
آیت کریمہ لا الہ الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین اور کچھ تاریخی پس منظر ۔
مچھلی کے تاریک پیٹ میں، سمندر کی گہرائیوں میں، جہاں ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا تھا، وہاں سے ایک آواز بلند ہوئی جس نے عرش الہٰی کو ہلا کر رکھ دیا۔ یہ آواز تھی یونس علیہ السلام کی، اور یہ کلمات تھے لا الہ الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین۔ انہی کلمات کو ہمارے ہاں آیت کریمہ کے نام سے جانا جاتا ہے جو مشکلات سے نجات کا سب سے مشہور و معروف ذریعہ ہے۔ وظائف کے متلاشی حضرات اکثر "ayat e karima wazifa” کے نام سے بھی آیت کریمہ کے اعمال و وظائف تلاش کر رہے ہوتے ہیں۔
مسلمانوں کے تمام ہی مکتبہ فکر میں آیت کریمہ مشکلات سے نجات کے لئے مشہور و معروف مانی گئی ہے۔ اس سے قبل کہ ہم اس آیت کریمہ کے متعلق چودہ مجرب اعمال تحریر کریں، کچھ تاریخی پس منظر بیان کرتے ہیں۔
الیسع علیہ السلام کے بعد بنی اسرائیل کی ہدایت کے لئے یونس علیہ السلام مبعوث فرمائے گئے۔ قرآن کریم میں چھ مقامات پر ان کا ذکر آیا ہے: سورہ انعام، سورہ نساء میں بہ سلسلہ تذکرہ انبیاء صرف نام آیا ہے۔ سورہ انبیاء، الصافات، القلم، یونس – ان چار سورتوں میں مختصر حالات بیان کئے گئے ہیں۔ دو سورتوں میں ذوالنون اور صاحب الحوت یعنی مچھلی والا کہا گیا ہے۔ تورات کے صحیفہ یوناہ میں آپ کا نام یوناہ بن امتی لکھا ہے۔
سرکش اور مستمرد اہل نینوا کی ہدایت کے لئے اللہ تعالیٰ نے یونس علیہ السلام کو منتخب کیا اور منصب نبوت سے نوازنے کے بعد نینوا (عراق کا مشہور و قدیم شہر) جانے کا حکم دیا۔ لیکن ان کا احساس یہ تھا کہ شاید منصب نبوت کے بار گراں کو نہ اٹھا سکیں، چنانچہ وہ نینوا جانے کی بجائے ترسیسی کی طرف چل دئیے۔ پہلے یافا پہنچے، وہاں سے ترسیسی جانے والے جہاز میں سوار ہوگئے۔
راستے میں زبردست آندھی اور سخت طوفان برپا ہوا۔ اہل جہاز کو یہ خیال گزرا کہ ضرور ہم میں سے کسی نے کوئی گناہ کیا ہے جس کے بدلے میں آفت نازل ہوئی ہے۔ چنانچہ طے ہوا کہ قرعہ ڈالا جائے اور جس شخص کے نام کا قرعہ نکلے اسے سمندر میں پھینک دیا جائے۔ تین مرتبہ قرعہ ڈالا گیا اور ہر مرتبہ یونس علیہ السلام ہی کا نام نکلا۔ آپ نے فرمایا "مجھے اٹھا کر سمندر میں پھینک دو طوفان دور ہوجائے گا کیونکہ میں جانتا ہوں کہ یہ طوفان تم پر میری وجہ سے آیا ہے”۔ نہ چاہنے کے باوجود انہوں نے مجبوراً آپ کو سمندر میں پھینک دیا اور ساتھ ہی طوفان رک گیا۔ جب آپ کو سمندر میں پھینکا گیا تو اسی وقت ایک بہت بڑی مچھلی نے نگل لیا۔ اب آپ نے اپنی خطا کے لئے دعائیں کیں۔
آیت کریمہ – متن اور ترجمہ
لا الہ الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین (سورہ انبیاء آیت ۸۷)۔
نہیں ہے کوئی معبود سوائے تیرے،پاک ہے تو بے شک میں ظالموں میں سے ہوں
قرآن مجید میں واقعہ یونس علیہ السلام
خدائے غفور و رحیم نے اپنے پیغمبر کی درد بھری دعاؤں کو سنا اور قبول فرمایا ، مچھلی کو حکم ملا کہ یونس علیہ السلام کو جو تیرے پاس ہماری امانت ہے اُگل دے چنانچہ مچھلی نے حضرت یونس علیہ السلام کو خشکی پر اُگل دیا ۔(سبحان اللہ )۔
قرآن مجید میں مذکور ہے "اور ذوالنون (یونس کا معاملہ یاد کرو)جب ایسا ہوا تھا کہ وہ خشمناک ہوکر چلا گیا پھر اس نے خیال کیا کہ ہم اس کو تنگی (آزمائش)میں نہیں ڈالیں گے پھر (جب اسے آزمائش نے گھیرا تو )اس نے (مچھلی کے پیٹ میں اور سمندر کی گہرائی کی) تاریکیوں میں پکارا خدایا !تیرے سوا کوئی معبود نہیں تیرے لئے ہر طرح کی پاکی ہو حقیقت یہ ہے کہ میں نے اپنے اوپر بڑا ظلم کیا تب ہم نے اس کی دعا قبول کی اور اسے غمگینی سے نجات دی اور ہم اسی طرح ایمان والوں کو نجات دیا کرتے ہیں "۔ سورہ انبیاءاور بے شک یونس علیہ السلام پیغمبروں میں سے تھا (اور وہ واقعہ یاد کرو ) جب کہ وہ بھری ہوئی کشتی کی طرف
بھاگا(اور جب کشتی والوں نے غرق ہونے کے خوف سے ) قرعہ ڈالا تو (سمندر میں ) ڈالے جانے کے لئے اس کا نام نکلا پھر نگل گئی اس کو مچھلی اور وہ اللہ کے نزدیک قوم کے پاس سے بھاگ آنے پر قابل ملامت تھا پس اگر یہ بات نہ ہوتی کہ وہ خدا کی پاکی بیان کرنے والوں میں سے تھا تو مچھلی کے پیٹ میں قیامت تک رہتا پھر ڈال دیا ہم نے اس کو (مچھلی کے پیٹ سے نکال کر ) چٹیل زمیں میں اور وہ ناتواں اور بے حال تھا ۔ (سورہ الصافات )۔
پس اپنے پروردگار کے حکم کی وجہ سے صبر کو کام میں لاؤ اور مچھلی والے (یونس) کی طرح (بے صبر )نہ ہوجاؤ۔
جب اس نے (خداکو)پکارا اور وہ بہت مغموم تھا اگر یہ بات نہ ہوتی کہ اس کے پروردگار کے فضل نے اس کو (آغوش ) میں لےلیا تھا تو وہ ضرور چٹیل میدان میں ملامت شدہ ہو کر پھینک دیا جاتا پس اس کے پروردگار نے اس کو برگزیدہ کیا اور اس کو نیکوں کاروں میں رکھا ۔ سورہ القلم
مچھلی کے پیٹ میں رہنے ، ہوا اور خوراک نہ ملنے کے باعث بہت کمزور ہوچکے تھے قرآن کا بیان ہے "اور ہم نے اس
پر(سایہ کے لئے ) ایک بیل دار درخت اگایا اور ہم نے اسے ایک لاکھ سے زیادہ انسانوں کی جانب پیغمبر بنا کر بھیجا "۔
سورہ الصافات
واقعہ تو بہت طویل ہے لیکن یہاں اس سے زیادہ تفصیل کی گنجائش نہیں ۔
احادیث میں آیت کریمہ کی فضیلت
حدیث میں اس آیہ کریمہ کی نسبت فرمایا "یہ اسم اعظم ہے جو اس کے ساتھ دعا کرے قبول ہو "۔
علماء فرماتے ہیں کہ آیہ کریمہ قبولِ دعا خصوصاً دفع بلا میں اثرِ تمام رکھتی ہے ۔ سعد بن ابی وقاص (رض) کی حدیث میں ہے کہ "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہیں اللہ تعالیٰ کا وہ اسم اعظم نہ بتادوں کہ جب وہ اس سے پکارا جائے اجابت کرے اور جب اس سے سوال کیا جائے عطا فرمائے وہ دعا یہ ہے جو یونس علیہ السلام نے تین تاریکیوں میں کی تھی "۔
کسی نے عرض کیا "یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم ! کیا یہ خاص حضرت یونس علیہ السلام کے لئے تھا ؟۔
یا سب مسلمان کے لئے ہے ؟۔ آپ (ص) نے فرمایا ، مگر تونے خدا تعالیٰ کا ارشا نہ سنا کہ
فاستجبنا له ونجيناه من الغم وكذلك ننجي المؤمنين”۔ سورہ انبیاء آیت نمبر ۸۸۔
پس ہم نے اسکی پکار سن لی اور اسے غم سےنجات دے دی اور ہم ایمان والوں کو اسی طرح بچالیا کرتے ہیں۔
دعائے حضرت یونس علیہ السلام کے متعلق تاریخ و قرآن سے ہم مختصراً واقعات قلمبند کرچکے ہیں ۔
اب مختلف بزرگان دین و علمائے روحانیت سے اس آیہ کریمہ کے متعلق جو اعمال حاصل ہوئے ہیں انہیں مختصراً یہاں درج کرتے ہیں تاکہ ہر ضرورت مند فرد اپنے مسائل میں اس آیہ مبارکہ کا وسیلہ اختیار کرتے ہوئے اپنی منزل مقصود کو پاسکے۔ آیت کریمہ کے فوائد (ayat e kareema benefits) بے شمار ہیں اور یہ ہر قسم کی مشکل سے نجات کا ذریعہ ہے۔
قضائے حاجت کے لئے آیت کریمہ کے چودہ مجرب اعمال
1 پہلا عمل – نماز نفل کے ساتھ
نصف شب کے وقت غسل کرکے چار رکعت نماز نفل بہ نیت قضائے حاجت ادا کرے ۔
پہلی رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد وافوض امری الا اللہ ان اللہ بصیر بالعباد(سوره غافر، آيه ۴۴) سو مرتبہ
دوسری رکعت میں سورہ الفاتحہ کے بعد والی اللہ ترجع الامور (سورہ حدید آیت ۵)سو مرتبہ ۔
تیسری رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد نصر من اللہ وفتح قریب و بشر المومنین (سورہ صف آیت ۱۳)۔ سو مرتبہ
چوتھی رکعت میں بعد از سورہ فاتحہ انا فتحنا لک فتحا مبینا (سورہ فتح آیت نمبر ۱) سو مرتبہ
سلام پھیر کر نماز تمام کرے پھر سجدہ میں چلا جائے اور سو مرتبہ پڑھے ۔
غفرانک ربنا و اليک المصير (سوره بقره، آيه ۲۸۵)۔
اس کے بعد سر اٹھا لے اور دوسرا سجدہ کرے اور سو مرتبہ پڑھے ۔
استفراللہ ربی من کل ذنبی واتوب الیہ
پھر سجدہ سے سر اٹھا کر آیت کریمہ لا الہ الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین سو مرتبہ پڑھے ۔ جو حاجت ہو اسے طلب کرے
مشکل سے مشکل حاجت پوری ہوگی ۔
دعائے حضرت یونس علیہ السلام میں ایک خاص بات یہ ہے کہ دعا کس وقت کی گئی یہ دیکھئے ، کس ماحول میں کی گئی کیا صورتحال تھی اس کو نوٹ کریں تفصیل تو مضمون کے شروع میں دے دی گئی ہے مختصر یہ کہ چونکہ حضرت یونس علیہ السلام مچھلی کے پیٹ میں بند تھے اس لئے بند جگہ پرپڑھیں ، اندر تاریکی تھی اس لئے پڑھتے وقت چراغ گل کردیں ، چونکہ سختی اور پریشانی کے عالم میں دعا کی گئی تھی اور ماحول پانی کا تھا اس لئے پڑھتے وقت پانی پاس رکھیں اور ہاتھ بھگو بھگو کر چہرے پر ملیں ۔ عمل شروع چاند میں کریں ۔
2 دوسرا عمل – تین دنوں کا خاص عمل
یہ عمل اچانک حاجت درپیش ہونے پر تو کسی دن بھی شروع کر سکتے ہیں مگر شب شنبہ میں شروع کرنا زیادہ بہتر ہے ۔ شب شنبہ میں بعد نماز عشاء تنہائی میں روشنی گل کرکے اول ۱۱ مرتبہ درود شریف ۱۹ مرتبہ بسم اللہ شریف اس کے بعد ۱۰۰۰ مرتبہ یا بدیع العجائب بالخیر یا بدیعُ اور درود شریف ۱۱ مرتبہ
شب یکشنبہ کو دریا یا تالاب یا حوض یا چشمہ کے کنارے اس طرح بیٹھیں کہ پاؤں پانی میں رہے اول اکیس مرتبہ درود شریف انیس مرتبہ بسم اللہ شریف اور پانچ سو مرتبہ آیت کریمہ لا الہ الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین ۔ اور پھر درود شریف ۲۱ مرتبہ پڑھیں ۔
تیسرے دن یعنی شب دو شنبہ کو کسی ایسے مقام پر جہاں سر اور آسمان کے درمیان کچھ حائل نہ ہو سر برہنہ کرکے اول درود شریف اکتا لیس مرتبہ ، بسم اللہ شریف انیس مرتبہ ، ۱۷۸مرتبہ
یا غیاثِیۡ عندَ کُلِّ کُرۡبَتٍ وَ مُجِیۡبِیۡ عِنۡدَ کُلِّ دَعۡوَۃٍ وَ مُونِسِیۡ عَنۡدَ کُلِّ وَحۡشَتٍ وَمَعَاذِی عندَ کلِ شَدَّتٍ وَرَجَائی حِیۡنَا یَنۡقُطِعُ حِیۡلَتِی یَا غَیَاثِیۡ
پھر اکتالیس مرتبہ درود شریف ۔
انشاء اللہ تین دنوں میں مشکل سے مشکل کام بھی پورا ہوجائے گا۔
3 تیسرا عمل – بارہ ہزار کا عدد
اس آیہ کریمہ کو بارہ ہزار مرتبہ روزانہ ۱۲ دن تک پڑھیں تاریکی ہو رات کا وقت ہو سامنے پانی کا پیالہ ، ایک تسبیح پڑھنے کے بعد پانی میں ہاتھ بھگو کر منہ پر ملیں
4 چوتھا عمل – چالیس یوم
تین سو ساٹھ مرتبہ روزانہ ۴۰ یوم تک پڑھیں اول و آخر ۱ تسبیح درود شریف ہو جس مطلب سے پڑھیں اسی نیت سے دو رکعت پہلے نماز نفل پڑھیں اس عمل میں پرہیز جلالی و جمالی لازم ہے ۔کیسی بھی حاجت ، مصیبت یا مشکل ہوگی انشاء اللہ برآئے گی ۔
5 پانچواں عمل – حب و محبت
یہ عمل حب کے واسطہ ہے ، میاں بیوی کسی ناراضگی کی وجہ سے الگ ہوگئے ہوں اور کوئی چاہے کہ پھر سے ایک ہوجائیں اور مطلوب خود بخود آجائے یا مطلوب کو بلانے کا خواہاں ہو تو شروع ماہ قمری میں عمل شروع کریں ۔روز غسل کریں اور اس اسم کو ۱۰۱ مرتبہ تصور مطلوب سے پڑھا کریں تو اکیس دن میں مطلوب حاضر ہوگا خواہ کتنا ہی فاصلہ کیوں نہ ہو ۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم یا جبرائیل یا میکائیلُ یا اسرافیلُ یا عزرائیلُ بحق یا حئی یا قیومُ لا الہ الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین۔ استغفراللہ یا مالک الملک یا ذوالجلال والاکرام حسبی اللہ ونعم الوکیل و نعم المولی و نعم النصیر ۔
6 چھٹا عمل – قرض سے نجات اور نقش
اگر کسی پر آپ کی رقم ہو اور وہ دینا نہیں چاہتا یا آپ پر کسی کا قرض ہو اور اس کی ادائیگی کی کوئی صورت پیدا نہ ہو رہی ہو یا آمدنی اتنی نہ ہو کہ اس سے بچا کر دیا جاسکے تو یہ نقش کندہ کرکے اپنے پاس رکھیں اور فجر کی نماز کے بعد حسبنا اللہ و نعم الوکیل ۴۵۰ مرتبہ اور بعد نماز عشاء کسی مقررہ وقت پر تین سو مرتبہ آیت کریمہ لا الہ الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین پڑھیں ۔ طریقہ وہی اپنائیں جو پہلے لکھا جا چکا ہے (پانی والا )۔
آخر میں درود شریف ۱۱ مرتبہ جب تک یہ نقش پاس رہے گا قرض کے غم سے محفوظ رہیں گے اور جب کوئی ضرورت پیش آئے گی اللہ تعالیٰ اس کا حل پیدا فرما دیں گے ۔
آیت کریمہ کا نقش
7 ساتواں عمل – دشمن سے حفاظت
اگر کسی شخص کا کوئی دشمن ہو اور نقصان پہنچا چکا ہو اور سزا دینا مقصود ہو تو ایک کوڑا، سن (ایک پوداجس کی چھال سے رسیاں بنتی ہیں ) سے تیار کرکے رات کو تنہائی میں علیحدہ کمرے میں بیٹھ کر ایک تصویر دشمن کی حاصل کرے یا فرضی تصویر زمین پر بنالے ۔ نام معہ والدہ لکھے پھر اس عزیمت کو پڑھیں اور ایک کوڑا دشمن کی تصویر پر ماریں ایک سو ایک مرتبہ پڑھیں اور اتنے ہی کوڑے ماریں ۔ دنوں کی تعداد نہیں اپنے مقصد کے حصول تک عمل جاری رکھیں جب آپ کو محسوس ہو کہ دشمن کو اس کے کئے کی سزا مل چکی ہے تو عمل کو ترک کردیں ۔
غین یا غیاث بحق یا لوخائیل وحدہ یا قھارُ عضو مارد دکاً دکاً صفاً صفاً یا جبرائیلُ یا دردائیلُ یا تنکائیلُ بحق لا الہ الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین۔
عمل جلالی ہے لہٰذا خوب سوچ سمجھ کریں کسی کے ساتھ ناحق ہرگز نہ کریں ۔
8 آٹھواں عمل – بحالی ملازمت
اگر کسی وجہ سے ملازمت چلی جائے اور تم پر ظلم ہوا ہو تو بعد از نماز تہجد سورہ یوسف پڑھ کر ایک سو گیارہ مرتبہ آیہ کریمہ پڑھیں اول و آخر درود شریف۱۱ مرتبہ اس کے بعد نہایت خشوع و خضو ع کے ساتھ دعا مانگیں ۔
9 نواں عمل – بارہ دن کا مکمل عمل
یہ ایک بارہ روزہ مکمل عمل ہے جس میں ہر دن ایک مخصوص آیت یا ذکر پڑھا جاتا ہے۔ ہر دن کا طریقہ یہ ہے: دو رکعت نماز نفل کے بعد ۱۱ مرتبہ درود شریف، پھر ۱۰۰۰ مرتبہ بسم اللہ الرحمن الرحیم، پھر مخصوص ذکر سو مرتبہ، آخر میں ۱۱ مرتبہ درود شریف۔
- پہلا دن: سو مرتبہ اللہ الصمدی خذبیدی
- دوسرا دن: سو مرتبہ سلام قولا من رب رحیم
- تیسرا دن: سو مرتبہ لا الہ الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین
- چوتھا دن: سو مرتبہ فاستجبنا لہ ونجیناہ من الغم وکذلک ننجی المومنین
- پانچواں دن: سو مرتبہ وافوض امری الا اللہ ان اللہ بصیر بالعباد
- چھٹا دن: سو مرتبہ فسبحان الذی بیدہ ملکوت کل شئی والیہ ترجعون
- ساتواں دن: سو مرتبہ اللہ لطیف بعبادہ یرزق من یشاء وھو القوی العزیز
- آٹھواں دن: سو مرتبہ انا فتحنا یا مفتح
- نواں دن: سو مرتبہ جامع الناس یا جامع
- دسواں دن: سو مرتبہ فسیکفیکھم اللہ وھو السمیع العلیم
- گیارھواں دن: سو مرتبہ واللہ غالب علی امرہ ولکن اکثر الناس لا یعلمون
- بارھواں دن: سو مرتبہ ندعا ربہ انی مغلوب فانتصرانشاء اللہ بارہ دنوں کے اندر کیسی ہی سخت مشکل یا حاجت ہو، اللہ تعالیٰ پوری کرے گا۔ قلب و زبان کا یکساں ہونا ضروری ہے۔ یہ عمل شروع ماہ قمری میں اتوار یا بدھ کے روز سے شروع کرے۔ خلوت ہو تو بہتر ہے۔
10 دسواں عمل – مطالب و مقاصد دارین
برائے مطالب و مقاصد دارین ، باوضو قبلہ رو بیٹھ کر ایک ہزار مرتبہ یہ دعا ہر روز نقش رو برو رکھ کر پڑھیں خدا چاہے مطلب پورا ہو ۔
یہ مربع ذوالکتابت آیت کریمہ کا خاص نقش ہے۔

11 گیارھواں عمل – نماز حاجت رات دو بجے
نماز حاجت رات کے دو بجے ادا کریں:
- پہلی رکعت: الحمد کے بعد سو مرتبہ لا الہ الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین
- دوسری رکعت: الحمد کے بعد سو مرتبہ امن یجیب المضطر اذا دعاہ ویکشف السوء
- تیسری رکعت: الحمد شریف کے بعد سو مرتبہ حسبنا اللہ و نعم الوکیل
- چوتھی رکعت: بعد از الحمد سو مرتبہ افوض امری الی اللہ ان اللہ بصیر بالعبادجب سلام پھیر لیں تو اپنے سر کو دائیں گھٹنے پر رکھ کر سو مرتبہ کہیں: انی مغلوب فانتصر۔ پھر بائیں گھٹنے پر سر رکھ کر سو مرتبہ کہیں: انی مسنی الضر وانت ارحم الراحمین۔ اس کے بعد تین مرتبہ درود شریف پڑھ کر سجدہ میں جاکر عاجزی کے ساتھ دعا کریں۔ انشاء اللہ حاجت اور مشکل حل ہوجائے گی۔
12 بارھواں عمل – سریع الاثر
یہ آیہ کریمہ ہر مشکل و ہر مطلب کے لئے مفید ہے اور سریع الاثر کمالات کی حامل ہے۔ طریقہ یہ ہے:
- ہر روز بارہ ہزار مرتبہ بارہ دن تک پڑھیں
- یا بارہ سو مرتبہ چالیس یوم تک پڑھیں
- اول و آخر چند مرتبہ درود شریف پڑھیںاس کے علاوہ بعض علماء فرماتے ہیں کہ ایک لاکھ پچیس ہزار کی تعداد کو گیارہ روز میں ختم کرے۔ آپ اپنی سکت کے مطابق دیکھ لیں کہ روزانہ کس قدر پڑھ سکتے ہیں۔ انشاء اللہ کیسی ہی مشکل کیوں نہ ہو، اللہ نجات دے گا۔
13 تیرھواں عمل – رکے ہوئے کام کے لئے
اگر کسی کا کوئی ضروری کام رکا ہوا ہو اور اس کے پورا ہونے کے ظاہری کوئی آثار نہ ہو تو چار رکعت نماز نفل دو سلام کے ساتھ مغرب کی نماز کے بعد پڑھے۔ ہر رکعت میں الحمد شریف کے بعد آیہ کریمہ سو مرتبہ یعنی چار رکعت میں آیہ کریمہ کی تعداد ۴۰۰ ہوگی۔ اپنے مقصد کا دل میں خیال رکھیں۔ سات روز اس طرح کرنے سے مشکل سے مشکل کام بھی پورا ہوجائے گا۔
14 چودھواں عمل – دعوت اسماء
پرہیز جلالی و جمالی، ترک حیوانات و دیگر شرائط مقررہ جو دعوات اسماء و آیات کے لئے مخصوص ہیں ملحوظ خاطر رکھیں۔ جگہ، وقت، طہارت ظاہری و باطنی اور خلوص نیت، لباس و حصار کے اہتمام کے ساتھ عروج ماہ میں پنجشنبہ سے روزہ رکھ کر شروع کرے۔ اول و آخر درود شریف ۱۱ مرتبہ۔
اندھیرے میں بیٹھ کر تین ہزار دو سو مرتبہ روزانہ پڑھے۔ چونکہ یہ عمل نہایت گرم ہے اس لئے لازم ہے کہ پانی کا ایک پیالہ پاس رکھیں اور ہر ایک تسبیح کے بعد ہاتھ بھگو کر منہ پر پھیریں اور ایک مرتبہ درود شریف پڑھیں تاکہ عمل کی گرمی کم ہو۔
آیت کریمہ کو اس طرح پڑھیں:
بسم اللہ الرحمن الرحیم لا الہ الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین یا حیُ یا قیومُ ذوالجلال والاکرام برحمتک استغیثُ۔
تنبیہ: اثنائے عمل میں سوائے جو کی روٹی کے اور کچھ نہ کھائے۔ دوران عمل ڈر و خوف کو اپنے پاس آنے نہ دیں۔ عین ممکن ہے کہ آپ کو مختلف ڈراؤنی اشکال و ہیبت ناک مناظر دکھائے جائیں۔ دل کو مضبوط رکھیں۔
یہ عمل صرف وہی افراد کریں جو اس قسم کے اعمال کرتے رہے ہوں۔ مبتدی حضرات ہرگز اس عمل کو نہ کریں۔
اہم ہدایات
- مندرجہ بالا اعمال میں اکثر مقامات پر آیات قرآنی بلا اعراب تحریر کی گئی ہیں۔ عمل شروع کرنے سے قبل متعلقہ آیت کو گوگل سرچ سے تلاش کرکے اعراب ملاحظہ کرلیں۔
- مختلف اعمال میں لکھا گیا ہے کہ چار رکعت نماز حاجت ادا کریں – خیال رہے کہ دو سلام سے چار رکعت پوری کرنا ہیں۔
- آخری عمل صرف وہی افراد کریں جو اس قسم کے اعمال کرتے رہے ہوں۔ مبتدی حضرات ہرگز اس عمل کو نہ کریں۔
- ہر عمل خلوص نیت، طہارت اور ادب کے ساتھ ادا کریں۔
- مزید اعمال اور وظائف کے لئے ہماری ویب سائٹ ملاحظہ کریں۔




