آیت کریمہ لا الہ الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین

لا الہ الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین     

حضرت الیسع علیہ السلام  کے بعد بنی اسرائیل کی ہدایت کے لئے حضرت یونس علیہ السلام مبعوث فرمائے گئے ۔ قرآن کریم میں چھ مقامات پر ان کا ذکر آیا ہے ، سورہ انعام ، سورہ نساء میں بہ سلسلہ تذکرہ انبیاء صرف نام آیا ہے ۔ سورہ انبیاء ، الصافات، القلم ، یونس ان چار سورتوں میں مختصر حالات بیان کئے گئے ہیں دو سورتوں میں ذوالنون اور صاحب الحوت یعنی مچھلی والا کہا گیا ہے ۔
تورات کے صحیفہ یوناہ میں آپ کا نام یوناہ بن امتی لکھاہے ۔ صحیح بخاری کی ایک روایت میں حضرت عبداللہ ابن عباس سے منقول ہے کہ یونس علیہ السلام کے والد کا نام متی تھا یہ کوئی خاص فرق نہیں ہے ۔
سرکش اور مستمرد اہل نینوا کی ہدایت کے لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس علیہ السلام کو منتخب کیا اور منصب نبوت سے نوازنے کے بعد نینوا (عراق کا مشہور و قدیم شہر جو ابھی کربلا کے نام سے جانا جاتا ہے ) جانے کا حکم دیا تاکہ وہاں رہ کر وہ وعظ و نصیحت کے ذریعے سے لوگوں کو صحیح راستے پر لگائیں لیکن ان کا احساس یہ تھا کہ شاید منصب نبوت کے بار گراں کو نہ اٹھا سکیں چنانچہ وہ “نینوا” جانے کی بجائے “ترسیسی” کی طرف چل دئیے ۔ پہلے “یافا” پہنچے وہاں سے ترسیسی جانے والے جہاز میں سوار ہوگئے راستے میں زبردست آندھی اور سخت طوفان برپا ہوا اس وقت آپ سو رہے تھے ملاحوں نے آپ کو جگا کر صورتحال سے خبردار کیا ، اہل جہاز کو یہ خیال گزرا کہ ضرور ہم میں سے کسی نے کوئی گناہ کیا ہے جس کے بدلے میں ہم پر آفت نازل ہوئی ہے چنانچہ طے ہوا کہ قرعہ ڈالا جائے اور جس شخص کے نام کا قرعہ نکلے اسے سمندر میں پھینک دیا جائے اس طرح یقیناً طوفان تھم جائے گا تین مرتبہ قرعہ ڈالا گیا اور ہر مرتبہ آپ ہی کا نام نکلا
حضرت سے پوچھا گیا آپ کون ہیں اور آپ سے کیا خطا سرزد ہوئی ؟ حضرت نے اپنی جلد بازی کو خطاگردانتے ہوئے جواب یا کہ “میں اپنے مالک سے بھاگ کر آیا ہوں ” اہل جہاز نے پوچھا اب طوفان کو ٹھہرانے کی صورت کیا ہو ؟ ۔ آپ نے ان کے فیصلے کے پیش نظر جواب دیا ” مجھے اٹھا کر سمندر میں پھینک دو طوفان دور ہوجائے گا کیونکہ میں جانتا ہوں کہ یہ طوفان تم پر میری وجہ سے آیا ہے ” نہ چاہنے کے باوجود انہوں نے مجبوراً حضرت یونس علیہ السلام کو سمندر میں پھینک دیا ، ساتھ ہی طوفان رک گیا ، جب آپ کو سمندر میں پھینکا گیا تو اسی وقت انہیں ایک بہت بڑی مچھلی نے نگل لیا ۔ اب حضرت نے اپنی خطا کے لئے دعائیں کیں ۔ ان کلمات کو ہمارے ہاں ” آیت کریمہ ” کے نام سے بھی موسوم کیا جاتا ہے ۔

لا الہ الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین(سورہ انبیاء آیت ۸۷)۔
نہیں ہے کوئی معبود سوائے تیرے،پاک ہے تو بے شک میں ظالموں میں سے ہوں

 خدائے غفور و رحیم نے اپنے پیغمبر کی درد بھری دعاؤں کو سنا اور قبول فرمایا ، مچھلی کو حکم ملا کہ یونس علیہ السلام کو جو تیرے پاس ہماری امانت ہے اُگل دے چنانچہ مچھلی نے حضرت یونس علیہ السلام کو خشکی پر اُگل دیا ۔(سبحان اللہ
قرآن مجید میں مذکور ہے “اور ذوالنون (یونس کا معاملہ یاد کرو)جب ایسا ہوا تھا کہ وہ خشمناک ہوکر چلا گیا پھر اس نے خیال کیا کہ ہم اس کو تنگی (آزمائش)میں نہیں ڈالیں گے پھر (جب اسے آزمائش نے گھیرا تو )اس نے (مچھلی کے پیٹ میں اور سمندر کی گہرائی کی) تاریکیوں میں پکارا خدایا !تیرے سوا کوئی معبود نہیں تیرے لئے ہر طرح کی پاکی ہو حقیقت یہ ہے کہ میں نے اپنے اوپر بڑا ظلم کیا تب ہم نے اس کی دعا قبول کی اور اسے غمگینی سے نجات دی اور ہم اسی طرح ایمان والوں کو نجات دیا کرتے ہیں “۔ سورہ انبیاءاور بے شک یونس علیہ السلام پیغمبروں میں سے تھا (اور وہ واقعہ یاد کرو ) جب کہ وہ بھری ہوئی کشتی کی طرف
بھاگا(اور جب کشتی والوں نے غرق ہونے کے خوف سے ) قرعہ ڈالا تو (سمندر میں ) ڈالے جانے کے لئے اس کا نام نکلا پھر نگل گئی اس کو مچھلی اور وہ اللہ کے نزدیک قوم کے پاس سے بھاگ آنے پر قابل ملامت تھا پس اگر یہ بات نہ ہوتی کہ وہ خدا کی پاکی بیان کرنے والوں میں سے تھا تو مچھلی کے پیٹ میں قیامت تک رہتا پھر ڈال دیا ہم نے اس کو (مچھلی کے پیٹ سے نکال کر ) چٹیل زمیں میں اور وہ ناتواں اور بے حال تھا ۔ (سورہ الصافات )۔

پس اپنے پروردگار کے حکم کی وجہ سے صبر کو کام میں لاؤ اور مچھلی والے (یونس) کی طرح (بے صبر )نہ ہوجاؤ۔
جب اس نے (خداکو)پکارا اور وہ بہت مغموم تھا اگر یہ بات نہ ہوتی کہ اس کے پروردگار کے فضل نے اس کو (آغوش ) میں لےلیا تھا تو وہ ضرور چٹیل میدان میں ملامت شدہ ہو کر پھینک دیا جاتا پس اس کے پروردگار نے اس کو برگزیدہ کیا اور اس کو نیکوں کاروں میں رکھا ۔ سورہ القلم

مچھلی کے پیٹ میں رہنے ، ہوا اور خوراک نہ ملنے کے باعث بہت کمزور ہوچکے تھے قرآن کا بیان ہے “اور ہم نے اس
پر(سایہ کے لئے ) ایک بیل دار درخت اگایا اور ہم نے اسے ایک لاکھ سے زیادہ انسانوں کی جانب پیغمبر بنا  کر بھیجا “۔
سورہ الصافات

واقعہ تو بہت طویل ہے لیکن یہاں اس سے زیادہ تفصیل کی گنجائش نہیں ۔
حدیث میں اس آیہ کریمہ کی نسبت فرمایا “یہ اسم اعظم ہے جو اس کے ساتھ دعا کرے قبول ہو “۔

علماء فرماتے ہیں کہ آیہ کریمہ قبولِ دعا خصوصاً دفع بلا میں اثرِ تمام رکھتی ہے ۔ سعد بن ابی وقاص (رض) کی حدیث میں ہے کہ “رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہیں اللہ تعالیٰ کا وہ اسم اعظم نہ بتادوں کہ جب وہ اس سے پکارا جائے اجابت کرے اور جب اس سے سوال کیا جائے عطا فرمائے وہ دعا یہ ہے جو یونس علیہ السلام نے تین تاریکیوں میں کی تھی “۔
کسی نے عرض کیا “یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم ! کیا یہ خاص حضرت یونس علیہ السلام کے لئے تھا ؟۔
یا سب مسلمان کے لئے ہے ؟۔  آپ (ص) نے فرمایا ، مگر تونے خدا تعالیٰ کا ارشا نہ سنا کہ
فاستجبنا له ونجيناه من الغم وكذلك ننجي المؤمنين”۔ سورہ انبیاء آیت نمبر ۸۸۔
پس ہم نے اسکی پکار سن لی اور اسے غم سےنجات دے دی اور ہم ایمان والوں کو اسی طرح بچالیا کرتے ہیں۔

دعائے حضرت یونس علیہ السلام کے متعلق تاریخ و قرآن سے ہم مختصراً واقعات قلمبند کرچکے ہیں ۔
اب مختلف بزرگان دین و علمائے روحانیت سے اس آیہ کریمہ کے متعلق جو اعمال حاصل ہوئے ہیں انہیں مختصراً یہاں درج کرتے ہیں تاکہ ہر ضرورت مند فرد اپنے مسائل میں اس آیہ مبارکہ کا وسیلہ اختیار کرتے ہوئے اپنی منزل مقصود کو پاسکے۔

عمل نمبر ۱۔
نصف شب کے وقت غسل کرکے چار رکعت نماز نفل بہ نیت قضائے حاجت ادا کرے ۔
پہلی رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد وافوض امری الا اللہ ان اللہ بصیر بالعباد(سوره غافر، آيه ۴۴) سو مرتبہ
دوسری رکعت میں سورہ الفاتحہ کے بعد والی اللہ ترجع الامور (سورہ حدید آیت ۵)سو مرتبہ ۔
تیسری رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد نصر من اللہ وفتح قریب و بشر المومنین (سورہ صف آیت ۱۳)۔ سو مرتبہ
چوتھی رکعت میں بعد از سورہ فاتحہ انا فتحنا لک فتحا مبینا (سورہ فتح آیت نمبر ۱) سو مرتبہ
سلام پھیر کر نماز تمام کرے پھر  سجدہ میں چلا جائے اور سو مرتبہ پڑھے ۔
غفرانک ربنا و اليک المصير (سوره بقره، آيه ۲۸۵)۔
اس کے بعد سر اٹھا لے اور دوسرا سجدہ کرے اور سو مرتبہ پڑھے ۔
استفراللہ ربی من کل ذنبی واتوب الیہ
پھر سجدہ سے سر اٹھا کر آیت کریمہ  لا الہ الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین سو مرتبہ پڑھے ۔ جو حاجت ہو اسے طلب کرے
مشکل سے مشکل حاجت پوری ہوگی ۔

دعائے حضرت یونس علیہ السلام میں ایک خاص بات یہ ہے کہ دعا کس وقت کی گئی یہ دیکھئے ، کس ماحول میں کی گئی کیا صورتحال تھی اس کو نوٹ کریں تفصیل تو مضمون کے شروع میں دے دی گئی ہے مختصر یہ کہ چونکہ حضرت یونس علیہ السلام مچھلی کے پیٹ میں بند تھے اس لئے بند جگہ پرپڑھیں ، اندر تاریکی تھی اس لئے پڑھتے وقت چراغ گل کردیں ، چونکہ سختی اور پریشانی کے عالم میں دعا کی گئی تھی اور ماحول پانی کا تھا اس لئے پڑھتے وقت پانی پاس رکھیں اور ہاتھ بھگو بھگو کر چہرے پر ملیں ۔ عمل شروع چاند میں کریں ۔

عمل دوئم : ۔ یہ عمل اچانک حاجت درپیش ہونے پر تو کسی دن بھی شروع کر سکتے ہیں مگر شب شنبہ میں شروع کرنا زیادہ بہتر ہے ۔ شب شنبہ میں بعد نماز عشاء تنہائی میں روشنی گل کرکے اول ۱۱ مرتبہ درود شریف ۱۹ مرتبہ بسم اللہ شریف اس کے بعد ۱۰۰۰ مرتبہ یا بدیع العجائب بالخیر یا بدیعُ اور درود شریف ۱۱ مرتبہ
شب یکشنبہ کو دریا یا تالاب یا حوض یا چشمہ کے کنارے اس طرح بیٹھیں کہ پاؤں پانی میں رہے اول اکیس مرتبہ درود شریف انیس مرتبہ بسم اللہ شریف اور پانچ سو مرتبہ آیت کریمہ لا الہ الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین ۔ اور پھر درود شریف ۲۱ مرتبہ پڑھیں ۔
تیسرے دن یعنی شب دو شنبہ کو کسی ایسے مقام پر جہاں سر اور آسمان کے درمیان کچھ حائل نہ ہو سر برہنہ کرکے اول درود شریف اکتا لیس مرتبہ ، بسم اللہ شریف انیس مرتبہ ، ۱۷۸مرتبہ

 یا غیاثِیۡ عندَ کُلِّ کُرۡبَتٍ وَ مُجِیۡبِیۡ عِنۡدَ کُلِّ دَعۡوَۃٍ وَ مُونِسِیۡ عَنۡدَ کُلِّ وَحۡشَتٍ وَمَعَاذِی عندَ کلِ شَدَّتٍ وَرَجَائی حِیۡنَا یَنۡقُطِعُ حِیۡلَتِی یَا غَیَاثِیۡ

پھر اکتالیس مرتبہ درود شریف ۔
انشاء اللہ تین دنوں میں مشکل سے مشکل کام بھی پورا ہوجائے گا۔

عمل سوئم:۔ اس آیہ کریمہ کو بارہ ہزار مرتبہ روزانہ ۱۲ دن تک پڑھیں تاریکی ہو رات کا وقت ہو سامنے پانی کا پیالہ ، ایک تسبیح پڑھنے کے بعد پانی میں ہاتھ بھگو کر منہ پر ملیں

عمل چہارم:۔تین سو ساٹھ مرتبہ روزانہ ۴۰ یوم تک پڑھیں اول و آخر ۱ تسبیح درود شریف ہو جس مطلب سے پڑھیں اسی نیت سے دو رکعت پہلے نماز نفل پڑھیں اس عمل میں پرہیز جلالی و جمالی لازم ہے ۔کیسی بھی حاجت ، مصیبت یا مشکل ہوگی انشاء اللہ برآئے گی ۔

عمل پنجم:۔ یہ عمل حب کے واسطہ ہے ، میاں بیوی کسی ناراضگی کی وجہ سے الگ ہوگئے ہوں اور کوئی چاہے کہ پھر سے ایک ہوجائیں اور مطلوب خود بخود آجائے یا مطلوب کو بلانے کا خواہاں ہو تو شروع ماہ قمری میں عمل شروع کریں ۔روز غسل کریں اور اس اسم کو ۱۰۱ مرتبہ تصور مطلوب سے پڑھا کریں تو اکیس دن میں مطلوب حاضر ہوگا خواہ کتنا ہی فاصلہ کیوں نہ ہو ۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم یا جبرائیل یا میکائیلُ یا اسرافیلُ یا عزرائیلُ بحق یا حئی یا قیومُ لا الہ الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین۔ استغفراللہ یا مالک الملک یا ذوالجلال والاکرام حسبی اللہ ونعم الوکیل و نعم المولی و نعم النصیر ۔

عمل ششم:۔ اگر کسی پر آپ کی رقم ہو اور وہ دینا نہیں چاہتا یا آپ پر کسی کا قرض ہو اور اس کی ادائیگی کی کوئی صورت پیدا نہ ہو رہی ہو یا آمدنی اتنی نہ ہو کہ اس سے بچا کر دیا جاسکے تو یہ نقش کندہ کرکے اپنے پاس رکھیں اور فجر کی نماز کے بعد حسبنا اللہ و نعم الوکیل ۴۵۰ مرتبہ اور بعد نماز عشاء کسی مقررہ وقت پر تین سو مرتبہ آیت کریمہ لا الہ الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین پڑھیں ۔ طریقہ وہی اپنائیں جو پہلے لکھا جا چکا ہے (پانی والا )۔
آخر میں درود شریف ۱۱ مرتبہ جب تک یہ نقش پاس رہے گا قرض کے غم سے محفوظ رہیں گے اور جب کوئی ضرورت پیش آئے گی اللہ تعالیٰ اس کا حل پیدا فرما دیں گے ۔
نقش یہ ہے ۔

la-ilaha-illa-anta-subhanaka-inni

اس نقش کی چال مربع آتشی کی ہے ایک مربع میں تین مربع پرکئے گئے ہیں ۔

عمل ہفتم :۔ اگر کسی شخص کا کوئی دشمن ہو اور نقصان پہنچا چکا ہو اور سزا دینا مقصود ہو تو ایک کوڑا، سن (ایک پوداجس کی چھال سے رسیاں بنتی ہیں ) سے تیار کرکے رات کو تنہائی میں علیحدہ کمرے میں بیٹھ کر ایک تصویر دشمن کی حاصل کرے یا فرضی تصویر زمین پر بنالے ۔ نام معہ والدہ لکھے پھر اس عزیمت کو پڑھیں اور ایک کوڑا دشمن کی تصویر پر ماریں ایک سو ایک مرتبہ پڑھیں اور اتنے ہی کوڑے ماریں ۔ دنوں کی تعداد نہیں اپنے مقصد کے حصول تک عمل جاری رکھیں جب آپ کو محسوس ہو کہ دشمن کو اس کے کئے کی سزا مل چکی ہے تو عمل کو ترک کردیں ۔
غین یا غیاث بحق یا لوخائیل وحدہ یا قھارُ عضو مارد دکاً دکاً صفاً صفاً یا جبرائیلُ یا دردائیلُ یا تنکائیلُ بحق لا الہ الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین۔
عمل جلالی ہے لہٰذا خوب سوچ سمجھ کریں کسی کے ساتھ ناحق ہرگز نہ کریں ۔

عمل ہشتم :۔ اگر کسی وجہ سے ملازمت چلی جائے اور تم پر ظلم ہوا ہو تو بعد از نماز تہجد سورہ یوسف پڑھ کر ایک سو گیارہ مرتبہ آیہ کریمہ پڑھیں اول و آخر درود شریف۱۱ مرتبہ اس کے بعد نہایت خشوع و خضو ع کے ساتھ دعا مانگیں ۔

عمل نہم:۔ اول وضوکرے پھر دو رکعت نماز نفل ادا کرے پھر جاء نماز پر بیٹھ کر ۱۱ مرتبہ درود شریف پڑھے اس کے بعد ہزار مرتبہ بسم اللہ الرحمن الرحیم کی تلاوت کریں ۔ اس کے بعد سو مرتبہ اللہ الصمدی خذبیدی پھر ۱۱ مرتبہ درود شریف پڑھیں
دوسرے دن پھر دو رکعت نماز حاجت ادا کریں پھر ۱۱ مرتبہ درود شریف پڑھ کر ۱۰۰۰ مرتبہ بسم اللہ الرحمن الرحیم کی تلاوت کرے پھر سو مرتبہ سلام قولا من رب رحیم پڑھے اور گیارہ مرتبہ درود شریف ۔
تیسرے دن پھر دو رکعت نماز نفل حاجت کے ادا کرے ۔ ۱۱ مرتبہ درود شریف اور ۱۰۰۰ مرتبہ بسم اللہ الرحمن الرحیم کی تلاوت کرے پھر 100 مرتبہ آیت کریمہ لا الہ الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین پھر ۱۱مرتبہ درود شریف پڑھے چوتھے دن پھر دو رکعت نماز حاجت ادا کرکے ۱۱ مرتبہ درود شریف ، ۱۰۰۰ مرتبہ بسم اللہ الرحمن الرحیم اور ۱۰۰ بار فاستجبنا له ونجيناه من الغم وكذلك ننجي المؤمنين”۔ سورہ انبیاء آیت نمبر ۸۸۔
پڑھ کر گیارہ مرتبہ درود شریف پڑھے
پانچویں دن دو رکعت نماز نفل کے بعد گیارہ مرتبہ درود شریف ۱۰۰۰ مرتبہ بسم اللہ شریف اور سو مرتبہ
وافوض امری الا اللہ ان اللہ بصیر بالعباد
پھر گیارہ مرتبہ درود شریف
چھٹے دن دو رکعت نماز کے بعد ۱۱ مرتبہ درود شریف ۱۰۰۰ مرتبہ بسم اللہ شریف اور سو مرتبہ
فسبحان الذی بیدہ ملکوت کل شئی والیہ ترجعون (سورہ یس)۔ اور گیارہ مرتبہ درود شریف۔
ساتویں دن حسب معمول نماز گیارہ مرتبہ درود و ۱۰۰۰ مرتبہ بسم اللہ کے بعد سو مرتبہ
اللہ لطیف بعبادہ یرزق من یشاء وھو القوی العزیز پھر گیارہ مرتبہ درود شریف
نماز ، درود و بسم اللہ شریف کے بعد سو مرتبہ انا فتحنا یا مفتح
آخر میں ۱۱ مرتبہ درود شریف ۔
نویں دن بعد از نماز ،درود و بسم اللہ شریف حسب معمول ، سو مرتبہ جامع الناس یا جامع ۔ آخر میں ۱۱ مرتبہ درود
دسویں دن بسم اللہ شریف کے بعد سو مرتبہ فسیکفیکھم اللہ وھو السمیع العلیم پھر گیارہ مرتبہ درود شریف۔
گیارھویں دن حسب معمول نماز ، درود و بسم اللہ شریف کے بعد سو مرتبہ واللہ غالب علی امرہ ولکن اکثر الناس لا یعلمون پھر گیارہ مرتبہ درود شریف ۔
بارھویں دن نماز ، درود و بسم اللہ شریف کے بعد سو مرتبہ ندعا ربہ انی مغلوب فانتصر آخر میں گیارہ مرتبہ درود

انشاء اللہ بارہ دنوں کے اندر آپ کی کیسی ہی سخت مشکل یا حاجت کیوں نہ ہوگی ، اللہ تعالیٰ پوری کرے گا۔ مگر قلب و زبان کا یکساں ہونا ضروری ہے یہ عمل شروع ماہ قمری میں  اتوار یا بدھ کے روز سے شروع کرے ۔ خلوت ہو تو بہتر ہے ۔

عمل دہم:۔ برائے مطالب و مقاصد دارین ، باوضو قبلہ رو بیٹھ کر ایک ہزار مرتبہ یہ دعا ہر روز نقش رو برو رکھ کر پڑھیں خدا چاہے مطلب پورا ہو ۔
نقش درج ذیل ہے ۔

عمل یازدھم:۔
نماز حاجت رات کے دو بجے ادا کریں پہلی رکعت میں سو مرتبہ آیت کریمہ لا الہ الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین
دوسری رکعت میں الحمد کے بعد امن یجیب المضطر اذا دعاہ ویکشف السوء
تیسری رکعت میں الحمد شریف کے بعد سو مرتبہ حسبنا اللہ و نعم الوکیل
چوتھی رکعت میں بعد از الحمد سومرتبہ افوض امری الی اللہ ان اللہ بصیر بالعباد
جب سلام پھیر لیں تو اپنے سر کو دائیں گھٹنے پر رکھ کر سو مرتبہ کہیں
انی مغلوب فانتصر
پھر بائیں گھٹنے پر سر رکھ کر سو مرتبہ کہیں
انی مسّنی الضر وانت ارحم الراحمین
اس کے بعد تین مرتبہ درود شریف پڑھ کر سجدہ میں جا کرعاجزی کے ساتھ دعا کریں انشاء اللہ حاجت اور مشکل حل ہوجائے گی ۔

عمل دوازدھم:۔یہ آیہ کریمہ ہر مشکل و ہر مطلب کے لئے مفید ہے اور سریع الاثر کمالات کی حامل ہے ۔
طریقہ یہ ہے کہ ہر روز بارہ ہزار مرتبہ بارہ دن تک پڑھیں اور اگر ایسا نہ ہو سکیں تو بارہ سو مرتبہ چالیس یوم تک پڑھیں اول و آخر چند مرتبہ درود شریف پڑھیں ۔ انشاء اللہ مطلوبہ کام میں کامیابی حاصل ہو
اس کے علاوہ بعض علماء فرماتے ہیں کہ ایک لاکھ پچیس ہزار کی تعداد کو گیارہ روز میں ختم کرے (آپ اپنی سکت کے مطابق دیکھ لیں کہ روزانہ کس قدر پڑھ سکتے ہیں ) انشاء اللہ کیسی ہی مشکل کیوں نہ ہو ، اللہ نجات دے گا۔

عمل سیزدھم:۔ اگر کسی کا کوئی ضروری کام رکا ہوا ہو اور اس کے پورا ہونے کے ظاہری کوئی آثار نہ ہو تو چار رکعت نماز نفل دو سلام کے ساتھ مغرب کی نماز کے بعد پڑھے ، ہر رکعت میں الحمد شریف کے بعد آیہ کریمہ سو مرتبہ یعنی چار رکعت میں آیہ کریمہ کی تعداد ۴۰۰ ہوگی ۔ اور اپنے مقصد کا دل میں خیال رکھیں ۔ سات روز اس طرح کرنے سے مشکل سے مشکل کام بھی پورا ہوجائے گا۔

عمل چہاردھم:۔ پرھیز جلالی و جمالی ، و ترک حیوانات و دیگر شرائط مقررہ جو دعوات اسماء و آیات کے لئے مخصوص ہیں ملحوظ خاطر رکھیں ۔ جگہ ، وقت ، طہارت ظاہری و باطنی اور خلوص نیت ، لباس و حصار کے اھتمام کے ساتھ عروج ماہ میں پنجشنبہ سے روزہ رکھ کر شروع کرے اول و آخر درود شریف گیارہ مرتبہ
اندھیرے میں بیٹھ کر تین ہزار دو سو مرتبہ روزانہ پڑھے چونکہ یہ عمل نہایت گرم ہے
اس لئے لازم ہے کہ پانی کا ایک پیالہ پاس رکھیں اور ہر ایک تسبیح کے بعد ہاتھ بھگو کر منہ پر پھیریں اور ایک مرتبہ درود شریف پڑھیں تاکہ عمل کی گرمی کم ہو ۔ اثنائے عمل میں سوائے جو کی روٹی کے اور کچھ نہ کھائے اور نہ ہی دوران عمل ڈر و خوف کو اپنے پاس آنے دیں عین ممکن ہے کہ آپ کو دوران عمل مختلف ڈراؤنی اشکال و ہیبت ناک مناظر دکھا کر ڈرانے کی کوشش کی جائے ۔ دل کو مضبوط رکھیں
آیت کو اس طرح پڑھیں ۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم لا الہ الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین یا حیُ یا قیومُ ذوالجلال والاکرام برحمتک استغیثُ۔

نوٹ:۔مندرجہ بالا اعمال میں اکثر مقامات پر آیات قرآنی بِلا اعراب تحریر کی گئی ہے عمل شروع کرنے سے قبل متعلقہ آیت کو گوگل سرچ انجن سے تلاش کرکے اعراب وغیرہ ملاحظہ کئے جا سکتے ہیں ۔
مختلف اعمال میں لکھا گیا ہے کہ چار رکعت نماز حاجت ادا کریں ، خیال رہے کہ دو سلام سے چار رکعت پوری کرنا ہیں ۔
آخری عمل صرف وہی افراد کریں جو اس قسم کے اعمال کرتے رہے ہوں ، مبتدی حضرات ہرگز ہرگز اس عمل کو نہ کریں۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*