Haroof e Sawamat | Amaliyat ka aik purkhatar shoba |حروف صوامت عملیات کا ایک پرخطر شعبہ

کئی تجربات و مشاہدات کے بعد یہ سطور آپ کی خدمت میں پیش کی جا رہی ہیں ۔ حروف صوامت ، ہر وہ شخص جو شعبہ عملیات میں ذرا سی بھی دلچسپی رکھتا ہے اس فن سے ضرور واقف ہوگا بلکہ کئی شایقین عملیات نے اس کی باقاعدہ زکات دے رکھی ہوگی اور باقاعدگی سے روزانہ تیرہ مرتبہ لکھ کر مداومت کے فرائض بھی انجام دے رہے ہوں گے ۔ اکثر صاحبان علم صوامت کو شر سے منسوب کرتے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس سے بے شمار مثبت کام لئے جا سکتے ہیں ۔ میرا ذاتی مشاہدہ و تجزیہ یہ رہا ہے کہ اکثریت اس فن کو جاننے والوں کی جائز و ناجائز کا خیال رکھے بغیر اسے استعمال کر رہی ہے ۔ یہاں مجھے سن ۲۰۰۵ کا ایک واقعہ یاد آرہا ہے کہ شاہد الیاس سلیمی مرحوم جن کے قیام کا بندوبست میں نے اپنے ایک واقف کار کے ہاں کروایا تھا ، وہاں کئی دیگر مہمان حضرات اور صاحب خانہ کے عزیز و اقارب سلیمی صاحب سے ملاقات کے لئے آیا کرتے ، ان میں ایک صاحب تھے جن کے خانگی معاملات سے میں بخوبی واقف تھا ،موصوف سلیمی صاحب کے پاس آئے اور ساس و بیوی کی زبان بندی کے لئے نقش طلب کیا ، سلیمی صاحب نے نہ وجہ دریافت کی نہ تفصیل ، نقش لکھ کر دے دیا ( واضح کردوں کہ شاہد الیاس سلیمی مرحوم ۴۴سال تک گرہن پر زکات ادا کرتے آرہے تھے ، جب سائل آتا نقش لکھ کر دے دیتے )۔ ابھی وہ صاحب گھر بھی نہ پہنچے تھے کہ بیوی اور ساس میں ہی باہم لڑائی جھگڑا شروع ہوگیا ، موصوف کو یہ خبر مل چکی تھی لہٰذا دوران سفر ہی موبائل پر فون کرکے سلیمی صاحب کو حالات سے آگاہ کیا قریباً نصف گھنٹہ بعد میرا سلیمی صاحب کے ہاں جانا ہوا جب صورتحال کا علم ہوا تو خفگی کا اظہار کیا کہ آپ نے غلط شخص کی وکالت کردی ہے میں جانتا تھا کہ جسے نقش دیا گیا ہے وہ حق پر نہیں تھا ، میرے علم میں جب یہ بات آئی کہ فلاں نقش بنا کر دیا گیا ہے تو مجھے اور زیادہ حیرت بھی ہوئی کیوں کہ کچھ ہی روز قبل میں اور سلیمی صاحب اس نقش کے متعلق گفتگو کر رہے تھے کہ بظاہر دکھنے میں ایک عام اور سادہ سا نقش لیکن اس کی تاثیر حیران کن حد تک بسا اوقات ظاہر ہوئی تھی اور پھر یہ فیصلہ بھی کیا گیا تھا کہ آئندہ کتاب ” عملیات حروف صوامت ” سے اس نقش کو حذف کر دیا جائے گا کہ ہر شخص اس کا اہل نہیں اور یہ سیف قاطع ہے، بہرحال کچھ دیگر موضوعات پر اس دن سلیمی صاحب سے بات ہوتی رہی اور میں اپنے غریب خانہ چلا آیا ۔ ابھی چند دقیقے ہی بمشکل گزرے ہوں گے کہ مجھے جناب محمد عارف مرحوم ( جن کے ہاں سلیمی صاحب کا قیام تھا ) کا فون آیا کہ سلیمی صاحب کی طبیعت اچانک بگڑ گئی ہے تم فوری یہاں آؤ ، جا کر علم ہوا کہ سلیمی صاحب کو مقام قلب پر شدید تکلیف ہے فوری طور پر ایمبولینس کو بلوایا گیا اور ہسپتال کا رخ کیا ، جہاں تین دن تک سلیمی مرحوم زیر علاج رہے لیکن یہ دل کا روگ ، روگ ہی بن گیا اور وقتاً فوقتاً انہیں اس تکلیف کا سامنا کرنا پڑا ۔ اس کے بعد مختلف جسمانی عوارض بھی یکے بعد دیگرے سامنے آتے رہے ۔ سلیمی مرحوم کی موت سے قبل میری ان سے فون پر کیا بات ہوئی تھی میں یہاں لکھنا مناسب نہیں سمجھتا
لیکن یہ واقعات میرے لئے کئی سوالات چھوڑ گئے ۔
کہ آیا یہ عمل کی رجعت کا نتیجہ تھا کہ ایک بے گناہ کے لئے کسی مظلوم اور حق پرست فرد پر عمل کی تلوار چلائی گئی ؟
یا آیا یہ قدرتی حادثات تھے ؟
میرے استخراج کردہ جفری جوابات رجعت کی تائید کرتے رہے ۔
جناب سید ظفر حسین شاہ بخاری ( اللہ انہیں عمر خضر عطا فرمائے ، سلیمی مرحوم کے بھی دیرینہ رفقاء سے ہیں ) بھی رجعت کی جانب کئی عرصہ تک اشارہ کرتے رہے ۔
علم کا نہ ہونا جہالت اور بغیر حلم و تدبر کے علم کا ہونا ہلاکت بن جاتا ہے ، سلیمی صاحب کے انتقال کے بعد صوامت سے متعلقہ جتنے کام تھے مجھے سر انجام دینا تھے لیکن میں نے قلم پر گرفت مضبوط رکھی کہ کہیں غلطی سرزد نہ ہو اور کسی ناحق کو کسی نا کردہ گناہ کی سزا نہ ملے۔
اس کے باوجود چند مشاہدات و تجربات سے گزرنا پڑا جنکا تذکرہ یہاں کرنا ضروری خیال کرتا ہوں۔
میرے ایک انتہائی قریبی دوست جو کہ بیرون ملک میں مقیم ہیں تعلقات بلا تکلف ہونے کے سبب اکثر مجھ سے ضد کر جاتے ہیں ۔ موصوف ایک جگہ ملازم تھے اور ان کے اوپر ایک اعلیٰ عہدیدار فرد تعینات تھا موصوف کو اکثر ان سے شکایت رہتی کہ ان کا رویہ میرے ساتھ درست نہیں کم از کم ان کی زبان ہی میرے حق میں بند ہوجائے ، ان کے بارہا کے اصرار پر تین مرتبہ ایک ہی صوامت کے عمل کی تکرار کی گئی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اس عہدیدار نےاستعفیٰ دے دیا ، اس افسر کی جگہ جو شخص آیا وہ پہلے والے سے زیادہ سخت نکلا ، کچھ عرصہ تک تو میرے اس دوست نے بوجہ مروت کوئی تذکرہ نہ کیا لیکن پھر ایک ہی بات کہ یہ یہاں سے استعفیٰ دے دے ، میں نے بہت سمجھانے کی کوشش کی کہ دیکھیں اگر اس عمل کی رجعت ہوئی تو پھر مجھ سے گلہ شکوہ مت کیجئے گا لیکن انہیں اندازہ نہ تھا کہ میں کیا سمجھانا چاہ رہا ہوں ، میں ان کی اس بیجا خواہش کو دو سال تک ٹالتا رہا کہ مجھے عمل تیار نہ کرنا پڑے لیکن اب موصوف کی ضد بے تحاشہ بڑھ گئی تھی۔ بالآخر طے یہ ہوا کہ اگر اس کا کوئی منفی نتیجہ برآمد ہوگا تو میں ذمہ دار نہیں جسے ان صاحب نے بخوشی تسلیم کیا ۔ انسان ، انسان سے باتیں چھپا کر کام نکلوا سکتا ہے لیکن قدرت کی نگاہوں سے اپنے اعمال کو پوشیدہ کیسا کیا جائے ؟
تین نقش یہاں سے روانہ کئے اور ان کا طریقہ استعمال بتادیا ۔
ایک ہفتہ بعد۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مجھے اس دوست کا وائبر پر پیام ملتا ہے کہ آفس میں آڈٹ ڈپارٹمنٹ سے چند بارسول افراد آئے ہیں اور اسی افسر کے روم میں ہے ایسا لگتا ہے کہ آج یہ افسر گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دو منٹ رکئے گا وہ مجھے بلا رہے ہیں ۔۔۔۔ ۱۰ منٹ بعد فون کال موصول ہوتی ہے “حسن بھائی آئی ایم فنشڈ”۔۔۔۔ مجھے ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے ۔
میں ذہنی طور پر اس افسردہ خبر کے لئے تیار نہ تھا کافی دیر تک میرا اپنا دماغ سن سا ہوگیا کہ بھلا انہیں کیوں کر ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہےقصہ مختصر، کچھ دنوں کے بعد ماجرہ سامنے آیا کہ وہاں موصوف ملازمت کی عار میں اپنا کاروبار چلا رہے تھے جو کہ قانوناً اور دفتر کے قوانین کے مطابق جائز نہ تھا اس کے علاوہ بھی چند جرائم میں ملوث تھے یہی سبب تھا کہ اتنے عرصہ تک جو بھی فرد ان پر نگاہ رکھتا یا انہیں محسوس ہوتا کہ یہ شخص میرا کام بگاڑ سکتا ہے اس کی بندش کرنے کی رٹ لگا کر بیٹھ جاتے ۔
اس افتاد کے بعد انہیں فوری طور پر رجعت کو ختم کرنے کا عمل بتایا گیا ، ملازمت جا چکی تھی گھر کے اخراجات یورپین ممالک میں گھر بیٹھے پورا کرنا اتنا آسان نہیں ، بہرحال دوسری جگہ پہلے سے بہتر ملازمت کا حصول ہوا کچھ عرصہ بعد خبر ملی کہ جس فرد کے استعفیٰ کے لئے نقوش بنائے گئے تھے اس نے بھی استعفیٰ دے دیا ۔
ان تمام باتوں کو لکھنے کا مقصد صرف یہ تھا کہ اس شعبہ میں جو بھی فرد کام کر رہا ہے یا شوق رکھتا ہے اسے چاہئے کہ کسی بھی عمل کو تیار کرنے سے قبل دس مرتبہ سوچ لیں ، اول تو موجودہ دور میں ہر دوسرا فرد بے اثری کا رونا روتے ہوئے ملتا ہے کہ ہر ممکنہ کوشش کر ڈالی عمل کام نہیں کرتا ، لیکن وہ افرادجن کے لکھے میں قادر مطلق نے تاثیر عطا کر دی ہے وہ اسے مذاق نہ سمجھیں بلکہ اس قوت کی ، اس طاقت کی حفاظت کریں ، یاد رکھیں کہ آپ لاکھ اپنے فن میں مہارت رکھتے ہوں اور بندش کے نایاب اصول سے واقفیت ہو لیکن ایک ذات ایسی بھی موجود ہے جسے حساب دینا ہے ۔
بہت سے دوست ، بہت سے رشتہ دار ، بہت سے احباب ہمارے پاس آتے ہیں سائلین آتے ہیں کہ فلاں نے میرے ساتھ بہت بُرا کر دیا ، فلاں نے یہ کر دیا وہ کر دیا ، آپ ہماری مدد کریں اور بندش کردیں ۔ ایسے میں ایک عامل کو کیا کرنا چاہئے ؟یہاں آپ اپنے علم سے فیصلہ کریں ۔
اگر جفر اخبار پر گرفت ہے تو سوال حل کریں ، رمل جانتے ہیں تو اس سے جانچنے کی کوشش کریں ، نجوم سے واقفیت ہے تو حقائق معلوم کرنے کی کوشش کریں اور بالفرض ان تمام علوم پر آپ کی گرفت نہیں تو کم از کم قرآن سے استخارہ ہی کرلیں ۔ اگر ذن ربی ملتا ہے تو عمل تیار کریں ورنہ سامنے والا لاکھ قسمیں بھی کھا لے اس کے جھانسے میں نہ آئے ۔

ایک اور بات ذہن میں رکھیں آپ کو بے شمار ایسے اعمال بھی ملیں گے کہ شوہر کی زبان بندی اس کی عورت کے حق میں
یا عورت کی زبان بندی اس کے شوہر کے حق میں ۔
سوال یہاں بھی اٹھتا ہے کہ شوہر یا عورت زبان دراز کیوں کر ہے ؟ ایسا تو نہیں کہ وہ اپنے جائز مطالبات پر زبان درازی کرنے پر مجبور ہوں؟
کیا عورت شوہر کے حقوق ادا کر رہی ہے ؟ کیا مرد عورت کے حقوق ادا کر رہا ہے ؟
ان تمام باتوں پر غور ضرور کریں اس کے بعد اگر آپ سمجھتےہیں کہ یہاں واقعی سائل ضرورتمند ہے تو پھر بلا خوف عمل تیار کریں
انشاء اللہ نہ کوئی رجعت ہوگی نہ ہی کوئی مصیبت کا سامنا کرنا پڑے گا۔

صوامت پر بے شمار کتب لکھی گئیں لیکن اس فن کے واقف بخوبی جانتے ہیں کہ جو اعمال “عملیات حروف صوامت ” میں درج کئے گئے ہیں اور جو ان کی تاثیر ہے وہ کسی دیگر میں نہیں ۔ البتہ کتاب میں بے شمار اغلاط موجود ہیں حتیٰ کہ شروع  میں دئیے گئے نقوش بھی غلط ہیں ، اگر سلیمی صاحب کی زندگی وفا کرتی تو نئے ایڈیشن میں ان خامیوں کو دور کر دیا جاتا ۔ ادبی محل دھلی والوں نے بھی پہلے نسخہ کی نقل ہی چھاپ دی ہے لہٰذا جو بھی حضرات کتاب دیکھ کر عمل کریں وہ احتیاط کریں ۔

میرے پاس کتاب کا جو نسخہ موجود تھا اس میں جہاں جہاں اغلاط تھیں سلیمی صاحب نے ان کی درستگی کروادی تھی ۔ کوشش کروں گا کہ وہ باب تفصیل سے تحریر کردوں

اب ایک عقد اللسان کا عمل مکمل ترکیب کے ساتھ پیش کر رہا ہوں بوقت ضرورت جائز مقام پر استعمال کرسکتے ہیں۔
عمل کا وقت :۔ قمر درعقرب ، قران شمس و قمر یا پھر وقت گرہن ۔
ساعت: عطارد
نقش لکھتے وقت بات چیت نہ کریں بلکہ کوشش کریں کہ لکھتے وقت سانس کو بھی روکے رکھیں۔
دو عدد نقش کاغذ پر تیار کریں ، ایک عدد سیسہ پر جبکہ ایک نقش موم پر
موم پر تیار کرنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ جوتے پالش کرنے والی ڈبیہ میں خالص موم پگھلا کر ڈال دیں اور بوقت ضرورت کسی نوکدار قلم سے اس موم پر کندہ کرکے ڈبیہ کو ڈھکن لگا کر بند کر دیں ۔
آپ نے دو عدد کاغذ والے جو نقوش تیار کئے ہیں ان میں سے ایک کو کسی وزن کے نیچے دبا دیں جیسے الماری ، بیڈ وغیرہ
جبکہ دوسرے نقش کو کسی نمدار مقام پر دفن کر دیں جیسے ساحل سمندر ، باغ میں کسی درخت کے نیچے وغیرہ ۔
موم والی ڈبیہ گھر میں کسی ایسے مقام پر رکھ دیں جہاں اندھیرا رہتا ہواگر کوئی ایسی جگہ نہ ہو تو کسی الماری کے دراز میں رکھ دیں۔
سیسہ پر جو لوح تیار کی گئی ہے اسے سائل اپنی جیب میں رکھ لے یا پھر سیدھے بازو پر باندھ لے ۔
اگر تمام مخلوق کی زبان بندی مطلوب ہے تو یہ کلمات تحریر کئے جائیں
ا ح د ر س ص ط ع ک ل م و ھ یا غفور یا غفور یا غفور
اگر کسی مخصوص فرد کی زبان بندی مطلوب ہے تو

ا ح د ر س ص ط ع ک ل م و ھ یا غفور یا غفور یا غفور بستم زبان فلاں بن فلاں درغرض و حق فلاں بن فلاں(نام مطلوب معہ والدہ)۔

ا ح د ر س ص ط ع ک ل م و ھ یا غفور یا غفور یا غفو
گویا اس سطر کے درمیان مقصد کی سطر لکھی جائے گی ۔

عمل صرف وہی افراد کریں جنہوں نے حروف صوامت کی زکات ادا کر رکھی ہے ۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*