شبکہ علم جفر ۔ عربی ، فارسی ، اردو میں جواب دینے والا عظیم جفری شاہکار

شبکہ جفر
عربی ، فارسی ، اردو میں جواب دینے والا
علم جفر کا ایک عظیم شاہکار

جیسا کہ احباب جانتے ہیں کہ مستحصلات جفر کے نام سے ایک عنوان شروع کیا گیا ہے جس میں مختلف مستحصلات جفر کو بیان کرنے کا وعدہ کیا گیا ہے ہم اسی سلسلہ کی کڑی کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے اس ماہ بابر سلطان قادری مرحوم کا ہی ایک قاعدہ جو کہ 1987ع میں شائع ہوا تھا پیش کر رہے ہیں ۔
اس قاعدہ کو بابر سلطان قادری مرحوم نے علامہ شاد گیلانی مرحوم کے قاعدہ عناصر کے مقابل پیش کیا تھا ۔
حقائق کیا ہیں ؟ جوابات کس حد تک درست ہیں ؟ ان پر اس وقت بحث کرنا قبل از وقت ہوگا ۔
اس عنوان کے تحت میری کوشش ہوگی کہ وہ قواعد پیش کروں جو عام کتب میں دستیاب نہیں ۔ بابر سلطان قادری مرحوم کی کتاب ” تجلیات جفر ” تو تقریباً ہر وہ فرد جو جفر میں شوق رکھتا ہے ملاحظہ کی ہوگی ، مرحوم کی ایک اور کتاب ” تحقیق جفر ” جو کہ عرصہ سے ناپید ہے وہ بھی کئی حضرات کے پاس موجود ہوگی لیکن اس قاعدہ کو یہاں دینے کا مقصد یہ ہے کہ وہ حضرات جو جفر اخبار پر تحقیقات کر رہے ہیں ان کے پاس قواعد جمع ہو سکیں ۔
میرا اپنا نظریہ ، اپنا تجزیہ اور تجربات آخر میں پیش کروں گا جب یہ سلسلہ اپنے اختتام کو پہنچے گا ۔
اب میں تحریر من و عن نقل کر رہا ہوں جو بابر مرحوم نے قلمبند فرمائی تھی ۔
مرحوم لکھتے ہیں کہ
دوستوں جفر پر مضامین لکھنا اور جفر کو آپ سب تک پہنچانا میرا فرض ہے اور مجھے فخر ہے کہ میں اپنا فرض پورا کر رہا ہوں کیوں کہ جس طرح مال کی زکوٰۃ فرض ہے اسی طرح علم کی زکوٰۃ بھی فرض ہے اور یہ جو قاعد جفریہ اور علوم مخفیہ میں سے آپ کو بتا رہا ہوں تو یہ سب اپنا فرض سمجھتے ہوئے بتا رہا ہوں ۔
اب تک بہت سے قواعد آپ حضرات کو دئیے کئی آسان اور کئی مشکل ۔ آج کی محفل میں جو قاعدہ آپ سب کی نذر کر رہا ہوں یہ ضرب شبکہ سے حل ہوتا ہے ۔ امید ہے کہ کہ آپ حضرات نے جفر کی کتب میں شبکہ کی ضرب پڑھی ہوگی اور سمجھی بھی ہوگی اس لئے میں خواہ مخواہ مضمون کو طول نہ دوں گا اور ضرب شبکہ سمجھانے میں وقت ضائع نہ کروں گا ہاں آپ امثال کو غور سے دیکھ کر سمجھ لیں ۔
قارئین یہ ایک ایسا قاعدہ ہے جو عالمان جفر کی پیاس بجھانے کے لئے کافی ہے اور میں اپنے صاحب علم دوستوں کو دعوت دوں گا کہ وہ اس پر تنقید کریں تاکہ علم مزید نکھرے ۔ اور سب بھرپور فائدہ حاصل کریں ۔ میرا مقصد علم پھیلانا ہے نا کہ علم چھپانا ۔ میں علم پھیلا رہا ہوں بہت لوگ قدر دان علم بھی ہیں ۔
قاعدہ مستحصلہ :سوال کے اعداد حاصل کریں اور ان کو احاد عشرات مات کے حساب سے حروف میں بدلیں اور یہی حروف بمعہ اعداد شبکہ کے اوپر لکھیں اور یہی حروف بمعہ اعداد پہلو میں لکھیں پھر ضرب سے حروف پید اکریں ان حروف کو مراتب کا خیال کرتے ہوئے اٹھالیں ۔ مراتب کے علاوہ اگر مراتب نہ ہوں تو احاد عشرات مآت کے حساب سے نزولاً یا طولاً یا عرضاً یا عمقاً صعوداً احاد عشرات مآٹ الوف اور بمطابق مراتب حروف اٹھا لیں ان حروف کو بالترتیب لکھ دیں ۔ انشاء اللہ جواب ہوگا نظیرہ یا خود سے ایک بہترین ڈھلا ڈھلایا جواب وصول ہوگا۔
میں قاعدہ کو کئی امثال سے سمجھا رہا ہوں اور تفہیم کی غرض سے تینوں زبانوں میں امثال حل کر رہا ہوں امید ہے کہ مستحصلہ خوب سمجھ میں آئے گا اور شافی جواب سے دل مطمئن اور دماغ مفرح ہوگا اگر میری تحریر اوپر کسی شخص کی سمجھ میں نہیں آئی کہ حروف کس طرح اٹھانے ہیں تو امثال پر غور کرکے سمجھیں انشاء اللہ کئی امثال پر غور کرنے سے آپ کا مقصد حل ہوجائے گا۔
نصف شبکہ شافی جواب کے لئے کافی ہے لیکن اگر تفصیل سے جواب مطلوب ہو تو نصف دیگر بھی حل کر سکتے ہیں لیکن یہ نزول سے صعود کی طرف ہوگا ۔
اب امثال حل کر رہا ہوں غور کریں اور جفر سے دماغوں کو مسرور کریں عظیم قواعد کو جذب کریں اور جفار بن جائیں ۔
سب سے پہلے عربی زبان میں چند امثال پیش کرتا ہوں کیونکہ یہ افضل زبان ہے

ھل یحصل لبابر سلطان علم الرمل ؟
ترجمہ : کیا بابرسلطان علم الرمل حاصل کر سکے گا ؟
BabarSultan_1 BabarSultan_2 BabarSultan_3 BabarSultan_4 BabarSultan_5 BabarSultan_6 BabarSultan_7 BabarSultan_8 BabarSultan_9 BabarSultan_10 BabarSultan_11 BabarSultan_12

میں یہ عظیم جفری شاہکار آپ احباب کی خدمت میں پیش کرچکا ہوں پھر واضح کردوں کہ قاعدہ ہٰذا استاد الجفر بابر سلطان قادری مرحوم کا بیان کردہ ہے ۔ علمائے جفر کے مطابق سوال کی دو طرح پر تقسیم کی گئی ایک مرکزی اور دوسری قسم محوری ۔ اکثر حضرات کو مرکزی و محوری سوالات پر بحث کرتے ہوئے بھی دیکھ چکا ہوں داعیان علم کے پاس یقیناً کوئی ایسا نسخہ ضرور ہوگا جو جفری قواعد کی تخصیص کرسکے کہ کن قواعد میں محوری اصول برتے جائیں گے اور کونسے قواعد جفریہ ان سے مستثنیٰ ہوں گے نیز جن قواعد میں محوری اصول برتے جائیں تو کس نوعیت کے ؟ نجوم کی پیوندکاری کی جائے یا تاریخ ماہ و سال سے محوری گردش دیتے ہوئے حروف کو گردش دی جائے ؟۔
متعدد مثالیں اس قاعدہ سے حل کردہ پیش کی گئی ہیں لیکن قدرت کے رازوں کو سمجھنا اتنا آسان نہیں اسی لئے حضرت کو اپنی تحریر کے اختتام پر یہ لکھنا پڑا کہ “سمجھنا آپ کا درد سر ہے ۔ سمجھ کر قدرت کے راز سمجھیں”۔
ایسی ہی کوشش کرنے والے ہمارے ایک واقف کار نے جب حتی الممکن کوشش کرڈالی کہ اس قاعدہ کو سمجھ کر مجہول امور کی نقاب کشائی کی جائے تو وہ بُری طرح ناکام رہے شاید قدرت ان کے سامنے راز آشکار کرنا نہیں چاہتی تھی لہٰذا مجبوراً انہوں نے قاعدہ کی مزید شرح کے لئے مرحوم بابر سلطان قادری کی خدمت میں خط روانہ کردیا ، اس خط کا عکس بھی یہاں پیش کرنے جا رہا ہوں
کہ اس آٹومیٹک قاعدہ کی مزید شرح ہوسکے ۔
Scan0001 Scan0002 Scan0003

شائقین علم الاخبار کے لئے یقیناً یہ خط اہمیت کا حامل ہوگا ، نفس مضمون کا بیان اور خط کا متن دونوں کو مد نظر رکھ کر مستحصلہ کی روح تک پہنچا جا سکتا ہے کوئی صاحب اس قاعدہ کے سلسلہ میں مجھ سے رابطہ نہ کرے کہ میں ابھی تک  اس قاعدہ کے جسد تک ہی پہنچ پایا ہوں ۔

علم الاخبار پر اگر کھل کر لکھا جائے تو بڑے بڑے بُرا مان جائیں گے لیکن ان قواعد ، ان تحاریر اور ان مضامین سے ہمیں جفر اخبار کا حقیقی رخ قارئین کے سامنے پیش کرنا ہے ، گزشتہ مرتبہ کی طرح پھر واضح کر دوں کہ میں علم الاخبار کا منکر نہیں لیکن میں اسے مانند وحی ماننے کے حق میں بھی نہیں ، جفر احمر ، جفر ابیض ، جفر مصحف فاطمہ ان قواعد کی اہمیت ؟ ان کی حقیقت ؟ عصر حال میں موجودگی ؟ یہ سب کچھ آپ اسی عنوان کے تحت پڑھیں گے ۔

آئندہ ماہ انشاء اللہ پھر کوئی نایاب قاعدہ بمعہ شرح آپ کی خدمت میں پیش کیا جائے گا میری کوشش ہے کہ عملی طور پر بھی جو مشاہدہ کیا گیا ہے اسے بھی ایک انٹرویو کی صورت میں آپ کے سامنے پیش کیا جائے ۔

1 Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*