تسخیر ذاتِ ترابی ۔ جفر آثار کا ایک اہم کلیہ ۔

table-of-asma-ul-husna

تسخیرارواح موکلات و جنات و حاضرات وغیرہ پر لکھنا بہت آسان ہے لیکن درحقیقت عملی کامیابی اتنی ہی مشکل ۔
شروع دن سے میری کوشش رہی ہے کہ اس موضوع پر نہ ہی لکھا جائے تو بہتر ہے ۔ عوام الناس کا یہ حال ہے کہ یہاں عمل پڑھا اور یہاں چلہ کاٹنا شروع ہوگئے نہ لوازمات عملیات کا خیال نہ پرہیز کا خیال نہ ہی ابتدائی معلومات کا علم ۔
ایک دن میں کلوے کی تسخیر ، ہمزاد کی تسخیر ، جنات کے بادشاہ کی تسخیر ، سیاہ فام سرخ فام کی تسخیر وغیرہ جیسے عمل آئے دن اب یوٹیوب پر نظر آتے ہیں ۔ جن لوگوں نے اپنی کتب میں یہ اعمال تحریر کئے ہیں ان سے زندگی بھر کبھی مچھر کا بچہ حاضر نہ ہوپایا ایسے کئی لوگوں کو ذاتی طور پر جانتا ہوں اور ان کے خطوط میرے پاس بطور ثبوت موجود ہیں کہ کس طرح انہوں نے کتابوں کی دکانوں پر بیٹھ کر اعمال ترتیب دئیے اور جب ان سے کہا گیا کہ اس طرح تو کسی کو رجعت ہوسکتی ہے تو سامنے سے جواب ملا ” ہوتی رہے ، مجھے کیا ۔ اجازت کی رقم تو حاصل ہورہی ہے ” ۔ یہ حال ہے ہمارے محترم لکھاریوں کا ۔ ایسے میں کسی تحریر پر اعتبار کرکے یقین کرنا اور عمل کرنا نادانی و بیوقوفی نہیں تو اور کیا ہے ؟
البتہ ان مصنفین میں کچھ ایسے بھی گزرے ہیں جن کی خدمات واقعی قابل ستائش ہیں ایسے ہی ہمارے ایک نہایت محترم جناب بابر سلطان قادری مرحوم ہیں  گو کہ میرا ان سے کئی مقامات پر علمی اختلاف رہا ہے لیکن یہ صرف علمی حد تک محدود رہا نہ کہ ذاتیات پر ۔
آج ہم ان ہی کا بیان کردہ ایک طریق ” تسخیر ذات ترابی ” کو پیش کر رہے ہیں شاذ و نادر افراد کے پاس ہی یہ قاعدہ موجود ہوگا ۔ شائقین علوم مخفی کے لئے یقینا ً ایک گوہر نایاب ثابت ہوگا ۔

مرحوم لکھتے ہیں کہ
قارئین آپ کو آج اس قدیم علم سے روشناس کرواتے ہیں جس کو صاف اور واضح انداز میں آج تک کسی کتاب میں نہیں لکھا گیا۔ علم جفر مسلمانوں کا علم ہے یہ علم صرف سوال و جواب کا ہی نام نہیں ہے بلکہ اتنی عظیم طاقتیں اس علم کے ذریعہ حاصل ہوتی ہیں کہ الامان ۔ یہ علم حروف و اعداد و اسماء کی تاثیرات پر بحث کرتا ہے اور عطائے فن نے ایسے ایسے قواعد بذریعہ الہامات وضع کئے ہیں کہ جن کی نظیر نہیں ملتی اور آئندہ ایسا ہونا نا ممکن نظر آرہا ہے ۔ آج جس طریقہ کار کو ہم یہاں بیان کر رہے ہیں اسے کتاب ” شمس المعارف ” میں امام ابوالحسن بن عباس بن علی بونی ؒ نے کنایہ اور الدوائر الکبریٰ میں شیخ ابن عربی اور ” شان مستقیم ” میں ابوالاقائق نے مرفوعاً ” امام جعفر صادق علیہ السلام ” سے بیان کیا ہے۔مگر ہم نے اس مشکل ترین عمل کو بذریعہ جداول اس قدر آسان بنا دیا ہے کہ اب اس میں کوئی بھی مشکل مرحلہ ایسا باقی نہیں کہ جس کی بنا پر اس مفید ترین عمل سے کوئی محروم رہے مجھے امید ہے کہ اگر اس عمل  کو آپ کرلیں تو یہ اس علم کی آزمائش آپ پر کھول دے گی کہ میں نے کتنا جلیل القدر راز آپ حضرات کے سامنے کھول کر رکھ دیا ہے
انسان او راس کے لوازم و مقتضیات و خیر و شر کے جتنے بھی امور ہیں ان پر اقسام کے انوار و تجلیات کا تسلط ہے اگر ہم ان انوار و تجلیات سے رابطہ قائم کرلیں تو خیر و شر میں تصر ف کر سکتے ہیں اور اپنے تمام امور حسب منشاء حل کر سکتے ہیں ۔

علمائے جفر نے اس مقصد کے لئے انسانی ” اسم مروجہ ” کو اولیت دی ہے اور اسے مرکز مان کر ان متعلقات کو اخذ کیا ہے جو انسانی اسماء کے باطن میں پوشیدہ رہ کر اپنی حرکات سے انسانی امور کو تابع رکھتی ہیں ۔

“اسمائے شمخیثیه ” کو جناب شیخ ابوالعباس بن علی بونی ؒ نے ” شمس المعارف الکبریٰ ” میں مختصراً بیان کیا ہے ۔ یہ سریانی اسماء ہیں اور ان کا تصرف بہت واضح ہے ۔ تجربات شاہد ہیں اور انہی اسماء کے ملائکہ کا اپنا ایک تصرف ہے جو لاریب ہے پھر اسماء الحسنیٰ کائنات میں کس طرح متصرف ہیں اس سے کوئی مسلمان ناواقف نہیں ہے ۔ علمائے جفر نے ان سہ (3) امور سے کام لینے کا ایک ایسا طریقہ اپنایا ہے کہ اسم الہی مع اسم شمخیثیہ مع اسم موکل جب ان امور ثلاثہ کو مخصوص طریقہ سے پڑھا جاتا ہے تو ایک عظیم روحانیت پیدا ہو کر اس کا م کو سر انجام دیتی ہے جس کام کا یہ عمل استخراج کیا ہوتا ہے ۔

اتصال و انفعال ، محبت و عشق ، ہلاکت و عداوت ، راحت و رفعت ، تسخیر اجنہ و ارواح ۔ غرضیکہ کوئی کام ہو جس کی ذات کو آپ چاہیں تسخیر کر سکتے ہیں اور پھر جلالی و جمالی پرہیز وغیرہ کی بھی اتنی ضرورت نہیں اور نہ ہی اتنا دشوار ہے کہ آپ کو “چلہ ” کے نام سے ہی خوف آنے لگے ۔

اب آئیں اصل مقصد کی طرف ، آپ کا جو مقصد ہو اسے مختصراً لکھیں مثلاً آپ تسخیر خلائق چاہتےہیں تو لفظ ” خلق” اور اگر کسی سے محبت ہے تو اس کا نام مع والدہ اور اگر مریض کے لئے ہے تو مرض کا نام عربی میں مثلاً مرگی کے لئے لفظ “صرع” ۔ فراخی رزق کے لئے لفظ” رزق” ۔ غرضیکہ جو بھی کام ہو مختصراً لکھیں ۔ اب جو بھی لفظ مطلب یا مطلوب ہو لکھ کر اس کا اسم اسماء حسنی میں سے معلوم کریں جس کا اصل طریقہ اتنا دشوار ہے کہ آپ اس عمل سے کنارہ کش ہو جائیں لہٰذا میں نے آسانی کے لئے ننانوے (99) اسمائے عظام کا ایک نقشہ ترتیب دیا ہے جو عناصر اسماء اور جلالی و جمالی و کمال اور ذاتی اسماء کو ملحوظ رکھ کر بنایا ہے اس کے ہوتے ہوئے اسم معلوم کرنا کچھ بھی دشوار نہیں رہا ۔ اس نقشہ میں

11×9=99

اسمائے عظام ہیں اوپر 32 اسماء جمالی ہیں ان 32 پر 4 اسماء ذات ہیں بعدازاں

32 اسماء جلالی ہیں اور ان پر بھی 4 اسماء ذات نگراں ہیں ۔

پھر نیچے 24 اسماء مشترک ہیں یا اسمائے کمال ہیں جن پر تین اسماء ذات نگراں ہیں ۔

اس نقشہ سے بہت آسانی کے ساتھ اسم معلوم ہو سکتا ہے اپنے اسم مطلب یا مطلوب کا عدد باطن معلوم کریں جس کا طریقہ یہ ہے ۔

taskheer-e-zaat-e-turabi-ahram-ka-tareeqa

اھرام سے عدد 7 برآمد ہوا ۔ اب تعداد حروف بھی دیکھیں کہ اسم کے حروف کتنی تعداد پر مشتمل ہیں اگر زیادہ ہوں تو 11 پر تقسیم کریں ۔

عدد باطن 7 کو ننانوے اسماء کے نقشہ میں اوپر کی جانب دیکھیں اور تعداد اسم مطلب و مطلوب یا خود کو پہلوئے نقشہ مین ۔ اب خانہ اتصال پر دیکھین کہ کونسا اسم ہے مثلا ہمارا پہلو میں عدد ” 8″ ہے کیوں کہ ” محمد اسحق” کے حروف آٹھ ہیں اور عدد باطن7 خانہ اتصال پر اسم ” مجید ” درج ہے اب جو بھی اسم صفاتی کا نکلے اس کے تحت اسم ذات بھی دیکھ لیا کریں مثلا ً اسی سطر میں اسم ذات النور درج ہے ۔ اب ہمیں دو اسم حاصل ہوئے ایک صفاتی اور ایک ذاتی ۔ النور المجید۔

مرحلہ دوم

اسم المطلوب کو بسط عربی کریں ۔ یعنی عربی میں اپنے حروف کے اعداد کو جس طرح بولا جاتا ہے اسے لکھا جائے

مثلاً

م

ح

م

د

ا

س

ح

ق

40 8 40 4 1 60 8 100

بسط الحروفِ اسم

ا ر ب ع و ن ث م ا ن ی ھ ا ر ب ع و ن ا ر ب ع ھ ا ح د س د س و ن ث م ا ن ی ھ م ا ی ت ھ ۔ 
تعداد حروف ِ بسط 42۔ 
اب ان حروف کو عناصر پر تقسیم کرکے دیکھیں کہ ان میں بلحاظ تعداد حروف کس عنصر کے حروف زیادہ ہیں۔ 
آتش ۔ ا م ا ھ ا ا ھ ا م ا ھ م ا ھ 
باد: ب و ن ن ی ب و ن ب و ن ن ی ی ت 
آب ۔ ث س س ث 
خاک ۔ ر ع ر ع ر ع ح د د 
عنصر باد غالب ہے ۔ 
اب تعداد حروف کو 7 پر تقسیم کریں ۔ جب 42 کو سات پر تقسیم کیا جائے تو کچھ باقی صفر یا (7) بچے سیارہ قمر ۔ 
1        2        3        4        5        6        7        

زحل  مشتری  مریخ   شمس    زہرہ    عطارد   قمر 

اب اسمائے شمخیثیه کے نقشہ میں سیارہ قمر اور عنصر باد کے تحت جو اسم حاصل ہواوہ ہے ” یاادر نای “۔ “یا احمی حمیثا” 


مرحلہ سوم

ہمارے اسم کے اعداد 261 ہیں اب ان کا بسط عربی عددی کریں ۔ 
1        60        200
ا ح د س د س و ن م ا ت ی ن ۔ 
اعداد 694
اس میں دیکھیں کہ کس عنصر کا حرف غالب ہے یعنی کس عدد کے اعداد بسط میں سب سے زیادہ ہیں تو حرف ت کے عدد ” 400 ” ہیں ۔ اس لئے یہ غالب ہے اس کا عنصر باد ہے ۔ 
اب سطر کے اعداد معلوم کریں جو کہ 694 ہیں ان کا سیارہ معلوم کریں ۔ سات پر طرح کرکے جو باقی بچے اسے حسب سابق ترتیب سیارگان پر رکھیں ۔ 694 کو سات پر طرح کرنے سے باقی ایک رہا ۔ 
عنصر باد سیارہ زحل خانہ اتصال ملائکہ نقشہ سوم میں دیکھا تو موکل ” دھردائیل ” ہوا ۔ اب ہمارے پاس جو امور اکٹھے ہو چکے ہیں وہ کچھ اس طرح ہیں ۔ 


النور المجید   یا ادر نائی   یا احمی حمیثا     یا دھردائیل 

ان امور ثلاثہ کو یوں ترتیب دیں ۔ 
یا مجیدُ یا ادرنائی یا احمی حمیثا اجب یا دھردائیل بحق یا نور 
یعنی اسم صفاتی کو شروع میں اور اسم ذات کو آخر میں اور ہر ایک کے ساتھ کلمہ ندا یا لگا دیا ۔ موکل کے لئے ابتداء میں لفظ اجب اور اسم ذات سے پہلے بحق لکھ کر عزیمت مکمل کرلی ۔ 
یہ تو خیر ہم نے ایک مثال کے لئے اسم لیا ہے اگر عمل کے لئے لیں تو مع والدہ اسم لیں اور اسم المطلب کے لئے والدہ اور اسم خود کی ضرورت نہیں ہے البتہ مطلوب اگر انسان ہے تو والدہ کی ضرورت ہے اور اگر جن ہے تو والد کے اسم کی ضرورت ہے 
اب آئیے ہم طریقہ کار عمل کو بیان کریں 
اس عزیمت کو پڑھن کے تین مختلف طریقے ہیں پھر ہر طریقہ تین مختلف انداز میں پڑھا جاتا ہے 
مطلب ۔۔۔ مطلوب ۔۔۔۔ خود 

المطلب

مثلاً رزق ، مرض یا خلق وغیرہ ۔ جو عزیمت مستخرج ہو ، اسے مطلب کے اعداد کے موافق روزانہ ہر نماز کے بعد پڑھ لیا کرے اور رات کو تین ضربی ذکر اسم صفت کا کرکے عزیمت مطلب کو حسب تعداد پڑھے ۔
ان شاء اللہ چند یوم میں مطلب حاصل ہوگا ۔ 

دوسرا طریقہ

روزانہ 3125 بار پڑھا کرے تاکہ چالیس یوم میں سوا لاکھ پورا ہوجائے امید ہے مطلب بہت جلد حاصل ہوگا ۔ عمل پورا کرنا شرط ہے ۔ 

تیسرا طریقہ

تین یوم تک چلتے پھرتے اٹھتے بیٹھتے کھاتے پیتے عزیمت پڑھتا رہے اور کم سوئے کم بولے اور لوگوں سے اختلاط نہ رکھے ۔ 

المطلوب

مثلاً جنات یا کوئی روح یا محبوب کے لئے جب عزیمت استخراج کرچکے تو اس عزیمت کو اسم ذات اور صفت کے اعداد کے موافق ایک کاغذ پر لکھے اور یہ کاغذ حسب عنصر استعمال کریں ۔ اپنے اسم المطلوب میں دیکھیں کہ کونسا عنصر غالب ہے ۔ مثلاً محمد اسحق میں ” ق ” کا عنصر آب غالب ہے ۔ اب یہ تعویذ پانی کے نیچے دفن کردیں اور روزانہ رات کو نصف رات کے بعد پڑھنا شروع کریں اور طلوع فجر تک پڑھے ۔ امید ہے کہ ایک ہفتہ کے اندر عظم تاثیرات ظاہر ہوں گی ۔ 

دوسرا طریقہ 

جو عنصر غالب ہو مثلاً آگ ہے تو چراغ جلا کر روبرو رکھے ، باد ہے تو اونچی جگہ پر بیٹھ کر یا درخت پر چڑھ کر اور اگر آب ہے تو پانی روبرو ہو اور اگر خاک ہے تو پاک صاف کچی مٹی پر بیٹھ کر آنکھیں بند کرکے جسم کو حرکت دئیے بغیر عزیمت کو صرف دل میں پڑھے ۔ قبل از نماز مغرب پڑھنا شروع کرے اور جب اندازاً دو گھنٹے ہوجائیں تو پڑھنا ترک کردے اور ہر نماز کے بعد بھی عزیمت کو ایک ہزار بار پڑھے ایک ہفتہ کے اندر اندر مطلوب حاصل ہوگا۔ 

تیسرا طریقہ

اپنے مطلوب کا تصور کرکے ہمہ وقت پڑھتا رہا کرے ۔ کوئی پرہیز نہیں ہے کچھ عرصہ میں مطلوب مسخر ہوگا البتہ دن زیادہ لگ سکتےہیں ۔ 

خود

اگر اپنی ذات ترابی کو تسخیر کرنا مقصود ہو تو اپنے اسم مع والدہ کی عزیمت استخراج کرکے گیارہ روز کی ریاضت کریں ۔ صرف ایک طرح کا اناج استعمال کریں اور احرام باندھے ۔ لوگوں سے اختلاط نہ رکھے تنہائی میں رہے اور ہمہ وقت دن رات عزیمت پڑھا کرے ۔ بہت کم سوئے اور جسم کو حرکت کم دے ۔ تصور یہ رکھے کہ ایک نور محیط ام الدماغ میں آرہا ہے اور مجھے چاروں طرف سے گھیرا ہوا ہے چند یوم کے اندر یہ نور آپ کو چاگتے میں سوتے نظر آنا شروع ہوجائے گا اس میں عجیب لذت ہے ۔ حتیٰ کہ گیارھویں دن اس نور میں زندگی کی لہر سرایت کرجاتی ہے اور یوں لگتا ہے جیسے یہ نور زندہ ہے ۔ آپ کے اندر باہر اول آخر یہی نور ہمہ وقت رہے گا یہ آپ کی ذات ترابی کا نور ہے آپ  اس نور سے جو پوچھیں گے یہ الہام کرے گا اور جو کچھ کہیں گے یہ اس پر اثرانداز ہو کر مطلوبہ کام کردے گا یہ ایک جلیل القدر راز ہے ۔ 

اس عمل میں استعمال ہونے والی جداول کو ترتیب سے یہاں پیش کیا جا رہا ہے ۔ 

جدول اسماء الشمخیثیه

table-of-asma-shamkhusiya

 

جدول ملائکہ اسماء الشمخیثیه

table-of-asma-shamkhusiya-malaika

جدول اسماء الحسنیٰ

table-of-asma-ul-husna

 

قارئین کرام ! یہ تحریر من و عن بابرسلطان قادری مرحوم کی نقل کی گئی ہے۔اسماء شمخوثیہ میں کئی اغلاط موجود ہیں ۔ اس سلسلہ میں جلد ایک تفصیلی مضمون پیش کیا جائے گا۔ 

1 Comment

  1. اسلام علیکم رحمتہ اللہ و برکاتہ حسن صاحب اس عمل کی مکمل تفسیر اور اور اور اسماء کے بارے میں جو اغلاط ہیں ہیں ہیں میں شدت سے انتظار کروں گا آپ کے کے پوسٹ کا کا کیونکہ مجھے اس عمل کل کو کو سمجھنے میں آسانی ہوگی اور میں سمجھ بھی چکا ہوں ہو بس آپ کے کے پوسٹ کا انتظار ہے ہے تاکہ اس ماں کو صحیح طور پر پڑھا جا سکے کے مہربانی کرکے جلد ہی پوسٹ کر دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*