مستحصلہ قاعدہ اسمأ اسراریہ ۔ حکیم سرفراز احمد زاھد مرحوم

hakim-sarfraz-ahmad-zahid-jafri-qaida

علم جفر بہت ہی وسیع علم ہے اس کو سمجھنا انتہائی مشکل ہے بلکہ موجودہ دور میں جو تحریری مواد ملتا ہےاگر ان قواعد پر ہی کوئی تحقیق کرنا شروع کرے تو زندگی کے کئی سال درکار ہونگے حد یہ ہے کہ جواب کاحصول تو بہت بعد کی بات ہے سوال کی بندش پر ہی ایسی ایسی بندشیں قائم ہیں کہ الامان الحفیظ  ۔

اس وقت بہت سے لوگوں کو دیکھا جو مستحصلہ کے قواعد سمجھ کر حل کرنے پر قادر ہیں لیکن سطر مستحصلہ پر پہنچ کر ایسے اوٹ پٹانگ جوابات اخذ کرتے ہیں کہ مختلف لغات کے استعمال سے بھی الفاظ کا مفہوم سمجھنا محال ہوتا ہے یا پھر سوال خود کی ذات سے متعلق ہو اور جواب منفی استخراج ہو رہا ہو تو زبردستی حروف کو کھینچ تان کر اپنی مرضی کا جواب استخراج کرکے لکھ دیا جاتا ہے ایسا کیوں ہے؟ تو شاید اس کا جواب یہی ہو سکتا ہے کہ ایسا ہی جفر لکھا گیا ، پڑھایا گیا اور سمجھایا گیا ہاں یہ بات ضرور ہے کہ اکثر جوابیہ سطر انتہائی ادق استخراج ہوتی ہے جسے سمجھنا یا گویا کرنا انتہائی مشکل ثابت ہوتا ہے ۔ البتہ صاف ستھرے سیدھے سیدھے جواب کو بھی اپنی مرضی کے مطابق ڈھال لینا جفر نہیں ۔
گزشتہ دنوں ایک ملکی فلکی جریدہ میں جفر اخبارپر ایک مضمون نظروں سے گزرا۔ آخر میں ایک سوال صاحب تحریر نے خود اپنی ذات سے متعلق کیا اور ایک عجیب و غریب جواب استخراج کرکے پیش کر دیا ۔ جبکہ ذرا سا تدبر سطر مستحصلہ پر کرتے تو جوابیہ حروف کے ساتھ زبردستی نہ کرنا پڑتی اور جواب بھی با معنی با ربط سامنے ہوتا ۔

د ا ر خ ب غ م س ت ق ف و
د ا ر خ ب ن م س ت ق ج ر
خراب دن قسمت جڑ
یہ ایک منفی جواب ہے جبکہ جو جواب موصوف نے استخراج کیا وہ مثبت لیکن بے ربط ۔
اگر تنقید علم کی اصلاح کے لئے کی جائے تو ایسی تنقید سے مزید راہیں کھلتی ہیں یاد رکھیں تنقید کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہوتا کہ آپ کسی کی ذاتیات پر اعتراض کر رہے ہیں بلکہ اعتراض اس کلیہ پر ہوتا ہے جو صاحب قاعدہ پیش کرتا ہے میں اپنی کسی تحریر میں ماضی میں لکھ چکا ہوں کہ جو کچھ اب تک علم جفر پر لکھا جا چکا ہے وہ پیش کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں اور پھر آخر میں ان قواعد پر سیر حاصل بحث ہوگی لیکن یہ تحریری مواد میرے پاس اس قدر ہے کہ روز ایک قاعدہ بھی پیش کروں تو سالہا سال لگ جائیں گے پھر اگر کچھ حقائق لکھنے بیٹھا تو ایک عالم میرا مخالف بنے گا کیوں کہ ہم لوگ شخصیت پرست ہیں لیکن ہم یہ نہیں سوچتے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک شخص اگر آج سچ کہہ رہا ہے تو زندگی بھر وہ سچ ہی لکھتا رہے گا یا یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک شخص جو جھوٹ کہنے کا عادی ہے اس نے زندگی میں کبھی سچ کہا ہی نہ ہو ؟
لکھنے کے لئے بہت کچھ ہے لیکن میں اپنا اور آپ کا قیمتی وقت برباد کرنا نہیں چاہتا وہ تحریر آپ کے لئے پیش کرتا ہوں جو حکیم سرفراز احمد زاہد مرحوم نے قاعدہ اسماء اسراریہ سے متعلق شائع کروائی تھی۔
مرحوم لکھتے ہیں کہ میرے پاس جو کچھ ہے وہ انشاء اللہ جب تک سکت ہے ، دیتا رہوں گا اور بلا بخل لکھوں گا کبھی یہ نہیں ہوگا کہ اصول کچھ لکھے اور جواب بنا دیا جب دوسرا سوال حل کرنے لگے تو جفر خاموش۔ میرا جفر ہر سوال کا جواب دے گا اور ضرور دے گا آزما کر دیکھ لیں ۔ جو لوگ کہتے ہیں کہ مستحصلہ نہیں ملتا وہ اپنے آپ کو دھوکہ دیتے ہیں ۔ یہی جفر ہے اور یہی مستحصلہ ہے اس کے علاوہ کوئی جفر نہیں ہے ۔ ہاں یہ ہو سکتا ہے کہ قواعد مشکل ہوں ۔ مگر جفر یہی ہے ۔ میں تو ایک طالب علم ہوں سیکھ رہا ہوں جو کچھ سیکھ رہا ہوں وہ آپ کے آگے پیش کر رہا ہوں ۔ اب کی دفعہ جو ہیرا اپنی آب و تاب کے ساتھ چمکتا دمکتا باہر آرہا ہے اس کی چمک دل کی آنکھوں کو خیرہ کردے گی ۔
اس کے اصول سادہ ہیں ۔

1۔ سوال لکھیں ۔ جس میں سب مطلب واضح ہو اور اس کو بسط کرلیں ۔

2۔ اس سطر بسط سے پہلے چار چار کی طرح دیں ۔ یہ ایک سطر ہوگی

پھر سات سات کی طرح دیں ۔ یہ دوسری سطر ہوگی ۔

پھر 9 کی طرح دیں یہ تیسری سطر ہوگی ۔

3۔ان تینوں سطور کو امتزاج دیں اب ایک دفعہ موخر صدر کریں ۔ طریقہ سب جانتے ہیں ۔ پلے آخر کا حرف پھر پہلا حرف ۔ اسی طرح تمام سطر کو گردش دیں ۔

4۔ اب اس صدر موخر سطر کے نیچے اسماء الہیہ لکھیں وہ یہ ہیں ۔
نور ۔ مبین ۔ ھادی ۔ محیط۔ خبیر۔باسط۔مطھر۔قدیر۔مجیب ۔واسع

5۔اب سطر موخر صدر اور اسماء الہیہ دونوں کے مخارج معلوم کریں ۔ یعنی

موخر صدر ۔ ا ب ج د

اسماء ۔      ھ ا د ی

مخارج ۔      و ج ز ن   ۔

سطر موخر صدر کے حرف اور اسماء الہیہ کے حرف کے مراتب جمع کرکے جو عدد ھو اب اس کا حر ف ابجد قمری سے بنائیں یہی مخارج ہے۔
6۔ اب سطر مخارج کا اضعاف کریں یعنی ہر حرف کا دگنا کرکے حروف بنا کر لکھیں مثلاً حرف ف ۔ عدد 80 ۔ دگنا 160 ۔ حروف س ق
7۔ اب اس سطر کو تخلیص کریں ۔ ایک دفعہ موخر صدر کریں ۔ یہی سطر جوابی ہے ۔ اگر کوئی حرف ناطق نہ ہو تو نظیرہ دیں ۔ اب مثالیں درج ہیں ۔

سوال ۔ کیا لیاقت اللہ بن نصیرہ بیگم کو جفر مصحف فاطمہ تعلیم ہوگا ؟

بسط ۔ ک ی ا ل ی ا ق ت ا ل ل ھ ب ن ن ص ی ر ھ ب ی ک م ک و ج ف ر م ص ح ف ف ا ط م ھ ت ع ل ی م ھ و ک ا ۔

طرح چار ۔ ل ت  ھ ف ح ط ع ھ

طرح سات ۔ ق و ف ع ا

طرح نو ۔ ا م ت

امتزاج ۔ ل ق ا ت و م ھ ف ت ف ع ح ا ط ع ھ

موخر صدر ۔ ھ ل ع ق ط ا ا ت ح و ع م ف ھ ت ف

اسماء۔ ن و ر م ب ی ن ھ ا د ی م ح ی ط خ

مخارج ۔ ق ص ح د ک ک س ظ ط ی ض ض ذ س ج م

اضعاف ۔ ر ف ق و ی ح م م ک ق ض غ ح ی ک خ غ خ غ ت غ ک ق و ف

تخلیص: ر ف ق و ی ح م ک ض غ خ ت

موخر صدر ۔ ت ر خ ف غ ق ض و ک ی م ح

نظیرہ ۔ ح ر ی ف ن ھ ل و ک ی م ت

جواب ۔ حریف نہ لوگے تم

( قواعد پر غور کریں اور خود اس سوال کو حل کریں تو حسابی غلطیاں نظر آئیں گی ۔ بہرحال ہم نے صرف مثال کو بعینہ نقل کیا ہے جیسا حکیم صاحب نے تحریر فرمایا تھا )۔
سوال نمبر 2۔ کیا جفری مستحصلہ ابو طالبی ہر سوال کا واضح جواب دیتا ہے ۔

طرح چار ۔ ج م ص ب ل ر ل ا و ی ی

طرح سات ۔ ی و ب ل ج ا

طرح نو ۔ س  ط ا و

سوال۳؃:سید ریاض الرحمٰن نقوی البھاکری سکنہ گلی تلواڑاں چکوال نے علم جفر کی تعلیم کہاں سے حاصل کی ؟

طرح چار:۔ر ا م ق ل ک ک ل و ن ا ع ف ت م ن ا ی
طرح سات ۔ ض ن ب ک ل ک ل ت ا ل
طرح نو۔ ل ی س و ل ک ا ی

امتزاج ۔ ر ض ل ا ن ی م ب س ق ک و ل ل ل ک ک ک ک ل ا ل ت ی و ا ن ل ا ع ف ت م ن ا ی
موخر صدر ۔ ی ر ا ض ن ل م ا ت ن ف ی ع م ا ب ل س ن ق ا ک و و ی ل ت ل ل ل ا ک ل ک ک ۔
اسماء الہیہ ۔ ن و ر م ب ی ن ھ ا د ی م ح ی ط خ ب ی ر ب ا س ط م ط ھ ر ق د ی ر م ج ی ب و ۔
مخارج ۔ خ ض ش ک ع ت ظ و ث ص ظ ث خ ث ی ض ن ذ و ش ب ض س ق ق ن ن ج ع ت ش خ س ش م ف
اضعاف ۔ ر غ خ غ خ م م ق ض ض غ ب ی غ ف ق ض غ غ ر غ غ ک خ غ ق ت غ ب ی خ د خ غ ک ق ر ر س ق ق و م ق ض خ ر غ ک ق ض خ ف س ق
تخلیص ۔     ر غ خ م ق ض ب ی ف ک ت د س و
موخر صدر ۔ و ر س غ د خ ت  م   ک ق ف ض ی ب
نظیرہ ۔       و ر ا ن  ص ی ح م   ک ھ ج  ل ی ع
جواب         رواں     صحیح (م)    کچھ      علی

یہ وہ سوالات تھے جو حکیم صاحب نے اپنی تحریر میں حل فرمائے تھے ۔
اگر اول سوال کی بات کروں تو غور کرنے پر علم ہوتا ہے کہ سوال میں لیاقت اللہ بن نصیرہ بیگم لکھا گیا ہے جبکہ حل کرتے وقت صرف لیاقت اللہ کا استعمال کریں تو بعینہ وہی حروف مستحصلہ استخراج ہوجائیں گے جو مثال میں دئیے گئے ہیں ۔
میں مذکورہ بالا سطور میں تحریر کر آیا ہوں کہ جواب کا استخراج انتہائی مشکل امر ہے اور اچھا خاصہ فہم و ادراک رکھنے والا شخص بھی غلطی کا حامل ہو سکتا ہے لیاقت اللہ والے سوال کو ہی لے لیں
سوال ۔ کیا لیاقت اللہ بن نصیرہ بیگم کو جفر مصحف فاطمہ تعلیم ہوگا ؟
جواب استخراج کیا گیا ۔ حریف نہ لوگے تم
جب کسی مد مقابل کا خطرہ ہوتا ایک سے زائد امیدوار ہوتے شک و شبہ ہوتا تو حریف سمجھ آتا تھا لیکن یہاں کوئی ایسا معاملہ نہ تھا ایک ڈھلا ڈھلایا صاف ستھرا جواب بن رہا تھا لیکن اللہ جانے کس وجہ سے حذف کیا گیا یعنی
حرف نہ لوگے تم ۔۔۔۔ حرفوں کے علم کی تعلیم کی بات ہو رہی ہے سوال کو ذہن میں رکھتے ہوئے جواب پر غور کریں تو کتنا با معنی فقرہ ہے اور ہماری تحقیق کے مطابق یہی جواب صد فیصد درست بھی ہے اور ہمارے پاس ایسے شواہد بھی موجود ہیں کہ مرحوم لیاقت اللہ ہرگز ہرگز مصحف فاطمہ کا علم نہیں رکھتے تھے ۔
مزید آسانی کے لئے اسی مستحصلہ سے چند دیگر سوالات کے حل بھی پیش خدمت ہے کہ سمجھنے میں مزید آسانی ہو۔
یہ ایک سائل کا سوال ہے نام معہ نام والدہ ظاہر نہیں کیا جا رہا ہے
یا علیم ۔ فلاں بن فلاں تیزابیت کے علاج کے لئے کیا استعمال کرے بارہ اپریل دو ھزار اٹھارہ عیسوی
جفاروں کے اصولوں کے مطابق سوال غلط ہے ۔ جفارین کے بیان کردہ اصولوں کے مطابق سوال کچھ یوں ہونا چاہئے تھا
فلاں بن فلاں تیزابیت کے علاج کے لئے کونسی ہومیوپیتھک دوا استعمال کرے ، یا فلاں بن فلاں تیزابیت کے علاج کے لئے کونسی یونانی دوا استعمال کرے یا فلاں بن فلاں تیزابیت کا کیا غذائی علاج کرے وغیرہ
لیکن جو سوال قائم کیا گیا ہے اس میں تخصیص نہیں کی گئی کہ فلاں علاج ہی درکار ہے ، ” کیا استعمال کرے ” اس کا جواب کچھ بھی ہو سکتا ہے کوئی غذا ، کوئی دوا ، کوئی دعا وغیرہ ۔
یاد رکھیں اکثر میرا مشاہدہ ہے کہ جواب سائل کی طبع کے مطابق ہی برآمد ہوتا ہے
آئیے اسی سوال کو حل کرتے ہیں
ف ل ا ن ب ن ف ل ا ن ت ی ز ا ب ی ت ک ی ع ل ا ج ک ی ل ی ی ک ی ا ا س ت ع م ا ل ک ر ی ب ا ر ھ ا ب ر ی ل د و ھ ز ا ر ا ت ھ ا ر ھ ع ی س و ی
طرح چار ۔ د ب ص ت ب ی ج ی ا ع ک ا ب د ا ھ ع ی
طرح سات ۔ ن م ی ج ی ا ر د ت س
طرح نو ۔ ن ز ا ا ر ی ت ی
امتزاج ۔     د ن ن ب م ز ص ی ا ت ج ا ب ی ر ی ا ی ج ر ت ی د ی ا ت ع س ک ا ب د ا ھ ع ی
موخرصدر  ی د ع ن ھ ن ا ب د م ب ز ا ص ک ی س ا ع ت ت ج ا ا ی ب د ی ی ر ت ی ر ا ج ی
اسماء ۔    ن و ر م ب ی ن ھ ا د ی م ح ی ط خ ب ی ر ب ا س ط م ط ھ ر ق د ی ر م ج ی ب و
مخارج۔     خ ی ح ظ ز خ س ز ھ ف ل ر ط غ ر و ف ک ح خ ث ص ی ن ق ز خ ا ن ب ث ث ک ھ ع
اضعاف ۔   ر غ۔ ک ۔ و ی ۔ ض غ ۔ د ی ۔ ر غ ۔ ک ق ۔د ی ۔ ی ۔ س ق ۔ س ۔ ت ۔ ح ی ۔ غ غ ۔ ت ۔ ب ی ۔ س ق ۔ م ۔ و ی ۔ ر غ ۔ غ ۔ ف ق ۔ ک ۔ ق ۔ ر ۔ د ی ۔ ر غ ۔ ب ۔ ق ۔ د ۔ ق ۔ غ ۔ غ ۔ م ۔ ی ۔ م ق ۔
تخلیص ۔         ر غ ک و ی ض د ق س ت ح ب م ف
موخر صدر  ۔    ف ر م غ ب ک ح و ت ی س ض ق د
نظیرہ یا خود ۔  ج ر م ن ب ک ح و ت ی س ل  ق د
جواب ۔           جرمن        گیسٹروبن    حل   دق
یہاں چند سوالات مبتدی حضرات کے ذہن میں لازماً ابھریں گے اسی سبب اس مثال کو پیش کیا گیا ہے ۔ یاد رکھیں سطر موخر صدر میں کوئی بھی حرف مکرر نہیں آ سکتا ۔ بسا اوقات جفار کو اس صورتحال سے لازماً گزرنا پڑتا ہے ۔
ہماری سطر موخر صدر جو کہ سطر مستحصلہ ہے اور نظیرہ یا خود سے ناطق ہونی ہے ذرا سا تدبر کرنے پر ” ج ر م ن ” جرمن سیدھ میں ناطق ہوتا نظر آتا ہے ۔
آگے کے حروف ”  ب ک ح و ت ی س ”   مزید غور و فکر اس سطر پر کرنے سے گیسٹرو بن سکتا ہے لیکن چونکہ ” ر ” جرمن میں استعمال ہو چکا ہے ، اس لئے یہاں اس حرف کا ہونا ممکن ہی نہیں تھا
اگر یہ ” ر ” ہو تو ” گیسٹرو ” بالکل صاف ستھرا بنتا نظر آجائے لہٰذا ہم نے ” ر ” جو کہ سطر مستحصلہ کا ہی حرف ہے کو استعمال کرتے ہوئے گیسٹرو کا لفظ مکمل کیا ۔
ب ک ح و ت ی س
ک    و ت ی  س  ( ر ) ۔ گیسٹرو
اب دیکھیں اسی سطر میں دو حرف باقی ہیں ایک حرف ” ب ”  اور دوسرا حرف ” ح ”
سابقہ قانون کو ہی نظر میں رکھتے ہوئے ب سے گزشتہ حرف غ کا نظیرہ ن ۔ لفظ بِن بنا رہے ہیں ۔
گیسٹرو بن ایک مکمل لفظ بن گیا
ابھی بھی اس سطر میں ح باقی ہے جو ض کے نظیرہ ل کے ساتھ مل کر لفظ ” حل ” گویا کرتا ہے ۔
ج ر م ن ب ک ح و ت ی س ل ق د
جواب گویا ہوا جرمن گیسٹرو بن حل دق ۔
یعنی اس تکلیف کے لئے جرمن گیسٹرو بن نامی میڈیسن اس کا حل ہے ۔
اس سوال کے حل کے فوری بعد ایک دوست جو کہ ہومیوپیتھک ڈاکٹر ہے ، کو فون کیا اور تصدیق چاہی کہ اس نام کی کوئی میڈیسن ہومیوپیتھک میں موجود ہے ، تصدیق ہونے کے بعد سائل جس کا سوال تھا اسے جواب بتا دیا گیا ۔ واضح کردوں کہ سوال کرنے والا میرا ایک قریبی جاننے والا ہے گزشتہ ایک ماہ سے سخت تیزابیت کا شکار رہا ہے مختلف ادویات کے استعمال کے باوجود بھی افاقہ نہیں ہو پا رہا تھا
جب یہ میڈیسن کا استعمال کروایا گیا بفضل تعالیٰ پہلی خوراک میں ہی آرام آگیا ۔ چونکہ یہ سوال حل کئے دو روز ہی ہوئے ہیں ، دوا جاری ہے ۔ دعا گو ہوں کہ اللہ انہیں صحت کاملہ عطا فرمائے آمین ۔

 

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*