کیا عدد (8) نحس ہے؟ ۔ چوتھی قسط ۔ تحریر و تحقیق سید اظہرعنایت شاہ

adad-8-k-masbat-pehlu

قارئین کرام ! عدد آٹھ کی چوتھی قسط پیش خدمت ہے ۔ ایک قسط تحریر کرنے کے بعد نہیں سمجھتا

کہ اس موضوع پر مزید کچھ لکھ پاؤں گا ، یہی سمجھتا ہوں کہ شاید یہ آخری قسط ہو کیونکہ آنکھوں کے سامنے اندھیرا ہوتا ہے مزید کوئ اور مناسبات نظر نہیں آتیں ، لیکن پھر قدرت کا ایک عجیب غیبی نظام چلتا ہے کہ عدد آٹھ کی مناسبات اس عاجز پر وا ہونا شروع ہو جاتی ہیں جس پر عقل دنگ رہ جاتی ہے ۔

 عدد آٹھ کے مثبت پہلو پر یہ تحقیقی مضامین لکھنے کی ایک بڑی وجہ یہ بنی کہ میری کی زندگی میں عدد آٹھ کافی نمایاں ہے اور میں  بھت حد تک عدد آٹھ کے زیر اثر ہوں ۔

 قسط چہارم تحریر کرتے ہوئے میں اپنے اندر ایک عجیب سی خوشی اور مُسرت محسوس کررہا ہوں ۔

یہ قسط مزید کچھ نئے حیرت ، انگیز اور دلچسپ مناسبات کیساتھ معطر و مزین ہوگی ۔ انشاءاللہ تعٰالیٰ

۱) خلفائے راشدین اور عدد آٹھ : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ان چاروں اصحاب کا شرف ارض و سماء میں مُسلم ہے ۔ مزید حیرت و استعجاب اس وقت ہوا جب اِن چاروں اصحاب کے مجموع اسماء مبارکہ میں عدد آٹھ کی قوت نظر آئ ۔ ملاحظہ فرمائیں ۔

 اسمائےگرامی

عبداللہرضی اللہ عنہ

عمر رضی اللہ عنہ

عثمان رضی اللہ عنہ

علی رضی اللہ عنہ

مجموعہ اعداد

مرکب اعداد

مفرد عدد

اعداد

۱۴۲

۳۱۰

۶۶۱

۱۱۰

۱۲۲۳

۱۲۵

۸

 

عبداللہ ، حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا اسم گرامی ہے اور ابو بکر کنیت ہے ۔

دوسری جو حیران کن بات ہے وہ یہ کہ چاروں اصحاب رسولﷺ کے نام حرف ع سے شروع ہوتے ہیں اس میں کیا راز ہے اللہ ہی بھتر جانے ۔

‏‏‏۲) حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ اور عدد آٹھ : آپ شریعت و طریقت کے آفتاب و ماہتاب ہیں ۔ آپ کی امامت ، بزرگی اور سیادت پر جمہور کا اتفاق ہے ۔ عمر بن المقدام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب بھی امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ کو دیکھتا تھا تو آںحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یاد تازہ ہو جاتی تھی ۔

 حضرت شیخ فرید الدین عطار رحمہ اللہ اپنی مشہور کتاب تذکرۃالاولیاء کی ابتداء بھی آپ ہی کے ذکر مبارک سے کرتے ہیں اور آپ کے بارے کیا فرماتے ہیں اُس سے کچھ اقتباس ملاحظہ فرمائیں ۔

آپ کے مناقب و کرامات کے متعلق جو کچھ بھی تحریر کیا جائے وہ کم ہے کیونکہ آپ اُمتِ محمدی کے لئے نہ صرف بادشاہ اور شریعت نبوی کے لئے روشن دلیل ہیں ۔ بلکہ صدق و تحقیق پر عمل پیرا ، اولیاء کرام کے باغ کا ثمر ، آلِ علی ، سردار انبیاء کے جگر گوشہ اور صحیح معنوں میں وارث نبی بھی ہیں اور آپ کی عظمت و شان کے اعتبار سے اِن خطابات کو کسی طرح بھی غیر موزوں نہیں کہا جاسکتا ۔

اب کچھ مناسبات ملاحضہ فرمائیں ۔

۱) اسم جعفر صادق کل اعداد ، ۵۴۸ =  مرکب اعداد  ،  ۶۲  =  مفرد عدد  ،  ۸

۲) آپکی پیدائش ۸ رمضان البارک ۸۰ ہجری میں ہوئ ، دوسری روایت کے مطابق ۱۷ ربیع الاول بمطابق ۸۳ ہجری کو ہوئ

۳) آپ کی تاریخ وفات ۱۵ رجب المرجب ۱۴۸ھ ھے ۔ اسکا مفرد عدد بھی ۸ ہی نکلتا ہے ۔

۱ + ۵ + ۷ + ۱ + ۴ + ۸   =   ۲۶  =  ۸

ہر دو تواریخ پیدائش و وفات میں عدد آٹھ نمایاں ہے ۔

نوٹ :ـ اِن تواریخ سے اہل تشیع کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے ۔

۴) آپکی والدہ محترمہ کا اسم گرامی اُمِ فروہ بنت قاسم بن محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہم ہے ۔

اب دیکھیں ، اِسم اُم فروہ کے کل اعداد ، ۳۳۲ =  مرکب اعداد ، ۳۵ = مفرد عدد ،  ۸

۵) آپ کے بعد آپکے صاحبزادے امام مُوسی رحمہ اللہ آپکے جانشین ہوئے جنکا لقب کاظم تھا ۔ اب دیکھیں ۔ اَسم مُوسی کے کل اعداد ،  ۱۱۶ =  مرکب اعداد  ،  ۱۷ =   مفرد عدد  ،  ۸

۶) مشہور کیمیا دان جابر بن حیان آپ کے مشہور شاگرد ہوئے ہین ۔ اب دیکھیں

اسم جابر کے کل اعداد ،  ۲۰۶  =  مرکب اعداد ، ۲۶  =  مفرد عدد  ،  ۸

۷) مشہور زمانہ ولی اللہ حضرت بایزید بسطامی رحمہ اللہ آپ کے صحبت یافتہ اور خاص مریدین میں سے ہیں ۔ اولیاء کرام نے آپؒ کو سلطان العارفین کا لقب دیا ۔ سید الطائفہ حضرت جنید بغدادی رحمہ اللہ آپؒ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ کہ بایزید ہماری جماعت میں ایسے ہیں جیسے فرشتوں میں جبریل علیہ السلام اور مزید فرمایا کہ اِس میدانِ توحید میں چلنے والوں کی انتہا با یزید ؒ کی ابتداء ہے ۔  آپ ؒ  امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ کا ادب و احترام اِس قدر کرتے تھے کہ ایک مرتبہ امام عالی مقام نے فرمایا کہ اے بایزید فلاں طاق میں جو کتاب رکھی ہے وہ اُٹھا لاؤ آپ ؒ نے دریافت کیا کہ وہ طاق کس جگہ ہے ، امام عالی مقام نے فرمایا کہ اتنے عرصے رہنے کہ بعد بھی تم نے طاق نہیں دیکھا ، آپؒ نے عرض کیا کہ طاق تو کجا میں نے آپ کے رُوبرو کبھی سر بھی نہیں اُٹھایا ، اس وقت امام عالی مقام نے فرمایا کہ اب تم مکمل ہو چکے ہو لہٰذا تم بسطام واپس چلے جاؤ ۔ ( کتاب تذکرۃ الاولیا )

آپ ؒ کا اِسم گرامی طیفور بن عیسیٰ بن آدم بن سروشان ہے ۔ اب دیکھیں

اسم طیفور کے کل اعداد ،  ۳۰۵ = مرکب اعداد ،  ۳۵  =  مفرد عدد  ، ۸

کیا یہ تمام منسوبات محض اتفاقات ہیں۔۔۔۔؟

۳ ) نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کیساتھ عدد آٹھ کی کچھ مناسبات :ـ

۱)پہلی وحی جو غارِ حرا میں نازل ہوئ وہ بمطابق ۸ ربیع الاول ۲ شنبہ کو تھی ۔

۲) دار ارقم مسلمانوں کا پہلا اسلامی مدرسہ بنا ، جو حضرت ارقم رضی اللہ عنہ کا گھر تھا ، اب دیکھیں ۔ اسم ارقم کے کل اعداد ، ۳۴۱  =  مرکب اعداد ، ۳۵  =  مفرد عدد ،  ۸

۳) حلیمہ سعدیہ رضی اللہ تعالی عنہا آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی رضاعی والدہ تھیں ۔

اسم حلیمہ سعدیہ کے کل اعداد ، ۲۴۲ =  مرکب اعداد ، ۲۶ =  مفرد عدد  ،  ۸

۴) حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا کی وفات سن آٹھ ہجری کو ہوئ ۔

۵) اُمہات المومنین میں صرف اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے نام کے اعداد کا مفرد عدد ۸ بنتا ہے ۔ ملاحضہ کیجئے ۔

اسم عائشہ کے کل اعداد  ،  ۳۸۶  =  مرکب  اعداد  ، ۴۴   =  مفرد عدد  ،  ۸

۶) آپﷺ کے بیٹے حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کی پیدائش  ۸ ذی الحجہ ۰۸ ھ میں ہوئ ( قراۃ العیون ص ۱۰ جلد اول حصہ چہارم  )

۷) آپﷺ کے آٹھ نگہبانی کرنے والے صحابہ :ـ ( ۱) غزوہ بدر میں حضرت سعد بن معاذ نے ( ۲) غزوہ احد میں حضرت ذکوان بن عبد قیس (۳) اور حضرت محمد بن مسلمہ انصاری نے(۴) غزوہ خندق میں حضرت زبیر نے(۵) غزوہ وادی القریٰ میں حضرت عباد بن بشیر  (۶) اور حضرت سعد بن ابی وقاص (۷) اور حضرت ابی ایوب (۸) اور حضرت بلال نے رضی اللہ عنھم اجمعین

۸) آپ ﷺ کے چچا اور پھوپھیاں اور عدد آٹھ :ـ نبی کریمﷺ کے گیارہ چچا تھے جنکے نام یہ ہیں (۱) حارث (۲) قثم (۳) زبیر (۴) حمزہ (۵) عباس (۶) ابوطالب (۷) عبد الکعبہ (۸) حجل (۹) ضرار (۱۰) غیداق (۱۱) ابو لہب ۔

اور چھ پھوپھیاں تھیں ۔  (۱) صفیہ (۲) عاتکہ (۳) اروئے (۴) اُم حکیم (۵) برہ (۶) امیمہ ۔       ۱۱  +  ۶ =   ۱۷ =  ۸

۹) آپ ﷺ  کی باندیاں اور عدد آٹھ :ـ نبی کریم ﷺ کی سترہ باندیاں تھیں ۔ سترہ کا مفرد ۸ ہے ۔

۱۰) نبویﷺ برتن اور عدد آٹھ :ـ مُدّ اور صاع دو برتن ہیں جسکا حدیث میں  ذکر آیا ہے اور ان دو برتنوں کے لئے نبی کریم ﷺ نے برکت کی دعا کی ہے ۔( حال ہی میں ادارہ عبقری لاھور نے اِن دونوں برتنوں کو بنوا کر اِس  سُنت کو زندہ کیا ہے ۔ اللہ تعالی حضرت حکیم صاحب دامت برکاتہم کو بھت ذیادہ برکتیں دیں ۔ آمین ) اب دیکھیں

لفظ مُد ، کل اعداد ، ۴۴ ۔ مفرد عدد ، ۸=  لفظ ، صاع کل اعداد ، ۱۶۱۔ مرکب عدد ، ۱۷ – مفرد عدد  ،  ۸

۴) علم تعبیر رویاء اور عدد آٹھ :ـ علم تعبیر میں ماہر و کامل ہونے کے کے لئے مفصلہ ذیل علوم کا جاننا نہایت ضروری ہے ۔

۱۔ علم تفسیر ، ۲ ۔ علم حدیث ، ۳ ۔ علم ضرب الامثال ، ۴ ۔ اشعار عرب ، ۵ ۔ نوادر ، ۶ ۔ علم اشتقاق ( علم صرف کا ایک حصہ ) ، ۷ ۔ علم لغات ، ۸ ۔ علم الفاظ متداولہ ( کتاب تعبیر الرویاء از علامہ ابن سیرین رحمہ اللہ )

۵) قرآن کی ازمان و اوقات پر مشتمل سورتیں اور عدد آٹھ :ـ قرآن مجید کی آٹھ سورتیں ہیں جو ازمان و اوقات پر مشتمل ہیں ۔ ملاحظہ فرمائیں ۔ ۱۔ سورہ حج ، ۲ ۔ سورہ جمعہ ، ۳ ۔ سورہ فجر ، ۴۔ سورہ لیل ، ۵ ۔سورہ ضحیٰ ، ۶۔ سورہ قدر ، ۷ ۔ سورہ عصر ، ۸۔ سورہ فلق

۶) مکی و مدنی سورتیں اور عدد آٹھ :- قرآن مجید میں مکی سورتیں ۸۶ ہیں اور مدنی سورتیں ۲۸ ہیں ۔ ہر دو تعداد میں عدد آٹھ نمایاں ہے ۔

۷) قرآن کی کل آیات اور عدد آٹھ :ـ قرآن مجید کی ہر سورت کی آیات مبارکہ کو اگر جمع کیا جائے تو اُسکی تعداد بنتی ہے ۶۲۳۶ ۔ مرکب اعداد ، ۶۲۹ ، ۱۷ ۔ مفرد عدد ، ۸

۸) قرآن کے کل حروف کی تعداد اور عدد آٹھ :ـ قرآن مجید کے کل حروف کی تعداد ۳۲۲۶۰۴ ہے۔ ( یہ تحقیق ، عظیم محقق و عظیم علمی و روحانی شخصیت جناب ابو بہلول غلام الرسول میمن عائلی نقشبندی صاحب رحمہ اللہ کی تحقیق ہے ۔ جنکی وفات علمی و روحانی دنیا کے لئے عظیم سانحہ ہے ۔ اللہ سبحانہ وتعالی اُنکو جنت الفردوس میں جگہ دے ۔ آمین ) اب دیکھین

کل اعداد  ۔ ۳۲۲۶۰۴   ،   مجموعہ اعداد  ۔ ۱۷ ،  مفرد اعداد   ۔   ۸

۹) سُورہ فلق اور عدد آٹھ :ـ

۱)  سُورہ فلق کے کل اعداد ۔ ۸۶۷۵ ،  مرکب اعداد ۔  ۹۸ ، ۱۷  ۔ مفرد عدد  ، ۸

۲)  کل تعداد حروف ۔ ۷۱  ، مفرد عدد  =  ۸

۳)  سواقط حروف فی السورہ  :- سُورہ فلق میں ۸ حروف  سواقط ہیں ۔ جو درج ذیل ہیں ۔

نمبرشمار

۱

۲

۳

۴

۵

۶

۷

۸

حروف

ص

ک

ھ

ط

ج

ض

ز

ظ

 

۱۰) سُورہ ناس اور عدد آٹھ :ـ

۱) کُل تعداد حروف  ۔  ۸۰  ،  مفرد  عدد  = ۸

۲) سواقط حروف فی السورہ  :ـ سُورہ ناس میں ۸ حروف سواقط ہیں ۔ جو درج زیل ہیں ۔

نمبرشمار

۱

۲

۳

۴

۵

۶

۷

۸

حروف

ط

ح

ت

غ

ض

ث

ز

ظ

 

ہر دو سورتوں میں کس قدر مماثلت ہے ۔

۱۱) مُستحصلہ جفر سے عدد آٹھ کے بارے :- مُستحصلہ جفر سے عدد آٹھ کے بارے ہم اب تک دو سوالات حل کر چکے ہیں ۔ پہلی مثال قسط اول ، دوم مثال قسط سوم میں پیش کر چکے ہیں ۔ اب ایک تیسرا سوال حل کررہے ہیں ۔ مثال ملاحظہ فرمایئے ۔

یاعلیم ! علم الاعداد کی رُو سے عدد آٹھ کو نحس کہنا کیسا ھے ؟

ھ

ک

و

ی

د

ا

اساس

ی

و

د

ک

ا

ھ

موخرصدراول

ک

د

ا

و

ھ

ی

موخرصدردوم

و

ا

ھ

د

ی

ک

موخرصدرسوم

د

ھ

ی

ا

ک

و

موخرصدرچہارم

ت

ھ

ی

ا

ک

ر

ناطق

کر ا ہیت

جواب

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*