تشخیص پر توجہ دیں ۔ قسط دوم ۔ تحریرو تحقیق/ اظہر عنایت شاہ ، کوہاٹ شہر   

tashkhees-per-tawajjah-dein

مبتدی حضرات عام طور پر و متوسط درجہ کےعاملین خاص طور متوجہ ہوں!

تشخیص کی بنیاد پرعلاج کی عمارت کھڑی ہوتی ہے ۔ بنیاد درست ہوگی تو عمارت بھی درست واقع ہو گی یہ ایک عام و سادہ سی بات ہے ۔

اگر آپکی تشخیص جادو ہے یا نہ ، جنات ہیں یا نہ ، آسیب ہے یا نہ ، نظر بد ہے یا نہ کے گرد ہی گھومتی ہے تو سمجھ لیں کہ آپکی تشخیص کا دائرہ ابھی بھت محدود ہے ، آپکی تشخیص کی لیبارٹری ابھی ادُھوری ہے ۔ کیونکہ ستاروں  سے آگے  جہاں اور بھی ہیں ۔
اس سے قبل بھی ایک تحریر تشخیص کے موضوع پر قلمبند کر چکا ہوں اگر آپ نے ابھی تک نہیں پڑھی تو یہاں کلک کریں

مثلا ایک شخص جو مختلف پریشانیوں ، مصیبتوں ، تکالیف و امراض میں مبتلا ہے ۔ جس کی وجہ اس شخص کی بد اعمالیاں ، سُود ،  ظلم و زیادتی ، لوگوں کی آہیں اور بد دعائیں ہیں ، وہ شخص آپکے پاس اپنے دکھوں کا مداوا اور انکی وجہ جاننے کے لئے آتا ہے ۔ آپ نے عملیاتی طریقے کے مطابق جادو ، جنات ، آسیب و نظر بد چیک کیا ، تشخیص میں جادو ظاہر ہوتا ہے ۔اور واقعی اس شخص پر جادو ہے بھی ۔ آپ نے مریض کو کہا کہ بھائ آپکی تمام پریشانیاں ، تکالیف ، مصائب  جادو کی وجہ سے ہیں ۔  

 آپ نےمریض کو علاج دیا اور علاج ختم ہونے پر دوبارہ آنے کو کہا ۔

مریض علاج ختم ہونے پر آپ کے پاس دوبارہ آتا ہے ۔ آپ نے قاعدہ کے مطابق چیک کیا اور مریض کو اثرات کے ختم ہونے کا مژدہ سنایا ، لیکن مریض یہ کہتا ہے کہ میری پریشانیاں ، تکالیف ، غم ، مصائب ، امراض ، حالات جوں کے توں ہیں ۔

اب آپ مریض کو مزید تسلی دیتے ہیں کہ جادو کو ختم کرنا پہلا مرحلہ تھا ، اب حالات بہتر ہوں ، تکالیف ، پریشانیاں ختم ہوں یہ دوسرا مرحلہ ہے ۔ اور اُسکے لئے مزید تعویذات اور وظائف منتخب کرتے ہیں ۔ وہ سب کچھ بھی ہوگیا ، لیکن مسئلہ جوں کا توں ، وہی ڈھاک کے  تین پات ۔

اب اِسکا نتیجہ کیا نکلا ۔۔۔۔؟  کہ مریض بھی غیر مُطمٕن ، آپ سے بد ظن اور آپ بھی حیران و پریشان و غیر مُطمٕن ۔

یہ سب اِس لئے ہوا کہ آپکی تشخیص ہی ادُھوری رہی ۔ حالانکہ آپ نے کوئ دھوکہ ، فریب  نہیں کیا ۔

یا مثلاً ایک شخص جو پریشانیوں ، مصیبتوں ، دُکھوں ، تکلیفوں ، غموں سے دوچار ہے اور وجہ آزمائش ہے کوئ پکڑ نہیں ، آپکے پاس آتا ہے ۔ اور اسکے ساتھ ساتھ اُس پر جادو کے اثرات بھی ہیں ۔ لیکن جادو قریبی دنوں میں ہُوا ہے اور اُسکی پریشانیاں کئ سالوں سے ہیں ، آپ نے قاعدہ کے مطابق چیک کیا ، جادو کا اثر ظاہر ہُوا ، مریض کو بتایا گیا کہ تمام پریشانیوں جادو کی  وجہ سے ہیں ۔ علاج دیا گیا ، مریض دوبارہ آیا ، آپ نے چیک کیا ، مریض کو جادو ختم ہونے کی خوشخبری سنائ ، لیکن مریض کی پریشانیاں اُسی طرح ، حالات جوں کے توں ، نتیجہ کیا نکلا۔۔۔۔؟  کہ مریض بھی آپ سے غیر مُطمٕن اور آپ بھی غیر مُطمٕن اور پریشان ۔

یہ سب اِس وجہ سے ہُوا کہ آپ کی تشخیص ہی ادُھوری رہی کیونکہ اُپ کی تشخیص یہ نہ بتا سکی کہ  جادو کتنے عرصے سے ہُوا ہے  ۔

آپ ان دو  مثالوں پر بھت ساری مثالوں کو محمول کر لیں ، جن کا ذکر کرنا طوالت کا باعث ہو گا ۔

اب اصل نتیجے تک کس طرح پہنچا جائے ؟ اس کے لئے مختلف علوم ہیں ۔ جن میں علم رمل ، علم جفر ، علم الحاضرات ، ایسے اعمال جن کے کرنے سے درست بات ذہن میں آجائے ، کشف ، تشخیص بذریعہ

جنات ، اسکے علاوہ بھی اور بھت سارے علوم ہیں ۔

علم رمل و علم جفر سے اصل نتیجہ پر پہنچا جاسکتا ہے بشرطیہکہ اِن پر اچھی خاصی گرفت ہو ۔

اسی طرح علم الحاضرات کو بھی سمجھ لیں ۔ رہا کشف تو وُہ شاذ و نادِر ہی ہے ۔ رہ گئ تشخیص بذریعہ جنات ، اگر یہ صلاحیت عامل کو حاصل ہو تو میں سمجھتا ہوں کہ یہ عامل کے لئے اللہ کی طرف سے بڑی نعمت ہے ۔ کیونکہ عملیاتی طریقے سے تو یہ معلوم ہو جائے گا کہ جادو  ہے ۔ اب جادو کس قسم کا ہے ، کب سے ہوا ہے ،  دفنایا گیا ہے ،  یا کھلایا پلایا گیا ہے ، یا اُڑا یا گیا ہے ، یا جلایا گیا ہے ،کتنے پیسوں میں ہوا ھے ، کرنے والا کون ہے ، کروانے والا کون ہے ، علاج کس طرح ہو گا ، کتنے دنوں میں ہو گا ، مریض کے لئے پرہیز کیا ہو گا ، عامل کے لئے پرہیز کیا ہو گا ، صدقہ کیا ہو گا ، وغیرہ وغیرہ ۔

یہ سب باتیں جادو کے علاج سے Related  ہیں ۔ اِس کو آپ ایک کامل تشخیص کہہ سکتے ہیں ۔  جو

تشخیص بذریعہ جنات کے بہت آسانی سے معلوم ہو سکتی ہیں ۔ لیکن اگر واقعی یہ نعمت حاصل ہو

کیونکہ دعویدران اِس کے بہت ہیں ، لیکن حقائق کچھ اور ہی ہیں ۔ اِس پر دو واقعات آپکی خدمت میں پیش کرتا ہوں ۔

واقعہ نمبر ۱:- کچھ سال قبل مُجھے ایک عامل کے پاس ایک دُوسرے شہر میں جانا پڑا  ، ایک عمل اُنکی زیر نگرانی تین دن کرنا تھا ۔

رات کا لمبا سفر کرکے صُبح اُنکی جگہ پر پہنچا ، وُہ صاحب ایک مسجد میں پیش امام بھی تھے اور

خطابت کے فرائض سر انجام دے رہے تھے ۔  مسجد کے اندر ہی عمل کروانا تھا ۔    

جس جگہ اُنکی مسجد واقع تھی وُہ ایک بھت تنگ و تاریک سے  علاقے میں تھی ۔ بندے عاجز کا مزاج کچھ لطیف واقع ہوا ہے ۔ ایک تو شہر نیا دوسرا جگہ کی تنگی و تاریکی ، تو اُس سے طبیعت میں کافی انقباض و گھٹن کی سی کیفیت پیدا ہُوئ ۔

خیر مولانا صاحب سے ملاقات ہُوئ بہت اچھے اور خوش اخلاق انسان تھے ۔ کُچھ دیر گفتگو کے بعد میں  نے عرض کی کہ میں نے آج رات کو واپسی کرنی ہے ۔ تو  اُنکو انتہائ حیرت ہوئ  کہنے لگے کہ آپ تو تین دن کے عمل کے لئے اتنی دُور سے آئے ہیں ، اور بغیر عمل کئے واپس جارہے ہیں ہم آپ کو جانے نہیں دیتے ، تو میں نے کچھ عذر پیش کئے تو کہنے لگے کہ آپ کیساتھ جنات کا مسئلہ ہے جو آپ کو عمل کرنے کے لئے نہیں چھوڑ رہے ، میں چپ ہو گیا ، اچھا اِن صاحب کا دعویٰ عاملِ جنات اور کچھ تشخیص بذریعہ

جنات کا تھا ۔

اِس دوران ایک صاحب جو مولانا صاحب کے جاننے والے تھے اپنی بیوی کے کسی مسئلہ کے بارے میں  آئے ۔ مولانا صاحب نے موبائل نکال کر سائل سے بیوی کا نام مع والدہ پوچھ کر علم الاعداد کے ذریعے حساب کرکے اُن صاحب کو کہا کہ آپکی بیوی پر کالے جادو کا اثر ہے ۔

خیر کچھ دیر بعد وہ صاحب چلے گئے ، تو میں نے عرض کی کہ جی فلاں عامل ( ایک بڑے عامل کا نام لیکر  جن کو مولانا صاحب بھی اچھی طرح جانتے تھے ) تو کہتے ہیں کہ علم الاعداد کے ذریعے تشخیص معتبر نہیں ہوتی ، ( یہ بات صرف ان عامل کی نہیں اور صاحب فن حضرات کا بھی یہی خیال ہے ) تو مولانا صاحب کہنے لگے کہ وُہ خود بھی معتبر نہیں ، کچھ غصے میں ، پھر کہنے لگے کیوں معتبر نہیں ہوتی ،

پھر میرا نام مع والدہ کا نام پوچھ کر ایک کاپی جو میں اپنے ساتھ لیکر گیا تھا اُسمیں بغیر موبائل کے حساب کرنے لگے ، حساب کرکے کہنے لگے کہ تقسیم سے دو باقی بچے جو نتیجہ ہے اس بات کہ آپ پر جنات کا اثر ہے ( اُنکے قاعدہ کے مطابق ) تو کہنے لگے میں نے تو کہا تھا کہ آپ پر جنات کا اثر ہے ۔ جو آپ کو یہاں رہنے کے لئے نہیں چھوڑ رہے ، جبکہ میرا معاملہ تو کچھ اور تھا جو اُن صاحب سے کہہ نہیں سکتا تھا ۔

خیر اس دوران ظہر کی نماز کا وقت ہو گیا مولانا صاحب نماز کی تیاری وضو بنانے لگے ، تو میں نے وہی اپنی کاپی اُٹھائ اور جو حساب مولانا صاحب نے کیا تھا اُسکی جانچ پڑتال کرنے لگ گیا ، اس حساب میں مولانا صاحب سے غلطی واقع ہوئ تھی ، تقسیم کے بعد دو کے بجائے ایک بچتا تھا اور ایک بچنے کا نتیجہ نا جنات تھا اور نا جادو ۔

نماز سے فارغ ہونے کے بعد میں نے عرض کی حضرت تقسیم میں غلطی واقع ہوئ ہے تقسیم کے بعد دو کے بجائے ایک بچتا ہے ۔ کہنے لگے کیسے ، میں نے کاپی میں اس غلطی کی نشان دہی کی ، انہوں نے خود دوبارہ جانچ پڑتال کی تو کہنے لگے ہاں واقعی غلطی ہوئ ہے ۔ پھر مُجھ سے کہنے لگے مزید اپنی تسلی کے لئے ، کہ آپ میں فلاں فلاں علامات ہیں ، جو اکثر جنات کے مریضوں کی ہوتی ہیں ۔ انہوں نے ایک ایک کرکے علامات پوچھیں ، میں سب کی نفی  کرتا رہا اور واقعی ایک علامت بھی میرے اندر نہیں تھی ۔ الحمد للہ

تو دعویٰ تھا عامل جنات ہونے کا تشخیص ہورہی تھی علم الاعداد کے ذریعے اور وہ بھی غلط ۔

واقعہ نمبر ۲ :- کئ عرصہ  قبل ایک عامل صاحب کیساتھ کچھ مراسم تھے جو کوہاٹ شہر ہی میں رہتے ہیں ۔ میرا  آنا جانا ان کے پاس رہتا تھا ۔ میرا گمان اُن کے بارے میں بھت ارفع تھا ۔

اُن صاحب کا دعویٰ تسخیر جنات کا تھا ، اور کہتے  تھے کہ میرا پاس بھت جنات ہیں ، بقول اُن کے جنات کے لشکر ہیں ۔

موصوف عملیات کیساتھ ساتھ حکمت بھی کرتے تھے ، اپنا مطب تھا ۔ اُن کے ایک دوست جو ایلو پیتھک کی پریکٹس کرتے تھے ۔  ایک ہی جگہ دونوں ساتھ کام کرتے تھے ۔ عامل و حکیم صاحب گرمیوں میں گھر کچھ دور ہونے کیوجہ سے ظہر کی نماز کے بعد مطب میں ہی سوتے تھے ۔ ان کے یہ دوست ان کے سونے کے دوران ان کی جیب سے موبائل چوری کر لیتے تھے ، اس طرح دو یا تین موبائل ان سے چوری کئے ، موصوف لوگوں کو کہتے کہ جنات جیب سے موبائل نکال لیتے ہیں ، لوگوں کو مرعوب کرنے کے لئے کہ میرے پاس جنات ہیں ۔

بعد میں انکو پتہ چلا کہ یہی دوست چوری کررہا ہے ۔ پھر ان کے ایک رشتہ دار نے بطور طعنہ کے ان کو کہا کہ آپ تو عامل جنات ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں ، اور آپ کو اپنے حال کی خبر نہیں کہ موبائل آپ کی جیب سے کون چوری کررہا ہے ۔ اللہ تعالیٰ ان بڑے دعویٰ کرنے والوں کو اسی طرح ذلیل کرتا ہے ۔

قارئین کرام ! شُعبہ عملیات میں عامل جنات و تسخیر جنات کا باب اسی طرح تلخ حقائق لئے ہوئے ہے ، جس طرح علم جفر اخبار میں خصوصی قواعد کا باب ۔۔۔

خیر اصل بات کی طرف آتا ہوں وہ یہ کہ مضمون کے ابتداء میں ہم نے جو یہ کہا کہ اگر آپکی تشخیص صرف جادو ، جنات ، آسیب و نظر بد تک محدود ہے ، تو آپکی تشخیص ابھی ادُھوری ہے ، اس سے مُراد آپ کو مایوس کرنا ہرگز ہرگز نہیں ، بلکہ اس سے مُراد آپ کو مزید کے لئے محنت ، تگ و دو ، جذبہ ، شُوق و لگن پیدا کرنا ہے ۔

کیونکہ ابتداء تو یہی جادو ، جنات ، آسیب و نظر بد کی تشخیص تک ہی محدود ہوتی ہے ۔ پھر آگے چل کر اس میں رفتہ رفتہ ترقی ہوتی رہتی ہے ، بشرطیہکہ سچی محنت ، طلب و جستجو بدستور جاری رہے ۔

کام کی بات :- محنت ، ریاضت ، مجاہدہ یہ ظاہر ہے ۔ باطن اسکا اللہ تعالیٰ کے حضور متوجہ رہنا ، اس سے منزل آسان ہو جاتی ہے اور گوہر مُراد جلد مل جاتا ہے ۔ بفضل تعالیٰ

2 Comments

  1. Bhai apki tahrir bht ala thi. Mashwara bhi acha tha logo k liye. Lakn agar ap apni nigrani me logo ko train Karen to ziada acha hoga. Logo ko bhi acha ustad mil jayga r ap apni fees charge kar sakte hain

  2. مضمون کی پسندیدگی پر آپ محترم کا بھت شکریہ ۔
    باقی آپکے پر خلوص مشورہ پر آپکا شکر گزار ہوں لیکن میں معذرت خواہ ہوں ۔
    بس جو حقائق ہیں وہ تحقیقی مضامین کی شکل میں روحانی علوم ڈاٹ کام کے پلیٹ فارم سے آپ حضرات تک پہنچانے کی کوشش کرتا ہوں ، دیکھتا ہوں کہ یہ سلسلہ کہاں تک جاتا ھے ۔ جیسے میرے رب کی مرضی

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*