پنڈولم سے امراض کا علاج اور روحانی شفاء ۔ از قلم سید محمد اجمل

پینڈولم سے امراض کا علاج اور شفاء ، قسط 2

پینڈولم کے طریقہ علاج میں بارہ رنگوں کے جدول کی بہت اہمیت ہے۔ اس جدول کو دیکھنے اور یاد رکھنے کا سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ ان بارہ رنگوں کو سال کے موسموں میں تقسیم کردیا جائے۔ بہار کا آغاز موسم سرما کے بعد زندگی کی ازسرنو پیدائش کی علامت ہے۔ موسم گرما صحت اور جسمانی توانائی کے عروج کا دور ہے۔ موسم خزاں ہمیں اس بات سے آگاہ کرتا ہے کہ جس توانائی کا عروج ہم نے دیکھا ہے اب اس کے زوال کے لیے خود کو تیار کر لیں۔ موسم سرما زندگی کو منجمد کرنے اور موت کی قربت کی علامت ہے۔ اس موسم میں بیج اس انتظار میں زمین پر پڑے رہتے ہیں کہ کب بہار کی دیوی آئے اور ان کے مردہ جسموں کو پھر سے زندگی عطا کرے۔

 

 

 

 

pendulum_pic_chart_SummerSolstice

اوپر دیا گیا جدول انسانی صحت کی مختلف منازل کی نشاندہی کرتا ہے۔ جب کوئی انسان مکمل طور پر صحت میں ہوتا ہے تو اس جدول میں وہ نیلے رنگ اور موسم گرما کے مقام پر قیام پذیر ہوتا ہے۔ موسم خزاں صحت کی بتدریج خرابی اور کمزوری کو عیاں کرتا ہے۔ بیماری کا تعلق موسم سرما سے ہے جو اس بات کو بھی واضح کرتی ہے کہ انسان کو اپنی موت کے لیے بھی تیار رہنا چاہیے جبکہ موسم بہار بیماری سے شفاء اور دوبارہ صحت مندی کے سفر کی علامت ہے۔

ہم یہاں ایک نقطہ کو واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ رنگوں کی یہ جدول کوئی مستقل سنگ میل نہیں ہے بلکہ وقت کے ساتھ اس میں کئی تبدیلیاں ہوتی رہی ہیں اور مستقبل میں ہونے کا امکان ہے۔ جہاں تک اس جدول اور موسموں کا باہمی تعلق ہے تو یہ صرف کسی بھی انسان کی صحت کو فوری طور پر پرکھنے کا ایک آسان ذریعہ ہے اگر اس میں رنگ اور موسم صحت کی گراوٹ کی نشاندہی کر رہے ہیں تو اس کا ہرگز مطلب یہ نہیں کہ آپ پیدائشی طور پر بیمار ہیں یا مستقل بیمار ہی رہیں گے۔ اس جدول کا مقصد صرف صحت کے اتار چڑھاؤ کو آسان طریقہ سے یاد کرنا ہے۔

اس جدول میں جب ہم کسی بھی مریض کے مقام کو نیلے رنگ میں تبدیل کرتے ہیں جو کہ صحت کا رنگ ہے تو اس بات کا امکان موجود ہوتا ہے کہ حقیقت میں کیا واقعی یہ مریض صحت حاصل کر پائے گا کہ نہیں۔ موسم سرما سے خزاں یا موسم گرما کی طرف جھکاؤ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ مریض اس شفاء کے عمل سے گذر رہا ہے۔

اس بات کو بھی ذہن میں رکھنا چاہیے کہ حصول صحت کے بعد جدول کے رنگ پھر سے موسم سرما کے رنگوں میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔ اس طرح کی صورتحال میں مریض کو روزانہ پینڈولم کو استعمال کرنا چاہیے۔ ایک پینڈولم معالج کی حیثیت سے آپ خود یہ عمل روزانہ کریں یا آپ اپنے مریض کو پینڈولم کے استعمال کا طریقہ بتا کر اسے اس قابل کر سکتے ہیں کہ وہ خود اپنے لیے پینڈولم کو روزانہ استعمال کر لیا کرے۔ اگر کسی ایسے انسان کاعلاج کر رہے ہیں جس کے مرض کی شدت بہت زیادہ ہے تو اس صورت میں رنگوں میں تبدیلی کا عمل فوری نہیں ہو گا بلکہ کچھ وقت گذرنے کے بعد ہی ان میں تبدیلی کو دیکھا جا سکے گا۔ مرض کی شدت کی مطابق پینڈولم کے استعمال کو تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ پینڈولم کو روزانہ کی جگہ ہر گھنٹہ بعد بھی استعمال کیا جا سکتا ہے تاکہ مرض کی شدت میں جلد کمی ہو اور مریض دوبارہ سے صحت مند ہو جائے۔

جب آپ کسی مریض کا علاج کر چکیں تو اس کے بعد بھی رنگوں کی جدول کو ضرور دیکھیں۔ مجھے ایک ایسے کینسر کے مریض کا علاج بھی یاد ہے کہ جس کی صحت میں بہتری کی کوئی کرن دکھائی نہیں دے رہی تھی۔ پینڈولم کے مسلسل استعمال سے کچھ عرصہ بعد اس کی صحت میں بہت بہتری واقع ہوئی۔ اس مریض کے علاج میں ایسا بھی محسوس ہوا کہ شاید اس کو شفاء نصیب نہ ہو کیونکہ بظاہر ایسی کوئی علامت دکھائی نہیں دے رہی تھی جو صحت کی جانب اشارہ کرتی ہو لیکن میں جب بھی رنگوں کی جدول میں اس مریض کی شفاء کے عمل کو جانچتا تو سفید رنگ ظاہر کرتا جو کہ صحت مند ہونے کی علامت ہے۔ میں نے بہتر یہ جانا کہ علاج کے ساتھ مجھے کچھ عرصہ صبر اور انتظار سے کام لینا ہو گا۔ کچھ ہفتوں کے مسلسل علاج اور انتظار نے اس کینسر کے مریض کی صحت کو حیرت انگیز طور پر بہتر کر دیا۔

پینڈولم کو ذریعہ علاج بنانے والوں کو ایسے مریضوں سے بھی پالا پڑے گا جو درحقیقت جسمانی بیماری کا شکار ہیں لیکن رنگوں کی جدول ان میں بیماری کی نشاندہی نہیں کرتی۔ اس طرح کے معاملات میں آپ کو اپنے علاج کے طریقہ کو مزید موثر بنانے کے لیے سوچ بچار سے کام لینا ہو گا۔ مریض سے اس کی بیماری پر زیادہ سے زیادہ بات کریں۔ مریض سے ملنے والی معلومات آپ کو علاج کے تعین میں بہت معاون ثابت ہوں گی۔

وہ لوگ جو کسی ذہنی تناؤ میں مبتلا ہیں یا جو کسی روحانی مرض میں جکڑے ہوئے ہیں ان کے علاج کے لیے بیماری کی بنیاد کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔ ان دونوں امراض میں ایک ہی طرح کا طریقہ علاج اختیار کیا جائے گا۔ آپ پینڈولم کے ذریعے مریض کے اعتماد میں اضافہ کر سکتے ہیں جو اس کو صحت عطا کرنے میں بہت اہم کردار ادا کرے گا۔ اس کے ساتھ جب آپ پینڈولم کو استعمال کریں تو ساتھ ساتھ یہ کلمات بھی دہراتے جائیں

اس انسان کو اس بیماری کی وجہ سے زندگی میں جو بھی لائحہ عمل اختیار کرنا چاہئیے اس کے متعلق اس کو راہنمائی عطا کریں

اس بیماری سے شفاء اور صحت کے لیے اس انسان کو کیا کرنا چاہئیے اس کے متعلق بھی راہنمائی کریں۔

پینڈولم کے معالج کے لیے ذہنی تناؤ اور روحانی بیماریوں میں مبتلا انسانوں کا علاج معالج کی انا کو ٹھیس پہنچا سکتا ہے۔ اس کی وجہ محض یہ ہے کہ جب تک مریض اس مرض کی وجوہات اور مستقبل پر پڑنے والے اثرات کو قبول نہیں کرے گا اس کو صحت ملنا دشوار رہے گا۔ ایسے مریضوں کا علاج کرتے وقت معالج کو اس بات کی فکر نہیں کرنی چاہئیے کہ اس کی انا صرف اس وجہ سے مجروح ہو رہی ہے کہ یہ طریقہ علاج فوری اثر کیوں ظاہر نہیں کر رہا۔ معالج کو اپنے طریقہ علاج پر پورا اعتماد ہونا ضروری ہے اور اسے نتائج کی پرواہ کیے بغیر مریض کو صحت دینے کے لیے اپنا علاج جاری رکھنا چاہئیے۔ معالج کا صبر اور مستقل مزاجی علاج میں تیزی پیدا کر دے گی جس سے مریض کو مکمل شفاء پانے میں بہت سہولت ہو گی اور اسے کم وقت میں بہترین صحت مل جائے گی۔

اس ساری صورتحال سے ایک سوال ذہن میں پیدا ہوتا ہے کہ جب رنگوں کی جدول انسان کے صحت مند ہونے کی نشاندہی کر رہی تو پھر حقیقت میں وہ انسان صحت مند کیوں نہیں ہے۔

رنگوں کی اس جدول کو اصطلاح میں ریڈی ایستھیٹک کلر کہا جاتا ہے۔ یہ ریڈی ایستھیٹک کلر انسانی جسم سے جدا ایک روشنی نما عنصر ہے۔ یہ انسانی ‘اورا’ سے قریب تر ہے۔ یہ کسی بھی جسم کوصحت بخشنے والا عنصر ہے۔ کچھ لوگ اس عنصر کو کام کرنے سے روک بھی لیتے ہیں۔ کچھ لوگوں کے جسم نیلے رنگ کی روشنی کا اشارہ کر رہے ہوتے ہیں جو کہ بہتر صحت کی علامت ہے لیکن اس کے باوجود لیکن یہ لوگ کسی نہ کسی جسمانی بیماری کا شکار ہوتے ہیں اس کا سبب دیگر منفی قوتوں کا اس انسان پر حاوی ہونا ہے۔ لیکن اس طرح کے لوگوں کی تعداد بہت قلیل ہے۔ لوگوں کی اکثریت کی صحت اور ان رنگوں کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔

اس علاج کے ذریعے جب ہم کسی کو صحت دینے کے لیے پینڈولم کی مدد سے کسی انسان کے دائرہ صحت کا رنگ نیلا کرتے ہیں تو اس کے باوجود کچھ دیگر عناصر مکمل صحت کے حصول میں رکاوٹ ثابت ہوتے ہیں۔ اکثر اوقات صرف دائرہ صحت کا رنگ بدل دینے سے شفاء نصیب ہو جاتی ہے لیکن تجربہ یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ یہ کرنے کے باوجود مریض کی حالت میں بہتری نہیں ہوتی۔ اس وقت یہ دیکھنا ضروری ہوتا ہے کہ وہ کون سے دیگر عوامل ہیں جو علاج کو پوری طرح موثر نہیں ہونے دے رہے۔ کیا یہ کوئی منفی قوت ہے یا کہ مریض صحت مندی کی امید ترک کر چکا ہے جس سے اس میں اپنی ذات سے بیزاری اور زندگی سے دوری پیدا ہو چکی ہے۔

جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا کہ ریڈی ایستھیٹک کلر کا پینڈولم طریقہ علاج میں نمایاں کردار ہے۔ رنگوں کے اس اثر کو ہم یوں سمجھ سکتے ہیں کہ فرض کریں کہ ایک انسان بیمارہے۔ اس کو سر درد کا مرض لاحق ہے۔ اس کے گھر میں سر درد کی دوا بھی موجود ہے۔ اب یہ اس انسان کی مرضی پر منحصر ہے کہ وہ سر درد سے آرام کے لیے دوا لیتا یا نہیں۔ اگر وہ دوا لے گا تو سر درد چلا جائے گا اور اگر دوا نہیں لے گا تو سر درد میں مزید شدت پیدا ہو گی۔ اسی طرح پینڈولم کے طریقہ علاج سے مستفید ہونے کے لیے ریڈی ایستھیٹک کلر کا استعمال ضروری ہے اگر کوئی اسے استعمال نہیں کرے گا تو بیماری سے شفاء مشکل ہے۔

میری نظر میں پینڈولم سے علاج بالکل دوا جیسا ہے۔ ہم دوا کی جگہ مخصوص طاقت اور سوچ کو ایک ٹھوس حالت میں مریض کے ‘اورا’ کی طرف منتقل کرتے ہیں اب یہ اس مریض پر منحصر ہے کہ وہ اس طاقت اور سوچ کو قبول کرتا ہے یا کہ رد کر دیتا ہے۔

پینڈولم علاج کو ایک اور مثال سے بھی سمجھا جا سکتا ہے۔ اس میں استعمال ہونے والے ریڈی ایستھیٹک کلر کی مثال گاڑی میں پڑے ایک نقشے یا موجودہ دور کے ‘جی پی ایس’ جیسی ہے۔ آپ نے کسی مقام پر پہنچنا ہے تو اس نقشہ یا جی پی ایس کی مدد سے آپ یہ سفر بآسانی کر پائیں گے اگر آپ ان کو استعمال نہیں کرتے تو غالب امکان راستہ بھٹکنے کا ہو گا۔ نقشہ اور جی پی ایس اپنی اہمیت کے ساتھ گاڑی میں موجود ہیں اب یہ آپ پر ہے کہ آپ راستہ طے کرنے کے لیے کس بات تو ترجیح دیتے ہیں۔

ریڈی ایستھیٹک کلر میں ایک حیران کن پہلو یہ بھی ہے کہ انسان میں تبدیلی پیدا کر سکتا ہے۔ یہ کام پینڈولم کے ذریعے کیا جاتا ہے اسی طرح ماحول بھی ان رنگوں کی تاثیر پر اثرانداز ہوتا ہے۔ یہ تبدیلی واپس منعکس ہوتی ہے۔

اگر ہم چاہیں تو اپنی پوری زندگی کو ایک نقشہ میں سمیٹ سکتے ہیں۔ یہ نقشہ ایک انسان کی زندگی کے مختلف ادوار اور کیفیات کی عکاسی کرتا ہے۔ کچھ لوگ اپنی زندگی مکمل نظم و ضبط کے تحت گذارتے ہیں اور ایسے ہی لوگ اپنی زندگی کے ایک اہم پہلو صحت کے لیے بھی ایک نقشہ ترتیب دے دیتے ہیں جو ان کی صحت کے اتار چڑھاؤ کو بیان کرتا ہے۔ دوسری طرف ایسے افراد کی بھی کمی نہیں جو زندگی کو منظم نہیں گذارنا چاہتے بس جو ان کے سامنے ہے وہ اسی میں زندہ ہیں۔ جو لوگ منظم زندگی بسر کرتے ہیں ان میں ریڈی ایستھیٹک کلر بہت عمدہ ہوتے ہیں جبکہ جو لوگ بنا کسی نظم و ضبط کے زندگی گذارتے ہیں ان میں یہ رنگ بہت بےہنگم ہوتے ہیں۔

انسانی زندگی کے اس سفر میں بنے نقشے میں ریڈی ایستھیٹک کلر کا بہتر ہونا زندگی کے سفر کو کامیاب بنانے میں بہت معاون ہوتا ہے جبکہ وہ لوگ جن کی زندگی کسی نقشہ کے بغیر گذرتی ہے یعنی ان کے ریڈی ایستھیٹک کلر بہتر نہیں ہوتے وہ زندگی میں مختلف مسائل کا شکار رہتے ہیں اور منزل کی طرف سفر کرنے میں ان جا بجا تکلیفوں کا سامنا رہتا ہے۔

اپنے گھر ، دفتر اور مقام کاروبار کا ریڈی ایستھیٹک کلر بھی جانچنا چاہئے کہ یہ کتنا مثبت اور کتنا منفی ہے۔

پینڈولم کے علاج میں کسی جگہ کا ریڈی ایستھیٹک کلر اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اگر کوئی انسان اپنا زیادہ وقت ایسے گھر یا دفتر میں گذارتا ہے جہاں پر عموماً سبز، کالا یا سرخی مائل کالے رنگ کی کثرت ہے تو یہ کسی بھی انسان کی صحت پر برے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی کہ آپ کے سونے کا کمرہ بھی آپ کی صحت کو بری طرح متاثرکر کے آپ کو بیمار کر سکتا ہے۔ اس طرح لگنے والی بیماریوں کو ہم ‘جگہ کا تناؤ’ کہہ سکتے ہیں۔ آپ کا مقام رہائش اگر ریڈی ایستھیٹک کلر میں منفی دکھائی دیتا ہے تو یہ یقیناً آپ کی صحت میں خرابی کا سبب بنے گا لہذا اس کو فوری طور پر تمام منفی اثرات سے پاک کرنا ضروری ہے۔

پینڈولم کی مدد سے کسی مقام کا ریڈی ایستھیٹک کلر تبدیل کرنے کا تجربہ زیادہ کامیاب نہیں رہا کیونکہ اس میں وہ نتائج برآمد نہیں ہوئے جن کی توقع تھی اور اس کی بنیادی وجہ اس مقام میں موجود دیگر عوامل بھی تھے۔ ہم کسی بھی مقام میں موجود منفی اثرات کا خاتمہ کر سکتے ہیں اور اس پر کافی تفصیل سے لکھا بھی جا سکتا ہے لیکن اس وقت ہمارا موضوع پینڈولم اور امراض ہیں اس لیے ہم اس موضوع سے ہٹنا نہیں چاہتے۔ لیکن اپنے قارئین کے استفادہ کے لیے دو آسان سے عمل یہاں بیان کر دیتے ہیں۔ ایسی جگہ جس کے متعلق پینڈولم منفی رنگ ظاہر کرے تو وہاں پر ایک عدد پینڈولم رکھ دیں اور اگر یہ ممکن نہ ہو پھر آپ تانبہ کی بنی ہوئی تار وہاں رکھ دیں اس سے وہاں پر موجود منفی اثرات کم ہو جائیں گے۔

اس کے علاوہ ایسی جگہ پر اسم اللہ ‘ علی ‘ کی لوح بنوا کر رکھنے سے وہ جگہ تمام منفی اثرات سے پاک ہو جاتی ہے۔ اس لوح میں اس بات کا خاص خیال رکھیں کہ یہ لوح گول شکل میں نہ ہو اور نہ ہی اس کے باہر کوئی دائرہ بنا ہوا ہو۔ یہ لوح اس جگہ سے  منفی اثرات کو مستقل طور پر ختم کرنے میں بہت موثر ہے۔

یہ بات بھی دلچسپی کا باعث ہے کہ درختوں اور پودوں میں سبز + رنگ موجود ہوتا ہے اور اسی وجہ ہمیں ان کے قریب صحت اور خوشی کا احساس ہوتا ہے۔ اگر آپ اپنی جسمانی قوت میں اضافہ چاہتے ہیں تو ہرے بھرے درخت کے قریب جائیں اور اس کو چھونے سے پہلے اس سے باقاعدہ اجازت طلب کریں۔ درخت کے قریب بیٹھنے اور اسے چھونے سے جسم میں سبز + لہریں داخل ہوتی ہیں۔ مردوں کی نسبت خواتین درختوں اور پودوں میں زیادہ دلچسپی لیتی ہیں اور اس کی ایک بڑی وجہ یہی سبز + لہریں ہیں اور ان لہروں کا تعلق ایک صحت مند بچے سے بھی ہے۔

براہ راست اور فاصلاتی شفاء

پینڈولم سے علاج کرنے سے پہلے معالج کو اس بات کا تعین کرنا چاہیے کہ کیا وہ براہ راست مریض کا علاج کرے گا یا فاصلاتی طریقہ علاج کو اختیار کرے گا۔ دونوں طریقہ علاج میں ایک جیسی ہی تاثیر پائی جاتی ہے۔ کچھ لوگ فاصلاتی طریقہ علاج کو پسند کرتے ہیں جبکہ کچھ اپنے معالج سے براہ راست علاج کروانا چاہتے ہیں۔ اس میں فرق صرف ذاتی ترجیح کا ہے۔

معالج جب مریض کا براہ راست علاج کر رہا ہو تو اسے چاہیے کہ پینڈولم کو مریض کے جسم میں ناف اور سینہ کے درمیان لٹکا کر رکھے۔ اس مقام کو سولر پلیکسز بھی کہا جاتا ہے۔ پینڈولم کو مرض والے مقام پر بھی لٹکانا بہتر ہوتا ہے یا پھر اسے جسم میں موجود کسی بھی ‘چکرا’ پر لٹکا سکتے ہیں۔

جب آپ پینڈولم سے علاج میں مہارت حاصل کر لیتے ہیں تو پھر پینڈولم کو ہاتھ میں تھام کرصرف ہوا میں بلند کرنے سے مرض کو دور کر سکتے ہیں۔ کوئی بھی انسان پینڈولم کو اپنی جسمانی صحت بہتر بنانے کے لیے خود بھی استعمال بھی کر سکتا ہے۔

ایک معالج کے لیے یہ ضروری نہیں کہ اس کا مریض ہر وقت اس کے سامنے ہو۔ اسی طرح اپنے آپ کے لیے پینڈولم استعمال کرنے میں کبھی دشواری پیش آ سکتی ہے۔ ایسی صورت میں ایک مخصوص کارڈ بنایا جاتا ہے جسے ‘ویٹنس کارڈ’ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ یہ کارڈ فاصلاتی علاج میں بہت اہم ہوتا ہے۔ سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ ایک کارڈ پر مریض کا نام لکھیں۔ کارڈ کو ہاتھ میں تھام لیں اور تین بار مریض کا نام پکاریں۔ نام پکارتے وقت آپ کے ذہن میں مقصد کا ہونا ضروری ہے۔ اس عمل کے کرنے سے یہ کارڈ اب اس مریض کے ساتھ مخصوص ہو چکا ہے اور اس مریض سے ایک رابطہ پیدا کر چکا ہے۔ اب اس کارڈ کے ذریعے پینڈولم کی مدد سے براہراست صحت کی لہریں مریض کی طرف منتقل کی جاتی ہیں جو اس کو مرض سے شفاء دلاتی ہیں۔

 

 

 

 

pendulum_pic_hand_position

دوسرے روحانی طریقہ علاج کی طرح اس طریقہ علاج میں مریض کی تصویر یا سر کے بال کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اوپر بیان کئے گئے طریقہ کے مطابق اگر آپ کارڈ اور مریض کا ربط پیدا لیتے ہیں تو پھر وہ انسان دنیا کے کسی بھی حصہ میں چلا جائے آپ اس کو صحت دے سکتے ہیں۔ اس عمل میں کامیابی کے لیے مریض کا نام مکمل اور درست لکھا جانا ضروری ہے۔

جب آپ کارڈ کے ذریعے علاج کر چکیں تو پھر اس کارڈ کا مریض سے رابطہ ختم کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اس رابطہ کو ختم کرنے کے لیے تین بار یہ کلمات دہرانا ہوتا ہے کہ ‘جسم میں واپس چلے جاؤ’ اور پھر اس کارڈ پر زور سے تین بار پھونک مار دیں۔

کچھ لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ کیا کارڈ کو اس طریقہ علاج میں استعمال کرنا لازمی ہے تو یہ لازمی نہیں ہے۔ اصل مقصد مریض کے ساتھ کوئی بھی رابطہ پیدا کرنا ہے۔ آپ اپنے ذہن کو بھی رابطہ کے طور پر استعمال میں لا سکتے ہیں لیکن اس کے لیے آپ کو پینڈولم کے طریقہ علاج میں بہت مہارت اور تجربہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ کارڈ کا استعمال ان معالجین کے فائدہ مند ہوتا ہے جو اس طریقہ علاج کے ابتدائی مراحل میں ہیں۔ کارڈ کا اصل مقصد معالج اور مریض میں ایک نفسیاتی اعتماد کو پیدا کرنا ہے۔ کارڈ کا استعمال تبھی کریں جب آپ کو اس کی ضرورت محسوس ہو۔

1 Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*