حصول روزگار کا مجرب جفری عمل

جب ہم اس کائنات میں بسنے والی مخلتف مخلوقات کے طرز حیات کو دیکھتے ہیں تو ایک ہی بات نمایاں طور پر سامنے آتی ہے کہ ہر پہلی نسل اپنے سے اگلی نسل کی پرورش کی ذمہ داری اٹھائے ہوئے ہے۔ وہ جانور ہوں، پھول پیڑ ہوں یا انسان۔

انسان ہمیشہ سے اس کرہ ارض پر قدرت کی سب سے محبوب مخلوق نظر آتا ہے۔ یہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ اس خطہ زمین پر موجود ہر شے صرف انسانی مخلوق کی نازبرداری کے لیے بنائی گئی۔ سورج، چاند اور ستاروں کی روشنی کے الگ الگ پیمانے انسان کے مزاج کے مطابق خلق کئے گیے۔ ذرا تدبر کیا جائے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہر شے کو صرف اس لیے بنایا گیا ہے کہ قدرت کی محبوب مخلوق انسان ان چیزوں سے استفادہ حاصل کر کے اپنی زندگی کو بہتر سے بہترین کی طرف لے جاسکے۔ لیکن قدرت کی ستم ظریفی دیکھیے کہ جہاں حضرت انسان کی دلداری کے لیے اتنا کچھ کیا جا رہا ہے وہیں پر قدرت انسان کو جا بجا آزمائیشوں میں مبتلا کرتی رہتی ہے۔

قدرت نے اپنے محبوب انسان کے لیے بھی وہی نظام حیات مروج کیا ہے جو دیگر مخلوقات کے لیے ہے کہ اپنے بعد آنے والی نسل کو بہتر مواقع میسر کرے جن سے ان کو زندگی کی منازل طے کرنے میں آسانی رہے۔  انسانی عقل جیسے جیسے ترقی کرتی گئی وہ اپنے لیے بہتر سے بہتر طریقہ حیات دریافت کرتی گئی۔ ہماری موجودہ دنیا اسی انسانی عقل کی ترقی کا ایک نمونہ ہے۔ علم اسی عقل کی پیداوار ہے۔ قدیم غاروں میں بنی آڑھی ترچھی لکیروں سے موجودہ دور کے پیچیدہ ترین سائنس اور ریاضی کے فارمولے اسی علم کے مختلف روپ ہیں۔ ہر انسانی نسل کی یہ خواہش رہی ہے کہ ان کے بعد والی نسل ان سے زیادہ کامیاب زندگی گذارے۔ ہر والدین کی فطرت میں یہ سوچ پیوست کی گئی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو معاشرہ میں اعلی اور باعزت مقام پر دیکھیں اورزندگی میں جو ناکامیاں والدین نے دیکھیں وہ ان کی اولاد کو دیکھنا نہ پڑیں۔  اسی مقصد کے حصول کے لیے باپ اور ماں اپنا اپنا کردار پوری دلجمعی اور محنت سے نبھاتے نظر آتے ہیں۔ وسائل کی کمی کے باوجود ماں باپ بچوں کی خوراک سے لے کر بہتر تعلیم کے لیے اپنے سکون اور خوشیوں کی قربانی دے دیتے ہیں۔

علم کا مقصد انسان کے شعور کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی کی طرف لے کر جانا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ علم  معاشرہ میں اعلی مقام اور باعزت زندگی کے حصول کے لیے بھی ایک بہترین ذریعہ ہے۔ والدین کی کوشش ہوتی ہے کہ  بہترین سے بہترین تعلیم اپنی اولاد کو دلوائے تاکہ وہ اپنی زندگی میں کسی پریشانی اور ناکامی کاسامنا نہ کرے اس طرح فرمانبردار اولادیں بھی  اپنے والدین اور بہن بھائیوں سے متعلقہ اپنی ذمہ داریوں کو بطور احسن ادا کرنے کی خواہاں ہوتی ہیں۔
کچھ ایسا ہی ایک سائل کے ساتھ ہوا
لکھتے ہیں کہ
اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد میں بہت پرامید تھا کہ اب میں جلد ہی اچھی سی ملازمت کے ساتھ اپنے بوڑھے ماں باپ کی خدمت کرنے کے قابل ہو جاؤں گا اور جو خواب انھوں اپنے بعد والی نسل کے لیے دیکھا تھا وہ اسے اپنی آنکھوں کے سامنے پایہ تکمیل ہوتا دیکھ لیں۔ میں نے بہت عمدہ طریقہ سے اپنی قابلیت کے بارے میں ایک تعارف نامہ (بائیو ڈیٹا، سی وی) تیار کیا اور مختلف دفاتر میں چکر لگانا شروع کر دئیے۔ اخبارارت اور انٹرنیٹ پر جو بھی مناسب اور میری تعلیم سے متعلقہ ملازمت نظر آتی وہاں بھی رابطہ کرتا۔ مختلف پرائیویٹ اور سرکاری دفاتر میں انٹرویو دئیے۔ آخر طویل انتظار کے بعد ایک جگہ ملازمت مل ہی گئی۔ گو کہ تنخواہ کام کے مقابلہ میں بہت کم تھی لیکن یہ سوچ کر قبول کر لیا کہ سر پر بہت ذمہ داریاں ہیں ایسا نہ ہو اس ملازمت سے جو ملنے کے امکانات ہیں ان سے بھی محروم ہو جاؤں۔
لیکن قدرت کی ستم ظریفی دیکھئے کہ مجھے اور میرے دیگر کئی ساتھیوں کو یہ کہہ کر ملازمت سے نکال دیا گیا کہ کمپنی خسارہ میں جا رہی ہے ۔ سرکاری اداروں میں بھی کوشش کرڈالی لیکن ناکامی کے سوا کچھ حاصل نہ ہوا رشوت یا سفارش ہی ملازمت دلوا سکتی ہے نہ میرے پاس روپے ہیں اور نہ ہی کوئی سفارش۔
میں نے سر توڑ کوشش کرڈالی اگر کوئی ملازمت ملتی بھی ہے تو بہت محدود عرصہ کے لئے ۔ اس ساری صورتحال نے مجھ سمیت گھر کے ہر فرد کو شدید ذہنی دباؤ کا مریض بنا کر رکھ دیا ہے خدارا میری رہنمائی کیجئے ۔
مختلف عاملین کے وظائف بھی کر چکا ہوں لیکن شاید قسمت میں در در کی ٹھوکریں کھانا ہی لکھا ہے

کافی تدبر کے بعد ان کے لئے ایک جفری عمل تیار کیا گیا جس میں اسم "غیاث ” سے مدد لی گئی ۔
وہ تمام افراد جو حصول ملازمت کے سلسلہ میں پریشان ہیں یا باوجود کوشش کے انہیں مطلوبہ ملازمت کا حصول نہیں ہو
پا رہا اپنی ذات کے لئے خود عمل تیار کریں اور دیکھیں کہ مالک حقیقی کس طرح آپ کی مدد فرماتا ہے ۔

ایک شخص جس کا نام سھیل ہے(ہم نے طوالت کے باعث نام والدہ ترک کیا ہے آپ اس عمل میں نام والدہ لازمی شامل کریں گے) وہ نوکری کے لیے سرگرداں ہے۔ تو پہلی سطر یوں ہو گی:

سھیل کو نوکری مل جائےغیاث

بسط حرفی سے یہ سطر حاصل ہوگی

س ھ ی ل ک و ن و ک ر ی م ل ج ا ی غ ی ا ث

اب ہم بسط حرفی سے حاصل شدہ حروف پر تکسیر جفری کا عمل کریں گے۔ تکسیر جفری کے بعد زمام تک پہلوئے راست اور چپ کے تمام حروف الگ الگ لکھ لیں گے۔ اس کےبعد پہلوئے راست اور پہلوئے چپ کے حروف لے کر باہم امتزاج دیں۔ پہلا حرف راست اور دوسرا حرف چپ کا ہو گا۔

امتزاج مکمل کرنے کے بعد تمام حروف کو شمار کریں۔ اگر یہ حروف طاق ہوں تو تین حروف کا کلمہ بنائیں اور اگر یہ حروف جفت ہوں تو چار حروف کا کلمہ ترتیب دیں۔ ان تمام کلمات کو الگ سے تحریر کریں۔ بعد میں یہ کلمات اس عمل کے نقش کے ارد گرد تحریر کرنے ہوں گے۔

تکسیر جفری کے پہلی سطر کا پہلا اور آخری حرف لیں۔ ان دونوں کو ملا کر موکل علوی تیار کریں۔  پھر تکسیر کے مرکزی حرف یا حروف سے موکل سفلی برآمد کریں ۔ آخر میں سطر زمام کا حرف اول و آخر کو لے کر ان سے موکل علوی روحانی تیار کریں۔

اب مربع آتشی چال سے دو عدد نقس تیار کریں۔ اس مقصد کے لیے ہم طالب کے نام معہ والدہ، مقصد اور اسم الہی کے اعداد لیں گے اور مربع آتشی کے اصول و قواعد کے مطابق نقش تیار کریں گے۔   یہ نقوش زعفران اور عرق گلاب کی سیاہی سے تیار ہوں گے۔ ایک نقش کو طالب چاندی کے خول میں ڈال کر گلے یا دائیں بازو میں پہن لے اور دوسرے نقش کو گھر میں ایسی جگہ لٹکایں کہ نقش ہر وقت ہوا میں ہلتا رہے۔

جب نقوش تیار کر چکیں تو دونوں نقوش کے نیچے یہ عزیمت لکھیں

عزمت علیکم و اقسمت علیکم یا موکلات علوی و سفلی ہذا التکسیر ( موکلات علوی و روحانی و سفلی کے نام ) سھیل کی نوکری کا جلد انتظام کرو جب تک سھیل کو نوکری نہیں ملے گی تمہیں اس وقت تک آزادی نہیں ملے گی بحق یا غیاث

اس مثالی عزیمت میں ہم نے سھیل نام لکھا ہے لیکن آپ اپنے تیار کردہ نقوش میں طالب کا نام معہ والدہ لکھیں گے۔ طالب روزانہ وقت مقررہ پر تنہائی میں بیٹھ کر ” یا غیاث اغثنی برحمتک  "کو 313 بار دو زانو ہو کر ورد کرے۔ ورد کے اول و آخر 11 بار درود شریف لازمی پڑھیں۔  کمرہ میں روشنی نہ ہونے کے برابر ہو بلکہ اگر اندھیرا ہو تو زیادہ بہتر ہو گا۔

پہلے دن جب ورد کرنے لگیں تو اس سے قبل دو رکعت نماز حاجت ادا کریں مثل نماز فجر ۔

روزانہ ورد کے بعد گلے یا بازو میں پہنے نقش پر پھونک دیا کریں۔ انشاء اللہ سات ، چودہ یا اکیس دن میں نوکری کا انتظام ہوجائے گا۔

تکسیر ، نقش مربع و دیگر باتیں کئی مرتبہ جفری مضامین میں بیان ہو چکی ہیں اس لئے دوبارہ انہیں تحریر نہیں کیا جا رہا۔ ہر فرد اپنے لئے خود تیار کر سکتا ہے ۔ یاد رہے کہ عمل ہٰذاہر مقصد کے لئے تیار کیا جا سکتا ہے ۔ صرف غور و فکر کی ضرورت ہے ۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*