اب ایک حرف طالب کا اور مطلوب کا لے کر ایک نئی سطر تیار کریں گے یہ نئی سطر ، سطر امتزاج کہلائے گی ۔ مثلاََ
م    ح    م    د
ح    س   ی   ن

سطر امتزاج یہ ہوئی ۔ م ح ح س م ی د ن ۔
اب اس سطر کو تکسیر حرفی کی طرز پر زمام برآمد کریں گے ۔
م ح ح س  م ی د ن
م ن ح د ح ی س م
م م ن س ح ی د ح
م ح م د ن ی س ح ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(یہ سطر زمام کہلاتی ہے )۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
م ح ح س م ی د ن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ سطر میزان ہوتی ہے (مثل اول سطر)۔

تکسیر قطبی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جفر آثار میں اعمال بغض تیار کرنے میں اس تکسیر کا اکثر استعمال کیا جاتا ہے ۔ اس کا قاعدہ یہ ہے کہ جن دو اشخاص کے درمیان بغض پیدا کرنا ہو تو ان دونوں کے نام معہ والدہ کے درمیان لفظ بغض لکھیں گے اور تکسیر کریں گے یا دونوں کے نام مع والد کے درمیان اسمائے جلالی میں سے کوئی اسم مثلا ََ قابض ۔ مذل ۔ منتقم وغیرہ لکھ کر تکسیر کرتے ہیں اس تکسیر کا قاعدہ ذرا مختلف ہے اول حرف بطور قطب قائم رہتا ہے بۡیہ حروف پہلے بائیں پھر دائیں سے لیکر اس وقت تک عمل کریں گے جب تک زمام برآمد نہ ہوجائے اب کل تکسیر کو نیلے کاغذ پر لکھیں تین نقش بنائیں ۔ سیاہی کالی ہو قلم لوہے کا ہو یا نیم کی لکڑی کا ۔ اب ہر نقش کی پشت پر کل تکسیر کے اعداد کا نقش مثلث خاکی چال سے بنا کر ایک نقش مطلوب کی خواب گاہ میں یا دروازے پر دن کریں دوسرا گزرگاہ میں تیسرا نقش کڑوے تیل میں جلائیں ۔ دوران تحریر نقش لہسین پیاز ہینگ یعنی بدبو دار چیز کی دھونی دیں اوقات نحس میں نقش تیار کریں ۔
تکسیر کی مثال
زید    بغض     بکر
ز  ی   د   ب   غ   ض   ب   ک    ر
ز   ر  ی  ک  د    ب   ب   ض   غ
ز    غ   ر ض  ی  ب  ک   ب  د
ز   د    غ  ب  ر   ک ض ب  ی
ز   ی  د  ب  غ  ض  ب  ک   ر

نوٹ: سطر آخر، سطر میزان ہوتی ہے ۔ تکسیر کی نقل کرتے وقت یہ سطر تحریر نہ کی جائے بلکہ سطر زمام تک تحریر کریں۔

تکسیر افلاطون ۔ علم جفر کا ایک مشکل ترین طریقہ جو کہ جلب طرد صحت اور سقم ہر طرح کے اعمال تیار کرنے میں کامیاب اور موثر طریقہ ہے بشرطیکہ کسی کی سمجھ میں آجائے ۔ اس طریقہ تکسیر کو سمجھنے کے لئے پہلے مندرجہ ذیل باتوں کو سمجھنا ہوگا۔
جاننا چاہئے کہ حروف میں بھی چند سعد حروف چند نحس۔ لہٰذا پہلے اس بات کو جانیں
کہ آتشی حروف میں ا ھ ط م سعد ہیں ۔
بادی حروف میں ک س ق سعد ہیں ۔
خاکی حروف میں ی ن ص سعد ہیں ۔
آبی میں ح ل ع ر سعد ہیں ۔

اسی طرح آتشی حروف میں ف ش ذ نحس ہیں ۔
بادی میں ج ز ث ظ نحس ہیں۔
خاکی میں ب و ت ض نحس ہیں
اور آبی میں د خ غ نحس ہیں ۔

طریقہ تکسیر:۔ یہ ہے کہ ایک سطر میں نام طالب معہ والدہ ، مقصد ، نام مطلوب معہ والدہ اب اس سطر کو بسط حرفی کریں یعنی الگ الگ کرکے لکھیں اور اس کا مندرجہ بالا جدول کے مطابق عنصری تجزیہ کریں یاد رہے کہ اعمال حب کیلئے سعد حروف اور اعمال بغض کے لئے نحس حروف لیں گے ایک سطر میں وہ حروف لکھیں جو آپ نے تجزیہ کے بعد حاصل کئے ہوں ۔ دوسری سطر میں جو عنصر غالب ہو اس سے منسوبہ حروف لیں اب دونوں کا امتزاج کر کے تکسیر کریں ۔

کتب جفر میں اس کے اعمال کے طریقہ استعمال درج ہیں طوالت کے خوف سے فی الحال ترک کرتا ہوں البتہ کوشش کریں گے کہ عنقریب ایک جامع تحریر اس موضوع پر تحریر کریں ۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*