اعداد متحابہ و قوائمہ

علم جفر بڑا وسیع علم ہے اس میں ماہر ہونے کا دعویٰ وہی حضرات کر سکتے ہیں جنہوں نے اس کو وہبی طور پر حاصل کیا ہو یا زندگی کا ایک عرصہ ماہرین علم کے سامنے زانوئے ادب تہہ کیا ہو ۔ میں واضح کر دوں کہ میں نے اپنی زندگی میں جو کچھ حاصل کیا ہے وہ یا تو اساتذہ سے حاصل کیا ہے یا پھر کتابوں سے اور یہی میرا ماخذ ہیں ۔
علم جفر میں حروف بنیات اور اعتاد متحابہ اور قوائمہ ہوتے ہیں چنانچہ جناب کاش البرنی مرحوم  اپنی کتاب عامل کامل حصہ  اول  میں تحریر فرماتے ہیں کہ ابجد کے حروف مکتوبی کو جب ملفوظی کیا جاتا ہے تو آخر کا حرف اصطلاح جفر میں قائمہ کہلاتا ہے ۔ ملفوظی کرنے میں آخر کے حروف مختلف ہوتے ہیں اس لئے مختلف قوائمہ پیدا ہوجاتے ہیں ۔
جیسے الف ۔ قاف ۔ کاف میں ف قائمہ ہے ۔
جیم ، لام ، میم میں م قائمہ ہے ۔
دال ذال میں ل قائمہ ہے ۔
صاد اور ضاد میں د قائمہ ہے ۔
سین ۔ شین ۔ عین ۔ غین ۔ نون میں ن قائمہ ہے ۔
واو میں و قائمہ ہے ۔
اسی طرح بے ۔ تے ۔ ثے ۔ حے ۔ خے ۔رے ۔ زے ۔ طوئے ۔ ظوئے ۔ فے ہے ۔ یے میں ی قائمہ ہے ۔ جن کی تعداد۱۲ ہے ۔
ابجد میں ی کے اعداد ۱۰ ہیں ۔
اگر ۱۲ کو ۱۰ سے ضرب دی جائے تو ۱۲۰ ہوجاتے ہیں ۔ یہ ۱۲۰ کا عدد اصطلاح جفر میں اعداد متحابہ کہلاتا ہے ۔
اس عدد کے خواص کے متعلق مرحوم تحریر فرماتے ہیں کہ اگر ۱۲۰ کے عدد کو نقش مثلث میں چاندی کی انگوٹھی پر عروج ماہ میں کندہ کرواکر ہاتھ کی انگلی میں پہنا جائے تو انگوٹھی پہننے والے کا ہاتھ پیسے سے کبھی خالی نہ رہے گا
ایسی جگہ سے اس کو پیسہ ملے گا جہاں سے اس کو وہم و گمان بھی نہ ہوگا ۔
یہ نقش علوئے مرتبت اور ترقی مناصب کے لئے بے حد مجرب ہے ۔
اس نقش کو اُس عنصر کی چال سے پُر کرنا چاہئے جو انگوٹھی پہننے والے کی طبع کے موافق ہو ۔
اس کے بعد حضرت کاش البرنی مرحوم نے دوسرے قوائمہ پر بحث تحریر کرنا شروع کر دی ان کی مثالیں وغیرہ تحریر کرنے لگے ۔ اور طبع عنصری کی تشریح تشنہ تحریر رہ گئی البتہ ان کی دیگر کتب میں اس موضوع پر بھی بحث کی گئی ہے لیکن مبتدی حضرات کے لئے یہ ایک الجھن کا باعث ہے ۔ اسی بات کو مد نظر رکھتے ہوئے عمل کوشرح کے ساتھ بیان کیا جا رہا ہے ۔
یاد رکھیں کہ عناصر چار ہیں ۔
آتش۔ باد ۔ آب ۔ خاک
ہر شخص کا عنصر علیحدہ علیحدہ ہوتا ہے اور ہر عنصر کی چال علیحدہ علیحدہ ہوتی ہے ۔
لہٰذا اگر آتشی عنصر والے شخص کی انگوٹھی کا نقش بادی یا آبی چال سے پُر کیا جائے گا تو کوئی اثر نہ ہوگا۔
اس لئے فرد کا جو عنصر ہو اسی عنصر کے مطابق نقش مثلث پُر کرنا چاہئے ۔
دیگر باتوں سے قطع نظر یہاں عناصر کے تحت حروف درج کئے جا رہے ہیں ۔ آپ اس جدول میں اپنے نام کا سر حرف تلاش کریں کہ کس عنصر سے تعلق رکھتا ہے پس اسی عنصر کے مطابق نقش مثلث انگوٹھی پر کندہ کرنا ہوگا۔
آتش۔ ا ھ ط م ف ش ذ
بادی ۔ ب و ی ن ص ت ض
آبی۔ ج ز ک س ق ث ظ
خاکی۔ د ح ل ع ر خ غ

نقشہ مندرجہ بالا سے ہر شخس اپنے نام کے سر حرف کے ذریعہ معلوم کر سکتا ہے کہ اس کا تعلق کس عنصر سے ہے ۔
مثلاً میرا نام “محمدحسن” ہے تو اس نام کا سر حرف “م” ہے ۔ جدول سے علم ہوتا ہے کہ م حرف آتشی ہے ۔
لہٰذا اگر میں یہ انگوٹھی اپنے لئے بنانا چاہوں گا تو نقش مثلث آتشی چال سے ۱۲۰ عدد پُر کروں گا۔
عروج ماہ میں چاند کی پہلی تاریخ سے دس تاریخ تک کسی بھی سوموار یا بدھ یا جمعرات یا اتوار کے دن سورج نکلنے سے ایک گھنٹے کے اندر اپنے سر نام کے عنصر کے موافق چاندی کی انگوٹھی پر نقش خواہ خود کندہ کریں یا کسی دوسرے سے کرائیں ۔ جوشخص بھی کندہ کرے وہ نمازی ہو پاک و طاہر ہو ۔ باوضو ہو ۔ کپڑوں میں عطر بھی لگائیں
متعلقہ بخور ضرور سلگائیں ۔
سوموار کے دن کندہ کر رہے ہوں تو لوبان یا کوئی اچھی سی اگربتی سلگا لیں ۔
بدھ کا دن ہو تو گوگل جلائیں ۔
جمعرات کا دن ہو تو عود جلائیں ۔
اتوار کا دن ہو تو سندروس جلائیں ۔

اب آپ کی آسانی کے لئے چاروں عناصر سے متعلقہ نقوش پُر کرکے یہاں درج کئے جا رہے ہیں ۔
جہاں 36کا ہندسہ لکھا ہے یہ خانہ اول ہے ۔ نقش پُر کرتے ہوئے ترتیب کا خیال ضرور رکھیں خواہ کسی بھی عنصر سے پُر کریں ۔

paisadenewalianghothi_article_adad_e_muthabah_o_qawanah

انگشتری اعداد متحابہ

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*