ہم گناہ گار لوگ مخفی گناہوں پر مخفی تعزیرات

مخفی-پوشیدہ-باطنی-ظاہری-گناہ-تعزیرات

گناہ کیا ہے ؟ ظاہری گناہ ( قتل فساد وغیرہ ) اور مخفی گناہ ( پوشیدہ یا باطنی گناہ جیسے تکبر غرور وغیرہ ) کے انسانی زندگی پر کیا اثرات ہوتے ہیں ؟ 

گناہ کیا ہے ؟مذاہب میں غیر اخلاقی کام انجام دینے کو گناہ کہا جاتا ہے اور جو انجام دے رہا ہے وہ گناہ گار کہلاتا ہے اسی طرح ان کی ظاہری سزائیں بھی اور مخفی تعزیرات بھی ہیں ظاہری گناہ کی طرح پوشیدہ گناہ یا باطنی گناہ بھی ہیں ۔ قدیم مذاہب میں گناہ کا تصور نہیں تھا اس لیے کہ اچھائی اور برائی اور پھر اس دنیا کے بعد کی ابھی کوئی واضح تصویر ذہنوں میں قائم نہیں ہوئی تھی۔ ان مذاہب میں جہاں خدا کا تصور ہے اور اس کی بندگی افضل ہے مثلاْ یہودیت، مسی یا اسلام ان میں گناہ کا تصور واضح ہے۔ خدا کے احکام کی ذرا سے سرتابی یا عدول حکمی گناہ کا سبب بنتی ہے، لیکن ایسے مذاہب جن میں خدا کا تصور نہیں ہے مثلاْ بدھ مذہب وغیرہ وہاں گناہ کا کوئی تصور نہیں ہے۔ یہودی مذہب کے ابتدائی دور میں شخصی گناہ کے علاوہ اجتماعی یا قومی گناہ بھی ہوتے تھے۔ مثلاْ اگر قوم بت پرستی کا شکار ہوجاتی تو پوری قوم کو کفارہ ادا کرنا ہوتا اور اسے پاک کیا جاتا۔ چند آدمیوں کے جرائم کا عذاب پوری قوم پر نازل ہو سکتا تھا لیکن مجرموں کو سزا دے کر اس سے بچا جا سکتا تھا۔ مسیحیت اور اسلام میں اجتماعی گناہ کا کوئی تصور نہیں ہے۔ اسلام میں گناہ کے بارے میں واضح تصورات اور احکامات موجود ہیں لیکن مسیحیوں میں اس پر کافی اختلافات ہیں۔ بعض مسیحی انسانی اعمال کی تقسیم اس طرح کرتے ہیں۔ نیک، نیک نہ بد، بد۔ بعض کا خیال ہے کہ وہ تمام اعمال جو نیکی کی تعریف میں نہیں آتے لازم نہیں کہ وہ برے ہوں۔ مثلاْ جوئے کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ یہ اس وقت تک برا نہیں ہے جب تک کوئی فرض متاثر نہ ہو لیکن بعض دوسرے جوئے کو بذات خود برا سمجھتے ہیں۔ مسیحی سینٹ کا یہ عقیدہ ہے کہ ان باتوں سے بھی پرہیز کرنا چاہیے جو نیکی یا بدی کے زمرے میں نہیں آتیں اس لیے کہ خدا اس سے خوش ہوتا ہے۔ مغربی دینیات میں وہ گناہ، گناہ کبیرہ ہے جو جان بوجھ کر اور اردہ کے ساتھ کیا جائے۔ رومن کیتھولک کے نزدیک سات گناہ کبیرہ ہیں: غرور، لالچ، غیبت، ہوس، غصہ، حسد اور کاہلی اور وہ گناہ جو قہر الہیٰ کی دعوت دیتے ہیں وہ ہیں جان بوجھ کر قتل، امردپرستی، غریبوں پر ظلم، محنت کش کو اجرت ادا کرنے میں فریب کرنا ( ظاہری گناہ )۔ ابلیس کا سب سے بڑا گناہ اس کا غرور ( مخفی گناہ )  تھا۔

ہمارے نہایت ہی محترم جناب اظہر عنایت علی شاہ صاحب ، از کوہاٹ شہر کی تحریر ” مخفی گناہوں پر مخفی تعزیرات ” قارئین روحانی علوم ڈاٹ کام کے لئے پیش خدمت ہے ۔

مخفی گناہوں پر مخفی تعزیرات

اللہ تبارک وتعالیٰ نے جس طرح ظاہری گناہوں سے بچنے کا حکم دیا ہے اسی طرح باطنی گناہوں سے بھی بچنے کا حکم دیا ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔

 وَذَرُوْا ظَاهِرَ الْاِثْـمِ وَبَاطِنَهٝ ۚ اِنَّ الَّـذِيْنَ يَكْسِبُوْنَ الْاِثْـمَ سَيُجْزَوْنَ بِمَا كَانُـوْا يَقْتَـرِفُوْنَ ۔ ( سُورہ الانعام آیت ۱۲۰)

ترجمہ : تم ظاہری اور باطنی سب گناہوں چھوڑ دو ، بے شک جو لوگ گناہ کرتے ہیں اپنے کئے کی سزا پائیں گے ۔

جس طرح ظاہری گناہوں کا ارتکاب موجب عتاب خداوندی و باعث نحوست ہے ۔ اسی طرح باطنی گناہوں کا ارتکاب بھی موجب عتاب خداوندی و باعث نحوست ہے ۔

شیطان ہر شخص کو اسکی حیثیت کے مطابق گناہوں میں مبتلا کرتا ہے ۔ کسی کو ظاہری گناہوں میں مبتلا کیا ہوتا ہے تو کسی کو باطنی گناہوں میں مبتلا کیا ہوتا ہے ۔

گناہ کیا ہے ؟ ابلیس کیا کرتا ہے ؟

تلبیس ابلیس میں ایک یہ بھی ہے کہ آدمی ظاہری گناہوں کو گناہ سمجھتے ہوئے اُن کے قریب بھی نہیں جاتا لیکن مخفی گناہوں کو گناہ نہ سمجھ کر اپنی سوچ و فکر کو بے لذت گناہوں میں مبتلا کرکے اپنی رُوح و قلب میں سیاہی و ظلمت کے انکجکشن لگا لگا کر رُوح و قلب کی نورانیت ختم کرکے اپنے آپ کو بے سکونی ، بے چینی ، اضطراب ، اندیشے ، پریشانیاں ، تشویش ، انجانا خوف ، گھبراہٹ و وحشت کے تاریک کنویں میں دھکیل دیتا ہے  ۔ الامان الحفیظ

سُوچ و فکر کی پاکیزگی ہی تصوف کی اصل رُوح ہے ۔ مراقبہ کیا ہے ؟ یہی تصور کرنا کہ فیض الٰہی میرے قلب پر آرہی ہے اور میرا قلب کہہ رہا ہے اللہ اللہ  اللہ ۔

حدیث جبریل ( ان تعبد اللہ کانک تراہ فان لم تکن تراہ فانہ یراک ) تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا تم اسے دیکھ رہے اگر یہ درجہ حاصل نہ ہو  تو پھر یہ سمجھو کہ وہ تم کو دیکھ رہا ہے ۔ خیال و تصور کی اعلیٰ معراج ہی تو ہے ۔

جس طرح ظاہری بد نظری کبیرہ گناہوں میں سے ہے ۔ اسی طرح باطنی بد نظری یعنی خیال و سوچ کی بے راہ روی صوفیاء کرام کے نزدیک اکبر الکبائر میں سے ہے ۔ اور ابلیس یہ زہریلہ تیر سالکوں پر بھت چلاتا ہے ۔ جس کے شکار اکثر سالکین ہو بھی جاتے ہیں ۔

نظر بد اور بد نظری میں الفاظ کی تقدیم و تاخیر سے جہاں معنی و مفہوم  بدل جاتا ہے وہاں شرعی احکام بھی بدل جاتے ہیں ۔

نظر بد کی تباہ کاریاں ( نظر بد پر جناب اظہر عنایت علی شاہ صاحب کی تحقیق پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں ) تو اپنی جگہ مُسلّم ،آپ نے پڑھی ، دیکھی اور سُنی بھی ہیں ۔ لیکن بد نظری کی تباہکاریاں بھی اپنی جگہ  مُسلّم ۔۔۔

بد نظری چاہے ظاہری ہو یا باطنی کا اثر براہ راست دل پر ہوتا ہے ۔ جو بعض اوقات زوالِ ایمان کا سبب بن جاتی ہے ، اس بارے میں شیخ ابو عبد اللہ اُندلسیؒ جو شیخ شبلیؒ کے شیخ ہیں  کا قصہ مشہور ہے ۔
بد نظری کی تباہ کاری ، بربادیاں و نحوست اور اس پر خدائے ذوالجلال کی پکڑ کے مطالعہ کے لئے علامہ عبد الرحمٰن ابن الجوزیؒ کی کتاب ذَمُّ الھویٰ جس کا ترجمہ ” عشق مجازی کی تباہ کاریاں”  کے نام سے کیا گیا ہے مطالعہ کی جا سکتی ہے ۔ جو اس موضوع پر بھترین کتاب ہے ۔
بد نظری کی نحوست پر ایک بزرگ اپنا واقعہ یوں بیان کرتے ہیں ۔
” کہ میں ایک ناجائز مقام پر نظر لگا بیٹھا اور پھر اس کے انجام کی انتظار لگ گئ چنانچہ مجھے مجبورا ایک طویل سفر کرنا پڑا جس کے لئے میرا کوئ ارادہ نہ تھا بڑی مشقتیں اٹھائیں اس کے بعد ایک انتہائ قریب عزیز کی موت واقع ہو گئ اور بھت سی ایسی چیزیں بھی ضائع ہوئیں جو میرے نزدیک بھت ہی قابل قدر تھیں پھر میں نے توبہ کے ذریعے تلافی کی تو حال بنا ، ایک بار پھر خواہش کا غلبہ ہوا اور پھر اس بد نگاہی میں مبتلا ہو گیا جس سے دل بے نور ہو گیا رقت ختم ہو گئ اور سابق نقصان سے کہیں زیادہ نقصان ہوا اور مجھے ان نقصانات کے عوض ایسی چیزیں ملیں جو نہ ملتی تو بہتر تھا جب میں نے غور کیا کہ میں نے گنوایا کیا ہے اور اس کے عوض کیا پایا ہے تو ان تازیانوں کے چوٹ سے میں چیخ اٹھا سو خبردار ساحل پر کھڑا پکارہا ہوں : میرے بھائیوں اس سمندر کی گہرائ سے بچو اس کی سطح کا سکون دیکھ کر دھوکہ مت کھاؤ ساحل کو لازم پکڑو اور تقویٰ کے قلعہ کو لازم پکڑ لو کہ سزا بہت سخت سنگین اور تلخ ہے اور یہ بھی جان لو کہ تقویٰ کی پابندی میں اغراض و خواہشات کے پورا نہ ہونے کی تلخیاں ضرور ہیں مگر ان کی مثال علاج اور پرہیز کی ہے جس کا انجام صحت ہے اور بد پرہیزی کبھی اچانک موت تک پہنچا دیتی ہے ۔
اور بخدا اگر تم مصیبت بھیجنے والے کی رضا کے لئے کوڑا کرکٹ کے ڈھیروں پر کتوں کے ساتھ سو جاؤ تو اس کی رضا کے مقابلہ میں یہ کچھ بھی نہیں اور اگر تم دنیاوی اغراض و خواہشات کی انتہا تک کو پالو اور وہ تم سے ناراض ہے اور اعراض کئے ہوئے ہے تو تمہاری سلامتی ہلاکت ہے اور عافیت مصیبت ہے اور صحت بیماری ہے اور انجام پھر خاتمہ پر ہے اور عاقل وہ ہے جو انجام کو پیش نظر رکھتا ہے اور اللہ تعالیٰ تم پر رحم فرمائے مصیبت کی دوپہر میں خوب صبر کرو کہ وہ جلد ڈھل جانے والی ہے اور توفیق خُداتعالیٰ کے ہاتھ میں ہے کہ ہمت و طاقت اس کے فضل کے بغیر کے بغیر نہیں ۔”( کتاب نفیس پھول ترجمہ صید الخاطر صفحہ ، ۱۸۵ )
بد نظری کی وجہ سے نامعلوم ہم کتنی پریشانیوں ، مصیبتوں اور تکالیف میں گھرے رہتے ہیں جس کا ہمیں احساس بھی نہیں ہوتا کہ یہ سب بد نظری کی نحوست ہے ۔متنبی نے کہا ہے ۔

ومن بلیۃ الدنیا خطاب مع من لا یفھمہ

یہ بھی خدا کے عذاب میں سے ہے کہ سزا مل رہی اور عقل نہیں ہے

نقصان کا پتہ چلنا کہ میرے ساتھ یہ کیا ہورہا ہے اور کیوں ہورہا ہے ۔ یہ بھی تو غیرت اور عقلمندی کی بات ہے

اے چشمِ اشک بار زرا دیکھ تو سہی

یہ گھر جو بہہ رہا ہے کہیں تیرا گھر نہ ہو

امام غزالی رحمہ اللہ  فرماتے ہیں ، نظر کھٹک پیدا کرتی ہے ، کھٹھک سوچ کو وجود بخشتی ہے ، سوچ شہوت کو ابھارتی ہے اور شہوت ارادہ کو جنم دیتی ہے ۔

میرا موضوع تو اصل میں مخفی گناہوں ، بد نظری کے متعلق تھا لیکن اسمیں ظاہری بد نظری کا ذکر بھی آگیا ۔

 چلو   اچھا   ہوا  کام  آگئ   دیونگی  اپنی

وگرنہ ہم زمانے بھر کو سمجھانے کہاں جاتے

اب خطبات حکیم السلام سے مخفی گناہوں پر ایک گراں قدر تحریر پیش خدمت ہے ۔

” ہاں پھر جیسے افعال زنا و شراب پر حد شرعی اور تعزیرات جاری ہوں گی ، ایسے ہی ان باطنی حدود کی خلاف ورزی پر بھی آدمی مواخذہ سے بچ نہیں سکتا ، قضاء نہ سہی تو دیانۃ ہی سہی ۔ اگر آفاقی سزائیں نہ دی جائیں تو انفسی ( ذاتی ) ہی سہی یعنی فعل زنا و شراب پر اگر سنگساری اور درّہ زنی کی حد جاری ہوتی ، تو اس ذہنی زناکاری اور شراب خوری پر انفسی بیماریاں ، آفات غم و الم ، تشویش و پراگندگی ، فتنے اور پریشانیاں باطن پر ہجوم کر آئیں گی ۔

اور پھر اس سے بھی بڑھ کر سزا یہ کہ قلب کی نورانیت زائل ہو کر اس میں ظلمت و کدورت کے بادل امنڈ آئیں گے جو اس کے سکون کو زائل کرکے قلب کی بڑی سے بڑی بیماری کا دروازہ کھول دیں گے ۔

”   نیست   بیماری    چو   بیماری   دل   "

پس یہ تشریعی رنگ کی سزائیں نہ ہوں گی تو تکوینی رنگ کی ہوں گی ۔ ظاہری آلات سے نہ دی جائیں گی تو باطنی وسائل سے دی جائیں گی کیوں کہ یہ جرائم ہی باطنی آلات ( فکر و خیال ) سے عمل میں آئے تھے۔

وہ کھلی سزائیں من اللہ تھیں اور یہ مخفی سزائیں بھی جن کا تعزیر ہونا مخفی ہے ، من اللہ ہی ہیں ۔

بہرحال ظاہر و باطن میں سے کس سے بھی شراب خوری و زنا کاری کا صدور ہو گا اور ان میں سے کسی پر بھی مواخذہ خداوندی سے بری نہیں رہ سکتا ( وَاِنْ تُبْدُوْا مَا فِىٓ اَنْفُسِكُمْ اَوْ تُخْفُوْهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللّـٰهُ ۖ فَيَغْفِرُ لِمَنْ يَّشَآءُ وَيُعَذِّبُ مَنْ يَّشَآءُ ۗ وَاللّـٰهُ عَلٰى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيْرٌ )

ترجمہ : اور جو باتیں نفسون میں ہین ان کو اگر تم زبان وغیرہ سے ظاہر کرو گے یا دل میں پوشیدہ رکھو گے ، حق تعالیٰ دونوں حالتوں میں تم سے حساب لیں گے ، پھر بجز کفر و شرک کے جس کے لئے بخشا ہو گا بخش دیں گے اور جس کو منظور ہوگا سزا دیں گے اور اللہ تعالیٰ ہر شئے پر پوری قدرت رکھنے والے ہیں ۔

حاصل یہ نکلا کہ قانون الٰہی دنیوی سلطنتوں کے قوانین کی طرح فقط آدمی کے ظاہر اور جسم پر ہی نہین چلتا بلکہ بدن سے لے کر قلوب و ارواح اور نیات پر لاگو ہوتا ہے ۔ پس ظاہری شریعت کی رُو سے تو شراب و زنا کبیرہ گناہ تھے اور ان کے ظاہری وسائل صغیرہ گناہ جن پر ظاہری حدود تعزیرات جاری ہوتی تھیں ۔ لیکن حاکم حقیقی حق تعالیٰ شانہ  کی عظمت و جلال اور ظاہر و باطن مین اس کے حاضر و ناضر ہونے کی حیثیت  سے یہ خیالی زنا و شراب بھی اہل باطن کے نزدیک اکبر الکبائر کہلائے گا جس پر باطنی  سزا مرتب ہو گی ۔ ” ( خطبات حکیم الاسلام ، ج ۸ ، ص ۲۰۸ ، ۲۰۹ ۔ ناشر بیت السلام ، کراچی )

آخر میں بد نظری سے بچنے کے لئے ایک وظیفہ دیا جا رہا ہے ۔ جو حضرات کسی بھی قسم ظاہری و باطنی بد نظری یا نیٹ کی غلاظت میں مبتلا ہیں اور باوجود کوشش کے اس سے چھٹکارہ نہیں پارہے ۔ وہ حضرات اس وظیفے کو معمول بنا لیں ، انشا ء اللہ ضرور اُنکو  بد نظری کی لعنت سے نجات ملے گی ۔

نیٹ پر بات یاد آئی کچھ عرصہ قبل بندہ نے خواب دیکھا ، ایک کہنے والا ( دجال )  کہہ رہا ہوتا ہے کہ میں انٹر نیٹ کے ذریعے لوگوں کے گھروں میں داخل ہوتا ہوں ۔

ہم ( مسلمان ) کتنی غفلت میں پڑے ہوئے ہیں جو اس انتظار میں ہیں ہے کہ دجال کا خروج کب ہو گا ؟ دجال تو کب کا انٹر نیٹ کے ذریعے ہمارے گھروں میں آیا ہوا ہے ۔

بد نظری سے بچنے کا وظیفہ : لَا حَولَ وَلاَ قُوَّةَ اِلَّا بِاللّـٰهِ اِنَّمَا سُلْطَانُهٝ عَلَى الَّـذِيْنَ يَتَوَلَّوْنَهٝ

پڑھنے کی ترکیب : پورا دن کُھلا ورد بھی کرسکتے ہیں ۔ صبح و شام ایک ایک تسبیح بھی پڑھ سکتے ہیں ۔ ہر نماز کے بعد سات ، گیارہ کی تعداد میں بھی پڑھ سکتے ہیں ۔

 اللہ تعالی ظاہری و باطنی ہر قسم کی بد نظری سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے اور اللہ تعالی آپ کا اور میرا حامی و ناصر ہو ، آمین

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*