علم جفر کا قاعدہ مستحصلہ صغریٰ

مستحصلہ صغریٰ     

علم جفر آئمہ معصومین ؑ کا ایک پاک اور مطہر علم ہے جس کے بارے میں علمائے جفر فرماتے ہیں کہ ” ومن منح الجھال علما اضاعہ و من منع المستوحبین فقد ظلم”۔
یعنی جس نے جہلا کو یہ علم سکھلایا گویا اس نے ضائع کیا اور جس نے قابل اور مستحقوں سے مخفی رکھا اس نے ظلم کیا۔
اس سلسلہ میں صرف اتنا عرض کروں گا کہ علم جفر اپنے اعجاز ناطق ہونے کی وجہ سے نا اہل سے خود ہی روپوش ہوجاتا ہے ۔ یعنی اگر کوئی شخص اس پر عبور حاصل بھی کرلے اور بعد از حاصل کردن عبور کے غلط ذرائع میں استعمال کرنا شروع کردے تو ایسی صورت میں جواب غلط برآمد ہونے لگتا ہے یا پھر سطر مستحصلہ سامنے ہونے کے باوجود فہم و ادراک سے دور ہوجاتی ہے ۔
اس ماہ ہم ایک عمدہ اور بہترین قسم کا مستحصلہ بیان کر رہے ہیں جسے مستحصلہ صغری کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے یہ ایک نہایت ہی علمی قسم کا قاعدہ ہے اور علم جفر کی قسم اسود سے تعلق رکھتا ہے اس کی سطر مستحصلہ نہایت جامع اور علمی طرز کی آتی ہے اگر آپ کی مشق میں مسلسل یہ قاعدہ رہے تو اس کے اسرار باطنی آپ پر عیاں ہوتے جائیں گے ۔ ایک بات اور یاد رکھیں کہ جنہیں علم جفر کے سمندرمیں غوطہ زن ہونے کا شوق ہے وہ اپنے مطالعہ میں لغت ضرور رکھیں کیوں کہ ہم پہلے بھی بیان کرچکے ہیں کہ علم جفر کی سطر مستحصلہ بعض اوقات نہایت ہی ادق اور علمی طرز کی برآمد ہوتی ہے جب تک آپ کے پاس الفاظ کا علمی ذخیرہ نہیں ہوگا آپ سطر مستحصلہ سے استفادہ نہیں کرسکیں گے ۔ اگر آپ علم جفر سے ہونے والی زوجہ ، شوہر ، قاتل ، ساحر وغیرہ کا نام معلوم کرنے کا کوئی قاعدہ تلاش کر رہے ہیں تو پھر یہاں کلک کریں ۔

تشریح مستحصلہ     

عمدہ قسم کا سوال بنائیں مرکزی و محوری کا خیال ضرور رکھیں اگر آپ نہیں جانتے کہ سوال کی بندش کس طرح کی جاتی ہے اور مرکزی و محوری سوالات میں کیا فرق ہے تو یہاں کلک کریں۔
مثلاً سوال ہے کہ یا علیم عبدالرضا بن ۔۔۔۔۔۔ علم جفر سیکھ سکے گا ؟
مکمل سوال کو بسط حرفی کرکے اعداد معلوم کرلیں ۔
ع ب د ا ل ر ض ا ب ن ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ع ل م ج ف ر س ی ک ھ س ک ی ک ا۔
اب ان حرفوں کی تعداد کو شمار کریں اور علیحدہ لکھیں ۔ اسی طرح نقاط کی تعداد کو شمار کرکے علیحدہ کرلیں ۔ اب دیکھیں کہ اس میں حروف صوامت کتنے ہیں ان کی تعداد کیا ہے ۔ اسی طرح حروف ناطقہ کی تعداد کیا ہے ؟
حروف صوامت وہ حروف ہیں جن میں نقاط نہیں ہوتے اور یہ تعداد میں تیرہ ہیں ۔ ا ح د ر س ص ط ع ک ل م و ھ ۔
حروف ناطقہ وہ حروف ہیں جن میں نقاط شام ہوں جیسے ب ت ث ج ی وغیرہ
اکثر مبتدی حضرات ی کو حروف صامت خیال کرتے ہیں جبکہ یہ علم ہونا چاہئے کہ عربی حروف تہجی میں ی کے نیچے دو نقطے شمار کئے جاتے ہیں ۔
اب چلئے مزید آگے اسے حل کرتے ہیں ۔
بیان کردہ قاعدہ کی رو سے حل یہ بنا ۔
اعداد سوال ازروئے ابجد قمری 2347۔
تعداد حروف ۔ 31
تعداد نقاط ۔15
حروف صوامت 20۔
حروف ناطقہ 11
کل اعداد 2424
اب ان اعداد سے حروف پیدا کریں حروف پیدا کرنے کے لئے اپنے کل اعداد کو دیکھیں دائیں طرف سے پہلا عدد اکائی کا شمار ہوگا۔ دوسرا عدد دہائی ، تیسرا عدد سینکڑہ اور چوتھا عدد ہزار ۔
اب اگر پہلے عدد 4 کو اکائی تسلیم کرتے ہوئے نقشہ ابجد قمری میں دیکھیں تو چار کے نیچے آپ کو حرف ” د ” ملے گا اسے لکھ لیں ۔
اب دوسرا عدد جو کہ 2 ہے کو دہائی تصور کیا تو یہ 20 کا عدد کہلایا ، نقشہ ابجد قمری میں بیس کے نیچے آپ کو حرف ” ک” ملے گا اسے بھی اپنے پاس لکھ لیں
اسی طرح تیسرے عدد کو سینکڑہ تسلیم کیا تو 400 ہوا جس کا حرف ” ت” ہے اسے بھی لکھ لیا گیا ۔ اب آخری عدد 2 ہے جو کہ چوتھا عدد ہے اور ہزار کا تسلیم کیا جاتا ہے یعنی 2 ہزار۔
ابجد قمری کی قیمت صرف ایک ہزار تک ہے لہٰذا اس خلاء کو پر کرنے کے لئے اگر ہم 2 کو پہلے اکائی مان لیں پھر ہزار تو حرف ” ب ، غ ” برآمد ہونگے ۔
کیونکہ ازروئے ابجد قمری 2 کا حرف ب ہے اور ہزار کا غ ۔
اگر مندرجہ بالا مثال میں آخری عدد 2 کی بجائے 5 ہوتا تو حرف ” ھ ، غ ” لکھا جاتا۔ اب ان تمام حروف کو ایک سطر میں لکھ لیا جائے ، مندرجہ بالا مثال سے جو حروف برآمد ہوئے ہیں وہ یہ ہیں
د ک ت ب غ
اب سطر سوال کو تخلیص کریں ۔ ہماری سطر سوال تھی ع ب د ا ل ر ض ا ب ن ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ع ل م ج ف ر س ی ک ھ س ک ی ک ا
تخلیص سے مراد ہے وہ حروف جو مکرر آئے ہیں انہیں حذف کر دیا جائے جیسے ا ب ج د ج ، ان حروف میں ج مکرر ہے لہٰذا سطر ہوگی ، ا ب ج د اور آخری ج حذف ہوجائے گا۔
سطر تخلیص سوال : ع ب د ا ل ر ض ن ش ھ م ج ف س ی ک
اس سطر کو موخر صدر کریں

اب جو ہم نے کل اعداد سے حروف حاصل کئے تھے انہیں ملفوظی صورت میں لکھیں یعنی جس طرح بولے جاتے ہیں جیسے الف با تا ثا وغیرہ۔
مندرجہ بالا مثال کے کل اعداد سے جو حروف برآمد ہوئے تھے ان کی ملفوظی صورت یہ ہوگی ۔
حروف۔ د ک ت ب غ
د ا ل ک ا ف ت ا ب ا غ ی ن ۔ ان حروف کو سطر صدر موخر کے نیچے لکھتے جائیں اگر بچ جائیں تو چھوڑ دیں اور اگر کم ہوجائیں تو از سر نو شروع سے لئے جائیں حتیٰ کہ سطر ختم ہوجائے ۔
اب اوپر سے نیچے سطر تخلیص کا حرف ، سطر موخر صدر اور سطر حروف ملفوظی حاصل شدہ کے اعداد ابجد ایقغ سے لے کر جمع کریں اگر تعداد مفرد نہ ہوں تو باہم آپس میں جمع کرلیں مثلا ع کے عدد 7 ، ک کے عدد 2 ، د کے عدد 4 کل 13 عدد ہوئے جو کہ مفرد نہیں ہے لہٰذا انہیں باہم جمع کیا تو 1+3=4حاصل ہوئے یہ اعداد سطر کے نیچے لکھتے جائیں اس طرح سے اعداد کی ایک نئی سطر قائم ہوجائے گی ۔ ان اعداد کو ابجد قمری میں دیکھتے ہوئے حروف لکھتے جائیں ۔ ان حروف کو دو مرتبہ ترفع حرفی کرلیں یہ ایک نئی سطر حروف ظاہر ہوگی ۔ اس نئی سطر کے پیدا شدہ حروف کو ملفوظی صورت میں لکھ لیں اب چار چار کی گنتی سے حروف اٹھاتے جائیں گنتی اس وقت تک جاری رکھیں جب تک سطر ختم نہ ہوجائے ۔ یہ جو حروف حاصل ہونگے یہ جوابیہ حروف ہونگے اس سطر ہر حرف یا تو خود ناطق ہوگا یا اس کا نظیرہ ۔ اس قاعدہ میں تکرار حروف دوران حاصل کردن جواب کے حذف کی جا سکتی ہے تمام بیان کو مثال سے سمجھا رہا ہوں غور کریں ۔



 

1 Comment

  1. اسلام علیکم۔ بھائ میں نے بہت کچھ سمجھا آپ کے اس پوسٹ سے جس پر میں آپکا شکر گزار ہوں۔ مگر آپ کے تعداد کا حساب مجھے بلکل سمجھ نہیں آیا۔ نہ یہ کہ سوال میں “یا علیم” شامل ہے ہا نہیں کیونکہ جملے کو الگ الگ حرف میں جب لکھا تو وہاں “یا علیم” نہیں۔ اس کے مطابق بھی اور اس کے علاوہ بھی تعداد سوال کی 2347 نہیں آرہی۔ براۓ مہربانی وضاحت کردیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*