amal e hamzad aur quwat e iradi ka amal | عمل ہمزاد اور قوت ارادی کا عمل

قوت ارادی کا استحکام

قوت ارادی یا قوت اختیاری کا مختصر مگر جامع تذکرہ ہم مضامین گزشتہ میں کرتے ہوئے متلاشیان عمل تسخیر ہمزاد کو پیش کر چکے ہیں اس مرتبہ اس قوت کے استحکام کا طریقہ بتانا مقصود ہے اس لئے کہ جب اس قوت میں استحکام نہ ہوگا ہمزاد کی تسخیر کا عمل مکمل نہ ہوگا اور جب یہی قوت ترقی کرتے کرتے بام عروج پر پہنچ جائے گی تو اس مقام پر قوت مقناطیسی سے پیمان محبت باندھتے ہوئے اس کی معاونت حاصل کرتے ہوئے اتنی زبردست طاقت بن جائے گی کہ چند مہینوں کی مشق کے بعد آپ علاوہ اس عمل تسخیر ہمزاد کے مسمریزم وغیرہ وغیرہ میں انہی قوتوں کے ذریعہ سے کام لے سکتے ہیں ۔ یہی متحدہ قوتیں آپ کے یکسوئی کے ساتھ ایک ادنیٰ اشارے پر اڑتے ہوئے ہوائی جہاز ، دوڑتی ہوئی ریل ، تیز رفتار بحری جہاز اور جادوبیاں مقرر کو آن واحد میں خاموش کر سکتی ہے ۔ مگر کب ؟؟؟
آپ کا فن معراج کمال تک پہنچ چکا ہو ۔
یکسوئی کے ساتھ (اس کا تذکرہ آگے بیان کیا جائے گا ) آپ اپنے دل میں قوت فیصلہ کے تحت یہ ارادہ قائم کرلیں کہ فلاں شخص جو راستہ چلتے ہوئے آپ سے آگے جا رہا ہے رک کر آپ کی طرف مڑے گا اور آپ کو محبت پاش نظروں سے دیکھنے لگے گا اس کی پشت گردن پر نگاہیں جما دیں اور اس وقت علاوہ اس خیال اور کوئی دوسرا خیال آپ کے دل میں جاگزیں نہ ہو اور جہاں کہیں بھی آپ ہوں ترک مشق نہ کرنے کے ساتھ ساتھ علاوہ خیال بالا کے دوران مشق کسی دوسرے خیال کو جگہ نہ دیں تو ہمارا دعویٰ ہے کہ جب آپ کی یہ مشق بام عروج پر پہنچ جائے گی تو خود اختیاری قوت اور قوت مقناطیسی کے زیر اثر ہو کر وہی شخص ایک نہ ایک روز مجبوراً مڑ کر آپ کی طرف دیکھنے لگے گا ۔ چاہے ابتداء میں آپ کو کامیابی نہ ہوئی ہو ۔
آپ کی قوت ارادی برابر مستحکم سے مستحکم تر ہوتی جائے گی جب آپ قوت فیصلہ کے تحت یکسوئی کے ساتھ روزانہ اپنی مشق کو بڑھاتے جائیں گے
ابتداء میں آپ کو تعین وقت و جگہ کا کرنا ہوگا ۔ جب مشق کامیابی کی منزل میں داخل ہوجائے اس وقت آپ اپنی اس مشق کو آزادانہ طور پر جاری رکھ سکتے ہیں ۔
مشق ہر حالت میں جاری رہے گی چاہے عامل انتہائی کمال پر کیوں نہ پہنچ گیا ہو ۔
دوران مشق کسی قسم کا انتشار دل میں پیدا نہ ہونے دیں کہ یہ فعل قوت ارادی کا سب سے بڑا دشمن ہے ۔

قوتوں کا اجتماع اور ان کا تحفظ

جن قوتوں کا ہم مضامین گزشتہ میں ذکر کر چکے ہیں اب وہ مقرر محتاج بیاں نہیں رہیں اس مقام پر اگر ان قوتوں کا اجتماعی تذکرہ اور یکجائی طور پر ان کے تحفظ کا ذکر قلمبند نہ کیا جاتا تو پھر یہ عنوانات تشنہ رہ جاتے لہٰذا معلوم ہونا چاہئے کہ ان قوتوں کا براہ راست تعلق دل و دماغ دونوں سے ہے اور یہ دونوں اعضائے رئیسہ جو جسم انسانی کے اندر بادشاہ و وزیر کا درجہ رکھتے ہیں ان قوتوں کے عروج و زوال پذیر اثرات سے ہمہ وقت متاثر ہوتے رہتے ہیں ۔ عروج پر تقویت اور زوال پر نقاہت کے مضر اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکتے اور جب ان دونوں اعضائے رئیسہ پر ناقص اثرات نے اپنا قبضہ کرلیا تو پھر انسان کے ہر افعال میں کمزوری کا پیدا ہوجانا تعجب خیز عمل نہیں ہے ۔ نہ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت باقی رہ جاتی ہے اور نہ مشکلات پر قابو حاصل کیا جا سکتا ہے۔ پھر اس موقع پر ااپ کو کیا کرنا چاہئے یا اس موقع پر آپ کو کیا کرنا ہوگا اس کا جواب خود آپ کو آپ کا ضمیر دے گا ۔ ہم گزشتہ مضامین  و سطور میں تحریر کر چکے ہیں ، یہاں پر آپ کو ایک لفظ “خواہش ” سے جس کا مفصل تذکرہ اب تک ہم نے کہیں نہیں کیا ، روشناس کروانا مد نظر ہے ۔
خواہش ایک ایسی رغبت کا نام ہے جو ایک قسم کی برقی رو کی صورت میں نہ معلوم طریقے پر انسان کے دل سے خارج ہوتی ہے ۔ اس وقت جبکہ دل انسان کو کسی ایسی چیز کی طرف اس کے حاصل کرنے کے لئے متوجہ کرتا ہے جس کی یہ برقی رو یا بالفاظ دیگر لہر متمنی رہتی ہے تو کمال احتیاط سے اس لہر کی آرزو کو پورا ہونے سے روک دیا جائے اور اس کو پایہ تکمیل تک نہ پہنچنے دیا جائے ۔ اس سے دو فائدے ہونگے اول تو ان تمام قوتوں کا نظام درہم برہم نہ ہوگا جن کا تذکرہ کیا جا چکا ہے اور دوسرا یہ کہ قوت مقناطیسی کو مزید تقویت حاصل ہوگی اور قوت مقناطیسی کی حاصل کردہ اس قوت سے قوت ارادی یا قوت اختیاری کے استحکام میں بھی کافی مدد ملے گی چنانچہ انسان کو اپنی خواہش پر قابو حاصل کرکے اس کی طاقت کو زائل ہونے سے بچا لینا ہی ایک ایسا راز ہے جس کی پوری پوری عکاسی یہاں پر نہیں کی جا سکتی ۔ چونکہ راز کا تذکرہ اس جگہ پر آگیا ہے لہٰذا یہ بھی ظاہر کرتے چلیں کے انسان کی تخلیق بھی پردہ راز ہی میں ہوئی اس کے تمام اعضاء کی پرورش بھی راز ہی کی مرہون منت ہے ۔ اس کی ابتدائی غذا بھی راز ہی راز تھی  کوئی نہیں جانتا کہ شیر مادر کا صحیح خزانہ کہاں ہے کس مقام سےکن کن صورتوں میں اکٹھا ہوکر مقام اخراج سے باہر ہوتا ہے اور پھر یہ بھی تو راز ہی رہا کہ بچے نے اپنی بھوک مٹانے کے لئے شکم سیر ہونے کے واسطے پستان مادر سے ایک تولہ دودھ حاصل کیا یا ایک سیر ۔ بچہ تو درکنار خود اس کی ماں کو بھی یہ علم نہیں کہ آج اس کے نونہال نے اس سے کتنی مقدار میں غذا حاصل کی ہے۔
قطع نظر اس کے کہ خود آپ کو بھی یہ علم نہیں ہوپاتا کہ آپ کے اعضاء نے آپ ہی کے جسم کے اندر سے کب اور کتنی مقدار میں ( جس سے کہ اس کی پرورش ہوتی رہتی ہے ) اپنی خوراک حاصل کی ۔
تو آپ خود جب بمنشاء قدرت ایک راز ہیں تو پھر آپ اپنے ان رازوں کو جن سے کہ آپ بذات خود آگاہ ہوتے ہیں تو پھر دوسروں پر منکشف کرکے اپنی ان قوتوں کو جو کہ آپ کی سرمایہ حیات ہیں کیوں درہم برہم کرتے ہیں ؟؟۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*