اس صدی کا سب سے طویل گرھن جو 27 جولائی 2018 کو ہو گا۔

اس-صدی-کا-سب-سے-طویل-گرھن-27-جولائی-2018

Is Mazmoon Ko Roman-Urdu / Hindi Main Parhnay Kay Liye Yahan Click Karein

چاند گرہن جولائی 2018۔

 

اس صدی کا سب سے طویل چاند گرھن دنیا کے اکثر ممالک میں دیکھا جا سکے گے ماسوائے امریکہ کے۔ یہ چاند گرھن بروز جمعہ 27 جولائی 2018 کو ہو گا۔ اس گرھن کا دورانیہ تقریبا چار گھنٹے ہو گا اور اسے یورپ، ایشیاء، آسٹریلیا، افریقہ، ساؤتھ امریکہ اور عرب دنیا کے اکثر ممالک میں دیکھا جا سکے گا۔ اس گرھن کی مکمل تاریکی اس وقت ہو گی جب زمین اپنے سائے سے چاند کو مکمل طور پر چھیا دی گی۔ چاند کی اس مکمل تاریکی کا وقت تقریبا 1 گھنٹہ اور 43 منٹ رہے گا۔

 

یورپ، ایشیاء، افریقہ اور عرب ممالک جہاں یہ چاند گرھن دیکھا جائے گا وہ لوگ چاند کے ایک اور منظر کا مشاہدہ کریں گے کہ جب چاند سرخ رنگ کا ہو جائے گا۔ یہ لمحہ اس وقت ہو گا جب چاند مکمل تاریکی سے نکلنا شروع کرے گا یعنی مکمل تاریکی کے 1 گھنٹہ 43 منٹ بعد چاند کا رنگ سرخ ہونا شروع ہو جائے گا۔ اصلاح میں چاند کی اس حالت کو بلڈ مون بھی کہتے ہیں۔

 

یہاں ہم آپ کی دلچسپی کے لیے گرھن سے متعلق کچھ  معلومات فراہم کر رہے ہیں۔

مزید جانئے : عامل حضرات کیسے گرہن کے اوقات میں حروف صوامت کی زکات ادا کرتے ہیں

 

مکمل چاند گرھن کیا ہوتا ہے ؟

چاند کو گرھن اس وقت لگتا ہے جب زمین چاند اور سورج کے درمیان حائل ہو جاتی ہے۔ اس طرح زمین کا سایہ چاند پر پڑتا ہے اور چاند تاریک ہو جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق مکمل چاند گرھن میں چاند کا رنگ سرخ ہو جاتا ہے اور اس کی بنیادی وجہ سورج کی شعاعوں کا ایک خاص زاویہ سے زمین کے ماحول سے گذرتے ہوئے چاند کی طرف منعکس ہونا ہے۔

 

چاند کے اس گرھن کو خونی چاند کے نام سے بھی منسوب کیا جاتا ہے۔ یہ چاند گرھن 2017 میں ہونے والے سورج گرھن سے بہت زیادہ اہم ہو گا کیونکہ سورج گرھن میں مکمل گرھن چند منٹ تک کا تھا جبکہ یہ مکمل چاند گرھن 1 گھنٹہ اور 43 منٹ پر محیط ہو گا۔

 

دنیا کی بیشتر آبادی 27 جولائی کا چاند کا یہ گرھن دیکھ سکے گی۔ سورج گرھن دنیا کے بہت کم ممالک میں دیکھا جاتا ہے اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ زمین کی نسبت چاند بہت چھوٹا دائرہ پیدا کرتا ہے۔ رات کے وقت چاند گرھن تو آسانی سے دیکھا جا سکتا ہے جبکہ دن کے وقت سورج گرھن کو صرف انہی علاقوں میں دیکھنا ممکن ہوتا ہے جہاں چاند کا سایہ سورج پر پڑ رہا ہو۔

 

سورج گرھن کے مختصر دورانیہ کے سبب دنیا کے بہت کم لوگ اسے دیکھ پاتے ہیں اور اسی وجہ سے جن علاقوں میں مکمل سورج گرھن ہوتا ہے وہاں ایک میلہ کا سا سماں بندھ جاتا ہے۔

 

 

سال 2018 کے آغاز میں بھی مکمل چاند گرھن تھا۔ اس چاند گرھن کو بلو مون یا نیلا چاند کا نام دیا گیا۔ اس گرھن کی انفرادیت کی تین وجوہات بیان کی جاتی ہے۔
اس گرھن کے دوران چاند کا رنگ سرخی مائل تھا۔
اس گرھن کے دوران چاند زمین کے بہت قریب تھا۔
جس کی وجہ چاند اپنے حجم سے کافی بڑا اور روشن دکھائی دے رہا تھا اور اس گرھن کے دوان چاند مکمل دنوں کا تھا اس وجہ سے اسے بلو مون کا نام دیا گیا۔

 

ماہ جولائی کی 27 تاریخ کو لگنے والے گرھن کی انفرادیت اس کی مکمل تاریکی کا طول عرصہ ہے۔

 

ایک ماہر فلکیات کے مطابق اس گرھن کے دوران چاند زمین کے محور سے بہت دور ہو گا اور چاند کے اس مقام کو آپوجی کہا جاتا ہے۔ گرھن کے دوران چاند کے زمین سے دور ہونے کے سبب چاند کی زمین کے گرد گردش کی رفتار کم ہو گی جو گرھن کی طوالت میں اضافہ کا سبب ہو گا اور چاند مکمل گرھن میں 1 گھنٹہ اور 43 منٹ تک رہے گا۔

 

اس سال 27 جولائی کا گرھن اس صدی کا سب سے طویل گرھن ہو گا۔ یہ گرھن زمینی تاریخ کا دوسرا سب سے طویل گرھن ہو گا۔ سب سے طویل گرھن کا دورانیہ اس گرھن سے چار منٹ زیادہ تھا۔

 

کیا اس چاند گرھن کو عینک کے بنا دیکھنا درست ہے؟

ماہرین فلکیات کے مطابق چاند گرھن کو بنا حفاظتی تدابیر کے دیکھا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق حفاظتی تدابیر سورج گرھن میں اختیار کی جاتی ہیں کیونکہ سورج کی تیز روشنی کو براہ راست دیکھنا آنکھوں کے نقصان دہ ہوتا ہے جبکہ چاند کی روشنی مدھم ہوتی ہے اس لیے اس کو براہ راست دیکھا جا سکتا ہے۔

 

اس گرھن کو دیکھنے کا بہترین وقت کون سا ہے ؟

ماہرین فلکیات کے مطابق اس گرھن سے لطف اندوز ہونے کا بہترین طریقہ یہ کے گرھن کے مختلف اوقات میں کھلی جگہ پر اسے دیکھا جائے تاکہ اس کے مختلف مراحل کا مشاہدہ کیا جا سکے۔ وہ ممالک جہاں یہ گرھن دیکھا جائے گا ان کے لیے سب سے اہم اوقات  وہ  ہوں گے جب زمین اپنا سایہ چاند پر ڈالنا شروع کرے گی، جب چاند سرخ ہو جائے گا اور جب زمین کا سایہ چاند سے کم ہونا یا چاند سے ہٹنا شروع ہو گا اور یہ سب کچھ چار گھنٹہ کے دورانیہ میں ہو گا۔

 

اس گرھن کو دیکھنے والوں کو قدرت ایک اور شاہکار بھی دکھائے گی کہ جب گرھن کے دوران چاند کی روشنی کو زمین روک دے گی تو چاند کی بائیں طرف سیارہ مریخ اور دودھیا کہکشاں یعنی ملکی وے کو بھی دیکھا جا سکے گا جس کو انسانی آنکھ نہیں دیکھ پاتی۔

 

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*