تشخیص پر توجہ دیں ۔ اظہر عنایت شاہ ۔ کوہاٹ شہر

تشخیص-پر-توجہ-دیں

تشخیص پر توجہ دیں !!!

تشخیص پر توجہ دیں ، بغیر تشخیص کے سبب مرض سمجھا نہیں جا سکتا ایسی صورت میں جو بھی علاج کیا جائے گا وہ اندھیرے میں ایک تیر ہی ہوگا امراض کی تشخیص علاج سے قبل انتہائی ضروری ہے ۔  ایسے ہی حالات میں پیش آیا ایک واقعہ یہاں پیش کیا جا رہا ہے ۔

رات کو روحانیت کی طرف سے اشارہ ملا  کہ اپنی فلاں بھابھی کو چیک( تشخیص) کریں ، پوچھا کیا مسئلہ ہے ، کہنے لگے کہ پاؤں میں جلن ہے ، پوچھا کس وجہ سے ، کہنے لگے کہ خود دیکھ( تشخیص) لیں ۔
صبح بھابھی سے پوچھا کہ آپکے پاؤں میں کوئ جلن وغیرہ ہے ، کہنے لگی بھائ رانوں سے ایسے جیسے آگ نکلتی ہو ۔
اُن کو بٹھا کر معروف طریقے کے مطابق پہلے دائیں ہاتھ پر بالشت رکھا کر ایک عمل سے تشخیص کی ،
لیکن کوئ اثر ظاہر نہ ہوا ، پھر دوسرا عمل پڑھ کرتشخیص کی ، اُس سے بھی کوئ اثر ظاہر نہ ہوا ۔
پھر اسیطرح بائیں بازو پر تشخیص کی لیکن کوئ اثر ظاہر نا ہوا ۔ ( عرض کرتا چلوں کہ جن دو عملوں
سے تشخیص کی تھی اُن پرمیری اچھی طرح گرفت ہے )
تھوڑی سے فکر لاحق ہوئ لیکن پھر اللہ کی طرف سے یہ بات ذہن میں آئ کہ پانی چکھا کر تشخیص کی
جائے لہذٰا پانی پر عمل پڑھ کر ( جس پہلے عمل سے ہاتھ پر تشخیص کی تھی ) بھابھی کو پانی پینے کا کہا ۔
اُنہوں نے پانی پیا تو کچھ کڑوا محسوس ہوا ، میں نے کہا اور پیئں انہوں نے اور پیا تو پانی پہلے سے ذیادہ
کڑوا محسوس ہوا ، مزید پانی پینے پر اور ذیادہ کڑواہٹ محسوس ہوئ ، یہاں تک پانی اسقدر کڑوا ہو گیا کہ وہ پینے کے قابل نا رہا ۔
یہ واضح علامت تھی کہ جادو کا اثر ہے ۔ ( میری اس تشخیص میں پانی کا کڑوا محسوس ہو جانا علامت
جادو کی ہے ۔ جبکہ  بعض طریقوں میں پانی کا کڑوا ہوجانا علامت جنات کے اثر کی ہوتی ہے )
رات کو دوبارہ روحانیت سے رابطہ ہوا ساری تفصیل اُنکو عرض کر دی ، اُنہوں نے کہا  کہ تشخیص آپکی درست ہے جادو ہی کا اثر ہے ۔
میں نے پوچھا کہ ہاتھ پر تشخیص کیوں ظاہر نہ ہوسکی ، کہنے لگے کہ آپ نے انکا علاج پہلے کیا تھا جس
سے  اُوپر جسم سے اثر ختم ہو چکا ہے اب صرف نچلے حصے میں اثر باقی ہے ۔ پھر کہا کہ آپکا امتحان لینا مقصود تھا ۔
بقول ایک بڑے عامل کے کہ تشخیص ہمیشہ دو ، تین طریقوں سے کرنی چاہئے کیونہ اگر ایک طریقے سے
 تشخیص ظاہر نہ ہوسکے تو دوسرے طریقے سے ظاہر ہو ، جیسا کے اس واقعہ میں بیاں ہوا کیونکہ اگر
میں اُس ایک طریقے پر مکمل اعتماد کرتے ہوۓ بھابی محترمہ  کو کہہ دیتا کہ کوئ اثر وغیرہ نہیں میڈیکل
مسئلہ ہے تو اس سے  نہ صرف میری تشخیص غلط ہوجاتی بلکہ اس میں مریض کا نقصان ذیادہ ہوتا ہے
اگر بالفرض دوسرے طریقے سے بھی تشخیص ظاہر نہ ہو سکے تو کسی تیسرے طریقے سے دیکھ لیں ۔
کیونکہ میرا تجربہ کے بعض اوقات نہ ہاتھ پر تشخیص ظاہر ہوتی ہے اور نہ پانی پر ، باوجود اسکے کہ آپ
اس طریقہ تشخیص کے عامل ہوتے ہیں ۔ ( یہ میرا ذاتی تجربہ و مشاہدہ ہے اور عاملین حضرات کا اس سے
متفق ہونا ضروری نہیں )
تو مقصود اس تحریر سے یہ ہے کہ آپ کے پاس تشخیص کے کئ طریقے ہونے چاہئں کیونکہ ترکش میں تیر
جتنے ذیادہ ہوں اُتنا بہتر ہے ۔
ہاں اگر آپ صرف ایک ہی طریقے سے تشخیص کرتے ہیں اور آپکا تجربہ شاہد ہے کہ وہ طریقہ  99.99
فیصد درست نتیجہ دیتا ہے  تو فبہا ۔۔۔
لیکن اگر ایسا نہیں تو پھر میرا مشورہ یہی ہے جو میں نے آپکی خدمت میں عرض کر دیا ہے ۔
چنانچہ بھابھی محترمہ کو رد سحر کے تعویذ استعمال کروائے جس سے اُنکی جلن ختم ہو گئ ۔
کوشش ہو گی کہ اس موضوع پر مزید بھی کچھ لکھا جائے ۔

اعمال تشخیص :-


اوپر جن دو اعمال سے تشخیص کی گئ اُن میں سے ایک آیت السحر (قال موسى ما
جئتم به السحر إن الله سيبطله إن الله لا يصلح عمل المفسدين ) اور دوسرا عمل چہل کاف ہے ۔
پہلے آیت السحر گیارہ مرتبہ پڑھ کر ہاتھ پر دم کیا ، پھر چہل کاف سات مرتبہ پڑھ کر دم کیا ، لیکن
نتیجہ برآمد نہ ہو سکا پھر  پانی پر آیت السحر گیارہ مرتبہ پڑھ کر دم کرکے تشخیص کی گئ تو اثر ظاہر ہو گیا ۔
آپ نے دیکھا کہ آیت السحر کے ذریعے ہاتھ پر تشخیص نا ہوسکی لیکن پانی پر ہو گئ عملیات کا شعبہ ایک تجرباتی شعبہ ہے لہٰذا عاملین حضرات کو ان تمام باریکیوں کو مد نظر رکھنا چاہئے تب جا کر درست نتیجہ پر پہنچا جا سکتا ہے ۔
ان دو اعمال آیت السحر و چہل کاف سے کوئ تشخیص کرنا چاہے تو کر سکتا ہے ۔
نوٹ :- ہاں اگر مریضہ کی متاثرہ جگہ پر کپڑے کی پٹی بندھوا کر اُس کپڑے پر تشخیص کی جاتی تو یقینا
تشخیص ہوجاتی ۔ لیکن اس کے لئے ایک دن کا انظار کرنا پڑتا کیونکہ وہ پٹی پوری رات مریض کے متاثرہ
جگہ پر بندھی رہتی ہے ۔

1 Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*