نوجوانوں میں مقبول ۔ آئس کے نشے کے عادی افراد کا روحانی علاج

ice-kay-nashay-ka-roohani-ilaj

آئس کا نشہ موت کا ایک نیا پروانہ

چند سال پہلے ایک سگریٹ بنانے اور بیچنے والی کمپنی کی تشہری سرخی بہت مقبول ہوئی ” انداز اپنانے آئیے اور لطف کے لئے رک جائیے”۔ دنیا میں کئے جانے والے ہر نشہ کی ابتدا اسی طرح ہوتی ہے کہ نوجوان نسل جدید انداز اپنانے کے لیے سگریٹ سے آغاز کرتی ہے اور پھر یہ انداز کی جدت اسے نشہ کی دلدل میں دھکیل دیتی ہے۔ ہر دور میں انسان نشہ کے ہاتھوں خود کو تباہ کرتا آیا ہے۔ افیون، چرس، گانجا، ہیروؤین اور پچھلے کچھ سالوں سے آئس کا نشہ موت کا ایک نیا پروانہ لے کر انسانی معاشرہ میں نمودار ہوا۔ آئس نشہ کے زیادہ تر شکار آسٹریلیا میں پائے جاتے ہیں۔ دیگر ممالک میں بھی اس عفریت کے لاتعداد شکار مل جاتے ہیں۔

ایک حیران کن بات یہ ہے کہ جیسے جیسے مختلف ممالک میں نشہ استعمال کرنے کی قانونی اجازت دی جا رہی ہے اسی طرح ان ممالک میں جرائم کی شرح میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ ایک پرسکون معاشرہ میں اچانک کوئی ایسا حادثہ رونما ہو جاتا ہے جو انسانیت کو شرمسار کر دیتا ہے۔

ہم دنیا کے سب سے زیادہ ترقی یافتہ ملک امریکہ کو ہی مثال کے طور پر سامنے رکھیں تو وہاں اس طرح کے واقعات کثرت سے پیش آتے ہیں کہ ایک اسکول کے طالب علم نے ہاتھ میں بندوق یا پستول اٹھایا اور اپنے ساتھ پڑھنے والوں پر اندھا دھند گولیاں چلا کر انہیں موت دے دی۔ اسی طرح امریکہ کے مختلف حصوں میں بھی ایسے لاتعداد واقعات ہوتے ہیں جن میں ایک انسان بنا دیکھے گولیاں چلا کر لاتعداد لوگوں کو موت کی ابدی نیند سلا دیتا ہے۔ بظاہر بے ضرر نظر آنے والا انسان اچانک درندگی کی تمام حدود کو پار کر جاتا ہے۔ ایک عجیب بات یہ کہ کبھی یہ نہیں بتایا جاتا یا یہ پتہ نہیں چل پاتا کہ جس انسان نے اتنے لوگوں کو قتل کیا اس کے پیچھے اصل وجوہات کیا تھیں۔ ٹی وی خبروں میں ایسے واقعات کی ویڈیوز سے اگر ان قاتلوں کے انداز کو دیکھا جائے تو ایک بات بہت واضح نظر آتی ہے کہ گولیاں چلاتے وقت یہ لوگ اپنے ہوش و حواس میں نہیں ہوتے، ان پر ایک جنونی کیفیت طاری ہوتی ہے یہ کیفیت تب ہی ممکن جب انسان یا تو شدید غصہ میں ہو یا پھر کوئی نشہ اس پر حاوی ہو۔

اقوام متحدہ کے ادارہ ڈرگس اینڈ کرائم کے مطابق دنیا بھی میں آئس طرز کے نشہ کی سالانہ پیداوار 500 میٹرک ٹن ہے اور دنیا بھر میں تقریباً دو کروڑ سے زائد لوگ اس نشہ کو استعمال کرتے ہیں۔

کس عمر کے لوگ زیادہ آئس استعمال کرتے ہیں؟

عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ 13 سے 20 سال کے لوگ کثرت سے کسی بھی نشہ کا شکار ہو جاتے ہیں اور اس کا بنیادی سبب ان لوگوں کی کم عمری کی وجہ سے کم فہمی بتائی جاتی ہے لیکن آئس کے استعمال میں یہ معاملہ مختلف ہے۔ آئس کو استعمال کرنے والوں کی اکثریت میں 25 سال سے زائد عمر کے افراد شامل ہیں۔ گویا آئس کے نشہ کی لت میں وہ لوگ مبتلا ہیں جو ہر طرح کے فائدہ اور نقصان کی سمجھ رکھتے ہیں۔ آئس کا نشہ کرنے والوں میں ملازم پیشہ، بے ہنر کام کرنے والے، ہم جنس پرست یا مرد و عورت دونوں کے ساتھ تعلق رکھنے والے اور کم ترقی یافتہ علاقوں کے لوگ شامل ہیں۔

آئس کیا ہے؟

آئس ایک کرسٹل میتھم فیٹامائن عنصر ہے۔ آئس کے استعمال سے دماغ اور جسم کے درمیان موجود قدرتی برقی رابطہ میں بہت زیادہ تیزی پیدا ہو جاتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ آئس کا نشہ دیگر نشوں سے زیادہ ہوتا ہے۔ آئس کے مہلک اثرات دوسری نشہ آور چیزوں سے کئی گنا زیادہ ہوتے ہیں۔

آئس کو کس طرح استعمال کیا جاتا ہے؟

دیگر نشوں کی طرح آئس کو بھی عمومی چار طریقوں سے استعمال کیا جاتا ہے۔ آئس کو زیادہ تر سگریٹ کے ساتھ استعمال کیا جاتا ہے۔ سگریٹ کے ساتھ استعمال کرنے سے اس کے اثرات فوری طور پر محسوس ہونا شروع ہو جاتے ہیں. دوسرے طریقہ میں آئس کو انجیکشن کے ساتھ بھی جسم میں داخل کیا جاتا ہے اس طرح اس کا اثر 15 سے 30 سیکنڈ میں ہونا شروع ہو جاتا ہے۔  تیسرا طریقہ میں اس کو ناک کے ذریعے اندر کی طرف کھینچا جاتا ہے جس سے اس کا اثر 3 سے 5 منٹ میں ظاہر ہو جاتا ہے۔ چوتھے طریقے میں اسے گولی کی شکل میں نگل لیا جاتا ہے۔ اس صورت میں اس کا اثر 15 سے 20 منٹ میں جسم میں پھیل جاتا ہے۔  آئس کا نشہ عموماً چار سے بارہ گھنٹہ تک انسان پر سوار رہتا ہے۔ نشہ اترنے کے 72 گھنٹے بعد بھی یہ انسان کے پیشاب اور خون میں موجود رہتا ہے۔

انسانی صحت پر آئس کے کیا اثرات ہیں؟

ہر نشہ انسانی صحت کے لیے تباہ کن اثرات لاتا ہے۔ ہر نشہ کے اثرات ہر انسان پر مختلف ہوتے ہیں لیکن ایک ہی نشہ کرنے والوں میں بہت سارے اثرات مشترک ہوتے ہیں۔   آئس کا نشہ کرنے والوں میں اکثر جو اثرات دیکھنے کو ملتے ہیں وہ یہ ہیں کہ اس کے چار سے بارہ گھنٹہ کا نشہ  ختم ہونے کے بعد کئی دن بہت تکلیف میں گذرتے ہیں اور نیند نہیں آتی۔

انسانی جسم میں ضرورت سے زیادہ قوت اور خود اعتمادی ظاہر ہو جاتی ہے۔  انسان ایک ہی عمل کو بار بار کرنے لگتا ہے۔ جسم پر بار بار خارش کرنا، دانتوں میں تکلیف، دل کی دھڑکن میں تیزی، سانس کا تیز چلنا، ضرورت سے زیادہ پسینہ آنا اور جنسی خواہش میں حیوانگی اور تشدد جیسے اثرات رونما ہوتے ہیں۔ اس کے ساتھ بہت زیادہ گھبراہٹ، شدید الجھن، شدید غصہ، بے ہوشی کے دورے بھی شامل ہیں۔

آئس کے استعمال سے کون سی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں؟

آئس کے استعمال سے انسان مختلف بیماریوں کا شکار ہو جاتا ہے۔ ابتدائی طور پر پائی جانے والی بیماریوں میں جسم کی رگوں کا تباہ ہونا، مختلف موسمی امراض، ٹیٹنس، ہیپٹائٹس بی، پیٹائٹس سی، دل اور پیپھڑوں کے امراض، سینے میں درد، گردوں کے امراض، جسم میں گرمی، بلڈ پریشر میں اضافہ، اگر نشہ کرنے والے آئس کو جسم میں داخل کرنے کے لیے ایک ہی سرنج یعنی انجیکشن استعمال کر رہے ہیں تو ان میں ایڈز پیدا ہو جاتی ہے۔

انسانی ذہن پر آئس کے اثرات کیا ہیں؟

جب انسان کوئی ذائقہ دار کھانا کھاتا ہے یا کسی کی قربت کے لمحات میں خوشی محسوس کرتا ہے تو کیفیت کو دوبالا کرنے کے لیے انسانی دماغ تین طرح کے عنصر یا کیمیکلز کو خارج کرتا ہے۔ ان عناصر کے اخراج سے انسان بہت زیادہ خوشی اور جذبات محسوس کرتا ہے۔

قدرت نے انسانی جسم میں ہر چیز کا ایک مخصوص تناسب رکھا ہے اور یہ تناسب کی اس کی زندگی کی بقا کا ضامن ہے۔ جب یہ تناسب بگڑ جاتا ہے تو انسان ذہنی اور جسمانی مسائل کا شکار ہو جاتا ہے۔

آئس کو استعمال کرنے سے دماغ ان عناصر کو بہت زیادہ مقدار میں خارج کرنا شروع کر دیتا ہے جس سے انسان ذہنی طور پر متوازن نہیں رہ پاتا۔ اان عناصر کے زیادہ اخراج سے مختلف نفسیاتی امراض جنم لیتے ہیں۔ آئس انسان میں غصہ کو ابھارتی ہے اور انسان اپنے جذبات کو قابو نہیں رکھ پاتا اور وہ تشدد پسند بن جاتا ہے۔ دوسروں کو جسمانی اذیت دے کر وہ خوشی محسوس کرتا ہے۔  وہ لوگ جو آئس کے استعمال کو ترک بھی دیتے ہیں ان کے دماغ کو بھی قدرتی حالت میں آنے کے لیے کافی لمبا عرصہ درکار ہوتا ہے اور وہ اس دوران ان ذہنی امراض سے متاثر رہتے ہیں۔

آئس کے استعمال سے ہونے والی اموات

آئس کا استعمال کرنے والوں میں موت کی شرح 43٪ ہے یعنی جو لوگ کچھ عرصہ تک اس کا نشہ کرتے ہیں ان میں موت کا تناسب بہت زیادہ ہوتا ہے۔

آئس کو ترک کرنے پر کیا اثرات ہوتے ہیں؟

آئس کو ترک کرنے پر کسی انسان پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں کو سمجھنے کے لیے اس کو دو گروہوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔  پہلا گروہ ان لوگوں کا ہے جو وقتی طور پر آئس کا استعمال ترک کرتے ہیں اور چند دنوں یا ہفتوں بعد پھر سے استعمال شروع کردیتے ہیں۔ دوسرا گروہ ان لوگوں کا ہے جو مستقل طور پر اس لعنت سے چھٹکارا چاہتے ہیں۔

پہلے گروہ پر وہی اثرات ظاہر ہوتے ہیں جو ہم اوپر ” انسانی صحت پر آئس کے کیا اثرات ہیں؟ ” میں بیان کر چکے ہیں۔ دوسرا گروہ جو مستقل طور پر آئس کو چھوڑنا چاہتا ہے ان میں جذبات کی شدت، تھکاوٹ، بے سکونی، درد سر، غم و غصہ، قے اور طبعیت میں پریشانی جیسے واقعات ظاہر ہوتے ہیں۔ اس کے ساتھ نظر میں دھندھلاہٹ، فیصلہ کرنے کی صلاحیت میں کمی، توجہ میں کمی اور نیند کے مسائل بھی سامنے آتے ہیں۔

آئس کا کون سا علاج موجود ہے؟

جو لوگ اس مرض سے صحت یابی چاہتے ہیں وہ سب سے پہلے یہ تلاش کرتے ہیں کہ آئس کا کون سا علاج موجود ہے۔ عمومی طور پر آئس کے اثرات کو انسانی جسم سے خارج ہونے میں دو سے تین ہفتے لگ جاتے ہیں۔ جو لوگ عرصہ تک آئس کو استعمال کرتے رہے ہوں ان کے لیے یہ مدت ایک سے دو سال بھی ہو سکتی ہے۔

آئس کا علاج مختلف حصوں پر مشتمل ہے جس میں انسان کو جسمانی اور ذہنی طور پر تیار کیا جاتا ہے کہ وہ اس مرض سے مکمل طور پر چھٹکارا پا لے۔ اس مقصد کے لیے جو طریقہ کار استعمال کیا جاتا ہے ان میں ” کاگ نیٹیو بی بھیوریل تھراپی ” ،  ” موٹیویشنل انٹرویونگ ”، ” ڈرگ کونسلنگ ” ، ” ماہر نفسیات ”،
” کنٹیجینسی مینجمینٹ ” اور ” ری ھیبیلی ٹیشن ” شامل ہیں۔

آئس کے علاج سے کیا توقعات رکھی جا سکتی ہیں؟

ہر نشہ سے چھٹکارا حاصل کرنا ایک ہمت کا کام ہے۔ یہی صورتحال آئس کے علاج میں ہوتی ہے۔ آئس کا علاج ایک محنت طلب اور وقت لینے والا عمل ہے اس لیے آئس کے علاج سے جادوئی توقعات رکھنا دانش نہیں۔ آئس کے علاج کے دوران بھی مریض کو اس کی طلب ہو سکتی ہے جس سے وہ بہت زیادہ غصیلہ یا بہت بے بس ہو سکتا ہے۔ یہ علاج ایک تھکا دینے والا عمل ہے لیکن ہمت رکھنے والے اس سے پوری طرح مستفید بھی ہوتے ہیں۔

آئس کے علاج سے جو لوگ صحت یاب ہو جاتے ہیں ان میں علاج کے بعد بھی کچھ بے سکونی پائی جاتی ہے جس کی وجہ وہ اکثر اپنے رشتہ داروں یا دوستوں سے لڑائی کر بیٹھیں گے یا ان سے دوری اختیار کر لیں گے۔ مریض اور اس کے احباب کو اس صورتحال کا پورا علم ہونا ضروری ہے۔

آئس کا اسلامی اور روحانی علاج کیا ہے؟

بحیثیت مسلمان ہمارا ایمانی و روحانی تقاضہ ہے کہ ہم ایمان و یقین کامل کے ساتھ قرآنی اعمال پر یقین کامل رکھیں

قرآنِ مجیدکا اثر ذی روح پر تو ہوتا ہی ہے غیر ذی روح پر بھی ہوتاہے۔ پہاڑ بھاری بھرکم، مضبوط، بلند وبالا، جامد اور غیر ذی روح مخلوق ہے۔ قرآن کااثر اس پر اس قدر سخت ہوتاہے کہ وہ اگر اس کو سمجھتا اور اس کی ذمہ داریوں سے واقف ہوتا تو کانپ اٹھتا اور پھٹ کر ریزہ ریزہ ہوجاتا :

’’اگر ہم نے اس قرآن کو پہاڑ پر بھی اُتار دیا ہوتا تو تم دیکھتے کہ وہ اللہ کے خوف سے دبا جارہاہے اور پھٹا پڑتا ہے۔ یہ مثالیں ہم لوگوں کے سامنے اس لیے بیان کرتے ہیں کہ وہ اپنی حالت پر غور کریں۔‘‘         ﴿الحشر﴾

’’اللہ نے بہترین کلام اُتارا ہے، ایک ایسی کتاب جس کے تمام اجزا ہم رنگ ہیں اور جس میں بار بار مضامین دہرائے گئے ہیں۔ اسے سن کر ان لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں، جو اپنے رب سے ڈرنے والے ہیں اور پھر ان کے دل نرم ہوکر اللہ کے ذکر کی طرف راغب ہوجاتے ہیں۔ یہ اللہ کی ہدایت ہے جس سے وہ راہ راست پر لے آتا ہے جسے چاہتا ہے اور جسے اللہ ہی ہدایت نہ دے اس کے لیے پھر کوئی ہادی نہیں ہے ۔‘‘          ﴿الزمر﴾

آئس کے نشہ سے نجات کے لئے ہم اسی قرآن سے مدد لیتے ہوئے ایک روحانی عمل تیار کرنے کا طریق تحریر کرتے ہیں
بسم اللہ الرحمن الرحیم   راہ روشن کن الرحمن الرحیم رحم کن از رحمانیہ خود ایاک نعبدو ایاک نستعین از عادت بد کن دور اھدنا الصراط المستقیم الھادی فلاں بن فلاں را کن بر راہ مستقیم۔

فلاں بن فلاں کی جگہ اس شخص کا نام استعمال کیا جائے جس سے آئس کا نشہ چھڑوانا مقصود ہے ۔ اب تمام سطر کےا عداد بذریعہ ابجد قمری حاصل کئے جائیں ۔ آپ آن لائن ابجد کیلکیولیٹر کا استعمال کرتے ہوئے بآسانی اعداد استخراج کر سکتے ہیں ۔ مستخرجہ اعداد سے نقش مثلث پر کیا جائے گا ۔

نام مع نام والدہ کے اعداد حاصل کریں 12 پر تقسیم کریں اور برج معلوم کریں ۔
متعلقہ برج کا حاکم سیارہ اور منسوبہ دن عمل تحریر کرنے کا وقت ہوا۔

نام کےا عداد کو چار پر تقسیم کرکے عنصر معلوم کریں جو عنصر ہو اس کے مطابق مثلث پر کریں ۔

ایک مثال سے سمجھاتا ہوں ۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم راہ روشن کن الرحمن الرحیم رحم کن از رحمانیہ خود ایاک نعبدو ایاک نستعین از عادت بد کن دور اھدنا الصراط المستقیم الھادی توقیر بن سلمی را کن بر راہ مستقیم ۔

سطر کے اعداد ابجد قمری سے حاصل کئے ۔8512

نام مع والدہ کے اعداد ابجد قمری ۔ 856

برج و حاکم سیارہ و منسوبہ دن جاننے کے لئے 12 پر تقسیم کیا ۔

باقی 4 بچے ۔ یعنی برج سرطان حاکم سیارہ قمر ۔منسوبی دن پیر ۔

تو علم ہوا کہ پیر کے روز سیارہ قمر کی ساعت میں عمل تیار کیا جائے گا اگر اس وقت طالع سرطان مل جائے تو بہت ہی انسب ہے ۔

مثلث کس عنصر سے پر کریں ؟ یہ جاننے کے لئے نام مع والدہ کےا عداد کو 4 پر تقسیم کیا تو باقی کچھ نہیں بچا ۔ یعنی 0(صفر) ایسی صورت میں ہم چار شمار کرتے ہوئے عنصر خاک شمار کریں گے ۔

گویا معلوم ہوا کہ کل سطر کے اعداد مثلث میں پر کئے جائیں گے خاکی چال کے مطابق ۔

قانون کے مطابق مثلث کو پر کرنے کے لئے کل اعداد 8512سے 12 عدد نفی کئے تو 8500 حاصل ہوئے ، جسے 3 پرتقسیم کیا گیا حاصل قسمت 2833جبکہ باقی ایک رہا ۔ لہٰذا خانہ کسر 7 ہوا ۔ اگر باقی دو رہتے تو خانہ کسر 4 ہوتا۔

مثلث کی عنصری چالیں

چاروں عنصر کے مطابق مشہور و معروف چالیں درج کر دی گئی ہیں تاکہ کسی ضرورت مند کو دقت پیش نہ آئے ۔ اب ہم مثالی نقش دے رہے ہیں۔
خاکی چال کے مطابق خانہ اول میں 2833 رکھ کر ایک ایک کے اضافہ سے نقش پر کیا گیا ہے جبکہ خانہ 7 میں بوجوہ کسر ایک عدد کا مزید اضافہ کیا گیا ۔

2834 2842 2836
2840 2837 2835
2838 2833 2841

اب ہمیں نقش کے موکلات کا استخراج کرنا ہے ۔ ہر چہار جانب کے خانوں کے موکلات استخراج کئے ۔
خانہ اول 2834سے 41 عدد نفی کئے ۔ باقی 2793  حروف ج ص ذ ب غ   جصذبغائیل

خانہ دوم : 2836سے 41 عدد نفی کئے 2895   حروف  ھ ص ض ب غ      ھصضبغائیل

خانہ سوم   2841 سے 41 عدد نفی کئے     2800   حروف  ض ب غ     ضبغائیل

خانہ چہارم  2838 سے 41 عدد قانون کے نفی کئے  2797  حروف  ز ص ذ ب غ    زصذبغائیل

2834

2842

2836

2840

2837

2835

2838

2833

2841

آپ کی آسانی کے لئے متعلقہ خانوں کی نشاندہی کردی گئی ہے۔

2834

2842

2836

2840

2837

2835

2838

2833

2841

ان دونوں خانوں کے اعداد کو بھی باہم جمع کیا تو 5675 ہوئے ان سے 41 عدد نفی کئے5634حروف
د ل خ ھ غ ۔ دلخھغائیل

نقش کا کل وفق 8512ہے ۔ کل اعداد سے 41 عدد نفی کئے 8471 ۔ حروف ا ع ت ح غ   اعتحغائیل
نقش کے وفق کو 4 سے ضرب دیکر 41 عدد نفی کرکے موکل استخراج کیا گیا۔
وفق 8512 کو 4 سے ضرب دیا ۔ 34048 ان اعداد سے 41 عدد نفی کئے 34007
حروف   ز غ د ل   زغدائیل
استخراج موکلات کے بعد اعوان العمل استخراج کرنے کے لئے حسب سابق نشان زدہ خانوں سے اعداد لیں گے
316 عدد نفی کرکے اعوان بنانے کے لئے کلمہ یوش کا اضافہ کردیں گے ۔

زرد خانوں سے اعوان العمل کا استخراج کیا جائے گا۔

اعوان العمل 1۔ 2842 سے 316 نفی کئے 2526  حروف و ک ث ب غ  وکثبغیوش

اعوان العمل 2۔ 2835  سے 316 نفی کئے 2519 حروف ط ی ث ب غ   طیثبغیوش

اعوان العمل 3۔ 2833 سے 316 نفی کئے 2517 حروف ز ی ث ب غ  زیثبغیوش

اعوان العمل 4۔ 2840 سے 316 عدد نفی کئے 2524 حروف د ک ث ب غ  دکثبغیوش

نقش کے چاروں جانب سے ہم نے اولاً موکلات بعد اعوان استخراج کرلئے اب وسط کا درمیانی خانہ باقی رہا

جسے سمجھنے کے لئے ہم نے سرخ کردیا ہے یعنی 2837۔ اب ہم نے قرآنی آیات یا اسماء الہی یا دونوں کا مجموعہ لینا ہے جس کے اعداد 2837 کے مساوی ہوں ۔ سورہ کوثر کےا عداد 2754 ہیں ۔ جبکہ درمیانی خانہ کے اعداد 2837 ہیں ۔
2754 کو 2837 سے نفی کریں تو 83 باقی رہیں گے لہٰذا ہمیں کوئی ایسے اسماء الہی چاہئے جن کے اعداد 83 ہوں ۔
ہم تین اسماء خداوندی لیتےہیں ” واحد ولی حی ” اس طرح کل اعداد 2837 ہوجائیں گے ۔

اب ایک عزیمت تیار کی جائے گی

اس عزیمت کو 23 بار پڑھ کر پلادیجئے ۔ 21 عدد نقش لکھیں ایک گلے میں پہنا دیں ۔ ایک قبرستان میں دبا دیں ۔ وسط دو ایک راہ گزر میں ڈال دیں ۔ 18 نقوش پلادیں تو ان شاء اللہ نئی زندگی کا آغاز ہوگا ۔ نیاز کی اشیاء موجود ہوں جو عمل تیا رکرنے کے بعد فاتحہ دیکر بچوں میں تقسیم کردی جائے میں اس عمل کے ہمراہ مزید دو جفری اعمال بھی استعمال کرنے کے لئے دیتا ہوں جس سے فرد اور اس نشہ کے مابین ایک نفرت کا جذبہ پیدا ہوجاتا ہے ۔
ہر ممکن کوشش ہے کہ عمل کو سہل الفاظ میں تحریر کروں تاکہ ہر ضرورتمند خود اپنے لئے یا اپنے پیاروں کے لئے اس عمل کو تیار کرکے آئس جیسے نشہ سے نجات کے لئے استعمال کرکے زندگی کو دوبارہ راہ روشن کی جانب گامزن کرسکے ۔ خدا آپ سب کا حامی و ناصر ہو ۔

1 Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*