Khawas Ism-e-Allah | خواص اسم اللہ

اسم اعظم کی دسویں قسط میں اس موضوع پر بحث کی گئی تھی کہ علمائے دین کے نزدیک آیا اسم ذات اسم اعظم ہے یا نہیں ؟
جب کہ کالم کے آخر میں ہم نے لکھا تھا کہ اس اسم کے خواص کو جو ہم تک بزرگوں سے پہنچے ہیں پیش کرنے کی کوشش کریں گے ۔

حضرت غوث الاعظم ؒ فرماتے ہیں کہ
اللہ وہ کلمہ ہے جو ہر ایک مہم کو آسان اور ہر ایک غم و فکر کو دور کردیتا ہے یہ وہ کلمہ ہے جو زہر کے اثر کو بھی زائل کر دیتا ہے ۔ یہ وہ کلمہ ہے کہ جس کا نام عام ہے ۔ اللہ ہر غالب پر غالب ہے ۔ اللہ مظہر العجائب ہے ۔ اللہ کی سلطنت تمام سلطنتوں سے زبردست ہے ۔ اللہ تمام بندوں کے حال سے مطلع اور ان کے دل کے راز سے واقف ہے ۔ اللہ تمام سرکشوں کو پست کرنے والا ۔ تمام زبردستوں کو توڑ دینے والا ہے ۔ اللہ عالم الغیب والشہادۃ ہے ۔ اللہ سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے ۔جو اللہ کو دوست رکھتا ہے وہ غیر اللہ کو نہیں رکھتا ۔ جو اللہ کی راہ میں قدم رکھتا ہے وہ اللہ تک پہنچ جاتا ہے اور وہ اس کے سایہ رحمت میں زندگی بسر کرتا ہے ۔ جو اللہ تعالیٰ کا مشتاق ہوتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ اُنس رکھتا ہے ۔ جو اغیار کو چھوڑ دیتا ہے اس کے اوقات اللہ تعالیٰ کے ساتھ گزرتے ہیں

بے شمار خواص اس اسم کے تحریر کئے گئے ہیں جن میں سب سے اول جسے بیان کرتا ہوں یہ ذاتی طور پر کئی سالوں تک میرے ذاتی استعمال میں رہا
خیال رہے کہ اس اسم کو کثرت سے پڑھنے والے کو دنیا و مافیہا کی کوئی اوقات نظر نہیں آتی
دل کی ظلمتیں مٹ جاتی ہیں اور سینہ وحدت کے نور سے معمور ہوجاتا ہے
مختلف اسرار و رموز کے دروازے کھلنے لگتے ہیں
اسمائے الہی کے پڑھنے کی تعداد تو قرآن و حدیث میں بیان نہیں ہوئی ہیں چاہئے کہ اپنے مشاغل سے جس قدر وقت نکال سکے نکال کر ورد کیا کرے البتہ بزرگان دین و صالحین سے اسماء کی دعوتیں ان کے پڑھنے کے طریق تعداد و پرہیز منقول ہے
ان کے معمولات سے ایک مشہور طریقہ درج کر رہا ہوں کہ نماز فجر کے بعد ایک ہزار مرتبہ
یا اللہُ کا ورد کیا کرے اس عمل کے ساتھ پرہیز جلالی و جمالی و ترک حیوانات کی شرط عائد کی گئی ہے لیکن یہاں میں یہ بات واضح کر دوں کہ ذاتی طور پر جب اس عمل کی میں نے ابتداء کی تھی تو ماسوائے شرعی پرہیز کے کوئی پرہیز نہیں کیا تھا اور ویسے بھی ایک عامل کے لئے شرع کا پابند ہونا ضروری ہے ۔
چند ماہ کی مداومت کرکے دیکھ لیں اس کے اثرات روز روشن کی طرح آپ کے سامنے ہونگے

موجودہ دور نفسا نفسی کا دور ہے ہر شخص چاہتا ہے کہ میں دوسرے سے برتر نظر آؤں یہی وجہ ہے کہ عملیاتی شعبہ جات میں بھی انسان اسی فلسفہ پر عمل کرتا نظر آرہا ہے
آپ یہ ورد خالصتاً قربتہً الی اللہ کی نیت سے کریں لالچ کو دل میں جگہ نہ دیں
انشاء اللہ خوب فیض اٹھائیں گے ۔
اسم جلالی ہے لہٰذا مشورہ ہے کہ حسب طاقت درودشریف کا ورد کثرت سے جاری رکھیں

اسی اسم کو اگر اس طرح پڑھا جائے کہ ایک وقت و ایک جگہ مقرر کرلی جائے
روزانہ روبقبلہ ہو کر پانچ ہزار مرتبہ اللہ اللہ کا ورد کیا جائے
لیکن یہ ورد نہایت سکون و ٹھہر ٹھہر کر کیا جائے تو چند روز میں کشف کی صلاحیتیں بیدار ہونا شروع ہوجاتی ہیں مناسب ہے کہ ان ایام میں روزہ و نماز کی کثرت کرے
وہ افراد جو کشف کے اعمال کے پیچھے سرگرداں ہیں چند روز تجربہ کرکے دیکھ لیں
لیکن یاد رکھئے کہ جب اسرار و رموز ظاہر ہونے لگیں تو زبان کو تالے لگا لیں یہ نہ ہو کہ دنیا میں ڈھنڈورا کرتے پھریں یاد رکھیں جو راز کا اہل نہیں ، اسرار کی دنیا ان کے لئے نہیں ۔

مشائخ قادریہ کے ہاں کشف کے لئے جو طریقہ ملتا ہے وہ بھی تحریر کرتے ہیں کہ
عمل سے قبل غسل کرے اور عمدہ لباس پہنے
خوشبو لگائے اور خلوت میں اعتکاف کرے
روبقبلہ ہو کر آنکھیں بندکرکے بیٹھیں اللہ رب العزت کی جانب قلب کو متوجہ کریں اور اللہ سے التجا کریں کہ اے اللہ ً فلاں واقعہ مجھ پر ظاہر کردے
اس کے بعد بغیر آنکھ بند کئے اسم ذات کا چار ضربی ذکر شروع کردے ،ایک ضرب دائیں جانب
دوسری بائیں جانب ، تیسری سامنے ، اور چوتھی پیچھے ۔
برابر اس شغل میں مشغول رہیں یہاں تک کہ دل میں کشائش و نور کی کیفیت معلوم ہونے لگے
سات دن مسلسل خلوت میں اس عمل کو انجام دے ، مقصد حاصل ہوجائے گا
اگر کوئی بھی صاحب اس عمل میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو دوسری مرتبہ حصول مقصد کے لئے سات دن کی نوبت نہیں آتی بلکہ پہلے ، دوسرے حد تیسرے روز ہی حقائق سامنے آجاتے ہیں۔

شفاء الامراض

 اس مبارک و مقدس اسم کے اعداد ابجد قمری 66ہیں اور عاملین کے مطابق چار ملائک مقربین ہیں جبرائیلؑ ، میکائیکل ؑ ، اسرافیل ؑ ، عزرائیل۔
علاج الامراض کے سلسلہ میں مختلف عاملین مختلف طریقہ کار استعمال کرتے ہیں لیکن اکثر اسم اللہ پر اکتفا کرتے ہیں بہت سادہ اور آسان سی ترکیب ہے کہ سفید کاغذ پر بسم اللہ الرحمن الرحیم سے اضلاع بنائے جائیں جیسے نقوش کے اضلاع تیار کئے جاتے ہیں ، چاروں کونوں پر ملائکہ مقربین کے نام تحریر کئے جائیں اور درمیان میں چھیاسٹھ مرتبہ اسم اللہ تحریر کیا جائے
مریض اگر خود کے لئے تیار کرنا چاہے تو کسی بھی نوچندی جمعرات یا جمعہ یا اتوار کو ساعت اول میں سفید کاغذ پر اسی طرح اکیس یا چالیس عدد نقش تیار کرلیا کرے یا عامل اگر کسی مریض کو دینا چاہے تو اسی طریق پر کاربند ہو کر نقوش تیار کر سکتا ہے نقش زعفران سے تیار کرکے دئیے جائیں ۔ مریض روزانہ ایک نقش پانی کی ایک بوتل میں ڈال کر رکھ دیا کرے اور اسی میں سے تھوڑا تھوڑا پانی پیتا رہے اگلے دن دوسرا نقش استعمال کرے اس طرح اکیس یا چالیس یوم تک نقوش کا استعمال کرتا رہے حیرت انگیز طور پر مرض میں افاقہ آئے گا ۔
اگر مریض صاحب حیثیت ہے تو بطور صدقہ ایک بکرا ذبح کروا کر مستحقین میں بانٹیں ورنہ مرغ وغیرہ کا صدقہ دے ۔ صدقہ نقوش لکھنے سے قبل دے تو بہتر ہے ۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*