علم نجوم اور علم غیب

کئی عرصہ سے شائقین علوم مخفی علم نجوم و ستارہ شناسی یا ستارے اور بروج کے بارے میں مختلف سوالات کرتے آرہے ہیں ہم کوشش کریں گے کہ اختصار کے ساتھ اس علم پر بہتر سے بہترین معلومات اپنے قارئین تک پہنچائیں

کیا علم نجوم غیب کا علم ہے ؟     

اس سے قبل کہ ہم یہ بحث کریں کہ آیا علم نجوم یا ستارہ شناسی غیب سے ہے یا نہ مناسب سمجھتے ہیں کہ قرآن کی روشنی میں علم نجوم سے متعلق چند آیات کا تذکرہ کریں ۔
خدا وند کریم نے بروج اور سیاروں کا ذکر قرآن میں جا بجا فرمایا ہے جیسا کہ “والسماء ذات البروج”۔
قسم کھاتا ہوں آسمان برجوں والے کی ۔

ظاہری بات ہے کہ قسم ہمیشہ معتبر چیزوں کی کھائی جاتی ہے ۔ اب اللہ تعالیٰ قسم کھا رہا ہے آسمان میں موجود برجوں کی تو یقیناً میرے رب کے نزدیک یہ کوئی معتبر شے ہے ۔ کچھ حضرات کا ماننا ہے کہ علم نجوم یا ستارہ شناسی چند سو سال پرانی توہمات ہیں ان سے گزارش ہے کہ اس مضمون کو ضرور پڑھیں۔
سورہ بقرہ آیت نمبر 189۔ آپ سے لوگ چاند کے متعلق دریافت کرتے ہیں آپ کہہ دیجئے کہ یہ مقررہ وقت کے پیمانے ہیں ، لوگوں کے فائدے اور حج کے لئے ۔
سورہ فرقان آیت نمبر 61 ۔ بابرکت ہے وہ جس نے آسمان پر بروج بنائے اور ان میں چراغ اور روشن چاند رکھے کیا یہ سب کچھ یوں ہی ہے یا اس کے پیچھے کوئی منطق کار فرما ہے ؟
سورہ قمر آیت نمبر 49:بے شک ہم نے ہر چیز مقرر انداز پر خلق کی
سورہ رحمن آیت نمبر 5 : چاند اور سورج ایک مقرر حساب سے چل رہے ہیں
سورہ النحل12 : اس نے تمہارے لئے رات و دن ، سورج و چاند کو اور ستاروں کو اپنے حکم سے تمہارا تابع بنا دیا ۔ اس سے عقل سے کام لینے والوں کے لئے یقیناً بہت سے نشانیاں ہیں ۔
سورہ یس آیت نمبر 6: وہی ہے جس نے آفتاب کو سراپا روشنی اور چاند کو نور بنایا اور اس کی منزلیں مقرر کردیں ۔ تاکہ تم برسوں کی گنتی اور حساب معلوم
کرسکو۔
جس شخص کو بھی علم نجوم میں دلچسپی ہے وہ بخوبی جانتا ہے کہ علم نجوم میں چند باتیں عام ہیں جیسے بروج ، سیاروں کی گردش، منازل قمر ،نظرات سیارگان ، رجعت، درجات، سات کواکب ، مقرر کردہ رفتار، گرہن ، کواکب کے اثرات وغیرہ ۔ آئیں اب ذرا ان آیات الہیہ پر غور کریں
علم نجوم سے دلچسپی رکھنے والا بخوبی جانتا ہے کہ زائچہ میں 12 خانے ہوتے ہیں ۔ موجودات سے کوئی شے ایسی نہیں جس کا تعلق ان 12 خانوں کی منسوبات سے نہ ہو ۔ درحقیقت زائچہ آسمان کا کھینچا ہوا نقشہ کا ہی نام ہے ان بارہ خانوں کے کل درجات کی تعداد 360 ہے ۔ اب کتنی حیرت انگیز بات ہے کہ سورہ مومن میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ رفیع الدرجات ذوالعرش یعنی رفیع درجات والا عرش۔
کیا قدرت خداوندی ہے کہ رفیع کے اعداد بحساب ابجد 360 ہی ہیں ۔
سورہ واقعہ میں پھر ایک جگہ ارشاد ہوا کہ
فلا اقسم بمواقع النجوم و انہ لقسم لو تعلمون عظیم۔
نجوم کے مواقع(نظرات) کی قسم کھاتا ہوں ۔ اگر تم غور کرو تو یہ ایک بہت بڑی قسم ہے
سیارگان میں رجعت و استقامت کے متعلق بھی شائقین علم نجوم یقینا جانتے ہوں گے ۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے سورہ طور ” وادبار النجوم” پیچھے جانے والے ستاروں کی حالت دیکھو۔
جہاں تک اثرات کواکب کا تعلق ہے تو واضح طو رپر موجود ہے کہ
فقضیھن سبع سموات فی یومین و اوحی فی کل سماء امرھا وزینا السماء الدنیا بمصابیح و حفظا ذالک تقدیر العزیز العلیم (سورہ السجدہ)۔
یعنی افلاک کو دودنوں میں مقرر کیا ہر فلک کے اندر اس کا اثر ڈالا اس سے آسمان دنیا کو زینت بھی بخشی اور دنیا والوں کے لئے محافظت کا سامان بھی پیدا کردیا ۔
ہمارے مذہبی علماء جو کچھ بھی فرماتے ہیں وہ اپنی معلومات کی روشنی میں بیان کرتے ہیں ۔ حالانکہ نجوم کا علم اور علم غیب دو متضاد علم ہیں ۔ ان کا دور دورتک آپس میں کوئی تعلق نہیں ۔
موجودہ دور پر غور کریں دنیا میں کئی ویب سائیٹس موسم کا حال بتاتی ہیں اکثر یہ پیشن گوئی بالکل درست ثابت ہوتی ہیں کیا یہ علم غیب ہے ؟
وقت پیدائش سے قبل الٹرا ساؤنڈ سے معلوم کرلینا کہ حمل میں لڑکا ہے یا لڑکی ۔ اس طرح کی بے شمار مثالیں دی جا سکتی ہیں ۔

یاد رکھیں کہ علم غیب وہ ہے جو کوئی نا جنوائے ۔ کوئی فارمولہ یا کمپیوٹر کی زبان میں بات کریں تو کوئی تھرڈ پارٹی سوفٹوئیر درمیان میں حائل نہ ہو۔
استاد کا اپنے شاگرد کی قابلیت کو مد نظر رکھتے ہوئے پہلے سے کہہ دینا کہ میرا فلاں شاگرد اس سال فیل ہوجائے گا یا ایک حاذق حکیم اپنے مریض کی صرف نبض پکڑ کر اس کے اندر کے حالات بیان کردیتا ہے جب کہ اس کے سامنے اس مریض کا اندرونی خاکہ ہرگز نہیں ہوتا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ان دنیاوی کاموں میں علم غیب جیسے برتر و عظیم علم کو شامل کرنا یا منسوب کرنا علم غیب کی سراسر توہین ہے ۔خود ذات علم و خبیر کا ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ بھید کی بات اپنے حکم سے اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے اتارے (سورہ مومن) ۔
درحقیقت علم نجوم وقت کے تاثرات کا علم ہے اور واضح طور پر موجود ہے کہ کل امر مرھون باوقاتھا ۔
اگر آپ قدیم کتب کا مطالعہ کریں تو حکمائے متقدمین کا فیصلہ کہ جب تک طبیب علم نجوم حاصل نہ کرلے گا ماہر حکیم بن ہی نہیں سکتا ۔
ابوالاطباء بو علی سینا کہتے ہیں کہ جب تک میں نے علم نجوم حاصل نہیں کیا علم طب میرے لئے بے کار تھا ۔ایک حکیم مریض کی نبض کو دیکھ کر اس کی اندرونی تمام حالت بیان کردیتا ہے اگر کوئی شخص اللہ کے دئیے ہوئے علم نجوم کے حساب سے انسانی خدمت کر رہا ہو تو فوری غیب دانی کا فتویٰ اس پر صادر فرمادیا جاتا ہے ۔ انسانی ضروریات زندگی کے لئے بے شمار علوم ہیں ان علوم میں سے ایک علم نجوم بھی ہے ۔ لفظ نجوم بذات خود عربی ہے ۔ اکثر احباب یہ بھی کہتے نظر آتے ہیں کہ یہ تو ہندوؤں کا علم ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ علم نجوم میں مسلمانوں کا ایک اہم کردار ماضی میں نظر آتا ہے ۔انشاء اللہ کوشش کریں گے کہ اس موضوع پر مزید بھی لکھیں ۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*