اسمائے شمخوثیہ ( تمخیثا) ۔ تشریح و توضیح ۔

tilsim-asma-e-shamkhusiya-tashreeh-tauzeeh

اسمائے شمخوثیہ ( تمخیثا ) کی بابت شہید علامہ محمد رفیق زاہد مرحوم کی بیان کردہ تشریح و توضیح و اسناد وغیرہ ۔

آج سے کوئی چوبیس پچیس برس قبل صاحب کتاب ” خزینہ جفر” جناب لیاقت الله قریشی مرحوم نے ایک تحقیقی مقالہ میں شہید علامہ محمد رفیق زاہد مرحوم سے ” طلسم اسمائے شمخوثیہ ” کی مزید تشریح و توضیح کا مطالبہ فرمایا تھا ۔
شہید علامہ محمد رفیق زاہد مرحوم نے نے جواباً جو تحریر قلمبند کی تھی وہ آپ احباب کی خدمت میں پیش کی جا رہی ہے ۔
مرحوم لکھتے ہیں کہ
تعمیل ارشاد کرتے ہوئے عرض پرواز ہوں کہ اسمائے تمخیثا درحقیقت اسمائے شمخوثیہ ہے ۔ اکابر علمائے علم و فن نے اس طلسم و عمل کو اس نام سے ہی تصنیف و تالیف فرمایا ہے یہ طلسم و عمل بھی عظیم ترین اور جامع الاعمال قسم کے اعمال میں سے ایک ہے چنانچہ یہ ایک ایسا عمل ہے جس کے خواص و اثرات، روحانی اور نورانی حقائق و دقائق سے ہر عہد کے اکابر علماء و حکماء نے جرع نوشی فرمائی اور اس کی ابجدی ترتیب و ترکیب کی ابدی شہادت دی ، بنابریں اس بے مثل طلسم کی متعلقہ تصریفات و تاثیرات کے ذیل میں تحریر کیا گیا ہے کہ مقامات کشف کے ہر عارف کے لئے اس عمل میں ایک ہیبت و راز ہے ۔ جس شخص نے اس راز کو جان لیا اس کی رسائی تمام حکمتوں تک ہوگئی اور وہ دینی و دنیاوی دونوں جہانوں میں کامیاب و کامران ہوا۔ علمائے متقدمین و حکمائے متاخرین نے طلسم متذکرہ کے اسمائے کلمات اور ان کی صفات و برکات اسرار و رموز اور اذکار و دعوات سے حکمت و عرفان حاصل کرنے والوں کے لئے ضروری قرار دیا ہے کہ وہ اس طلسم کے حقائق تک رسائی حاصل کرلیں تو انہیں چاہئے کہ وہ ان معارف و لطائف کو نا اہل سے چھپائیں اور اہل حضرات تک پہنچائیں ۔
طلسم اسمائے شمخوثیہ کی مقبول و معروف عبارت عمل جو علمائے طریقت و مشائخ حقیقت سے بطور صحیح ثابت اور متواتر نقل ہے ۔ ذیل میں ارباب علم و فن اور صاحبان طاعت و عمل کے لئے پیش کی جا رہی ہے ۔ عبارت عمل ملاحظہ فرمائیں ۔

عبارت عمل – اسمائے شمخوثیہ ( تمخیثا)۔

طلسم اسمائے شمخوثیہ اور مآخذ و مراجع 

متذکرۃ الصدر معروف و مقبول عبارتِ عمل جو قرن اول کے علماء و حکماء کے رسائل و اخبارات میں غیر مربوط طور پر موجود تھی وہ قرن ثانی کے علماء کی تحقیق و تدقیق کے نتیجہ میں ایک جامع الکمالات عمل کے طور پر تراکیب دی گئی ۔
اسمائے شمخوثیہ کے ذیل میں عہد ثالث کے علماء و حکماء کی اسناد کے ساتھ مطبوعہ و غیر مطبوعہ کتابوں میں جو عبارات نقل کی گئی ہیں زیر نظر عبارت ان سب سے بڑھ کر اور صحیح ترین قواعد کی جامع ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ یہ عبارت عمل اپنی علمی و فنی حیثیت و واقعیت کے ساتھ صدیوں سے آج تک صاحبان علم و فن کے عمل و تجربہ میں لائی جا رہی ہے ۔ 
کتاب سرؔ الاسرار، جامع الجواہر ، فوائد الفواد ، سیر الاولیاء ، فوائد العارفین اور مصحف ابو عبداللہ جیلانی جیسی مستند ترین کتابوں میں اسمائے شمخوثیہ کی متذکرہ بالا عبارت عمل کو اس کے متعلقہ خواص و اثرات کے ساتھ تحریر کیا گیا ہے ۔ 
طلسم اسمائے شمخوثیہ کو اسمائے تمخیثا کے طور پر آج تک کہیں بھی بیان نہیں کیا گیا ۔ عہد ثالت جو عہد حاضر کے طور پر آج تک جاری و ساری ہے ، اس عہد کے بالغ نظر علماء و حکماء حضرات کے ملفوظات و رسائل میں بھی اس کا کہیں ذکر نہیں ملتا ۔ 
اقتباس الانوار، سیر القطاب اور کتاب احسن الثمائل میں اسمائے شمخوثیہ کی عبارت کو لغات ثلاثہ یعنی سریانی و عبرانی اور عربی کا مجموعہ عمل قرار دے کر بیان کیا گیا ہے ۔ ان کتابوں میں بھی جو کچھ بیان کیا گیا ہے اس کا خلاصہ بھی یہی ہے کہ مندرجہ بالا عبارت عمل ہی صحیح ترین اسماء و کلمات کی بنیاد پر تراکیب ہے اور علمائے سلف و خلف تک قابل التفات و استفادہ چلی آرہی ہے ۔ 
عہد ثانی و عہد حاضر کے ایسے علماء و حکماء حضرات جنہوں نے اسمائے شمخوثیہ کے سلسلے میں سیر حاصل حقائق و دقائق کے ساتھ اپنے رسائل و صحائف میں اس طلسم کی متذکرۃ الصدر عبارت اور اس کے خواص و اثرات کا ذکر فرمایا ہے ان میں سے چند ایک کی تصنیفات و تالیفات کا ذیل میں مآخذ و مصادر کے طور پر بیان کرنا ضروری ہے ۔ 

نام کتاب نام مصنف و مؤلف 
زاد المعاد شیخ حبیب عجمی
نافع الاعمال  شیخ ابو مدین اندلسی
آیات المشائخ جلال الدین عبداللہ بسطامی
جوامع الکلم محی الدین ابن عربی
مرات الابرار  ابو ایوب بن ابی سعید جوجری
ملفوظات طائی عبداللہ بن بشیر ابو داؤد طائی
لوائح قسطلانی ابو العباس احمد بن معجون قسطلانی
مطالع القلوب ابوالحسن حراقی
لطائف الاسماء ابو محمد مغادری
غنائم الاعیان  شیخ عبدالکریم بجرانی
کشف الاحوال ملا محمد صالح برغائی
العدۃ النجوم  قاضی سید ابوالحسن خراسانی
البرھان الارشاد حکیم محمد صالح خلیلی
کفایتہ الطالبین مرزا محمد باقر طالقانی 
السیاط الاوضاع محمد قاسم مازندرانی
الفرائد الاصول شعبان رشتی
المعارف والاحوال صدر الدین سید محمد عاملی
غائتہ العزائم محمد ابراھیم کرباسی
صحیفۃ الاخیار حکیم ابو القاسم موسوی
فرقان المعارف شیخ عبدالرسول سبزواری

مندرجہ بالا تمام اعاظم و اعلام علماء و حکماء کے نزدیک طلسم اسمائے شمخوثیہ کی متذکرہ بالا عبارت صحیح ترین عبارت ہے ۔ ان اکابر حضرات کے نزدیک اس عبارت عمل کا ورد اور وظیفہ عبادت کا درجہ رکھتا ہے ۔ متذکرۃ الصدر کتابیات اور ماخذ و مصادر کے مندرجات کو ضبط تحریر میں لایا جائے تو اس کے لئے ایک الگ دفتر کی ضرورت ہوگی ۔ مختصر طور پر اسی قدر ہی عرض کردیا جاتا ہے کہ اسمائے شمخوثیہ کا عمل اور اس کی کی متعلقہ عبارت عمل ابتداء سے ہی معمول و متعارف اور رائج و مروج رہی ہے.

اسمائے شمخوثیہ اور عملیاتی اصول و قواعد

قارئین کرام ! اگر مجھ حقیر سے اسمائے شمخوثیہ کی تشریح و توضیح کے لئے کہا جاتا ہے تو میں صرف اور صرف اسی قدر ہی عرض کئے دیتا ہوں کہ آپ قرن اول کے انتہائی بزرگ و نہایت ہی قابل قدر علماء و حکماء کے رسائل و اخبارات کا مطالعہ کرکے دیکھیں اور پھر تقابلی حیثیت سے عہد حاضر کے نامور محققین حضرات کی تالیف کردہ کتب پر بھی ایک نظر ڈال دیکھیں تو ان سب حضرات میں ایک قدر مشترک نظر آئے گی اور وہ یہ کہ ان تمام تر بزرگان کا یہ وطیرہ رہا ہے کہ وہ اعمال و اوراد کے باب میں حد درجہ کے بخل و امساک کو اختیار کئے رکھنے کو ضروری خیال کرتے چلے آرہے ہیں ۔ بخل و امساک کے علاوہ رمز و کنایہ اور اس کے ساتھ ساتھ ایسے ادق اور علمی الفاظ شامل عبارت کئے جاتے رہے ہیں کہ جن کا سمجھنا تو بجائے خود پڑھنا بھی مشکل ہے ۔ اعمال و اوراد کے جمع و یکجا کرتے وقت یہی مشکل صورت حال تقریباً نصف صدی سے میرے ساتھ بھی پیش آرہی ہے اس امر محال سے عہدہ برآ ہونے کے لئے اور اعمال و اوراد سے عوام و خواص کو یکساں فوائد و نتائج پہنچانے کے لئے میرے سامنے یہ چیلنج رہا ہے کہ میں اپنی تحریر کو بالکل عام و فہم اور نہایت ہی آسان لفظوں کے اندر لکھوں یہی وجہ ہے کہ میں مقدور بھر کوششوں کے باوجود جس قدر مواد ارباب علم و فن کے لئے پیش کرنا چاہتا ہوں اس میں آج تک کامیاب نہ ہو سکا ہوں ۔ اسمائے شمخوثیہ اور اس کے متعلقات کے ذیل میں خدا معلوم میں نے کن مراحل سے گزر کر حقائق و دقائق کو اپنے دماغ کے اندر متشکل بنائے خاکہ کے مطابق نرالی سج دھج کے ساتھ پیش خدمت کیا ہے ۔ طرح طرح کے موانعات کے ساتھ نبرد آزما ہو کر جو کچھ پیش کیا گیا ہے وہ آپ کے سامنے ہے ۔ جب آپ اسے دیکھیں گے تو آپ کو خود ہی معلوم ہوجائے گا کہ طلسماتی نوادرات کیا ہیں ؟

اس عظیم المرتبت و عظیم الفوائد عمل پر عمل پیرا ہو کر آپ نام نہاد عاملین و کاملین کے مقابلہ مین بدرجہا بہتر مشکلات و حاجات کا خود حل کر سکتے ہیں ۔ اس روحانی و طلسماتی عمل کو میں نے اپنی انتہائی کوشش اور محنت سے جمع کیا ہے اور لکھا ہے اور مجھ سے جہاں تک ہو سکا ہے بخل و امساک جیسی مذموم عادت کی جڑیں اکھاڑ کر رکھ دی ہیں جیسا کہ اس عمل کا مطالعہ اس حقیقت کو آپ پر آشکار کر دے گا ۔

قارئین ذیشان عالی مرتبت جناب لیاقت الله قریشی صاحب ( مرحوم ) کی طرح آپ کا بھی فرض بنتا ہے کہ آپ اس نافع الخلائق عمل کا مطالعہ فرما کر تنقید و تبصرہ یا پھر کم از کم اپنی آراء و معلومات طلب امور سے آگاہی بخشیں تاکہ میں معلوم کر سکوں کہ میری اس علمی و فنی کوشش کو شائقین حضرات نے کس طرح دیکھا ہے ۔ اس سے جہاں میں آئندہ بھی اس قسم کے علمی تحائف پیش کرنے کی جراۤت
کرسکوں گا وہاں ہو سکتا ہے کہ دیگر ارباب علم و فن بھی اس قسم کے علمی و فنی جواہرات پیش کرنے کی ہمت کرنے لگیں ۔ خدا تعالیٰ میری اس ناچیز سعی کو کامیابی سے نوازے اور بخل جیسے ناپاک مرض سے اپنی حفظ و پناہ میں رکھے ۔
عملیاتی اصول و قواعد کے ذیل میں یہ بات بطور خاص یاد رکھنے کے قابل ہے کہ اصول و قواعد ہی کسی عمل یا وظیفہ کا اصل و اصول ہوتے ہیں ، یہ بنیادی قواعد ہی عمل کے موضوع اور موضوع کے متعلقات کو واضح کرنے کا سبب بنتے ہیں انہی کی وجہ سے خیر و شر اور حب و بغض کے اعمال کو تیار کیا جاتا ہے ۔
غرضیکہ عمل اور وظیفہ کے روحانی جسم میں اصول و قواعد کو وزارت کا عہدہ حاصل ہوتا ہے بنابریں اصول و قواعد پر عمل پیرا ہونا عملیاتی خواص اور اثرات کے حصول کا ذریعہ ہے ۔
ذیل میں اسمائے شمخوثیہ کے متعلقہ اصول و قواعد کا ذکر کیا جاتا ہے ۔ علمائے متقدمین و متاخرین فرماتے ہیں کہ اسمائے شمخوثیہ انہی ترتیب و تراکیب کے اعتبار سے حروف معجمه کے حقائق کا جامع ہے ۔ بیان کیا گیا ہے کہ نعمات ثلاثہ پر مشتمل یہ عمل و وظیفہ حروف معجمہ کی ترتیب و تقسیم کے مطابق اسمائے حسنی کے مجموعی حروف و کلمات کے ساتھ دعا و مناجات کے لئے ترتیب دیا گیا ہے ۔
یہ عمل اٹھائیس اسماء ، سات مؤکلات و اعوان اور اکیس اضمارات کی خصوصی ترکیب کے ساتھ  زود اثر اور مسیحائی حذاقت کا سرمایہ دار ہے ۔ ایک ایسا لاثانی و لافانی طلسم ہے جس کی دنیا متلاشی ہے ۔
اس سے قبل کہ اس روحانی و نورانی عمل کے متعلقہ اعمال و اوراد کو ان کے اصول و قواعد کے مطابق ضبط تحریر میں لایا جائے ضروری خیال کیا جاتا ہے کہ اسمائے عمل کی لغات کے عام فہم عربی معانی بیان کردئیے جائیں تاکہ ارباب علم و فن اس عمل کے متعلقہ اسماء کے مفہوم و مطالب سے بخوبی آگاہ ہو سکیں اس کے لئے جدول ذیل ملاحظہ فرمائی جا سکتی ہے ۔
asma-shamkhusiya-arabic-meaning

طلسم اسمائے شمخوثیہ اور اس کے متعلقہ مؤکلات و اعوان

tilsim-asma-shamkhusiya-aur-uskay-mutalliqa-muwakkilat-o-awan

طلسم اسمائے شمخوثیہ اور متعلقہ اضمارات

طلسم اسمائے شمخوثیہ کے متعلقه اضمارات کی تعداد 21 بیان کی گئی ہے ۔ یہ اضمارات اس طلسم کے متعلقہ موکلات و اعوان کے اسماء کی بنیاد پر تراکیب دئیے گئے ہیں ، مؤکلات و اعوان اور ان سے تراکیب کردہ اضمارات ان سب کی بھی مجموعی تعداد ابجد کے حروف کے مطابق 28 ہی بنتی ہیں ۔ 
اٹھائیس اسمائے شمخوثیہ اور مؤکلات و اعوان سمیت 28 اضمارات دونوں کا مجموعہ 56 بنتا ہے ۔ علماء و حکماء کے ارشادات و اقوال کے مطابق ۔ 
آٹھ (8) حروف پر مشتمل سات کلیات عمل ، حروف ابجد کی ترتیب کے مطابق سورۃ فاتحہ کی سات آیات مبارکہ کے حروف میں سے ہیں ۔ اور ان کلمات میں سے ہر ایک کلمہ کا ہر ایک حرف اسمائے الہی میں سے ہے چنانچہ ان حروف کی تخلیص کی جائے تو یہ حروف باقی رہتے ہیں ۔ 


ف ج ش ث ظ خ ز

علمائے طلسمات و روحانیات کے مطابق متذکرۃ الصدر حروف کے اعداد 9260 ۔ ان اعداد سے اس طلسم کے اضمارات بنائے ہیں اور اضمارات کی بنیاد پر اوفاق تراکیب دئیے ہیں ان اضمارات و اوقاف کو دعوات شمخوثیہ اور دعوات سورۃ الفاتحہ کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے ۔ 
اس سلسلے کی زیادہ تفصیل بیان کرنے کی بجائے مختصر طور پر بیان کر دیا جاتا ہے کہ بہت سے علمائے اعلام و مراجع عظام نے اسمائے شمخوثیہ کو سورہ الفاتحہ کی طلسماتی و عملیاتی تفسیر تسلیم کیا ہے ۔ تاریخ طلسمات کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بات کھل کر سامنے آجائے گی کہ قرون اول کے بعد قرون ثانی و ثالت ہر دو قران کے تمام تر اکابر علمائے حکماء نے اسمائے شمخوثیہ کو اسمائے سورہ الفاتحہ کے نام سے ہی تحریر فرمایا ہے اور اپنے تمام تر رسائل و صحائف میں اسمائے شمخوثیہ کو اسمائے سورہ الفاتحہ ہی ثابت کیا ہے۔

ذیل میں ان علماء و حکماء کے اسمائے گرامی اور ان کی تصنیفات و تالیفات کا ذکر کیا جا رہا ہے جو اسمائے شمخوثیہ کو سورہ الفاتحہ تسلیم کرتے ہیں اور اس طلسم سے حل طلب مشکلات و حاجات کے حل و عقد کے لئے اس کے متعلقہ تراکیب سے استمداد لینے کو جائز و مباح سمجھتے ہیں اور عاملین و کاملین حضرات کے لئے تجویز فرماتے ہیں کہ وہ اس طلسم سے امور و معاملات دینی و دنیاوی میں ہر طرح سے کام لیں کہ یہ عمل فی الحقیقت قرآنی معجزہ ہے اور اسمائے حسنی الہیہ کا اصل و اصول ہے ۔ 

نام کتاب نام مصنف و مؤلف
بہجتہ الاسرار عبدالہادی شیرازی
اذکار الابرار ابو عبداللہ الموسوی
اخبار الاخیار شیخ محمد باقر مکی
احسن الاقوال سید نور اللہ تبریزی
لمحات الانوار قاضی علی عثمان جرجری
مآثر الاعمال شیخ محمد رضا جواہر 
لوائح الواصلین  ملا علی جواد اصفہانی
ریاض العاملین حکیم کمال الدین سرسوی
دیوان الاولیاء قاضی محمد حسین مظفر اندلسی
دلیل الطالبین شیخ الاسلام ملا اسماعیل کوفی
منبع البرکات ابو الباقر مجاہد کرباسی
خیر الاذکار شیخ موسیٰ مامقانی
قلائد الجواہر  محمود عراقی
برالمتاخرین مفتی علی اکبر قزوینی
معین الارواح ملا محمد خوانساری
وقائع الاعمال شیخ عبدالرحمن بصری
ملفوظات سلمانیہ شیخ ابوالقاسم سلیمانی
طبقات ناصری شیخ ابراھیم ناصر یزدی
سیر الاقطاب شیخ سید ماجد بجرانی
سبع سنابل جعفر حویزہ بلاغی
صدیقتہ الاسرار قاضی علی خان مدنی 
خلاصتہ العجائب حکیم عبدالرحیم الحاری
احسن الثمائل  محمد فاضل دربندی
آداب المشائخ ملا محمد شریف قرجہ داغی
اسرار الاولیاء قاضی محمود الحسن شاہروی

اضمارات شمخوثیہ جیسا کہ گزشتہ عرض کیا جا چکا ہے کہ ان کی تعداد 21 ہے اور یہ اضمارات مؤکلات و اعوان عمل کا ہی ایک دوسرا حصہ ہیں ۔ اس سلسلے کی زیادہ تفصیل تو آئندہ چل کر بیان کی جائے گی اس وقت تو صرف اضمارات کی متعلقہ آیات کو ہی ضبط تحریر میں لایا جا رہا ہے ۔ ارباب علم و فن اور قارئین ذیشان کی خدمت میں گزارش ہے کہ وہ اسمائے شمخوثیہ کو عمل و تجربہ میں لاتے وقت اس کے متعلقہ مؤکلات و اعوان اور اضمارات پر بھی نظر رکھیں اور انہیں عمل کا حصہ سمجھتے ہوئے ان پر بھی حسب ضرورت عمل پیرا ہوں تاکہ عمل کے اثرات پوری طرح واضح و ظاہر ہوں ۔ 

اضمارات کی متعلقہ آیات

azmarat-ki-mutalliqa-ayaat

ارباب علم و فن اور قارئین کی خدمت میں عرض پرواز ہوں کہ طلسم متذکرۃ الصدر عمومی قسم کے امور و معاملات کے لئے ادائے زکوٰۃ کے بغیر ہی مفید و کارآمد قرار دے دیا گیا ہے ۔ تاہم خصوصی قسم کے حل طلب مشکلات و حاجات کے حل و عقد کے لئے ضروری قرار دیا گیا ہے کہ اس عمل کی متعلقہ تراکیب کے اعمال کو ریاضت و مجاہدہ اور عملیاتی آداب و شرائط کے ساتھ ہی بجالایا جائے تاکہ مثبت نتائج حاصل ہوسکیں ۔ 
اس طلسم کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ سورۃ الفاتحہ جیسی عظیم المرتبت سورہ پاک کے حقائق کا جامع ہونے کی وجہ سے ہمیشہ ہی بے خطا ثابت ہوتا ہے ۔ 
اس خصوصیت کے علاوہ اس عمل کے اثرات وقتی و عارضی نہیں ۔ استقلال و دائمی ہوتے ہیں اس حقیر کا دعویٰ ہے کہ جو عاملین و کاملین حضرات اپنے مجرب المجرب اعمال کو مطالب و مقاصد کے حصول کے لئے اکسیر بتاتے ہیں وہ اس عمل کو آزما کر دیکھیں یہ عمل ان کے تمام تر اعمال و مجربات کے مقابلے میں بدرجہا کارآمد ، نہایت سریع التاثیر اور ہر اعتبار سے اکسیر صفت ثابت ہوگا۔ 
امید واثق ہے کہ اس عمل کو تجربہ میں لا کر میرے اس دعویٰ کی تصدیق کی جائے گی اس لاجواب طلسماتی و روحانی تحفہ کو اپنے قلمی رفیق جناب لیاقت اللہ قریشی (مرحوم) اور تمام قارئین کی خدمت میں بلا اجازت حاضر ہے ۔ آزما کر دیکھیں آپ بھی میری طرح یہی محسوس فرمائیں گے کہ آپ کے ہاتھ ایک گنج مخفی لگا ہے ۔ 

3 Comments

  1. ماشااللہ حسن بھائی.
    بہت محنت طلب اور مخلصانہ تحریر پیش کی آپ نے اسماء شمخوسیہ کی .. بہت مطالعہ ہے ماشا اللہ آپکا. اللہ پاک آپکو جزاے خیر عطا فرمائیں اس بہترین کاوش کی.آمین.
    ایک سوال کرنا چہتا ہو . کیا اسماء شمخوسیہ کو ورد باموکل کے علاوہ عددی قیمت میں نقوش یا اعداد کے طلسمی یا تکسیر جعفری صورت میں استمال کیا جا سکتا ہے مقاصد کے حصول کے لیے؟
    آپ کے جواب کا منتظر.
    ذیشان عظمت لاہور سے.
    03068108761

  2. پسندیدگی کا شکریہ ۔ جی بالکل مقاصد کے حصول کے لئے مختلف نقوش و طلسم وضع کئے جا سکتے ہیں اور استعمال میں لایا جا سکتا ہے ۔ کوشش کروں گا کہ کبھی ان طلاسم و نقوش پر بھی کچھ تحریر کر سکوں ۔

  3. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ماشاءاللہ جزاک اللہ حسن صاحب اب آپ نے بہت بڑی مشکل حل کریں کریں لیکن ایک گزارش ہے آپ سے میں کافی سال سے اس اسماء کو لے کر جگہ جگہ پوچھ رہا ہوں کوئی اس کا تلفظ اور صحیح طریقہ نہیں بتا رہا ہاں بابر سلطان قادری صاحب نے ایک اور عمل تسخیر ر ذات ترابی کا عمل بھی لکھا ہے ہے مہربانی کرکے ان اسماء ماں اور تسخیر ذات ترابی بی کے عمل کی کی عبارت آیت کا صحیح تلفظ حفظ اور صحیح اسماء آپ کا احسان ہوگا ساری زندگی بھر کا بیان کردی

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*