پنڈولم سے امراض کا علاج از قلم سید محمد اجمل

پنڈولم سے امراض کا علاج

 پنڈولم کے موضوع پر ہمارے ہاں تحقیقات نہ ہونے کے برابر ہے  جبکہ علوم مخفیہ میں زمانہ قدیم سے اس سے مسلسل کام لیا جاتا رہا ہے ۔
ہم نے بھی گزشتہ کسی مضمون میں اس سے سوالات کے جوابات معلوم کرنے پر تفصیلی مضمون قلمبند کیا تھا ۔
اس مرتبہ ہم پنڈولم ہیلنگ پر کچھ روشنی ڈالتے ہیں کہ یہ کیا ہے اور کس طرح اس سے فائدہ حاصل کیا جا رہا ہے ؟۔

پینڈولم ہیلنگ ایک ایسا عمل جس میں امراض سے شفاء حاصل کرنے کے لیے پینڈولم کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کو عمومی طور پر انرجی اور اسپیرچیول ہیلنگ بھی کہا جاتا ہے۔ اس طریقہ علاج میں کسی بھی انسان کی صحت کو بہتر بنایا جاتا ہے۔ یہ طریقہ انسانی جسم، ذہن اور روح کی صحت کے لیے بہت مفید ہے۔

عمومی طور پر پنڈولم کو سوالات کے جوابات دینے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ لیکن پینڈولم کا صحت کے لیے استعمال بھی بہت موثر ہوتا ہے۔ پینڈولم خود ایک صحت عطا کرنے والا آلہ ہے۔

پینڈولم سے مختلف امراض کا علاج ایک نسبتاً جدید تصور اور طریقہ علاج ہے۔ اس کا آغاز بیسویں صدی میں فرانس میں ہوا تھا۔ اس وقت بہت قلیل تعداد میں ایسے افراد موجود ہیں جو اس طریقہ کے ماہر مانے جاتے ہیں۔ پینڈولم کا انسانی صحت کے لیے استعمال دن بدن لوگوں میں مقبول ہو رہا ہے۔اس طریقہ علاج پر مہارت رکھنے والا انسان ایک مخصوص قسم کا پینڈولم استعمال کرتا ہے۔ اس پینڈولم کے ذریعے انسانی جسم میں ایک برقی لہر منتقل کی جاتی ہے جو کہ انسانی ذہن پر اثر انداز ہوتی ہے کہ مریض کو مرض سے شفاء ہو چکی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ماہر اس پنڈولم کے ذریعے ایسی معلومات بھی حاصل کرسکتا ہے جس سے بیماری کے متعلق اہم باتوں کا علم ہوتا ہے۔ اس پینڈولم کی مدد سے علاج کرنے والا انسان اگر ایسی دیگر صلاحیتیں بھی رکھتا ہے جو انسانی صحت کو جلا بخشتی ہیں تو وہ ان صلاحیتیوں کو زیادہ بہتر اور موثر طریقہ سے استعمال کر سکتا ہے۔ پینڈولم سے بیماریوں کا علاج کرنے والا شخص اس سفر کا آغاز پینڈولم سے کرتے ہوئے بعد میں ریکی، آکوپنکچر، مساج وغیرہ کو ایک ہی نشست میں مریض پراستعمال کرنے کے قابل ہو سکتا ہے۔  پینڈولم کے طریقہ علاج میں مغربی طب سے پوری طرح مطابقت پیدا کی جا سکتی ہے۔

پینڈولم کا استعمال دیگر طریقہ علاج کو مزید فائدہ مند بنا دیتا ہے جس سے مریض جلد شفاء یاب ہو جاتا ہے۔
پینڈولم کے استعمال کے دوران مخصوص کلمات کو بار بار دہرانے سے ماحول میں ایک جادوئی اثر پیدا ہو جاتا ہے جو اس کی قوت شفاء کو کئی گنا بڑھا دیتا ہے۔ ان کلمات کی ادائیگی کا تصور قدیم زمانوں کے طریقہ علاج سے اخذ ہے۔

موثر اور بہترین علاج کے لیے مناسب پینڈولم کا ہونا ضروری ہے۔ پینڈولم کے بہتر انتخاب کے لیے یہاں پر چند اہم نکات پیش کیے جا رہے ہیں۔ یہ پینڈولم عام طور پر تین اشکال میں دسیتاب ہوتے ہیں۔ ان کو ‘کارنک، ایس ایس اور اوسیرس’ کے ناموں سے پکارا جاتا ہے۔ کارنک پینڈولم کی شکل گولی نما ہوتی ہے اور اس کا تعلق سبز رنگ سے ہوتا ہے۔ ایس ایس پینڈولم کی شکل سلنڈر جیسی ہوتی ہے اور اس میں تھوڑے فاصلے پر پہیہ نما کٹائی کی گئی ہوتی ہے اور یہ سفید روشنی سے تعلق رکھتا ہے۔ اوسیرس نامی پینڈولم کی شکل پیالہ نما ہوتی ہے۔ اس میں مخصوص فاصلے پر پیالہ جیسی اشکال جڑی ہوتی ہیں اور اس کا تعلق سبز روشنی سے ہے۔ ان تینوں اشکال سے ملتا جلتا کوئی بھی پینڈولم امراض سے شفاء کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
pendulum_pic1

یہ پینڈولم عام طور پر پیتل اور لکڑی سے بنائے جاتے ہیں۔ شیشہ کے بنے ہوئے پینڈولم بھی دسیتاب ہیں لیکن یہ اپنے اندر کم تاثیر رکھتے ہیں۔ اس لیے بہتر یہی ہوگا کہ تانبہ اور لکڑی کا پینڈولم استعمال کیا جائے۔ یہ پینڈولم عمومی طور پر سفید روشنی رکھتے ہیں جبکہ کچھ سبز روشنی کے حامل ہوتے ہیں۔ پینڈولم کے انتخاب میں سب سے اہم بات آپ کا وجدان ہے۔ ایسا پینڈولم منتخب کریں جسے چھوتے ہیں آپ کے اندر ایک مثبت لہر دوڑ جائے اور جو آپ میں خود اعتمادی پیدا کرے۔

آپ یہ پینڈولم خود بھی تیار کر سکتے ہیں۔ اس کے لیے آپ لکڑی یاپیتل استعمال کریں۔ اگر آپ کے پاس پہلے سے کوئی پینڈولم موجود ہے اور آپ کو اس کے کام کرنے کا پورا یقین نہیں ہے تو اس کا عملی مشاہدہ کر لیں۔ اگر یہ اپنا اثر ظاہر کرتا ہے تو اسی کو استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔

پینڈولم کو استعمال کرنے لیے اس پر ایک مضبوط ڈوری لگائیں۔ اس ڈوری کو اپنے انگوٹھے اور اس کے ساتھ والی انگلی (شہادت کی انگلی) میں مضبوطی سے تھام کر رکھیں۔ بچ جانے والی ڈوری کو اسی ہاتھ کی ہتھیلی میں رکھ لیں۔ پینڈولم کی ڈوری کو مضبوطی سے تھامیں۔ پینڈولم اور انگلیوں میں اتنا فاصلہ رکھیں کہ یہ آسانی سے حرکت کر سکے۔

pendulum_pic2

پینڈولم سے علاج کرنے کے لیے آپ پینڈولم کو مریض کے اوپر لٹکا کررکھیں یا اگر مریض قریب نہیں ہے تو اس کا نام معہ والدہ لکھ کر پینڈولم کو اس کے اوپر انگلیوں کی مدد سے لٹکا کر رکھیں۔ جب آپ پینڈولم کو مریض کے اوپر لٹکائیں تو اس بات کا خیال رکھیں کہ یہ سب سے آخری پسلی سے تھوڑا نیچے ہو یا آپ اسے براہ راست اس مقام پر بھی لٹکا سکتے ہیں جسے آپ نے صحت مند کرنا ہو۔

اگر آپ نے پینڈولم کو درست انداز میں پکڑا ہے تو یہ  خود بخود ہی حرکت کرنا شروع کر دے گا۔ اگر یہ حرکت نہ کرے تو آپ نہایت آہستگی سے اپنے ہاتھ کو جنبش دیں کہ پینڈولم  میں حرکت پیدا ہو۔ یہ احیتاط رکھیں کہ آپ پینڈولم کی حرکت کو اپنی مرضی سے کسی سمت نہیں موڑیں گے۔

پینڈولم دوران علاج درست کام کر رہا ہے یا نہیں اس کا اندازہ اس کی حرکت سے لگایا جا سکتا ہے۔ جب پینڈولم برقی لہر کو جسم میں داخل کرتا ہے تو یہ گھڑی کی سوئی کی طرح دائرہ میں دائیں سمت گھمتا ہے اور جب پینڈولم کسی منفی قوت کو مریض سے دور کرتا ہے تو پھر اس کے برعکس حرکت کرتا ہے یعنی دائرہ میں بائیں طرف۔ جب پینڈولم اپنا عمل پورا کر لیتا ہے تو ایک سمت سے دوسری سمت حرکت کرے گا یا ساقط ہو جائے گا۔
pendulum_pic3

پینڈولم طریقہ علاج میں رنگوں کا اہم کردار ہے۔ ان رنگوں کو ‘ریڈی ایس تھیٹک کلر’ کہتے ہیں۔ سائنس اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ یہ کائنات مختلف رنگوں کی لہروں سے وجود میں آئی۔ اسی طرح ہماری فضا میں رنگوں کے ساتھ آوازوں کی لہریں بھی وجود رکھتی ہیں۔ پینڈولم سائنس پر کام کرنے والے دو لوگ چاؤمیری اور بیلیزال نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ ان دونوں کے مطابق پینڈولم کی حرکت ان گنت مقناطیسی لہریں پیدا کرتی ہے۔ پینڈولم کی حرکت کو جانچنے کے لیے ایک پیمانہ مرتب کیا گیا جسے ریڈی ایس تھیٹک کلر کا نام دیا گیا۔ رنگوں کا یہ نظام ہمیں خود پینڈولم اور مریض یا کسی بھی انسان کے بارے میں اہم معلومات فراہم کرتا ہے۔

pendulum_pic4

پینڈولم کے رنگ کو جانچنے کا طریقہ یہ ہے کہ آپ پینڈولم کو ریڈی ایس تھیٹک کلر جدول پر لٹکا کر رکھیں اور یہ الفاظ ادا کریں کہ ‘اس پینڈولم کا ریڈی ایس تھیٹک کلر کیا ہے’۔ یہ پینڈولم جس رنگ کی طرف حرکت کرے وہی اس کا رنگ ہو گا۔

اس ریڈی ایس تھیٹک کلر کا دوسرا مقصد کسی بھی انسان یا مریض کے جسمانی لہروں کے رنگ کو دیکھنا ہے تاکہ اس کے مطابق علاج کیا جا سکے۔ مریض کی جسمانی لہروں کا جو بھی رنگ ہو اسے نیلے رنگ میں منتقل کرنا ضروری ہے۔ اس مقصد کے لیے پینڈولم کو تھام کر اس ریڈی ایس تھیٹک کلر جدول پر لٹکا رکھیں اور یہ الفاظ ادا کریں ‘اس مریض / انسان کا ریڈی ایس تھیٹک کلر کیا ہے’ اور پھر یہ کہیں کہ ‘اس مریض / انسان کے ریڈی ایس تھیٹک کلر کو نیلا کردے’۔

پینڈولم کی حرکت اگر ریڈی ایس تھیٹک کلر جدول پر سبز منفی(-) کی طرف ہو تو اس کا مطلب ہو گا کہ یہ انسان صحت مند نہیں ہے یا مستقبل قریب میں بیمار پڑنے والا ہے۔

کالا اور سیاہی نما سرخ رنگ کا مطلب ہے کہ اس انسان کو شدید بیماری کا سامنا ہے یا ہو گا جس کا نتیجہ موت ہو گا۔

پینڈولم کی حرکت اکثر سرخ ، نارنجی اور پیلا رنگ ظاہر نہیں کرتی۔ یہ تمام رنگ مادہ تولید اور افزائش نسل کے متعلق ہیں۔

سبز مثبت(+) رنگ کسی بھی انسان کے تیزی سے نشوونما پانے کی علامت ہے جبکہ نیلا رنگ اچھی صحت کو ظاہر کرتا ہے۔ گہرا نیلا رنگ، گلابی رنگ کی غیر متوازن لہریں، گہرے نیلے رنگ کی غیر متوازن لہریں اور سفید رنگ انسانی صحت کے اتار چڑھاؤ کو ظاہر کرتی ہیں۔

پنڈولم سے سوال و جواب اور امراض کے علاج پر ایک کورس مرتب کیا جا رہا ہے جس کی تفصیلات جلد شائع کی جائیں گی ۔

اس مضون میں شامل کی گئی تصاویر ‘ھیل وید پینڈولم’ نامی کتاب سے لی گئی ہیں اور ان تصاویر کی اس مضمون میں اشاعت کی باقاعدہ اجازت اس کتاب کے مصنف ڈاکٹر ایریک ھنٹر سی لی گئی ہے۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*