جادو و فلسفہ ایثری

jadu-or-falsafa-e-ether

روحانیت میں ایثری دنیا یا کاسمک ورلڈ سے مراد وہ غیر مادی دنیا لی جاتی ہے جو شعور برتر کی سطح پر آکر روشن ہوتی ہے اور اس دنیا میں فرشتے ارواح و جنات مقیم ہیں ۔ یہ دنیا اس قدر حساس ہے کہ نہ صرف دنیاوی شور شرابے سے بلکہ ارادہ و خیال سے ہی اس میں لہریں اٹھنا شروع ہوجاتی ہیں ۔ ہمارے اندرونی جذبات کی قوتوں کو ایثری امواج یا کاسمک وائبریشنز کہنا بالکل درست ہے ۔ کیوں کہ یہ ایثری دنیا میں زبردست تحریک کا باعث ہوتی ہیں جو اس دنیا پر بھی اثر انداز ہوتی ہے ۔

قانون حرکت فی الفضاء کی رو سے عالم وجود کی ہر ایک چیز جاندار بھی اور بے جان بھی فضاء میں پیدا ہونے والی کسی تحریک کا نتیجہ ہے اس حرکت کا تجزیہ کیا جائے تو پانچ نقاط واضح ہوتے ہیں ۔
(1) تخیل

(2) ظن

(3)ترغیب

(4)ارادہ

(5) فعل

ان پانچوں نقاط کو مد نظر رکھتے ہوئے کوئی ایسی ہستی جسے عالم ایثری کی مثبت اور نفی ۔ نیک اور بد قوتوں کی مدد اور رہنمائی شعور برتر کی سطح پر حاصل ہو اور وہ عالم یکسوئی میں کوئی عبارت بولے یا لکھے تو وہ ایک پر تاثیر عزیمت یا منتر ہوگا ۔ ایثری لہریں پہنچتی ہر شخص تک ہیں لیلکن وہاں صرف جذبات پیدا کرتی ہیں ، باطنی یکسوئی اور مقناطیسی کشش کے حامل عاملین کی توجہ اور یکسوئی ان لہروں کو حروف میں بد ل دیتی ہے یہ منتر ہے ۔

یہ الفاظ عام الفاظ کی طرح نہیں ہوتے یہ جس مقصد کے لئے ہوں اس کے لئے بھرپور طاقت رکھتے ہیں نقش کا مسئلہ بھی کچھ ایسا ہی ہے ۔

خزانہ اعتقادات و مرتکز توجہات یعنی خزانہ ایثری امواج کے ہر دو حصہ جات نوری و ناری علوی و سفلی سے استفادے کے لئے بطور کلید مخصوص الفاظ حرکات حالات شرائط اور کچھ نامیات وغیر نامیاتی اجزا کے ذریعے پیدا کی گئی کیفیات استعمال کی جاتی ہیں ۔ مثلاً آپ کسی مقصد کے لئے ایسی عمل خوانی کر رہے ہوں جس میں نامیابی یا غیر نامیابی بخور بھی استعمال ہوں جلالی جمالی پرہیز بھی ہو ستاروں کی مخصوص پوزیشنوں کی بھی شرط ہو اور حالت تنہائی بھی لازم ہو ۔

علوی عملیات نیک روحوں کی مدد سے اور سفلی عملیات شیطانی روحوں کی مدد سے تاثیر دیتے ہیں ۔ منتروں جنتروں عزیمتوں اور نقوش کو تصرف میں لانے کے لئے متنوع طریقے استعمال کئے جاتے ہیں کئی عزیمتیں نقوش کے ساتھ استعمال ہوتی ہیں بلکہ اکثر ہوتی ہیں بعض منتروں اور عزیمتوں کو نقوش کے ساتھ یا نقوش کے بغیر پڑھتے ہوئے علت و معلول میں تعلق فرض کرکے حرکات کی جاتی ہیں مثلاً کسی عزیمت کو کسی نقش کے ساتھ کسی ایسے پُتلے پر پڑھتے ہوئے سوئیاں چبھونا جو کسی دشمن کا تصور کرکے اس کے بال یا اس کا پہنا ہوا کوئی کپڑا استعمال کرکے بنایا گیا ہو اس طرح نظریہ رکھا جاتا ہے کہ اس سے دشمن کو تکلیف ہوگی بعض اوقات بعض نقوش پر بھی مخصوص اشکال اور شبیہہیں
وغیرہ بنائی جاتی ہیں ۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*