مُستحصلہ جفر سے استخراج شُدہ جوابات آخر غلط کیوں ہو جاتے ہیں ؟ ۔ از اظہر عنایت شاہ

ہم اس مضمون کو تین مراحل میں آپکے سامنے پیش کریں گے۔

مرحلہ اول   :­­ـ ایک  سوال علم جفر کے شُعبہ اخبار سے تعلق رکھنے والے اکثر افراد کے ذہن میں ضرور آتا ہے وہ یہ کہ مُستحصلہ جفر  سے استخراج شُدہ جوابات آخر غلط کیوں ہو جاتے ہیں   ؟    
یہ سوال کیوں کر پیدا ہوتا ہے ؟  دوم  یہ سوال کن افراد کے ذہن میں ذیادہ آتا ہے ؟
جہاں تک  اول سوال کا تعلق ہے میں سمجھتا ہوں کہ یہ سوال    دو وُجوہ کی بِناء پر پیدا ہوتا  ہے ـ
اول وجہ : ـعلم جفر  کی منسوبات  یعنی جن پاک ہستیوں کی طرف یہ علم منسوب کیا گیا ہے جن کو اُمتِ مُسلمہ آئمہ اطہار رضوان اللہ علیھم اجمعیمن کہتی ہیں  ۔

دوم وجہ :ـ  علم جفر کی تعریف و توصیف و تشریح
ان ہر دو وُجوہ پر اس عاجز کا خیال تھا کہ کچھ لکھا جائے لیکن پھر خیال آیا  کہ یہ موضوع حقائق جفر کے باب  سے تعلق رکھتا ہے  اور یہ  خیال بھی دامن گیر تھا  کہ کہیں ہماری اس تحریر سے عاشقانِ و طالبانِ جفر کا آتش شوق کہیں مدھم نہ پڑ جائے
پھر یہ   بات بھی ذہن میں آئ کہ ان ہر دو  وجوہ پر کوئ کہنہ مشق  ،وسیع الاطلاع  اور حقائق جفر جاننے والا ہی بہتر لکھ سکتا ہے تو مجبورا ً اس پر قلم روکنا پڑا   ۔ لہذا اول سوال کو اجمالا حل کیا اور سوال دوم  کو  انشاءاللہ تفصیلاً حل کریں گے۔

جفری جوابات غلط کیوں ہو جاتے ہیں ؟  یہ سوال کن افراد کے ذہن میں زیادہ آتا ہے  ؟
جہاں تک میں سمجھتا ہوں کہ یہ سوال اُن افراد  کو زیادہ پریشان کرتا ہے ، جو کسی حد تک یا کچھ حد تک مُستحصلہ جفر پر گرفت پا چکے ہوں ، جنکو علمی و اصطلاحی زبان میں ہم متوسط درجے کے جفار کہہ سکتے ہیں ۔
یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے وہ یہ کہ مبتدی جفار جنکو بقول بابر سلطان قادری مرحوم کے لفظ جفار انکے لئے اچھا نہیں لگتا بلکہ طالب علم جفر مبتدی اور منتہی جفار  جنکو     آسان الفاظ میں اساتذه علم جفر کہتے ہیں کا ذکر کیوں  نہیں کیا گیا ؟
طالب علم جفر مبتدی کا ذکر کیوں نہیں کیا گیا ؟ :ـ مبتدی حضرات کا ذکر اس لئے نہیں کیا گیا کہ شروع میں جب جفر اخبارسے تعلق جڑتا ہے تو اس وقت صرف ایک ہی دُھن ذہن پر سوار ہوتی ہے اور ایک ہی شوق دامن گیر ہوتا ہے کہ کسی طرح مُستحصلہ کو حل کرکے استخراج جواب حاصل کیا جائے ، میری اس بات کی تائید وہ تمام حضرات کریں گے جو جفر کی ابتدائی مراحل سے گزرے ہوں ۔ کیونکہ ابتداء میں ذہن جفر کی باریکیوں میں نہیں جاتا اور نہ ہی اُس وقت جفر کی باریکیوں میں جانا سود مند ہوتا ہے ۔
کیونکہ اگر  شروع ہی میں  مبتدی علم جفر کی باریکیوں میں پڑنا شروع کر دے کہ جفری جوابات کی نوعیت کیا ہوتی ہے وغیرہ وغیرہ تو جفر تو سیکھنے سے رہا ۔
پوری زندگی اِن ہی باتوں میں گزر جائے گی مگر مُستحصلہ پر گرفت نہیں پا سکے گا ۔
دنیا کا ایک نظام ہے ، ایک قانون ہے ، ایک ترتیب ہے ۔
بچے کو شروع میں جب مدرسہ میں بٹھایا جاتا ہے تو استاد اسکو حِفظ قرآن مین نہیں لگاتا  اور نا ہی بچہ اس وقت حفظِ قرآن کی استعداد کا حامل ہوتا ہے ۔
شروع میں بچے کو الف ، با ، تا پڑھایا اور سکھایا جاتا ہے پھر ناطرہ قرآن اور پھر حفظ قرآن ۔
اسیطرح عصری نظام تعلیم کا بھی ایک قاعدہ و قانون ہے جسکے ماتحت بچہ پڑھتا ہے ۔
چھت پر جانے کے لئے پہلی سیڑھی پر قدم رکھنا پڑتا ہے  ڈائریکٹ کوئ آخری سیڑھی پر قدم نہیں رکھ سکتا ۔

الغرض مبتدی طالب علم جفر کے ذہن میں یہ سوال کہ جفری جوابات کیون غلط  ہو جاتے ہیں اول تو آتے ہی نہیں اگر آیئں بھی تو انکی طرف ذیادہ توجہ نہیں دیتا  اس کو تو صرف ایک ہی شوق ہوتا ہے اور وہ ہے  حصول جواب اور بس  ۔

اساتذہ جفر کا ذکر کیوں نہیں کیا گیا  :ـ   اساتذہ جفر کا ذکر نا کرنے کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ اُنکے ذہن میں یہ سوال کہ جفری جوابات غلط کیوں ہو جاتے ہیں ؟ پیدا نہیں ہوتا  بلکہ اس وجہ سے اُنکا ذکر خیر نہیں کیا گیا  کہ اُنکے پاس اِس سوال کے کئ جوابات موجود ہوتے ہیں اس لئے اُنکو یہ سوال  اور اِس جیسے کئ سوالات پریشان نہیں کرتے ۔

متوسط جفارین کے ذہن میں یہ سوال ذیادہ کیوں آتا ہے   :ـ  متوسط درجہ جفار ین کے ذہن میں یہ سوال اور اس جیسے کئ سوالات اس لئے پیدا ہوتے ہیں کہ جب کچھ حد تک یا کسی حد تک مُستحصلہ جفر پر عبور حاصل ہو جاتے ہے تو پھر طبیعت چاہتی ہے کہ اب جفر کی باریکیوں کو سمجھا جائے  اور اصل جفر تک پہنچا جائے ، اسکی طرف طبیعت خود بخود مائل ہونا شروع ہو جاتی ہے ۔

اسکی مثال ایسی ہے کہ جب  کوئ تیرنا سیکھ لے تو پھر پانی کے اندر جانے کو دل چاہتا ہے لیکن پانی کی گہرائیوں میں وہ پھر بھی نہیں جا سکتا اور نا ہی پانی کی تہہ سے قیمتی موتی نکال سکتا ہے ، جب تک کہ وہ تیرنے پر مکمل عبور حاصل  نا کر پائے ۔

یہاں تک تو بات آپ سمجھ گئے ہوں گیں ، انشا ء اللہ ،اول مرحلہ ختم

مرحلہ دوم :ـ مرحلہ دوم کو ہم بطورِ مُقدمہ  کے پیش کر رہے ہیں  ، جسکا سمجھنا آپکے لئے  بہت ضروری ہے ، جسے سمجھ کر ہی آپ آگے ہماری بات سمجھ پایئں گے ۔

ُمقدمہ :ـ علم جفر کے شُعبہ اخبار میں دو قسم کے قواعد مُستعمل اور زِیر بحث ہوتے ہیں ۔

خود ناطق قواعد اور غیر ناطق قواعد

خود ناطق قواعد :ـ خود ناطق قواعد وہ ہوتے ہیں   جن میں جوابیہ حروف کے حصول میں ظن اور اختیارات کو دخل نہیں ہوتا ۔

غیر ناطق قواعد :ـ غیر ناطق قواعد وہ ہوتے ہیں جن میں حروف کے حصول کے لئے ظن اور اختیارات بہت دخل ہوتا ہے اور جوابیہ حروف کے حصول کے لئے غیر معمولی غور و فکر اور تدبر کی ضرورت پیش آتی ہے جسکو آسان ذبان میں جواب ناطق کرنا کہتے ہیں ۔

ایک اور بات کو سمجھیے وہ یہ کہ جفری مُستحصلہ دو حصوں پر مُنقسم ہوتا ہے ۔

پہلا حصہ :ـ پہلا حصہ حسابی قواعد پر مُستمل ہوتا ہے بسظ حرفی ، تخلیص ، موخر صدر ، صدر موخر ، جمع ، تفریق ، تقسیم ، ضرب وغیرہ وغیرہ

دوسرا حصہ  :ـ  دوسرا حصہ جوابیہ حروف کے حصول کا ہوتا ہے جسے عام الفاظ میں جواب ناطق کرنا کہتے ہیں ۔

بزرگوں کا  کہنا  :ـ یہ جو بزرگوں نے کہا ہے کہ مُستحصلہ ایک خُداداد قوت ہے کسی کے سمجھائے سمجھ نہیں آتا

دماغ روشن ، عقل خُداداد اور غیبی طاقت جب تک امداد نہ کرے مُستحصلہ حل نہیں ہوتا ، یہ دوسرے حصے کے متعلق ہی ہے ۔

کیونکہ اول حصہ تو ریاضی پر مُشتمل ہوتا ہے تھوڑا سا ذہین    اور جفر ی اصطلاحات کو سمجھنے  والا شخص حل کر لیتا ہے ۔

یہی بات علامہ شاد گیلانی نے بھی کی ہے لکھتے ہیں  کہ  ” جفر اس قدر مُشکل موضوع ہے جسکے سمجھنے پر بڑے بڑے حسابدانوں کے چھکے چُھوٹ جاتے ہیں ۔

میرے پاس علم جفر پڑھنے کے لئے پڑھے لکھے لوگوں نے محنت کی ہے اور بعض مواقع ایسے بھی آئے جہاں حساب  پیچھے رہ جاتا ہے اور صرف وہب کی کیفیت استعمال ہوتی ہے اور اس امر میں یہ بلند تعلیم یافتہ لوگ جفر سے دستبردار ہوجاتے ہیں “

ایک اور فرق :ـ اب ایک اور فرق کو سمجھئے وہ یہ کہ غیر ناطق قواعد کا ابتدائ حصہ بہت آسان ہوتا ہے  ، لیکن حصہ دوم  بہت مُشکل ہوتا ہے ، جس میں بعض اوقات اچھے اچھے مشاق جفار بھی غلطی کر لیتے ہیں ۔

جوابات کا غلط ہونا ، پیش گوئیوں کا غلط ہو جانا انہی غیر ناطق قواعد میں ہی ہوتا ہے جسکی مثالیں کتب اور  رسائل میں بکھری پڑی ہیں ۔

کیونکہ غیر ناطق قواعد میں جواب ناطق کرتے وقت کثرتِ جواب ، متضاد جواب اور بعض اوقات عدم جواب جیسی مشکل  صورتحال سے گزرنا پڑتا ہے جس میں بعض اوقات بڑے بڑے ہاتھی  بھی پھسل جاتے ہیں ۔

بعض اوقات جواب بالکل آسانی کیساتھ استخراج ہوجاتا ہے اور بعض اوقات لاکھ دماغ سوزی کےبھی  جواب ناطق نہیں ہو پاتا  ،یہ صورتحال ہر جفار کو پیش آتی ہے ۔

عالم روحانیات  عالم جفار مرزا محمود شفق علی رام پوری رحمہ اللہ اس صورتحال کے بارے میں لکھتے ہیں “لیکن میں یہ نہیں کہ سکتا  کہ یہ کیا راز ہے کہ کسی وقت ان قواعد میں سے کسی ایک قاعدے سے فصیح و بلیغ اور صاف جواب برآمد ہوتا ہے اور بعض اوقات اسی قاعدے سے باوجود  محنت و دماغی پاشی کے جواب برآمد نہیں ہوتا ، میں تو اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ ان علوم کا  سلسلہ مرکز علم غیب اضافی سے ملا ہوا ہے ۔ جب خدا کی عنایت شامل حال ہوتی ہے تو جواب صاف برآمد ہوجاتا ہے اور جب منظور خدا نہیں ہوتا تو سامنے کا حرف نگاہوں سے ایسا پوشیدہ ہوجاتا ہے کہ نظر ہی نہیں آتا ، مجے یاد ہے کہ ایک مرتبہ جفر کے قاعدے سے سوال کا جواب نکال رہا تھا  میرے ایک دوست جو تاریخ کہنے میں بہت  مشاق تھا   اتفاق  سے تشریف لائے  میں ایک حرف کے لئے  اس قدر پریشان تھا کہ بڑی دیر سوچتے سوچتے  ہو گئ  تھی مگر وہ جملہ اس حرف کے بغیر نہیں بنتا تھا اور وہ حرف اس عبارت میں نہ تھا جب مجھے بہت ہی سراسیمہ دیکھا تو کہا کہ بات کیا ہے ۔

میں نے کہا کہ ان حروف سے فلاں حرف پیدا کرنا چاہتا ہوں مگر پیدا نہیں ہوتا اور میں کئ گھنٹہ سے پریشان ہوں  انہوں نے فورا جواب دیا کہ وہ حرف تو یہ ہے اب جو میں نے دیکھا تو واقعی وہ حرف موجود تھا ۔

میں نے اپنی بد دماغی اور مہمل طبیعت پر ہزار ہزار نفریں کیں مگر یہ کچھ قدرتی راز ہے بعض  وقت حرف سامنے رکھا ہوتا ہے اور قدرتی پردے آنکھوں پر پڑ جاتے ہیں اور سامنے کا حرف نظر نہیں آتا کئ مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ میں کسی سوال کا جواب حاصل کرنے کے لئے اپنی کو شش ختم کر دیتا ہوں اور  جواب حاصل نہیں ہوتا  اور میں عاجز ہو کر اس کو دال دیتا ہوں ۔

مگر دوسرے وقت جب اس مسودہ پر ڈالتا ہوں تو جواب سامنے رکھا ہوتا ہے اور ایک اشارے میں حل ہو جاتا ہے ۔

میں یہ واقعات اس  واسطے بیان کر رہا ہوں کہ آپ کو بھی ان ہی مرحلوں سے گزرنا ہو گا اور بعض اوقات آپ پریشان ہو جایا کریں گے اور بعض اوقات اس آسانی سے جواب نکل آیا کرے گا کہ آپ حیران ہو جایئں گے ۔

جب بالکل آسانی سے جواب نکل آیا کرے گا کہ آپ حیران ہو جایئں گے جب بالکل آسانی  سے جواب نکل آے تو یہ قیاس نہ کر لیں کہ ہمیشہ اسی طرح آسانی سے جواب نکل آئے گا (چاہے قاعدہ وہی ہو ) اور بعض اوقات آپ دِق اور پریشان خاطر ہو جایئں گے اور جواب برآمد نہ ہو گا۔ یہ سب رحمت غیبی اور وقت پر موقوف ہے ” ( ارواح الجفر حصہ دوم صفحہ  ۵۷ ، ۵۸ناشر مکتبہ آئینہ قسمت لاہور )

اسکے برعکس خود ناطق قواعد کا ابتدائ حصہ  بالخصوص حرف مُستحصلہ کا حصول انتہائ مُشکل ، دقیق اور پیچیدہ ہوتا ہے جسے دوسرے لفظوں میں کوہِ ہمالیہ سر کرنا آپ کہہ سکتے ہیں ( بقول علمائے جفر )

اور خود ناطق قواعد میں بعض قواعد ایسے بھی ہیں جنکے حل کرنے پر آٹھ ، دس گھنٹے لگ جاتے ہیں ( علمائے جفر کے بقول ) جیسا کہا استاذ الجفارین بابر سلطان قادری مرحوم اپنی کتاب تجلیات جفر کا قاعدہ مصحف فاطمہ کے بارے میں لکھتے ہیں ” کہ میں گزارش کروں گا اپنے  احباب سے کہ مجے اس قاعدہ کو بار بار حل کرنے کی زحمت نہ دی جائے کیونکہ یہ بہت طویل اور ذہن کو مصروف رکھنے والا قاعدہ ہے ۔”

خود ناطق قواعد کے حصول کا شوق ،طلب و آرزو ہر جفار کو ہوتا ہے ۔

اکثر احباب کی نظر انتخاب کتاب تجلیات جفر  کے خود ناطق قواعد الجفر الاحمر ص 53 ، رموز تکسیر ص 174 ، بدوح یلن روح القدس ص 241 اور آخر میں مصحف فاطمہ ، پر پڑتی ہے ۔

لیکن ان قواعد کو شاید اب تک کوئ صاحب حل کر پایا ہو ( یہ میرا گمان ہے باقی اللہ ہی بہتر جانتا ہے )

کیونکہ ان قواعد کی مکمل تشریح ہی نہیں دی گئ جسکا اعتراف صاحبِ کتاب  ،کتاب کے شروع میں خود کرتے ہیں ۔ لکھتے ہیں کہ منتہی جفاران کے لئے اس میں ایسے قواعد دئے گئے ہیں جو اپنی مثال آپ ہیں مگر ہم  نے ایسے قواعد تصریح اور چیستان کے مابین بیان کئے ہیں

اسی کتاب کے آخری قاعدے جفر مصحف فاطمہ کے حل کرنے میں محترم محقق غلام الرسول میمن عائلی نقشبندی صاحب جیسا روشن دماغ ،روشن ضمیر  ، خداداد صلاحیتوں سے مالا مال شخصیت بھی رُوداد شب ِغم میں اپنی بے بسی ظاہر کرتے ہوئے نظر آتے ہیں لکھتے ہیں کہ ” جب ہم تجلیات جفر سے مصحف فاطمہ باوجود تمام تر کو ششوں کے سمجھ نہیں سکے ( میرے خیال میں یہی کہنا چاہئے شاید کہ اپنی کم عقلی کے باعث ) اور نہ ہی یہ پتہ چلا کہ آخر اس مُستحصلہ کا نام مصحف فاطمہ یہ کیوں تجویز کیا گیا ۔”

حالانکہ یہ وہ شخصیت ہیں کہ جفری مُستحصلات کو سب سے پہلے کمپیوٹرائزد کرنے کا اعزاز انہی کو حاصل ہے ۔

اسیطرح بابر سلطان قادری مرحوم کے ایک شاگرد جنکا تعلق فیصل آباد شہر سے ہے نام لینا مناسب نہیں ، جنکے بقول وہ کئ سال ( غالبا پندرہ سال سے زائد عرصہ بتایا جو اب مجھے صحیح یا د نہیں ) بابر سلطان قادری مرحوم کی صحبت میں رہے ۔ اُن صاحب  اس عاجز کی مندرجہ بالا قواعد کی بابت بات ہوئ تو اُن صاحب نے  معذرت کی  (یعنی  نا سمجھنے  کا  اظہار کیا )

اسیطرح حکیم سرفراز احمد زاھد مرحوم سے قاعدہ  بدوح یلن رُوح القدس کی بابت بات ہوئ حکیم صاحب مرحوم کا جواب کچھ یوں تھا ” قاعدہ بدوح یلن رُوح القدس علم جفر کی جان ہے اور اٹھائیس اباجد سے حل ہوتا ہے جنکی صفحات   کی تعداد تقریبا  500 ہے ، یہ اُنکے بیٹوں کے پاس ہو گی آپ اُن سے رابطہ کریں “

حکیم صاحب کا بابر سلطان قادری مرحوم کا شاگرد ہونا ایک مُسلم حقیقت ہے سب جانتے ہیں اپنی کتاب انکشافاتِ جفر میں اُسکابر ملا اظہار کیا ہے ۔

اور بابر سلطان قادری مرحوم نے بھی انکو اپنے قدیمی شاگردوں میں سے کہا ہے ۔

تو جب بابر سلطان مرحوم   کے قدیمی و خاص شاگرد بھی اس قاعدہ بدوح یلن رُوح القدس کو حل کرنے سے قاصر رہے تو اوروں کا کیا پوچھنا ۔

اسیطرح ایک اور صاحب جنکا شُمار مُلک پاکستان کے پرانے جفاروں میں ہوتا ہے اُن صاحب کے بابر سلطان مرحوم کیساتھ اچھے مراسم تھے اُن صاحب نے مجھے یہ بات خود بتائ کہ میں  نے قاعدہ رُوح القدس کی بابت بابر سلطان مرحوم سے بات کی ، تو انہوں نے بات گول کی اور واضح جواب نہیں دیا ۔

اسیطرح ایک اور جفار جنکے ساتھ میرا رابطہ رہتا ہے وہ بھی پرانے جفاروں میں سے ہیں اُن صاحب نے تو  اِس قاعدہ رُوح القدس کی بارے کچھ اور ہی بات بتائ جو میں یہاں لکھنا مناسب نہیں سمجھتا  ۔

بحر حال ہو سکتا ہے کہ کسی  اللہ کے بندے نے مندرجہ بالا قواعد میں سے کسی قاعدے کو حل کیا ہو تو اُن سے معذرت و معافی چاہتا ہوں

مجھے جو معلومات ہوئ تھی وہ میں نے عرض کردیں باقی حقیقت کیا اللہ علیم خبیر ہی بہتر جانے ۔

علم جفر کے خود کے خود ناطق قواعد متعلق تو وہی شخص ہی بہتر لکھ سکتا جو اِس پُرخار راستے سے  گزرا ہو  ، جس نے اِس دشت میں دشت پیمائ کی ہو ۔

البتہ اتنا ضرور کہوں گا کہ علم جفر اخبار  کا خود ناطق باب بہت ہی تاریک اور تلخ حقایق لئے ہوئے ہے ۔ بقول محترم محمد حسن صاحب کے کہ میں نے اِس جفر کے چکروں میں لوگوں کی زندگی حرام ہوتے دیکھی ہے ، میں نے لوگوں کو دربدر بھٹکتے دیکھا ہے ( خود ناطق قواعد کے متعلق ہی  فرمایا ہے ) ویسے ہی جیسا کہ ایک مہوسی یہاں سے وہاں بھٹکتا رہتا ہے لیکن شکوہ کرتا رہتا کہ بس ایک آنچ کی کسر رہ گئ تھی

تو میری اُن تمام احباب سے گزارش ہے کہ جس بظاہر خود ناطق قاعدہ کیساتھ اُسکی مکمل تشریح نہ ہو اُس پر اپنا قیمتی وقت ضائع نا کریں سوائے دماغی کوفت اور ناکامی کے کچھ حاصل نہ ہو گا ۔

دوسری گزارش اُن تمام احباب سے جو خود ناطق قواعد کے چکروں میں سرگرداں اور در بدر کی ٹھوکریں کھارہے ہیں اور جفاروں کی خدمتیں ، منتیں اور سماجتیں کر رہے ہیں ، پہلےتو یہ بات معلوم نہیں چاہئے کہ جس صاحب کے آپ پاوں دھو رہے ہیں اُسکے پاس واقعی

خود ناطق قاعدہ  ہے بھی کہ نہیں ؟

اگر تو یہ بات قطعی و یقینی ہے کہ اُن صاحب کے پاس واقعی کوئ  گوہر و یاقوت ہے تو پھر اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ وُہ آپ کی جھولی میں اُس  یاقوت و مرجان کی بھیک ڈال بھی پائیں گیں یا نہ ؟

آپ کہیں گیں کہ یہ آپ نے عجیب فلسفہ بیان کر ڈالا( آپ کو میری اِس بات سے اختلاف  ہو سکتا ہے آپ کو اختلاف کا پورا حق حاصل ہے ) اِس صورتحال کا کچھ ذکر تو تجلیات جفر کے حوالے سے ہو چکا  کہ تجلیات جفر کے خود ناطق قواعد کو اُنکے قدیمی شاگرد بھی حل نہ کر سکے ، مزید کچھ امثلہ آپ احباب کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں ۔

پہلی مثالحکیم سرفراز احمد زاھد مرحوم  اپنی کتاب انکشافاتِ جفر صفحہ 15 پر لکھتے ہیں ” اس سلسلہ میں کئ ماہرین جفر ( جو اصل جفر جانتے تھے)  سے ملاقات ہوئ ۔ کافی سفر کئے ، خدمتیں کیں ، یہ صاحبان فن پوشیدہ تھے اور اپنے علم کو گناہوں کی طرح اولاد سے بھی چھپا کر قبروں میں سو گئے ۔

ایک صاحب فن کی دس سال تن من دھن سے خدمت کی  حالت نزع سے قبل پاس بیٹھے لوگوں کو کہا کہ میں نے اپنا تمام علم حکیم سرفراز احمد زاھد   ملتانی کو منتقل کر دیا ہے ۔  اللہ تعالی انکی قبر کو نور سے منور کر دے ، مگر حقیقتا نہیں دیا ۔

دوسری مثال علامہ شاد  گیلانی مرحوم لکھتے ہیں کہ علم جفر کے حصول کے لئے میں نے پاکستان کا کونہ کونہ چھان مارا۔دو چار نام نہاد جفار ملے ۔اور میں نے اپنی طاقت سے بڑھ کر انکی خدمت کی ۔سال سال بھر ان کے آگے ہونٹ لٹکاتا پھرا مگر ان کے پاس کچھ تھا اور نہ ہی کچھ مل سکا ۔

البتہ ایران ، عراق ، مصر کے عالمانِ جفر نے دل کھول کر مجھے جفر کی تعلیم دی یہ میرا اپنا مقدر تھا کہ مجھے اتنا کچھ مِلا کہ اسکا اندازہ  آپ نہیں لگا سکتے۔(علم حروف کا حیرت انگیز الجبرا صفحہ 53، 54 )

تیسری مثال محترم محقق غلام الرسول میمن عائلی نقشبندی صاحب رُوداد شب غم میں لکھتے ہیں کہ ” اخیر میں ، مین نے اتمام حجت کے طور پر جناب ڈاکٹر عبدالرحیم صاحب ( شاہدرہ ، بہالپور ) سے فون پر لگ بھگ ایک گھنٹہ تفصیلی گفتگو کی ، جن کی مُستحصلہ جات پر تین کتب رحیم الجفر ، حصہ اول ، دوم ،سوم لکھی ہوئ ہیں ( اتمام حجت کے طور پر اسطرح کہ   اس علم کے دعوے داران میں سے عصر حاضر میں میرے خیال یہی ایک پرانے اس علم کے طالب رہے ہیں  اور تا دم تحریر زندہ بھی  ہیں خدا انکی عمر دراز کرے ، نیز انکے بارے میں میرا یہ حسن ِ ظن بھی تھا کہ انکو اگر اس قسم کا کوئ معلوم ہو گا تو بالیقینا اس کی تسہیل چاہتے ہوں گے ) اور ایک خط بھی لکھا ( وہ خط کبھی ضرورت ہوئ تو ضرور پیش کروں گا ) کہ اگر اصل مُستحصلہ آپ کے پاس ہے اور اسکے حل کرتے وقت دس دس  گھنٹہ آپکے صرف ہو جاتے ہیں تو وہی ایک قاعدہ اگر  مرحمت فرمادیں تو بغیر غلطی کئے ہوئے میں سیکینڈوں میں حل کر سکتا ہوں ۔

میں نے ان سے علم کی بھیگ نہیں مانگی تھی حق مانگا تھا کہ جسکا ہر طالب کی طرح مجھے بھی استحقاق حاصل ہے ، اپنے استاد محترم کے بعد یہ پہلےشخص تھے جن سے میں نے کچھ ( علم جفر اخبار کی حقیقت پر )  مانگا تھا لیکن انکے جواب آنے میں ابھی جانے کتنا وقت صرف ہو گا یہ تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے ۔

ہم واقعی بہت تھک چکے ہیں جفر اخبار کے بارے میں جو کہتے ہیں کہ جفر پاگل کر دینے  کی حد تک ناکارہ کر دیتا ہے تو شاید صحیح کہتے ہیں “

چوتھی مثال :- کچھ سال قبل ایک صاحبِ علم جفار نے اس عاجز کو ایک خود ناطق قاعدہ  عنایت فرمایا ، قاعدہ حل کیا واقعی جوابیہ سطر ایک حرف کی تقدیم و تاخیر کے بغیرگویا ہوئ، اُس وقت جو خوشی ہوئ وہ بیان سے باہر ہے ۔

لیکن جب  مزید سوالات حل کرکے قاعدہ کی تہہ تک پہنچ کر جو حقیقت آشکارا ہوئ  وہ کچھ اور ہی تھی ” کھودا پہاڑ نکلا چوہا ” کے مثل تھی

اس طرح کی بیسیوں مثالیں تقریبا  ہر جفار کے پاس ہوں گیں ۔

بحر حال یہ تصویر کا ایک رُخ ہے جو بہت تلخ بھی ہے اور تاریک بھی،  لیکن  میری تحریر سے کوئ  صاحب یہ نا سمجھے  کہ میں کسی کو جفر سیکھنے اور سمجھنے کے لئے اساتذہ جفر  کی طرف رجوع کرنے سے روک رہا ہوں ہر گز ہر گز ایسا نہیں    ،علم سیکھنے کے لئے اساتذہ  فن کیطرف رجوع کرنا ہی پڑتا ہے اوراسیطرح  اگر آپ کو کوئ خود ناطق قاعدہ مکمل شرح و بسط کیسا تھ کہیں مل جائے تو ضرور اُسکو آزمایئے ، ہو سکتا ہے کہ آپ کو گوہر و یاقوت مل جائے  ۔

لیکن کائنات کے راز پانا بھی تو اس قدر آسان نہیں   ،جس پر عنایت خُداوندی ہو جائے جیسا کہ عائلی صاحب پر ہُوئ رُودادا شبِ  غم کے آخر میں لکھتے ہیں ” چلتے چلتے ایک اور بات وہ یہ سفر ارض مقدسہ کے دوران  میں ایک روز کا ذکر ہے ہے کہ میں حرم کعبہ میں بیٹھا ہوا تھا  ، اور سوچ کا دھارا اسی جفر الجامع کتاب کی طرف گیا ، دل میں ایک تمنا نے سر اُٹھایا کہ کاش ایسا کوئ طریقہ ہو کہ میں جفر الجامع کی کتاب کو ہاتھ میں لوں  ، اور سوالات کے ربعات سے سیدھا جوابات کے ربعات پر جا پہنچوں ، پھر قدرت کی طرف سے عنائت ہوئ ، مجے یوں لگا کہ جیسے میرے ذہن و قلب سے سے جیسے  حجابات اُٹھ گئے ہیں ، اور میں صاف دیکھ رہا ہوں کہ سوالات کے ربعات سے جوابات کے  ربعات پر کس طرح  پہنچا جا سکتا ہے ۔

میں نماز سے فارغ ہو کر اپنی رہائش کے مقام پر آیا ، اور اِس بات قلمبند کیا ، جو کہ مجھ پر الہام ہوئ ، اور میں واپس پاکستان آنے پر اس کو عملی شکل دی ، پس یہ ذات ِ خُداوندی کا احسان ہے ، اور وقوف دینا اسکی ہی ذات کی رحمت ہے ، اور اسکی ہی دین ہے ۔ فللہ الحجۃ البالغۃ۔

بحر حال یہ باتیں  ضمنا  آگئیں موضوع تو   خود ناطق اور غیر ناطق قواعد کی تفریق و تشریح کے متعلق تھا ۔

دراصل یہ موضوع حقائق جفر کے باب سے تعلق رکھتا ہے  جس پر بہتر وہی شخص لکھ سکتاہے جس نےیہ کوہِ ہمالیہ سر کیا ہو ۔

مرحلہ دوم اختتام پذیر ہوا ۔

مرحلہ سوم :ـ قارئین کرام مرحلہ دوم کچھ طویل بھی تھا ، دقیق بھی ( مبتدی حضرات کے لئے ) اور کچھ تلح بھی ، لیکن  نے ہم مرحلہ دوم کو بطور مُقدمہ  پیش کیا ہے ، تو جو حضرات مُقدمہ کو سمجھ گئے ہوں گیں اُن کے لئے مرحلہ سوم کا سمجھنا بہت آسان بھی ہو گا ، دل پسند بھی اور دلکش  بھی ، انشا ء اللہ

مرحلہ سوم  میں اس بات کی وضاحت کی جائے گی کہ جفری جوابات کن وجوہات کی بناء پر غلط ہو جاتے ؟

جہاں تک یہ عاجز سمجھ پایا ، جفری جوابات غلط ہو جانے کی تین وجوہات ہیں  ۔

وجہ اول :ـ قاعدہ تو درست تھا لیکن جفار سے جواب ناطق کرنے میں ہی کوئ غلطی واقع ہو گئ ۔ اسکی مثال یوں سمجھیں کہ سواری تو عمدہ تھی سوار ہی سے کوئ غلطی واقع ہو گئ جس سے  نقصان کی صورت پیش آئ اور آدمی منزل مقصود پر نہ پہنچ سکا یا زمین تو زرخیز تھی مگر کسان ہی صحیح طور پر بیچ  نہ بُو سکا جس سے فصل یا تو نکلی نہیں یا کم نکلی ( جتنی غلطی اُتنا نقصان )

 اسکی کچھ امثلہ ملاحضہ فرمایئں کیونکہ مثال سے بات آسانی کیساتھ سمجھ آجاتی ہے ۔

پہلی مثال :ـ کتاب  آفتابِ جفر حصہ دوم از غلام عباس اعوان صاحب ( مبتدی حضرات کے لئے آفتابِ جفر اول ، دوم سے بہتر   شاید کہ کوئ کتاب ہو ) صفحہ 58 پر جفری الجبرا کے نام سے ایک قاعدہ ہے ۔

یہ قاعدہ شبِ گوہر چراغ کے نام سے ماضی میں بابائے جفر علامہ شاد گیلانی پیش کر چکے ہیں ۔

اور کتاب انکشا فاتِ جفر از حکیم سرفراز احمد زاھد مرحوم صفحہ 211 پر زائر جۃ الوفا کے نام سے بھی شائع ہو چکا ہے ۔

تو آفتابِ جفر میں اس قاعدہ کے ذریعے ایک سوال حل کیا گیا ہے سوال ہے ” علم جفر کیا ہے ” مثال پیش خدمت ہے ۔


جواب میں لفظ جفر جو ناطق کیا گیا ہے ، اس پر تھوڑا سے غور فرمایئں  ایک اور لفظ صرف نظیرہ اور خود سے بغیر کسی تقدیم و تاخیر کے بالکل صاف ، واضح بنتا نظر آرہا ہے ۔ ملاحضہ کیجئے ۔  ب کا نظیرہ لیا ع ، حرف ل خود ناطق  ہے اور ح کا نظیرہ لیا ت ، تو یہ بن گیا عِلت ، اور یہ لفظ  یہاں نہایت ہی موزون ہے ۔ تو سوال ہے علم جفر کیا ہے ؟ جواب کاشف عِلت ، بالکل صحیح اور درست ہے اور حقیقت بھی یہی ہے۔

دوسری مثال :ـ  ایک سوال بندے نے حل کیا ، سوال ہے ۔ کیا مُلک پاکستان میں آئیندہ حکومت بھی مُسلم لیگ نون کی ہو گی ؟ نومبر دو ھزار سولہ

نرداکوملھآخری سطر
نرماروملقناطق
نامرقلمروجواب

جواب میں واضح اثبات ہے ، یہ حل شُدہ جفری مثال اس طالب علم نے محترم محمد حسن صاحب کو  تصیحح کے لئے بھیجی محمد حسن صاحب نے جواب یوں ناطق کیا

نرداکوملھآخری سطر
نرد/صاکوملھناطق
نادر /  ناصرملکہوجواب

یہ جواب سو فیصد درست ثابت ہوا ، جسٹس ( ر ) ناصر الملک نگران وزیر اعظم بنے ۔ جواب اسقدر حیران کُن ہے کہ پُورا نام استخراج ہوا ہے ۔ ھٰذا شی ء عجیب

قارئین آپ نے دیکھ لیا کہ جواب تو موجود تھا لیکن مجھ سے ناطق کرنے میں غلطی واقع ہو گئ ۔

بات وہی ہے کہ سواری تو عمدہ تھی لیکن چلانے والے ہی سے غلطی ہو گئ جس سے سواری منزل مقصود تک نہ پہنچ سکی ، لیکن جب اسٹیرنگ ایک ماہر و مشاق ڈرائیور کے ہاتھ میں آیا تو گاڑی منزل مقصود پر پہنچ گئ ۔

یہاں ایک نقطے کی جانب توجہ دلانا چاہوں گا وہ یہ  کہ میں نے جواب بغیر تقدیم و تاخیر کے ناطق کیا ، لیکن وہ غلط ثابت ہُوا ، اور محمد حسن صاحب نے تقدیم و  تاخیر کیساتھ ناطق کیا ، وہ درست ثابت ہوا ،   یہ بات مبتدی حضرات کے لئے یقینا پریشانی  کا باعث ہو گی

اِ س میں کیا نقطہ ہے ؟ اسکا مختصر جواب تو یہ ہے کہ جن قواعد میں جواب ناطق کرنے میں  تقدیم و تاخیر قانون میں داخل ہوں ، وہاں درست جواب کے حصول کے لئے  تقدیم و تاخیر لازم ہوتی ہے ، یہ ایک مختصر و جامع جواب ہے ۔

باقی جب آپ کا تجربہ  وسیع ہوتا ہو جائے گا بند گرہیں آپ پر کھلتی جائیں گیں ۔ انشا ء اللہ تعالی

تیسری مثال :-   محمد حسن صاحب نے حکیم سرفراز احمد زاھد مرھوم کا قاعدہ اسماء اسراریہ جو پیش کیا ہے اسمیں حکیم صاحب مرحوم نے ایک سوال  حل کیا ہے ۔

سوال  :ـ کیا لیاقت اللہ بن نصیرہ بیگم کو جفر مصحف فاطمہ تعلیم ہو گا ؟

حمیکوضھغفخرتآخری سطر
تمیکولھنفیرحناطق
تمگےلونہحریفجواب

اس مثال پر محمد حسن  صاحب کچھ یوں کلام کرتے ہیں ”  اگر اول سوال کی بات کروں تو غور کرنے پر علم ہوتا ہے کہ سوال میں لیاقت اللہ بن نصیرہ لکھا  گیا ہے ، جبکہ حل کرتے وقت صرف لیاقت اللہ کا استعمال کریں تو بعینہ وہی حروف مُستحصلہ استخراج ہو جائیں گے جو مثال میں دئیے گئے ہیں ۔

میں مذکورہ بالا سطور میں تحریر کر آیا ہوں کہ جواب کا استخراج انتہائ مشکل امر ہے اور اچھا خاصہ فہم و ادراک رکھنے والا شخص بھی غلطی کا حامل ہو سکتا ہے ۔ لیاقت اللہ والے سوال کو ہی لے لیں  ۔

جواب استخراج کیا گیا ۔ حریف نہ لو گے تم

جب کسی مد مقابل کا  خطرہ ہوتا ، ایک سے زائد امیدوار ہوتے ، شک و شبہ ہوتا تو حریف سمجھ آتا تھا لیکن یہاں کوئ ایسا معاملہ نہ تھا ڈھلا

ڈھلایا صاف ستھرا جواب بن رہا تھا لیکن اللہ جانے کس وجہ سے حذف کیا گیا یعنی ” حرف نہ لو گے تم …… حرفوں کے علم کی بات ہو رہی ہے سوال کو زہن میں رکھتے ہوئے جواب پر غور کریں تو کتنا با معنی فقرہ ہے اور ہماری تحقیق کے مطابق یہی جواب صد فیصد درست  بھی ہے ۔

مثالیں اور بھی لیکن ان تین مثالوں پر ہی اکتفا کرتا ہوں ، مقصد صرف بات سمجھانا تھی ، اُمید ہے کہ احباب سمجھ گئے ہوں گے ۔

وجہ دوم :ـ  جفار نے استخراج جواب تو درست کیا لیکن قاعدہ ہی درست نہ تھا اس لئے حاصلہ جواب درست ثابت نہ ہو سکا ۔

اسکی مثال ایسی ہے کہ ڈرائیور تو ماہر و مشاق تھا لیکن سواری ہی ناقص تھی اسلئے منزل مقصود پر نہ پہنچ سکی یا کسان  نے تو بیچ صحیح بویا لیکن زمین ہی کاشت کے قابل نہ تھی اسلئے نتیجہ  عمدہ برآمد نہ ہوا ۔ وجہ دوم کو سمجھانے کے لئے کتاب علم حروف کا حیرت انگیز الجبرا سے تین مثالیں پیش خدمت ہیں ۔

ilm-e-jafar-sawal-jawab1

مثال نمبر دو :ـ

ilm-e-jafar-sawal-jawab2

مثال نمبر تین :-

ilm-e-jafar-sawal-jawab3

تینوں مثالیں آپ نے ملاحضہ کیں ،  تینوں پیش گو ئیا ں غلط ثابت ہوئیں پیش گوئیا ں  کر نے والے ہیں علامہ شا د گیلانی  جنہیں  دنیا     با  با ئے  جفر کے نا م  سے جا نتی ہی اور اسمیں کو ئی شبہ بھی نہیں جفر  جیسے مشکل سبجیکٹ کو انہوں نے آسا ن الفا ظ میں پیش کیا ،  جنکی پو ری عمر اسی عظیم علم کی تحقیق و تر و یج میں صر ف ہو ئی۔ جنکی اکثر پیشن گوئیا ں حیرا ن کن حد تک  در ست ثا بت ہوئیں خا ص کر ذولفقا رعلی بھٹوکی مد ت حکومت  کے متعلق جو آن ریکار ڈ مو جو د  ہہے ۔ اور ملک  پا کستان کے اکثر  جفا رین نے ان سے اکتسا ب فیض حا صل کیا ہے علامہ  اور بابا ئے جفر  کا لقب انکو عوا م نے نہیں بلکہ علم و اہل فن حضرا ت نے دیا   پھر ان کے قلم  سے تینوں پیشن گو ئیوں کا غلط ہو جانا حدردجہ  با عث استعجاب   ہے ۔ لیکن اسی قا عدہ  کے متعلق شروع ہی میں  وہ جو لکھتے ہیں وہ تحریر  ، تو جہ سے شا ہد بہت کم لو گو ں نے پڑھی ہو گی ۔ ملاحظہ فر ما ئیں۔ “مگر ایک با ت ایما ندا ری سے کہتا جا وں کہ اب کے جو قا عدہ  مستحصلہ پیش کر رہا ہوں میری نظر میں یہ مُستحصلہ  نہیں ہے  اس میں شک نہیں کہ مجھ پر اسی قا عدہ کی عنا یت  کر نے والے نے  ۶ ما ہ تک وعدوں پر ٹالا اور تک کہیں جا کر یہ قا عدہ عطا کیا۔ اس وقت میں بھی اس قا عدہ   کو عظیم جفر سمجھتا تھا مگر جب علم جفر میں آ کے دیکھا   تو اس قا عدہ  کی قدر و منزلت  میرے سا منے کم ہو گئی  ۔ گو آپ کیلئے پھر بھی یہ ایک عظیم قا عدہ ہے “اتنی وا ضح تحریر کے بعد مزید  کچھ لکھنا اپنااور آپکا وقت ضائع کر نا ہے

وجہ سوم:-اگر قا عدہ  بھی درست ہو اور جفا ر نے  نا طق بھی درست کیا ہو تو جو جوا ب گو یا  ہو گا وہ سائل سے ذیا دہ جفا ر کو حیرا ن کر ئے گا مثلا کچھ ہفتے  قبل میرے  ایک بہت قریبی دوست نے ایک ذا تی سوا ل بندش کر کے مجھے  میسج کا سوا ل تھا یا علیم۔ فلاں بن فلا ں نئے  چا ند سے بعد نما ز عشا ء جو با مو کل فتیلہ جلا رہا ہے وہ مطلوبہ  ھدف  پر اثر کر رہا ہے ہے یا نہیں؟ بند طا لب علم سے جو جوا ب نا طق ہو پا یا وہ یہ تھا۔  جفر ی جوا ب ” من رغبت آوے کل عمل” یہ جفر ی جوا ب انکو میسج کر دیا۔

انکا میسج آیا کہ مطلب میں سمجھا نہیں ذرا وضا حت کر دیں۔ ( مطلب تو بلکل  و اضح تھا لیکن وہ سمجھ نہیں پا ئے ) میں نےکہا کہ جفر ی جوا ب سے یہ با ت ظا ہر ہو ری ہے  کہ آپ کسی کو اپنی طر ف ما ئل کر نے کا عمل کر رہے ہیں ۔ واللہ اعلم 

انکامیسج آیا  کہ سوا ل کچھ اور جوا ب کچھ ۔ عجیب ۔ سوا ل یہ کہ ،  کیا  اس عمل میں پاور ہے… میں نے عر ض کی کہ جو وضا حت میں نے کی کیا وہ غلط ہے؟ انکا مسیج آیا  کہ “عمل ۳ بندو ں کی تسخیر کا ہے “۔

اُنکو تو جو حیرا نی ہو ئی ہو گی  وہ تو ہو ئی  ہو گی  اس سے ذیا دہ مجھے حیرا نی ہو ئی  حالانکہ سوال  میں تو کسی کو تسخیر کر نے کا کہیں ذکر بھی نہ تھا ۔ بحر حال  اسطر ح کی کئی مثالیں ہر جفا ر کی ڈائر ی  میں مو جود ہو تی ہیں۔ اس میں ایسی کو ئی اچھبنے کی با ت  نہیں ۔ یہ تو ہو گیا مثبت پہلو۔ لیکن اگر قا عدہ بھی درست  تھا او جفار کا جوا ب نا طق کر نا بھی درست تھا لیکن پھر بھی نتیجہ  پر جوا ب درست ثا بت نہ ہو ا تو اسکا کیا جوا ب ہے؟ اسکا  مختصر جوا ب تو یہ ہے کہ اللہ کی مر ضی نہیں تھی ۔

ایک مثال سے یہ با ت سجمھ آجا ئے گی وہ یہ کہ اولا د نہ ہو نے کی میڈیکل سا ئنس دو وجوہا ت  بیا ن کر تی ہے ایک تو عور ت  میں کو ئی نقص ہے یا مرد میں کو ئی نقص ہے لیکن اگر عورت  بھی میڈیکل لحا ظ سے بالکل ٹھیک  اور مرد بھی  میڈ یکل لحا ظ سے بالک ٹھیک ہو تو پھر اولادکیوں نہیں ہو رہی؟

اس سوا ل کاجوا ب میڈیکل سا ئنس  کے پا س نہیں ۔ اسکا جوا ب اللہ رب العزت نے قرآن میجد  فر قا ن حمید  میں دیا ہے ارشا د  با ری تعا لیٰ ہے ۔” لله ملك السموت والأرض يخلق ما يشاء يهب لمن يشاء إنثا ويهب لمن يشاء الذكور أو يزوجهم ذكرانا وإنثا ويجعل من يشاء عقيما إنه عليم قدير”( آسمانوں اور زمین مین اللہ ہی کی بادشاہی ہے جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے جسے چاہتا ہے لڑکیا ں عطا کرتا اور جسے چاہتا    لڑکے عطا کرتا ہے ۔ یا لڑکے اور لڑکیاں اور لڑکیاں ملا کر دیتا ہے ، اور جسے چاہتا ہے بانجھ کر دیتا ہے ، بے شک وہ خبردار اور قدرت والا ہے ۔ سورہ شوریٰ آیت نمبر ۴۹ ، ۵۰)        

یہ ایک محتصر  و جا مع جوا ب ہے۔ تفصیلی جوا ب کیلئے میں نامور عالم جفر و روحانیات جنا ب مرزا محمود شفق علی رام پوری رحمہ اللہ کی تحریر پیش کر نا چا ہتا  ہو۔  جو میرے نزدیک اس مو ضوع پر سند اور حرفِ آخر کا درجہ رکھتی ہے اور اسی پر میں اس مضمون کو ختم کرنا چاہوں گا ۔ ملاحضہ فرمائیں ” اس موقع پر میں ایک خاص مگر پُر لطف بحث آپکے سامنے رکھتا ہوں ۔ رمل ، نجوم ، جفر ، اسرا لحروف یا کوئ علم ہو جس سے سوال کا جواب ان علوم میں سے کسی علم سے نکالا جائے اس  جواب کی حقیقت اور نوعیت کیا ہے ؟ کیا  یہ جواب نوشتہ تقدیر اور ملہم اور غیب ہے ، جسکی صداقت اور حقیقت میں کوئ شبہ اور شک نہیں ہے ۔ یعنی ایسا ہی ہو گا جیسا کہ جواب برآمد ہوا ہے یا اس میں  بھی شک و شبہ کی گنجائش ہے اور ممکن ہے کہ اسکے خلاف بھی ہو جائے ۔ میں اس بارے میں اپنا مذہب مبارک اور اپنی تحقیق اور اپنا عملدرآمد پیش کرتا ہوں ۔ جن اصحاب کو میری تحقیق ، میرے مذہب مسلک سے اتفاق ہو وہ میری طرف داری کریں ۔ جن کو مجھ سے اختلاف ہو وہ اپنی تحقیق پر عمل کریں لكم دينكم ولى دين ۔ میری تحقیق اس بارے میں یہ ہے کہ عالم الغیب حقیقی وحدہ لا شریک اور اسکے عطا کردہ علم سے اسکا رسول امی ( فداہ ابی و امی ) ہے ۔

یہ تمام علوم ظنی و قیاسی ہیں ۔ ممکن ہے کہ ایسا ہی ہو جیسا جواب برآمد ہوا ہے اور ممکن ہے کہ اس اسکے خلاف ظہور پذیر ہو ۔ یہ علوم حدود ظنیات سے نکل کر بوجہ یقین تک نہیں پہنچتے ۔ میں اس قسم کے سوال و جواب کو ایک مشورہ سمجھتا ہوں ۔ جسطرح ہم اکثر امور میں دوسروں سے مشورہ کرتے ہیں ۔ مشورہ صحیح بھی ہو سکتا ہے اور غلط بھی ۔ میں کسی نجومی کو رمالی کو جفار کو نعوذ باللہ عالم الغیب نہیں جانتا جس طرح نبض کی رفتار اور جست سے حکیم دل ، جگر ، امعاء ، دماغ اور اندرونی حالت معلوم کر سکتا ہے ۔ حآلانکہ اسکے سامنے نہ دل ہے نہ جگر نہ امعاء ہیں نہ دماغ محض ایک علمی تحقیق ہے ۔ اسیطرح ایک علم ہے جن سے سیاروں کی چال سے کچھ حالات معلوم کئے جاسکتے ہیں ۔ بالکل اسی طرح جس طرح نبض کی چال سے طبیعت کی اندرونی کیفیت معلوم کرتے ہیں ۔ حقیقی طور پر کل کیا ہونے والا ہے اور فلاں کام کا انجام کیا ہو گا ۔ جاننے والا وہی خُدائے قدوس یا اسکا رسول محترم ہے ۔ بعض اوقات جواب کے مطابق ہی واقعات پیش ہوتے ہیں اور بعض اوقات انکے خلاف بھی ہو جاتے ہیں ۔ ان تمام علوم مروجہ میں سے کوئ علم بھی ایسا نہیں ہے جسکو علم غیب کہا جائے اور اس سے مُستخرجہ جواب نوشتہ تقدیر مان لیا جائے ۔ اسلام نے تو مذ ہبا ان علوم پر یقین کرنے کو منع کیا ہے مگر برادرانِ ہنود اور بعض کمزور دل کے انسان اس یقین کامل بھی رکھتے ہیں ۔ مگر یہ انکی ذیادتی ہے ۔  جسطرح ان علوم کو محض ڈھکوسلہ کہ دینا خلاف عقل ہے اسی طرح ان کو سب کچھ جان لینا بھی خلاف عقل ہے ۔ آپ کہیں گے کہ شفق نے امتحان میں ڈال دیا ۔ کسی علم میں جواب حاصل کرنے سے قبل جو حالت تذبذب کی تھی وہ جواب حاصل کرنے کے بعد بھی باقی رہی ۔ اسکے متعلق گزارش ہے کہ جو جواب برآمد ہوا ہے وہ تو صحیح ہے اسکی صحت میں شبہ نہیں ہاں خدائے توانا کو اختیار ہے کہ وہ اسکے خلاف صادر فرمائے ۔ میری غرض یہ ہے کہ ان علوم سے مُستخرجہ جوابات کو جف القلم بما ھو کالن ( قلم خشک ہو گی اور جو کچھ ہونا تھا وہ ہو چکا ) کے ماتحت تصور نہ کرو بلکہ ” یفعل اللہ ما یشا ء و یحکم ما یرید ” ( کرتا ہے اللہ جو چاہتا ہے اور حکم دیتا ہے جو چاہتا ہے ) کے ماتحت صدقہ دو ۔ دعا عمل سے اسکے بر عکس ہو سکتا ہے ۔ واضح ہو کہ قضا دو قسم کی ہوتی ہے ۔ ایک کا نام قضائے مبرم ہے دوسری کا نام قضائے معلق ہے قضائے مبرم ناقابل تبدیل ہے ۔ صدقہ کے عمل سے ، سعی سے ، کوشش سے ، غرضیکہ کوئ قوت اسے تبدیل نہیں کر سکتی ۔ مگر قضائے معلق تبدیل ہو سکتی ہے ۔ لہٰذا ان علوم سے حاصل کردہ جواب قضائے مبرم نہین بلکہ قضائے معلق ہے ۔ جب کسی سوال کا جواب خلاف منشاء اور خلاف کامیابی حاصل ہو تو قرین دانش یہ ہے کہ اسے قضائے معلق تصور کرتے ہوئے صدقہ ، دعا ، عمل ، جد و جہد ، سعی و کوشش سے تبدیل کرنے کی کوشش کرو اور اکثر ہوتا ہے کہ اللہ تعالی ہماری دعا اور کوشش کو قبول فرما کر حسبِ منشاء کامیابی عطا فرمادیتا ہے ۔ ( کتاب ارواح الجفر حصہ دوم صفحہ ۵۴ ، ۵۵ ، ۵۶۔ ناشر مکتبہ آئینہ قسمت لاھور )

3 Comments

  1. آپ کی کاوش بہت اچھی اور ایماندارانہ ہے۔ اس بارے میں بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے۔ آپ جفر ناطق پر ہمارا ریسرچ ورک دیکھیں جہان حیرت کے نام سے۔ جس میں ہم نے اس موضوع پر قلم اٹھایا ہے۔ اپنا فون نمبر بھیجیں ٭٭٭٭٭٭٭٭٭ پر تاکہ مزید بات چیت ہو سکے۔ زاہد

  2. جناب زاھد علی خان صاحب مضمون کی پسندیدگی اور حوصلہ افزائی کرنے پر آ پکا بھت مشکور ہوں ۔

    اظہر عنایت شاہ

  3. Thanks for this, but I think that the book you took the examples from
    is not accurate
    I talk only English, if you are interested in such discussion then let me privatly know please

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*