Qamar dar aqrab ki behtreen maloomaat | قمر در عقرب۔ پروفیسر اعجاز حسین بٹ

قمر درِ عقرب کیا ہے؟     

علم نجوم کے طالب علم ، عملیات و نقوش سے دلچسپی رکھنے والے حضرات بخوبی قمر در عقرب سے واقف ہیں ۔
اہل علم حلقوں میں اکثر اس بات پر بحث ہوتے رہتی ہے کہ آیا کیا کل دورانیہ نحس ہے یا کوئی خاص درجات ہیں جو کہ نحوست کا باعث ہیں ۔ جناب پروفیسر اعجاز حسین بٹ صاحب کا ایک مضمون اسی موضوع پر ۱۹۸۵ میں ایک فلکیاتی جریدہ میں شائع ہوا تھا جسے قارئین کے استفادہ کے لئے یہاں تحریر کیا جاتا ہے ۔ موصوف فرماتے ہیں کہ ۔۔۔۔
ملت جعفریہ سے تعلق رکھنے والوں میں یہ بات خاص طور پر بڑی اہمیت رکھتی ہے کہ وہ اپنی روزمرہ کی زندگی میں قمری تاریخوں یا اوضاع قمر پر عمل کرتے ہیں۔ قمری تاریخیں دراصل شمس و قمر کے قرب و بُعد کا دوسرا نام ہے ۔ وہ دن یا قمری تاریخیں جب قمر شمس کے قریب تر ہوتا ہے تو ان تاریخوں کو خاص طور پر نحس خیال کیا جاتا ہے ۔
ہم دیکھتے ہیں کہ قمری ہر تاریخ کے بارے میں کچھ نہ کچھ ہدایت موجود ہے ۔ ایک قمری مہینے میں انتیس یا تیس دن ہوتے ہیں ان تاریخوں میں قمر ہر ماہ ایک یا کبھی کبھی دو بار اپنے مدار پر گھومتے ہوئے برج عقرب میں داخل ہوتا ہے اور عقرب میں
تقریباً54 گھنٹے قیام کرتا ہے ۔
علم نجوم میں قمر کو سیاروں کا نقیب خیال کیا گیا ہے کیونکہ قمر زمین اور سیاروں کے درمیان ایک رابطہ اور وسیلہ پیغام ہے ۔ قمر دوسرے سیاروں کی نسبت ہمارا قریب ترین ہمسایہ بھی ہے غالباً یہی وجہ ہے کہ قمری تاریخوں کو مذہباً اہم قرار دیا گیا ہے اب تو سائنس نے بھی قمر کے اثر کو انسانی ، حیوانی اور نباتی زندگی پر تسلیم کرلیا ہے ۔ دوسرے سیاروں کی طرح قمر بھی ہر ماہ شرف و ہبوط و زوال اور وبال سے گزرتا ہے ۔ عمل نجوم میں ہر سیارے کو کسی ایک یا دو برجوں سے منسوب کیا گیا ہے اور ان کے شرف و ہبوط کے برج بھی مقرر ہیں ۔ چونکہ قمر پر بحث ہو رہی ہے اس لئے ہم اس کا ہی ذکر کریں گے قمر ہر ماہ اپنے برج شرف ، ہبوط اور وبال سے گزرتا ہے ۔ دوران سفر کبھی یہ شرف کبھی ہبوط اور کبھی وبال کے برج سے گزرتا ہے اس کا اپنا برج سرطان ہے اور برج ثور میں اس کو شرف ہوتا ہے ۔ نجوم کا کلیہ ہے کہ ہر سیارہ اپنے شرف سے ساتویں میں ہبوط میں ہوتا ہے اور اپنے برج سے ساتویں میں وبال میں آجاتا ہے ۔ قمر کو شرف برج ثور میں ہوتا ہے اس لئے اس کو عقرب میں ہبوط ہوتا ہے ایسی حالت میں جب سیاروں کا نمائندہ خود کمزور واقع ہو تو پیغام رسائنی میں بھی کمزوری واقع ہوگی یہی وجہ ہے کہ جب قمر برج عقرب میں ہوتا ہے تو اس کو ناقص خیال کیا جاتا ہے اور اس دوران اچھے کاموں سے منع کردیا گیا ہے ۔
اب ہم کوشش کرتے ہیں کہ اس بات کو فلسفہ نجوم سے واضح کریں تاکہ عوام اس بات کو توہم پرستی خیال نہ کریں۔
جب کوئی سیارہ برج ہبوط میں ہوتا ہے تو نجوم کی رو سے وہ بیمار کہلاتا ہے برج عقرب میں بہ اعتبار نجوم تین منازل قمر واقع ہیں ۔ پہلی منزل مشتری کی ہے ، دوسری زحل اور تیسری کا تعلق سیارہ عطارد سے ہے ۔ کہنے کو تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ دو سیارے مشتری اور عطارد سعد ہیں مگر جب ہم ان کے باہمی تعلقات کا تجزیہ کرتے ہیں تو یہ باتیں سامنے آتی ہیں کہ اس بحث کے لئے ہمیں منطقہ البروج کو سامنے رکھنا ہوگا تاکہ سیاروں کے عمومی اثرات واضح کر سکیں ۔ پہلی منزل قمر مشتری کے زیر اثر ہے ۔ مشتری منطقہ البروج میں برج قوس اور حوت سے تعلق رکھتا ہے ۔ یہ دونوں برج حمل سے نویں اور بارھویں برج سے متعلق ہیں ، کسی زائچے یا نجوم میں چھٹے ، آٹھویں اور بارھویں کا تعلق نحس تصور کیا جاتا ہے ۔ قمر برج سرطان کا مالک ہے ۔ اس لحاظ سے برج قوس چھٹے اور حوت نویں ہے ۔ اب زحل کو اسی اعتبار سے دیکھئے ۔ برج جدی ساتواں اور دلو آٹھواں ہے ۔ آخر میں عطارد کو دیکھتے ہیں ، عطاردبرج جوزا اور سنبلہ دونوں کا مالک ہے اور سرطان سے جوزا بارھویں جبکہ سنبلہ تیسرے ہے ان تمام میں کسی نہ کسی طرح نحوست شامل ہے ۔ اب ہم قمر کو تسیّرات میں دیکھتے ہیں قمر برج عقرب میں موجود ہے تو اس کے دوسرے بروج اور سیاروں سے کیا تعلقات بنتے ہیں ۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ مشتری کے ایک برج سے بارھویں ہوتا ہے جبکہ دوسرے یعنی حوت سے نویں زحل کے برجوں سے گیارھویں اور دسویں واقع ہے اور حمل سے آٹھویں عطارد کے برج اس سے گیارھویں اور آٹھویں میں اورجوزا اور سنبلہ سے چھٹے اور تیسرے ہے ۔ ان تمام باتوں کے پیش نظر  قمر کو عقرب میں نحس خیال کیا گیا ہے اس بات کی جتنی بھی وضاحت کرتے چلے جائیں نجوم کے اصولوں کی تصدیق ہوتی چلی جاتی ہے ۔ ہم یہاں تک تو پہنچ گئے ہیں کہ جب قمر برج عقرب میں ہوتا ہے تو یہ نحس اور ناقص ہوجاتا ہے اب اس سے زیادہ اہم مسئلے کی طرف آتے ہیں ۔ دنیا میں دو طرح کی جنتریاں  Sayanملتی ہیں ۔ ایک کی بنیاد ثابت منطقہ البروج جب کہ دوسری منقلب یا متحرک پر ہے اس کی بنیاد پر دستیاب ہے جو استخراجات متحرک منطقہ البروج کی بنیاد پر کئے جاتے ہیں ان کو یونانی اور سائن
Niryanجو استخراجات ثابت منطقہ البروج کی بنا پر ہوتے ہیں کو نرائن
کہتے ہیں ۔ پہلے کو یونانی اور دوسرے کو ہندی طریق کار کہا جاتا ہے ۔ حمل کا پہلا درجہ میل ارضی اور حرکات و عوامل ارضی کے باعث پچاس سیکنڈ سالانہ کی رفتار سے پیچھے کی طرف ہٹتا جا رہا ہے اور یہ درجہ اس وقت برج حوت کے ساتویں درجے پر آگیا ہے ۔ اس درجے کا رخصتی سفر جاری ہے اور قائم رہے گا ۔ اس کا یہ مطلب ہوا کہ حمل کا پہلا درجہ اپنے اصل مقام سے تئیس درجے پیچھے ہٹ چکا ہے ۔ جس کی وجہ سے یونانی حساب سے قمر تقریباً اڑتالیس گھنٹے پہلے برج عقرب میں داخل ہوجاتا ہے اور ہندی حساب سے اڑتالیس گھنٹے بعد قمر برج عقرب میں داخل ہوتا ہے ۔ یہ بات عوام میں بے چینی پیدا کردیتی ہے کہ کس روزقمردرِعقرب صحیح تصور کیا جائے ۔ ہم زمین کو مرکز بنا کر سیاروں کا مشاہدہ کرتے ہیں اس نظام کو اصلاح فلکیات میں نظام فلک یا
Geocentric
کہتے ہیں۔ اس کے برعکس ایک اور نظام بھی ہے جیسے مرکز نظامِ شمسی جسے
Heliocentric
بھی کہا جاتا ہے ۔ یعنی شمس کو رصدگاہ تصور کرکے دوسرے سیاروں کا مشاہدہ کیا جاتا ہے اس نظام میں سفلی سیاروں کے اوضاع بالکل بدل جاتے ہیں جبکہ علوی سیارے اپنے اپنے مقام و موضوع پر قائم رہتے ہیں ۔ اب تو ہمیں ایک اور نظام کی ضرورت پڑگئی ہے جسے ہم مرکز قمری نظام کے نام سے پکار سکتے ہیں کیونکہ حضرت انسان کے قدم چاند پر پہنچ چکے ہیں ، سائنس دان ہر سیارے کو مرکز مان کر دوسرے سیاروں کو دیکھ سکتے ہیں جب سے تسخیر قمر ہوئی ہے ہمیں مرکز قمری نظام کی ضرورت پڑگئی ۔ پہلے خلا نورد جب چاند پر اپنا قدم رکا تا تو اس وقت جو زائچہ مرکز قمر سے بنایا گیا تھا اس کے مشاہدے سے یہ بات پوری طرح عیاں ہوتی ہے کہ سیاروں کے اوضاع وہی تھے جو ہم ثابت منطقہ البروج کے پیش نظر بناتے ہیں فرق صرف یہ تھا کہ چاند کی جگہ ہماری زمین نے لے لی تھی ۔
تسخیر قمر پر زمین کی جو تصویریں دیکھنے کا موقع ملا ہے ان میں زمین ایسی نظر آتی ہے جیسے چاند زمین سے ہمیں نظر آتا ہے اور جب ہم دوسرے سیاروں کو دیکھتے ہیں تو وہ ثابت منطقہ البروج میں نظر آتے ہیں ۔ اس بات سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ سیاروں کے اوضاع دراصل ثابت منطقہ البروج میں ہی ہوتے ہیں مگر زمین کا ترچھا پن اور کئی دوسرے عوامل کے باعث ہمیں سیارے تقریباً تئیس درجے آگے نظر آتے ہیں اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سیاروں کا اصل مقام و موضع صرف ثابت منطقہ البروج ہی سے لیا جانا چاہئے ۔ ہندی حساب کتاب سے چونکہ قمر در عقرب ثابت منطقہ سے لیا جاتا اور یہی درست خیال کیا جانا چاہئے ۔ آخر میں یہ حقیقت بھی واضح کرتے چلیں کہ دونوں منطقہ البروج ازروئے جدید حسابات بائیس مارچ 264ء کو منطبق ہوئے تھے اور اس سال ہندی اور یونانی دونوں حسابوں سے صرف ایک ہی وقت پر پاکستان کے معیاری وقت پر یعنی بیس گھنٹے اور ستاون منٹ شب کو تحویل آفتاب در برج حمل میں ہوئی تھی ۔ اس کے بعد متحرک منطقہ پچاس اعشاریہ ستائیس سیکنڈ سالانہ کی رفتار سے پیچھے ہٹنا شروع ہوا اور ہر سال تحویل آفتاب میں بیس منٹ دیر واقع ہوتی جا رہی ہے ۔
آئمہ معصومین علیہم السلام کے زمانہ میں دونوں تحویل کے اوقات میں صرف پانچ چھ گھنٹے کا فرق تھا اور دونوں حساب کی رو سے اڑتالیس گھنٹے قمر درعقرب مشترک ہوتا تھا موجودہ زمانے میں دونوں قمر درعقرب صرف چھ گھنٹے مشترک ہوتے ہیں اور اڑتالیس گھنٹے کا ان میں فرق آچکا ہے اس بات کو سمجھنے میں یوں آسانی ہوگی کہ آئمہ معصومین ؑ کے زمانے میں قمر درعقرب کی دونوں تحویلوں میں صرف چھ گھنٹے کا فرق تھا یونانی حساب سے قمر درعقرب چھ گھنٹے پہلے شروع ہوتا تھا اور ہندی حساب سے چھ گھنٹے بعد میں اور دونوں حساب سے قمر درعقرب میں اڑتالیس گھنٹے رہا کرتا تھا ۔ فی زمانہ دونوں تحویلوں میں صرف آخری چھ گھنٹے مشترک ہوتے ہیں اس وضاحت سے اندازہ لگانا آسان ہوگیا کہ جس زمانے میں ہمیں عقربی نحس اثرات سے بچنے کی ہدایت ہوئی تھی اس وقت اڑتالیس گھنٹے مشترک تھے یعنی صرف چھ گھنٹے آگے پیچھے تھے ۔ ظاہر ہے کہ ان ہدایات پر عمل بہ مطابق ثابت منطقہ البروج ہوتا رہا ہے اس وقت صحتِ وقت اڑتالیس گھنٹے تھی اور اب صرف چھ گھنٹے رہ گئی ہے اس کا یہ مطلب ہوا کہ مدت قمر درعقرب اس زمانے میں چھ گھنٹے رہ گئی ہے یہ بات کوئی بھی عقلمند آدمی قبول نہیں کرے گا لہٰذا ہمیں یہاں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ آئمہ معصومین ؑ کے زمانے میں جس قمر درعقرب پر زیادہ عمل ہوتا تھا وہی درست اور ہمارے لئے واجبِ تعمیل ہے یہ بحث اب ہمیشہ کے لئے ختم ہونا چاہئے کہ کیوں حساب درست ہے اور کون غلط ہے ۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*