علم نجوم اور مسلمان ۔ ویدک نجوم یا یونانی نجوم ۔ میرزا ھمایوں بیگ مرحوم

ilm-e-najoom-or-musalman

علم نجوم اور مسلمان 
ویدک نجوم یا یونانی نجوم

اسکندریہ قدیم مصرکا ایک عظیم شہر اور علم و فن کا مرکز تھا وہاں ایک عالی شان لائبریری تھی۔ اس لائبریری کے بارے میں ایک عام تاریخی روایت ہے کہ فتح مصر کے بعد اسے جلا دیا گیا تھا کیونکہ اس میں زیادہ کتابیں علم نجوم سے متعلق تھیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ کچھ کتابیں جلنے سے بچ گئی تھیں اور انہی سے علم نجوم بعد ازاں پھیلا تھا۔ یہ کتابیں یونانیوں نے لکھی تھیں۔ جنہوں نے مصریوں سے اور مصریوں نے بابل سے علم نجوم سیکھا تھا۔ اسی زمانے میں آریہ ہندوستان میں وارد ہوئے اور وہ بھی یونانیوں کے ذریعے علم نجوم کا مروجہ حصہ اپنے ساتھ یہاں لائے تھے یہ بطلیموس سے قبل کی بات ہے۔ ہندوستان کے اس ابتدائی عہد میں فردا، گرگا اور
 پر شرا مشہور نجومی گزرے ہیں اور ان کے بعد جو صحیح معنوں میں علم نجوم میں قدآور شخصیت ابھرتی ہے وہ دہا میرا کی تھی جو پانچوں صدی عیسوی میں ہو گزرا ہے۔ دہا میرا کے بعد طویل عرصے کے لئے کوئی ممتاز نجومی پیدا نہیں ہوااور نہ ہی دہا میرا کی پیش کردہ نجومیانہ ریسرچ میں کوئی اضافہ ہو سکا۔ چنانچہ گزشتہ تیس سال (موجودہ اعتبار سے 68 سال ) میں بھارت میں اس طویل تاریخی وقفے میں گم شدہ کڑیوں کو ملانے کے لئے منجمین نے خاصی ریسرچ کی ہے اور اکثر قدیم تحریروں کو آپس میں مربوط کرنے کی کوشش کی ہے۔ مگر پھر بھی قدیم منجمین کے مرتب کردہ یوگوں کی صحیح تشریح نہیں کر سکےہیں مثلا پوری دنیا کے منجمین  متفق ہیں کہ مشتری سیارہ  زائچہ کے خانہ پانچ میں ہو تو اولاد کافی تعداد میں اور خوش حال ہوتی ہے، خصوصا ًجب مشتری اپنے برج حوت میں ہو مگر عملی طور پر ایسا نہیں ہوتا۔ کئی برس کی جستجو کے بعد میں نے ایک چار سو سال پُرانی کتاب نجوم میں پڑھا جس نے قدیم ہندوستانی نجومیوں کو دہرایا تھا کہ مشتری برج حوت میں  ہو کر خانہ پانچ میں ہو تو ایسے شخص کی اولاد بہت کم ہوتی ہے۔ زیادہ سے زیادہ بمشکل دو بچے ۔

 اسی یوگ کو مشہور بھارتی نجومی بی وی رامن نے اپنی کتاب  “love marriage and sex” میں سرسری طور پر لکھا مگر اس کی تشریح کرنے میں ناکام رہا ۔ کیونکہ قدیم ہندوستان کے نجوم کی گم شدہ کڑیاں ملانا اس کے بس میں نہ تھا۔ اسی طرح بے شمار یوگ ایسے ہیں جنہیں موجود نجومی صحیح طور پر بیان کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ پنڈت اوجھا نے قدیم ہندوستانی نجومیوں کے حوالے سے ایک صحیح توجیح پیش کی ہے کہ جو سیارہ جس شے کی دلیل ہو وہ اپنے برج یا منسوبہ خانے میں  اپنا فائدہ اور اثر دینے سے قاصر ہے ما سوا زحل سیارہ۔ چنانچہ مشتری جو اولاد دینے سے منسوب ہے اپنے برج حوت میں ہو اور خانہ اولاد میں آئے تو اولاد دینے کی صلاحیت سے محروم ہو جاتا ہے۔ اس یوگ کی مزید اور مکمل تشریح پھر بھی دستیاب نہیں ہے۔ چنانچہ جیسا کہ بعد کے واقعات نے ظاہر کیا، قدیم آریہ علم نجوم کا جتنا حصہ باہر سے لائے تھے اس میں خود زیادہ اضافہ نہ کر سکے۔ بلکہ انہوں نے عرب مسلمانوں پر اس مقصد کے لئے انحصار کیا جو فتح سندھ کے بعد یہاں آباد ہوگئے تھے اور جنہوں نے عہد عباسیہ میں علم نجوم میں زبردست تحقیق و اضافہ کر لیا تھا۔
پہلا اثر تو عرب اور بعد ازاں وسط ایشیا کے مسلمانوں منجمین کا یہ تھا کہ انہوں نے سیاروں کی نظرات خانوں کی بجائے درجات کے فاصلوں سے متعین کیں۔ ہندوستانی نجوم میں جب دو سیارے آمنے سامنے کے برج میں ہوں تو حالت مقابلہ میں ہوتے ہیں۔ مگر عرب اور مسلمان منجمین نے یہ اضافہ کیا (جوآج کل مستند اور عام استعمال میں ہے) کہ جب دو مقابلے کے سیارے ایک ہی ڈگری پر ہوں یا خاص حد اتصال میں ہوں تب نظر مقابلہ موثر ہوتی ہےورنہ اس کا اثر نہیں ہوتایعنی ان دونوں سیاروں کے درمیان 180 درجہ کا فاصلہ ہونا ضروری ہےیا اس فاصلے میں چھ درجات تک چھوٹ دی گئی ہے۔

مسلمان نجومیوں نے پہلی مرتبہ سیاروں کی نظرات متعین کیں اور ہر نظر کو خاص نام دیا۔ مثلاً تثلیث ، تسدیس ، تربیع۔ہندوستانی نجومیوں نے ان ناموں کو من و عن قبول کر کے انہیں استعمال کیا چنانچہ آج کے ہندی نجوم میں یہی نام نظرات کے لئے مستعمل ہیں۔

زائچہ مسلمان نجومیوں کی ایجاد ہےاور اس کے بارہ خانے مسلمانوں نے ہی متعین کئے ہیں۔ نجوم کا بانی بطلیموس نجومی بھی اس سے نا آشنا تھا اور اس کی مشہور کتاب "Tetrabiblos"میں زائچہ کا کہیں تذکرہ نہیں ملتا۔ ہندوستان کی قدیم نجومیانہ کتابوں میں زائچہ کا لفظ تک نہیں آیا۔ چنانچہ بارہ گھروں کا زائچہ مسلمان نجومیوں کی ایجاد و تحقیق ہے ۔ یہ گول اور چوکور ہوتا ہے ۔ یہ بات کہ زائچہ مسلمانوں کی اختراع ہے اس دلیل کی روشنی میں ثابت ہوتی ہے کہ دنیا کی ساری زبانیں خواہ ہندی، سنسکرت، انگریزی ہو یا یونانی ، بائیں سے دائیں لکھی جاتی ہے ۔ چینی ، جاپانی زبانیں اوپر سے نیچے لکھی جاتی ہے ۔ مگر عربی زبان دائیں سے بائیں لکھی جاتی ہے اور زائچہ کی رفتار بھی دائیں سے بائیں  ہے۔ خواہ گول زائچہ ہو یا چوکور زائچہ۔
مسلمانوں نے حالات زندگی جاننے کے لئے شمس اور قمر کی ترقی پذیر رفتار سے کام لیا اور ان سے پہلے ایسا نجومیانہ تصور تاریخ نجوم میں نہیں ملتا ۔ قمر 27 سال میں ترقی پذیر ہو کر اسی نکتہ پر پہنچتا ہے جہاں پیدائش کے وقت کے وقت ہوتا ہے۔ اس کے چارگردشی ادوار مسلمانوں  نے متعین کئے ہیں یعنی 108 سال کے اور انسان کی طبعی عمر 108 سال مقرر کی اس کا نام فارسی میں ہے
"ہشت  وسی”۔جب یہ قمری گردش کا تصور ہندوستان میں آیا تو اسے مہشوتڑی کے لفظ میں تبدیل کر لیا گیا اور یہ 108 سال کا دور ہندوستان اور ہمارے یہاں اب بھی رائج ہے ۔دوسرا بست دسی (ایک سو بیس) دور ہے جو نبشوتڑی کے لفظ میں ڈھال کر ہندی نجوم میں رائج ہے۔

"اشٹ ورگ پھل” ایک کتاب کا نام ہے جسے بھارتی منجم این این کرشنا راؤ (اینڈ کمپنی) نے لکھا ہے اور ترتیب دیا اور 345 چند اور کر کراس روڈ بمبئی سے شائع کیا۔ سن   ا شا عت 1962 ہے اور کتا ب ا نگریز ی میں ہے ۔ ا س کتا ب میں قدیم ہندی        کتابوں کے تراجم بھی شا مل ہیں اور ہندی نجوم میں اسے نمایا ں حیثیت حاصل ہے ۔ کتاب میں مشہور ہندی سسٹم پر سیر حاصل بحث کی گئی ہے ۔ مصنف نے اس سسٹم کو ہندی نجوم کا سنگ میل اور ہندو ذہانت کا کمال بتایا ۔ اس سسٹم کو لاگو کرتے ہوئے کرشنا راؤ نے صدرجان ایف کینیڈی کا زائچہ اس کتاب ص102 تا ص 122 پر شائع کیا ہے اور اس وقت کی مسز کینیڈی کا زائچہ اخیر میں درج ہے ۔ مصنف صفحہ 115 پر لکھتے ہیں ۔” صدر کینیڈی کی عمر 70 سال سے زیادہ ہوگی ۔ انہیں زندگی کے 35/40/45/ 52 سال میں بہت فائدے پہنچے گے۔ یہ بات تاریخی لحاظ سے 1964 میں غلط ثابت ہوئی جب کینیڈی (سال1917) صرف 47 سال کی عمر میں قتل کئے گئے صفحہ 117 پر لکھا ہے کہ کینیڈی کی عمر بہت لمبی ہے اور اسی صفحہ پر درج ہے کہ مسز کینیڈی کی بہترین زندگی کا دور 1959 تا 1975 ہے اور اسی لئے یہ تمام عرصہ وہ اور جان کینیڈی خوشیوں اور عظمت کی بلندیوں کو چھو لیں گے اور ہر دن عید اور رات شب برات ہوگی ۔ مگر یہ پیش گوئی بھی غلط ثابت ہوئی۔ صفحہ 120 پر درج ہے کہ کینیڈی 1965 میں دوبارہ صدارت کے امیدوار ہوں گے اور بھاری اکثریت سے جیت جائیں گے کیونکہ زائچہ میں اتنے شاندار یوگ دیکھ کر ہم یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ کینیڈی اس دنیا میں خدا کا نمائندہ ہے جو خدا نے منتخب کرکے زمین پر بھیجا ہے ۔

کیا یہ سب ہندونجوم کی روشنی میں ان بڑے بڑے نجومیوں نے لکھا ہے ؟یا محض امریکہ کو خوش کرنے کے لئے یہ غلط پیش گوئیاں لکھیں؟ قارئین اس کا فیصلہ خود کر سکتے ہیں مگر ان بلند و بالا دعووں اور ان کے جھوٹا ثابت ہونے کے بعد
 اشٹ ورگ ”Ashtakvarga” کے سلسلے میں ہندو   “ Genius”کا غلط تاثر ذہن میں بیٹھتا ہے اور پتہ چلتا ہے کہہ ہندی نجوم کی دھاک  جوذہنوں میں جو بیٹھی ہوئی ہے وہ حق پر نہیں ہے ۔ یہاں یہ بتانا بہتر ہے کہ سیارہ کی بنیادی طاقت معلوم کرنے کے سلسلے کو اشٹ ورگ کہتے ہیں۔ ایک سیارہ جو بظاہر اچھی جگہ پر بیٹھا ہے مگر تجزیے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ اس کی بنیادی طاقت بہت کم ہے چنانچہ اچھے اثرات بہت کم ہوتے ہیں۔ یہ سسٹم اپنی جگہ درست ہے ۔ مسلمانوں نے اسے دریافت کیا تھا اور تب یہ ہشت ورق (آٹھ اقسام) کے نام سے مشہور تھا۔ جب مسلمان ہندوستان میں آئے تو ہندو نجومیوں نے ان سے سسٹم سیکھ کر اسے اپنی زبان میں اشٹ ورگ “Ashtakvarga”کا نام دیا۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*