اسم اعظم 8::۔

عرصہ دراز سے کوئی نیا مضمون قارئین روحانی علوم ڈاٹ کام کے لئے پیش نہ کیا جا سکا ، کئی احباب کے اصرار پر دوبارہ نئے مضامین کا سلسلہ شروع کیا جا رہا ہے ۔ کوشش کریں گے کہ یہ تسلسل برقرار رکھا جا سکے ۔
اس سے قبل اسم اعظم کے موضوع پر 7 اقساط پیش کی جا چکی ہیں

گزشتہ مضامین بابت اسم اعظمبہت سے احباب کسی اسم کا ورد اختیار کرنے سے قبل ایک عجیب وہم کا شکار نظر آتے ہیں کہ اسم کے ورد سے کوئی مصیبت تو نہیں آجائے گی اور اسی قسم کے دیگر سوالات پریشان کئے ہوئے ہوتے ہیں تو ایک بات ذہن نشین کرلیں کہ یہ تمام جال بھی عاملین کا پھیلایا ہوا ہے کہ اجازت نہ لی تو گھر ویران ہوجائے گا تباہ ہوجائے گا ، یقین جانئے کہ جو تاثیر ان اسماء خدا وندی میں اللہ تعالیٰ نے پنہاں رکھی ہے وہ بڑے بڑے اعمال میں نہیں ملے گی لیکن انسانی فطرت کا شاید تقاضہ ہے کہ وہ مشکل چیزوں پر زیادہ توجہ دیتا ہے اور ذہنی طور پر خود کو تسلی دے رہا ہوتا ہے کہ چونکہ اتنی محنت کی گئی ہے تو نتیجہ تو لازماً برآمد ہوگا ۔

اسم اعظم کا یہ سلسلہ جو آپ کی خدمت میں گاہے بگاہے پیش کیا جاتا رہا ہے یہ عاملین کے اعمال سے نہیں بلکہ رحمتہ للعالمین کی احادیث سے لئے گئے ہیں
لہٰذا خیالات لایعنی کو اپنے ذہن میں نہ آنے دیں ۔
ہم نے ساتویں قسط تک آٹھ اقوال پیش کرنے کی سعادت حاصل کی ہے اب اس سلسلہ کو مزید آگے بڑھاتے ہیں ۔

نواں قول جو اسم اعظم کے سلسلہ میں ملتا ہے وہ ہے ” آلم “۔
سورہ بقرہ کی تفسیر میں حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ رئیس المفسرین حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ “حم ، طس اور الم “یہ سب اللہ تعالیٰ کے بڑے نام ہیں ۔ جبکہ یہی اسماء حروف مقطعات میں بھی شامل ہیں بعض روایات کے مطابق اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو انہی ناموں سے مخاطب کیا ہے ۔

پھر ہم مزید احادیث کی طرف جب رجوع کرتے ہیں تو یہ 4 دیگر آیات قرآنی کے متعلق بھی ملتا ہے کہ ان کا شمار اسم اعظم میں ہوتا ہے ۔
لا الہ الا انت سبحنک انی کنت من الظالمین (سورہ انبیاء )۔
انی مسنی الضر و انت ارحم الراحمین (سورہ انبیاء )۔
وافوض امری الی اللہ ، ان اللہ بصیر با لعباد (سورہ مومن)۔
حسبنا اللہ و نعم الوکیل (سورہ آل عمران ) ۔
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ یہ چاروں آیتیں اسم اعظم ہیں کہ جن کے وسیلے سے جو سوال کرے پورا ہو اور جو دعا کرے قبول ہو اور مجھ کو تعجب ہوتا ہے اس شخص پر کہ بواسطہ ان اسماء کے دعا کرے اور قبول نہ ہو

اسی طرح صاحب کتاب “قول جمیل ” میں شاہ ولی اللہ صاحب رقم طراز ہیں کہ
قضائے حاجات کے لئے چار رکعت نماز ادا کی جائے
پہلی رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد ” لا الہ الا انت سبحنک انی کنت من الظالمین فاستجبنا لہ و نجیناہ من الغم وکذلک نجی المومنین “۔
سور مرتبہ پڑھیں ۔ دوسری رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد ” رب انی مسنی انضر و انت ارحم الراحمین”۔ سومرتبہ
تیسری رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد “وافوض امری الی اللہ ، ان اللہ بصر با لعباد ” سو مرتبہ
چوتھی رکعت میں “حسبنا اللہ و نعم الوکیل ” سو مرتبہ بعد از سلام سو مرتبہ ” رب انی مغلوب فانتصر” (سورہ قمر ) پڑھ کر اپنی حاجت خدا کی بارگاہ میں طلب کرے ۔
آیات قرآنی قرآن سے دیکھ کر اچھی طرح حفظ کرلیں ۔ گزشتہ سطور میں ہر آیت کے آگے سورہ لکھ چکا ہوں ۔
انشاء اللہ جس بھی جائز حاجت کے لئے عمل کیا جائے گا وہ بارگاہ خداوندی میں قبول ہوگی ۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*