اسم اعظم ۹۔

اسم اعظم

surah e fateha image roohanialoom

اس سے قبل ۸ اقساط بسلسلہ اسم اعظم پیش کی جا چکی ہیں اب سلسلہ تحریر کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے احادیث و بزرگان دین کے اقوال کی روشنی میں سورہ فاتحہ کے متعلق علماء و مشائخ کے اقوال تحریر کئے جارہے ہیں۔

بعض مشائخ کا قول ہے کہ سورہ فاتحہ اسم اعظم ہے لہٰذا مولٰنا قطب الدین صاحب نے مشکوٰۃ شریف کی شرح “مظاہر حق جلد دوم کتاب فضائل القرآن ” میں تحریر کیا ہے کہ
مشائخ کے اعمال مجربہ میں مذکور ہے کہ سورہ فاتحہ اسم اعظم ہے ہر مطلب کے واسطے پڑھنا چاہئے ۔

علامہ ابن حربی ٖ(رح) فرماتے ہیں کہ مغرب کے فرض و سنت کے بعد اسی جگہ چالیس مرتبہ سورہ فاتحہ پڑھے اور اٹھنے سے قبل اپنی حاجت طلب کرے ، اللہ تعالیٰ سے جو مانگے گا پائے گا

سورہ فاتحہ کی فضیلت میں بہت کچھ لکھا گیا ہے سورہ فاتحہ قرآن مجید کی سب سے افضل و بہتر اور بزرگ و برتر سورہ ہے تمام قرآنی سورتوں میں یہ زیادہ عظمت و بزرگی والی سورہ ہے اس سورہ کے فضائل و خصائص بہت زیادہ ہیں۔ اللہ عزوجل نے اس کو سبع مثانی اور قرآن عظیم کے معزز القاب سے ملقب فرمایا ہے یہ ایک بے مثل اور لاثانی سورہ عرش کے خزانوں میں سے ایک خاص تحفہ ہے جو صرف حضور ﷺ کو عطا ہوا ۔ چاروں آسمانی کتب یعنی تورات ۔ زبور ۔ انجیل اور قرآن میں اس سورہ جیسی اور کوئی سورہ نازل نہیں ہوئی اس کے نزول کے وقت اسی ہزار فرشتے اس کی مشایعت و ہمرکابی میں آئے ۔

امام بخاری ، مسلم ابو داود ، نسائی اور ابن ماجہ نے حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ میں مسجد میں نماز پڑھ رہا تھا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ کو بلایا سو میں نے آپ کو کوئی جواب نہ دیا ( اس لئے کہ میں نماز پڑھ رہا تھا ) پھر (نماز سے فارغ ہو کر )میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! میں نماز پڑھ رہا تھا اس لئے جواب نہ دے سکا ، آپ ﷺ نے فرمایا کہ کیا اللہ تعالیٰ نے نہیں فرمایا
استجیبواللہ وللرسول اذا دعاکم (سورہ انفال ) کہ اللہ اور رسول کو جواب دو (یعنی ان کے حکم کی تعمیل کرو)جس وقت تم کو پکاریں
پھر آپ ﷺ نے فرمایا کیا میں تم کو تمہارے مسجد سے باہر جانے سے پہلے ایک ایسی سورہ نہ سکھلاؤں جو قرآن میں سے زیادہ عظمت والی سورہ ہے ۔ پھر آپ ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑا ( اور دوسری باتوں میں مشغول ہوگئے ) پھر جب ہم نے ( مسجد سے ) نکلنے کا ارادہ کیا تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ آپ نے فرمایا تھا کہ میں تمکو قرآن کی سب سے بڑی عظمت والی سورہ سکھلاؤں گا ۔ آپ ﷺ نے فرمایا وہ سورہ “سورہ الحمد”ہے ، وہی سبع مثانی اور قرآن عظیم ہے جو مجھے دیا گیا ہے “۔

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قرآن مجید کی تمام سورتوں میں سب سے زیادہ عظمت والی اور بزرگی سورہ الحمد شریف ہے
جلال الدین سیوطی نے تفسیر اتقان میں لکھا ہے کہ ابن التین نے اس حدیث کے بارے میں کہا ہے کہ
تم کو ایک ایسی سورہ سکھلاؤں گا جو کہ تمام سورتوں سے زیادہ عظمت والی ہے ۔
اس کے معنی ہیں کہ اس سورہ کا ثواب دوسری سورتوں کے ثواب سے بہت ہی بڑا ہے ۔ اور کسی دوسرے شخص (عالم) نے کہا ہے کہ یہ سورہ تمام سورتوں سے زیادہ عظمت والی اس لئے ہوئی کہ اس نے قرآن کے تمام مقاصد کو اپنے اندر جمع کرلیا ہے اور اسی واسطے اس کا نام ام القرآن رکھا گیا ہے ۔

امام بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
قرآن مجید میں سب سے بہتر سورہ الحمد ہے ۔

امام احمد نے عبداللہ بن حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ
جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے عبداللہ بن جابر سنو تمام قرآن مجید میں سے سے بہتر سورہ الحمد للہ رب العلمین ہے ۔

تمام قرآن کا خلاصہ اور باقی قرآن اس کی تفصیل و شرح ہے اس سورہ نے قرآن کے تمام مقاصد کو اپنے اندر جمع کرلیا ہے ۔

ایک حدیث شریف میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اولین اور آخرین کے علوم کو چار کتابوں میں جمع فرمایا ہے اور ان چاروں کتابوں کے علوم قرآن مجید میں ہیں اور قرآن مجید کے علوم سورہ فاتحہ میں ہیں ۔

سورہ فاتحہ کے مقدم ہونے کی وجہ :حضرت علی ابن ابی طالب ؑ کا ایک مشہور فرمان جسے صاحب کتاب خزینتہ الجواہر نے ص۴۳۶و۵۷۴ پر نقل فرمایا ہے کہ آپﷺ نے فرمایا کہ تمام آسمانی کتابوں کا علم قرآن مجید میں ہے اور تمام قرآن کا علم سورہ فاتحہ میں ہے اور جو کچھ سورہ فاتحہ میں ہے وہ بسم اللہ الرحمن الرحیم میں ہے اور جو کچھ بسم اللہ میں ہے وہ باء بسم اللہ میں ہے اور جو کچھ باء بسم اللہ میں ہے وہ اس نقطہ میں ہے جو باء کے نیچے ہے اور میں وہی نقطہ ہوں ، اسی ذیل میں صاحب کتاب فرماتے ہیں کہ من جملہ باقی وجوہ کے سورہ فاتحہ کے باقی قرآنی سورتوں پر مقدم ہونے کی یہ بھی ایک وجہ ہے کیوں کہ سورہ فاتحہ کو باقی قرآن کے ساتھ اجمال و تفصیل کی نسبت حاصل ہے یعنی قرآن میں جو کچھ تفصیل کے ساتھ درج ہے وہ سورہ فاتحہ میں اجمالاً موجود ہے ۔

ایک روایت میں ہے کہ جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حضور ﷺ نے فرمایا کہ میں تجھے ایک ایسی سورہ کی تعلیم دوں جس سے بہتر خدا تعالیٰ نے قرآن مجید میں کوئی سورہ نازل نہ فرمائی ہو
جابر نے عرض کی جی ہاں ، میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں یا رسول اللہ ﷺ ۔ پس آپ نے اس کو سورہ حمد تعلیم فرمائی پھر آپ نے فرمایا اے جابر اس کے متعلق میں تجھے کچھ بتاؤں ؟جابر نے عرض کی جی ہاں ۔
میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں آپ نے فرمایا یہ موت کے سوا ہر مرض کے لئے شفاء ہے ۔

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ جس کو الحمد تندرست نہیں کر سکتی اس کو کوئی چیز تندرست نہیں کر سکتی ۔
بعض روایات میں ملتا ہے کہ درد والے مقام پر ستر مرتبہ یہ سورہ پڑھی جائے تو درد ضرور ختم ہوجاتا ہے
ایک روایت میں ہے کہ پانی کے پیالہ پر چالیس مرتبہ سورہ فاتحہ پڑھ کر مریض پر چھڑکا جائے تو اس کو شفاء ہوگی

قرآن مجید میں جو کچھ تفصیل کے ساتھ موجود ہے وہ سورہ فاتحہ میں اجمالاً موجود ہے ۔
الحمدُ ۔ قرآن مجید میں خداوند کریم کی تمجید ۔ تمحید ۔ تسبیح ۔ تقدیس ۔ تہلیل ۔ تکبیر۔ شکر و رضا جس قدر تفصیل کے ساتھ بیان ہوئے ہیں لفظ ” الحمد ” ان کا اجمالی خاکہ ہے ۔
رب ۔ قرآن مجید میں جہاں جہاں ربوبیت کا تفصیلی ذکر ہے لفظ رب میں وہ سب کچھ اجمالاً موجود ہے
العالمین ۔ کتاب قرآن مجید میں ، آسمانوں ، زمینوں ، جنوں ، انسانوں ، وحوش ، طیور ،انبیاء ، اولیاء ،نیکوں اور بروں بلکہ جمیع مصنوعات کی جس قدر تفصیل ہے وہ لفظ العالمین میں بند ہے ۔
الرحمن ۔ قرآن میں جس قدر رزق ، انعام ، احسان ، اکرام وغیرہ مذکور ہیں لفظ الرحمن ان سب پر مشتمل ہے ۔
الرحیم : کلام مجید میں جہاں کہیں وسعت رحمت اور گناہوں کی مغفرت کا ذکر ہے لفظ الرحیم میں سب شامل ہیں ۔
مالک ۔ قرآن کریم میں خدا کی قدرت و عظمت ، اس کی بقا و سرمدیت اور اس کا بے مثل و بے مثال اور لا شریک ہونا یہ سب کچھ کلمہ مالک میں جمع ہے ۔
یوم الدین ۔ پورے قرآن میں جس قدر قیامت ، مواقف حساب ، نعمات و جملہ احوال بہشت اور درکات و خطرات جہنم و میزان و صراط وغیرہ کے تفصیلی تذکرے ہیں وہ لفظ ” یوم الدین ” میں سمائے ہوئے ہیں ۔
ایاک نعبدو ۔ جملہ عبادت جن کا قرآن میں ذکر ہے ایاک نعبدو کے اندر موجود ہے ۔
وایاک نستعین ۔ کلام اللہ میں ذکر استعانت ، توکل و طلب مدد ۔ جہاں بھی مذکور ہے وہ “ایاک نستعین “میں مندرج ہیں ۔
اھدنا ۔ قرآن میں ہدایت و ارشاد ، دعا و سوال اور تضرع وغیرہ کا جہاں ذکر ہے اھدنا اس کا جامع ہے ۔
الصراط المستقیم ۔ قرآن پاک میں جملہ حلال و حرام اومر و نواہی اسی اجمال کی تفصیل ہے ۔
صراط الذین انعمت علیھم ۔ کتاب پاک میں جس قدر نیک لوگوں کے حالات ، ان کے طریقے ، ان کی سنّتیں ، سیرتیں ، ان کا سبب نجات اور بلندی درجات وغیرہ تفصیل کے ساتھ بیان ہوئے ہیں ان لفظوں میں اختصار کے ساتھ مندرج ہیں
غیر المغضوب علیھم ۔ بنی اسرائیل کے حالات و قصص ، ان کا کفران نعمت ، تکذیب انبیاء و قتل انبیاء اور ان کا گناہوں پراصرار پھر ان پر غضب خدا و عذاب کا نزول قرآن میں جتنی تفصیل سے مذکور ہے وہ غیر المغضوب علیھم میں سمایا ہوا ہے ۔
ولا الضالین ۔ فرعونوں جابر بادشاہوں ، نصرانیوں ،مشرکوں اور گمراہوں کی پوری قرآنی تفصیل کا یہ اجمالی عنوان ہے پس اسی لئے سورہ فاتحہ کو تمام قرآنی سورتوں پر مقدم کیا گیا ہے کیونکہ اجمال تفصیل سے پہلے ہوا کرتا ہے ۔

سورہ فاتحہ کے اسماء اور وجہ تسمیہ

الفاتحہ : فاتحہ اس لئے کہتے ہیں کہ تمام قرآنی سورتوں سے پہلے ہے اس کی تفصیل بیان کی جا چکی ہے ۔
ام الکتاب یا الاساس :۔ ام کا معنی ماں ہے اور ماں اولاد کے لئے اصل اور اولاد اس کی فرع ہوتی ہے اور اصل کا فرع سے مقدم ہونا ضروری ہے ، اسی طرح اساس کے معنی بنیاد ہوتا ہے گویا سورہ فاتحہ بنیاد ہے پورے قرآن کی لہٰذا اس کا مقدم ہونا لازمی ہے ۔
الشفاء :۔حصول شفاء کے لئے بکثرت احادیث و اقوال ملتے ہیں جن میں سے چند تحریر کئے گئے ہیں مذکورہ بالا احادیث(حصول شفاء کے سلسلے میں جو تحریر کی گئیں) سے وجہ تسمیہ صاف ظاہر ہے ۔
السبع :۔ چونکہ اس سورہ کی کل آیات سات ہیں یہی وجہ تسمیہ ہے کہ سبع سات کو کہتے ہیں ۔
الحمد :۔ کہ اس میں پروردگار عالم کی حمد بیان کی گئی ہے ۔
الوافیہ :۔ ہر نماز خواہ فرض ہو یا سنت اس کا پورا پڑھنا ضروری ہے اور وافیہ کا معنی ہے پوری ۔
الکافیہ :۔ یہ اس لئے کہ یہ سورہ سنت نماز میں تنہا کافی ہے
الصلوٰۃ :۔ ہر نماز میں اس کا پڑھنا ضروری ہے ، چنانچہ مشہور حدیث ہے کہ ” لا صلوٰۃ الا بفاتحۃ الکتاب ” یعنی کوئی نماز بغیر فاتحہ کے درست نہیں ۔
المثانی :۔ اس کی وجہ تسمیہ مختلف بیان کی گئی ہے ۔
ہر نماز میں خواہ فرض ہو یا سنت اس کو دو دفع پڑھنا ضروری ہے اس لئے اس کو مثانی کہتے ہیں ۔
یہ سورہ مبارکہ دو مرتبہ نازل ہوئی ایک مرتبہ مکہ میں اور دوسری مرتبہ مدینہ میں اس لئے اس کو مثانی کہتے ہیں ۔
یہ سورہ دو حصوں میں منقسم ہے ۔ ثناء خالق اور سوال مخلوق
اس سورہ کی سات آیات ہیں اور ہر آیت دو معنی رکھتی ہیں ۔
اسماء و صفات حق تعالیٰ کی دو قسمیں ہیں ایک اس کی عظمت و قدرت پر دلالت کرتی ہے اور دوسری اس کی مہربانی اور رحمت کو ظاہر کرتی ہے اور بسم اللہ الرحمن الرحیم میں دونوں پائی جاتی ہیں ۔
شکر کی دو قسمیں ہیں ایک ذات و صفات پر اور دوسرے احسانات و انعامات پر اور الحمد میں دونوں شکر کی قسمیں موجود ہیں ۔
عالم دو ہیں، دنیا و آخرت ۔ اور رب العالمین میں دونوں شامل ہیں ۔
رحمت کی دو قسمیں ہیں ، دنیا میں اور قیامت میں اور الرحمن الرحیم میں دونوں موجود ہیں ۔
بدلہ و جزا دو چیزوں کے مقابلہ میں ہوتا ہے ایک نیکیوں کا دوسرا برائیوں کا اور مالک یوم الدین میں دونوں آجاتے ہیں ۔
اطاعت کی دو قسمیں ہیں عبادت اور عبودیت ، ایاک نعبد میں دونوں پائی جاتی ہیں ۔
طلب مدد دو چیزوں کے لئے ہوتی ہے ، اچھی چیز حاصل کرنے کے لئے اور بری چیز کو روکنے کے لئے ۔ ایاک نستعین دونوں معنوں کو شامل ہے ۔
ہدایت دو مقام کے لئے ہے ایک معرفت اور دوسری اطاعت ، اھدنا سے دونوں مراد ہیں ۔
گمراہی دو قسم کی ہے ۔ ایک اہل کتاب کی اور دوسری مشرکین وغیرہ کی ، آخر سورہ میں دونوں کا ذکر ہے یہ وہ مشہور وجوہ ہیں جن کی بنا پر اس سورہ ، سورہ المثانی بھی کہا جاتا ہے ۔

چند اعمال یہاں درج کرتا ہوں جو حصول حاجت کے لئے کوئی بھی فرد کر سکتا ہے
دینی و دنیاوی امور کے لئے اکتالیس مرتبہ روزانہ اس کا ورد اپنے اوپر لازم کرلیں حیران کن نتائج حاصل ہوں گے ۔

سورہ یس شریف پڑھیں اور ہر مبین پر پہنچ کر سات مرتبہ سورہ فاتحہ پڑھیں سورہ یس میں کل سات مبین ہیں لہٰذا کل سورہ فاتحہ جو لفظ مبین پر پڑھی جائے گی اس کی کل تعداد 49ہوگی ۔
اس عمل کے بعد اپنی حاجت خدا کی بارگاہ میں طلب کرے ۔

سنت فجر اور فرض نماز کے درمیان سورہ فاتحہ کا پڑھنا بہت زیادہ فوائد و برکات کا باعث ہے بزرگوں نے اس کے پڑھنے کی مختلف ترکیبیں بیان کی ہیں ۔
اول ترکیب :۔ سنت فجر اور نماز فرض کے درمیان
بسم اللہ الرحمن الرحیم کی میم کو الحمد کے لام کے ساتھ ملا کر اکتالیس بار چالیس دن تک پڑھے
جو مطلب ہوگا انشاء اللہ تعالیٰ حاصل ہوگا۔
اگر کسی مریض کی یا سحر زدہ کی شفایابی مقصود ہو تو پڑھنے کے بعد پانی پر دم کرکے مریض کو پلادیا کریں چالیس دن میں سخت سے سخت سحر کا بھی خاتمہ ہوجائے گا۔

نوچندی اتوار کو سنت اور فرض فجر کے درمیان بے قید ملانے میم کے ساتھ لام ” الحمد ” کو ستر مرتبہ پڑھے ۔ بعدازاں ہر روز اسی وقت پڑھے اور دس دس بار کم کرتا جائے تاکہ ہفتہ تک ختم ہوجائے
اگر اول مہینہ میں مطلب حاصل ہوا تو فبیہا ورنہ دوسرے اور تیسرے مہینہ میں اسی طرح کرے ۔

شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی نے قول جمیل میں لکھا کہ میں نے اپنے والد مرشد سے سنا فرماتے تھے کہ جب تجھ کو کوئی حاجت پیش آئے یا کہ شخص تیرا غائب ہو اور تو چاہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو سالم و غانم واپس لے آئے یا کوئی تیرا بیمار ہو پس تو چاہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو شفا بخشے تو سورہ فاتحہ کو اکتالیس بار سنت فجر اور فرض کے درمیان پڑھ ۔

جو شخص سورہ فاتحہ کو نماز فجر کی سنت و فرض کے درمیان پڑھے گا (اکتالیس مرتبہ ) تو اگر وہ محتاج ہے تو غنی ہوجائے گا ، قرض دار ہے تو اس کا قرض ادا ہوجائے گا ۔ بیمار ہے تو اچھا ہوجائے گا کمزور ہے تو قوی ہوجائے گا ، نوکری سے معزول ہے تو بحال ہوجائے گا ، لا ولد ہے تو اولاد پائے گا

آئندہ ماہ سورہ فاتحہ کے وہ اعمال جو احقر کے تجربہ میں آچکے ہیں تفصیل کے ساتھ درج کئے جائیں گے ۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*