طلسم ہیکل سلیمانی۱

آج سے چند ماہ قبل قارئین کو یاد ہوگا کہ طلسم شفاء الامراض کے نام سے ایک عنوان شروع کیا گیا تھا جو کہ علامہ محمد رفیق زاہد مرحوم کی کتاب قانون طلسمات سے نقل کیا گیا تھا ۔ درحقیقت علامہ مرحوم علم کی اس بلندی پر پرواز تھے جہاں تخیل کے پر بھی جلا کرتے ہیں ۔ علامہ مرحوم نے قدیم نایاب و صدری اعمال جو کہ عبرانی و سریانی زبان میں تھے پر کافی تحقیق کی اور اسے پیش کیا ۔ علامہ صاحب کے وہ اعمال جو سہل الحصول ہونے کے علاوہ ممکن العمل تھے انہیں میں نے ذاتی طور پر استعمال کیا اور حرف بحرف درست پایا ۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر علامہ محمد رفیق زاہد مرحوم سے رابطہ نہ ہوتا تو شاید میں اس پرخار دشت میں بھٹکتا رہتا ۔ اس ماہ سے ہم ایک نیا سلسلہ بعنوان “طلسم ہیکل سلیمانی ” قسط وار صورت میں تحریر کر رہے ہیں عمل ہٰذا علامہ مرحوم کی کتاب انوار طلسمات سے لیا گیا ہے ۔ تمام قارئین سے مرحوم کی بلندی درجات کے لئے سورہ فاتحہ پڑھنے کی گزارش کی جاتی ہے ۔
علمائے متقدمین و متاخرین نے جملہ قسم کے طلسماتی اعمال کو دو طرح پر تقسیم کرکے بیان کیا ہے پہلی قسم کے طلسماتی اعمال کو اعمال اکبر اور دوسری قسم کے اعمال کو اعمال اصغر کے نام سے پکارا جاتا ہے اعمال اکبر اپنی ترکیب کے اعتبار سے مختلف قسم کے امور و معاملات اور حل طلب حاجات و مشکات کے لئے جامع الاعمال طلسمات کے طور پر مقبول و معروف ہیں جبکہ اعمال اصغر بنیادی طور پر علیحدہ علیحدہ تراکیب کے حامل ہوتے ہیں طلسم ہیکل سلیمانی کا تعلق طلسمات کی پہلی قسم کے اعمال یعنی اعمال اکبر سے ہے علمائے طلسمات و روحانیت نے اس طلسم سے متعلق و منسوب جن مختلف قسم کی تراکیب و نتائج کے حامل اعمال کو بڑی شرح و بسط کے ساتھ بیان کیا ہے ان کی مختصر سی تفصیل ذیل میں درج کی جا رہی ہے ۔ ارباب علم و فن حسب ضرورت و حالات اس طلسم کے متعلقہ اعمال کی تراکیب پر عمل پیرا ہو کر اپنی مشکات پر قابو پا سکتے ہیں ۔ اور اپنے مقاصد تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں ۔

خواص و فوائد طلسم ہیکل سلیمانی

یہ جلیل القدر طلسم شیخ ابو العباس احمد بن مساعد قسطلانی سے منسوب ہے ۔ جمہور علمائے طلسمات نے اس ہیکل کو حب و بغض ، ترقی رزق،دفع فقر و فاقہ ، وسعت مال و منال ، قرض سے نجات، جسمانی و روحانی امراض کا علاج ، اور انسانی زندگی کے متعلقہ مسائل و مشکلات کے حل کیلئے ایک سریع الاجابت اور سریع التاثیر عمل کے طور پر تسلیم کیا ہے ۔ علمائے روحانیت کے مطابق اس عمل کا عامل بننے کے لئے کسی قسم کی کوئی پابندی وغیرہ موجود نہیں ہے ۔ تاہم عامل کے لئے ضروری قرار دیا گیا ہے کہ وہ نیک دل اور عمدہ خصائل و عادات کا حامل ہو احکامات شریعہ کا پابند ہو اور مضبوط قوت ارادی کا مالک ہو ۔ منشیات سے اجتناب کرے ۔ اور جہاں تک ممکن ہو سکے خود کو ترک حیوانات کا پابند بنائے ۔ کتب معتبرہ طلسمات و روحانیات میں علمائے علم و فن نے اس طلسم سے وابستہ اعمال کو اعمال کبیر ، اعمال وسیط اور اعمال صغیر تین علیحدہ علیحدہ حصوں میں تقسیم کرکے بیان کیا ہے ۔ جن کی مختصر تفصیل درج ذیل ہے ۔

برائے حب و تسخیر
اعمال کبیر

ہیکل سلیمانی کے متعلقہ و منسوبہ عملیات کے باب میں حب و تسخیر کے جن اعمال کو اعمال کبیر کے نام سے موسوم کرکے بیان کیا گیا ہے طلسمات میں اس حیثیت کے تمام تر اعمال اپنے حقائق کے اعتبار سے علم و فن کی بنیاد کا درجہ رکھتے ہیں اور صدیوں سے آج تک اپنی زود اثری کی وجہ سے انتہائی کامیاب و بے خطا ہوتے چلے آرہے ہیں ۔ اس سلسلے کے چند ایک ایسے اعمال جن کا میں نے خود تجربہ و امتحان کیا ہے اور انہیں اپنے اطمینان کے مطابق کامیاب و بے خطا پایا ہے ارباب علم و فن کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں ۔چنانچہ حب و تسخیر کے حقائق کے حامل جن اعمال کو سپرد قلم کیا جا رہا ہے ان کے متعلق احتیاط و انتباہ کے طور پر یہ عرض کردیا جاتا ہے کہ ایسے اعمال کو صرف اور صرف ان امور کے لئے ہی استعمال میں لانے کی اجازت ہے جن پر شرعی اور اخلاقی کسی اعتبار سے بھی کسی قسم کا کوئی اعتراض وارد نہ ہو سکتا ہو ۔ یاد رہے کہ خواہشات انسانی کی تکمیل کے لئے جو بھی عمل کیا جائے گا تو وہ اسلام اور اخلاق دونوں کی روسے ہی ایک عظیم ترین جرم ہوگا ۔ اور اس قسم کے جرم کا مرتکب شخص جہاں دنیا میں ذلیل و خوار ہو جاتا ہے وہاں اس کی آخرت بھی تباہ و برباد ہوجاتی ہے۔

عمل اول

ہیکل سلیمانی سے وابستہ ذیل کے عمل کبیر کی ترکیب و تفصیل کا ذکر کرتے ہوئے صاحب عوارف الحروف علامہ ابوالحسن اعمالی تحریر کرتے ہیں کہ حب و تسخیر کے حقائق کا حامل یہ عمل ایک ایسا عجیب و غریب قسم کا عمل ہے جس کا عامل ناقابل حصول قسم کے مطلوب کو پل بھر میں اپنا مطیع و فرمانبردار بنا سکتا ہے ۔ عوارف الحروف کے مطابق متذکرۃ الصدر عمل کا دارومدار ہدہد پرندہ پر ہے چنانچہ عمل کے لئے پرندہ مذکور کر پکڑ کر قفس وغیرہ میں بند کررکھیں ۔ اور جب برج ثور خود طالع وقت کے طور پر طالع ہو اور صاحب الثور یعنی سیارہ زہرہ برج حوت میں درجہ شرف پر ہو اور اس کے ساتھ ہی قمر کا زہرہ کے ساتھ اتصال بھی عمل میں آرہا ہو اس طرح کہ زہرہ رجعت و احتراق سے بھی محفوظ ہو تو اس وقت ہد ہد کو اس کے قفس میں سے نکال کر ذبح کر ڈالیں ۔ اور ایسا کرتے وقت طلسم ہیکل سلیمانی کے عمل کوسات مرتبہ تلاوت کرلیں اس عمل کی بجا آوری کے فوراََ ہی بعد جانور مذکور کے خون کو تانبے کے برتن میں بند کرکے آگ پر رکھ کر جلا ڈالیں اور اس طرح سے اس خون کی جو راکھ تیار ہو اسے حفاظت کے ساتھ کسی شیشے کے برتن میں سنبھال کر رکھیں ۔ طلسمات میں اس راکھ کو “سندسان” کے نام سے پکارا جاتا ہے ۔ سندسان کی تیار کے بعد جانورمذکور کی کھال کھینچ کر نمک اور سرمہ اصفہانی سے اس کو دباغت دیں اور جب یہ کھال خشک ہوجائے تو اس پر طلسم متذکۃ الصدر کو تحریر کرلیں ، اس کھال کو محفوظ کرلیں ۔ضرورت کے وقت سندسان راکھ کو سرمہ کے طور پر آنکھ میں لگائیں اور کھال کو اپنے سینے یعنی دل کے مقام پر باندھ لیں اس عمل کے بعد جس کسی کے سامنے بھی جائیں گے تو وہ دیکھتے ہی دیکھتے ہزار جان سے فدا ہوگا۔ مجرب المجرب ہے ۔

میں یہاں عرض کرنا چاہوں گا کہ درج بالا عمل میں نجوم کی چند اصطلاحات استعمال ہوئی ہیں وہ افراد جو علم نجوم سے واقفیت رکھتے ہیں ان کے لئے اس وقت کا استخراج کچھ مشکل نہیں البتہ وہ تمام حضرات جنہوں نے اس قسم کے اعمال پہلے سرانجام نہ دئیے ہوں انہیں چاہئے کہ اپنے قریبی کسی صاحب علم فرد سے مددلیں ۔طلسم ہیکل سلیمانی سے منسوب عمل ثانی آئندہ ماہ کے شمارہ میں ملاحظہ فرمائیے ۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*