مولانا ٹرین والے

maulana-train-walay

لوکل ترین کراچی سٹی کے پلیٹ فارم نمبر ایک پر کھڑی تھی، روانگی میں صرف چند منٹ رہ گئے تھے، دفتری اور کاروباری مصروفیات کے بعد لوگ گھروں کو واپس جارہے تھے، بے پناہ ہجوم کے باعث گاڑی میں تل رکھنے کی جگہ نہیں تھی لیکن مسافروں کی آمد کا سلسلہ ہنوزجاری تھا، سیٹوں کا ذکرچھوڑٰئے کھڑے ہوئے لوگوں کا دم گھٹا جارہا تھا، ایسے میں جو شخصیت اس کمپارٹمنٹ میں زور لگا کر بمشکل داخل ہوئی وہ علم و فضل کی جیتی جاگتی اور متحرک و ناطق تصویر تھی!
“السلام علیکم!” بڑی با رعب اور پرجلال آوازتھی ان کی۔!
“وعلیکم السلام” ہرشخص نے پرجوش اندازمیں ان کے سلام کا جواب دیا۔
اورجس مقام پر آکر وہ کھڑے ہوئے وہاں کچھ لوگوں نے انھیں اپنی اپنی سیٹ پیش کی اور بالآخر وہ میرے برابر بیٹھ گئے۔ اس مرد صالح کی ہمنشینی سے مجھے بڑا سکون ملا۔ اور میں سوچنے لگا کہ ہمارے دور میں لوگوں کا اخلاق ہزارگر گیا ہے۔ پھر بھی اتنی بات تو باقی ہے کہ اپنی سیٹ ایک بزرگ اور عالم فاضل ہستی کے لئے چھوڑ دی۔ کاش ایسے ہی اخلاق کا مظاہرہ زندگی کے ہر شعبہ میں نظر آتااور دنیا ہمارے لئے جنت بن جاتی! دیکھنے میں یہ ایک معمولی سا واقعہ ہے لیکن یہ معمولی واقعات ہی تو ہمارے اسلام کی اساس ہیں انھیں نظرانداز کردیں تو رہے گا کیا ! افسوس ناک حقیقت یہ ہے کہ ہم نے اسلامی اقدار پس پشت ڈال دی ہیں اور خود غرض اور نفس پرستی کو اپنا لیا ہے۔ ہمارا یہی ایک مرض دور ہو جائے تو امن و ایمان کے قیام کا سامان ہو جائےاور حیات انسانی میں جو بگاڑ کی صورت پیدا ہوگئی ہے دفع ہو جائے۔
daal-dega-teri-zindagi-main-bigar

ہمارے مقررین و واعظین کا بھی سوچنے اور بولنے کا انداز بدل گیا ہے اس انداز میں مصالحت کی جگہ مصلحت در آئی ہےان حضرات کی زبان سے محبت کے پھول نہیں برستے ، خاردار شعلوں کی بارش ہوتی ہے۔ یہ محض اپنی سخن گستری سے پندارعالم کی تاخت چاہتے ہیں اور اس امر محال کو سہل الحصول گردانتے ہیں لیکن اپنے دل کے سومنات کی انھیں مطلق خبر نہیں۔
chahta-hai-jo-pindar-e-alam-ki-takhat

ان کا اپنا کردار دیکھئے اور بر سر منبر نعرہ ہائے مستانہ ملاحظ فرمائیے! یہی وہ سحر طراز مجانین ملک و ملت ہیں جو دوسروں کو شہادت کا نشہ عطا فرماتے ہیں لیکن خود کوٹھیوں اور تہ خانوں میں بیٹھ کر شہادت کے نام پر مر مٹنے والوں کو محض لفظی دادوتحسین دیتے رہتے ہیں۔ ان کے نزدیک ان کا حریف زندگی میں زانی شرابی عیار مکار اور قابل لعنت و ملامت شخصیت ہوتا لیکن جب اسی حریف کی گردن پر موت کی گرفت سخت ہو جاتی ہے تو مگر مچھ کے آنسو بہائے جاتے ہیں اس کی صحت کے لئے دعاوں کی اپیلیں کی جاتی ہیں حتی کہ جب وہ مر جاتا ہے تو اسے “ملک اور قوم کا نا قابل تلافی خسارہ” فرار دے دیا جاتا ہے۔ طرفہ تماشہ کہ یہی مطعموں اور گناہ گار ہستی کسی وجہ سے قتل ہو جاتی ہے تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شہید کہلاتی ہے اور پھر اس شہادت عظمی کا ڈ نڈ پوری قوم کو ادا کرنا پڑتا ہے۔
maslehet-pe-dia-kartay-hain-jaan-log

میں کہتا ہوں کہ شہادت اتنی سستی نہ کرو کہ بے وقعت ہو کر رہ جائے “اللہ اکبر” کے تعرے جاوبے جا لگانے سے دشت و جبل نہیں کانپ سکتے نعرہ پنجتن بھی اسی وقت کام آئے گا جب پنجتن کی محبت دلوں میں گھر کر لے!
unki-ulfat-na-ho-jab-dil-main

موت وہ ہر گز نہیں ہے جسے آپ موت کہتے ہیں موت اس خوف کا نام ہے جو موت کے تصور سے پیدا ہوجاتا ہے ۔
maut-woh-to-nahi-jis-se-dartay-hain-aap

لیکن یہ سب کچھ میں کس سے کہوں؟۔۔۔۔ ان سے جو کان رکھتے ہیں اور سنتے نہیں ! زبان رکھتے ہیں اور بولتے نہیں ! فہم و فراست کے مالک ہیں لیکن بے حس ! یا آن سے جو ضرورت سے زیادہ اہل دانش ہیں لیکن ان کی دانش ایٹم اور ہائیڈروجن میں گم ہے ! وہ امن کے نام پر تباہیاں تخلیق کر رہے ہیں۔
garq-kardeingay-yeh-un-se-kia-baeed

میں ابھی ان ہی خیالات میں گم تھا کہ ٹرین آہستہ سے آگے سرک گئی اور وہ نورانی ہستی جسے میں نے علم و فضل کی تصویر پر لکھا ہے پہلے تو کھلبلائی اور پھر بھاری بھرکم اور با رعب لہجے میں گویا ہوئی۔
“تھوڑی سی جگہ خالی کردو۔۔۔۔۔ نماز پڑھنی ہے”
چار آدمی نہایت خلوص کے ساتھ اپنی جگہ سے کھڑے ہوگئے ۔ عصر کی چار رکعت نماز کراچی سٹی سے شروع ہو کر نصف گھنٹے میں ڈرگ کالونی پر ختم ہوئی۔
مجھے آپ لوگوں سے کچھ کہنا ہے” بزرگ ہستی کی آنکھوں سے شعلے پرس رہے اور کڑے تیور اس امر کی غماز تھے کہ وہ پھٹ پڑنے کی تیاری کر رہے ہیں۔
فرمائیے ! فرمائیے ! کچھ لوگوں نے کہا۔
تم میں سے کون مسلمان نہیں ہے؟ ان کے یہ الفاظ کانوں میں گونج اٹھے ہر طرف موت کا سناٹا چھا گیا۔ حاضرین کو خاموش پاکر انہوں نے پہلے سے بھی زیادہ کرخت اور گونج دار آواز میں کہا۔
میں پوچھتا ہوں کہ تم میں سے کوئی مسلمان نہیں؟ بے شرمی کی انتہا ہے کہ ہمیں نماز پڑھتے دیکھ کر بھی تمہیں نماز کا خیال نہ آیا ؟ دل سیاہ ہو گئے ہیں تمہارے! تم کتے ہو! بلکہ کتے سے بھی بد تر ! ان کے طرز تکلم سے پہلی بار مجھے گھن محسوس ہوئی اور بے ساختہ حضرت موسی علیہ السلام یاد آگئے۔ جنہیں باری تعالی نے فرعون کے پاس جانے اور اسے راہ راست پر لانے کا حکم دیتے ہوئے اخلاق سے نرم گفتاری کی ہدایت کی تھی کیونکہ حضرت موسی علیہ السلام کا انداز گفتگو دل نشین نہیں تھا اور اسی وجہ سے انہیں التجا کرنی پڑی تھی کہ میرے بھائی ہارون کو بھی نبی بنا کرمیرے ساتھ کردے کیونکہ ان کا انداز گفتگومستحسن ہے! ان کہ بعد وہ زمانہ بھی یاد آیا جب آںحضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے ہر صحابی کو اشاعت دین کے سلسلے میں نرم گفتاری اور شیریں بیانی کی تلقین فرمائی تھی۔ اللہ اللہ اسوہ حسنہ کے علمبرداروں کا آج یہ عالم ہے کہ نماز کی تلقین کرنے چلے ہیں اور انداز گفتگو میں یہ نا شائستگی ؟
“قبلہ! ذرا اپنے الفاظ پرغور فرمائیں!” میں نے نہایت عاجزی کے ساتھ عرض کی ۔ انھوں نے غصے اور پیچ و تاب کے ساتھ میری طرف آنکھیں پھاڑ کے دیکھا۔
کیا غور فرماؤں؟
آپ بلا امتیاز لوگوں کو کتا بنا رہے ہیں!
تو کون ہے بیچ میں بولنے والا؟
“پاگل ہے بے !” ایک طرف سے آواز آئی مگر یہ خدائی فوجدار نہ سمجھ سکا کہ آواز کس نے کسا!
“پاگل تم خود ہو شیطانو!” بزرگ ہستی کی حالت دیکھنے کے قابل تھی۔
“شیطان تیرا باپ ہے ” پھر کسی نے کہا اور تمہارا دادا ہے شیطان !
تیرا خاص رشتہ دار ہے ۔ اس مرتبہ آواز دوسری طرف سے آئی تھی ۔
” میں خون پی جاؤں گا حرامزادوں کا ! ” بزرگوار پھٹ پڑے اور اس کے ساتھ ہی ” پکڑو پکڑو مارو سالے کو ” کا شور گونج اٹھا ۔
” جس کی موت نے دھکا کھایا ہے وہ بڑھے میری طرف ! “
یہ کہہ کر انہوں نے باقاعدہ اپنا عصا بلند کرلیا ۔
کتنے افسوس کی بات ہے کہ بات بڑھتی چلی جا رہی ہے ۔
” یہ سب تیری شرارت ہے “
وہ کیسے ؟ میں نے مسکراتے ہوئے پوچھا ۔
” اب بنتا بھی ہے شیطان ؟”
” آپ تو شیطان کا نام اس طرح بار بار لے رہے ہیں جیسے اس سے آپ کا کوئی رشتہ ہی ہو !”
“میرا تو ہے ۔ ً”
” کیوں نہیں ۔۔۔۔ ؟ میرا تو اس سے دشمنی کا رشتہ ہے اگر آپ کا اس سے کوئی رشتہ نہیں تو میں آپ کا کیا بگاڑ سکتا ہوں ۔ ! “
میرا اتنا کہنے سے فضا میں کچھ قہقہے بلند ہوئے کچھ وہ خدائی فوجدار مسکرایا غرضیکہ ایک عظیم الشان معرکہ ہوتے ہوتے رہ گیا ۔
ملیر کالونی کے اسٹیشن سے گاڑی روانہ ہوتے ہی ٹکٹ چیکر صاحب آدھمکے اور انہوں نے اتنے بڑے ہجوم کو نظر انداز کرکے سب سے پہلے اور بالخصوص انہی حضرت سے ٹکٹ طلب کیا
“ٹکٹ!”
” ٹکٹ ؟۔۔۔” مولانا نے ایک ایک کرکے تمام جیبیں ٹٹولنا شروع کیں ۔
” وقت ضائع کرنے کی کوشش نہ کرو ! ” ٹکٹ چیکر صاحب نے سخت لہجے میں کہاؔ
” معاف کیجئے ۔۔۔۔۔۔ “
” کیا بکواس ہے “
” مطلب یہ ہے کہ میں جلدی میں بے ٹکٹ ہی گاڑی ۔۔۔۔۔ “
” بے ٹکٹ سفر کرنا تمہاری عادت میں شامل ہے میں کئی بار تمہیں معاف کرچکا ہوں شرم نہیں آتی صورت ملانوں کی اور ” دل ” قصائیوں کا ۔ ! جرمانہ ادا کرو۔۔۔ “
” جرمانہ ؟ جرمانہ ادا کرسکتا تو ٹکٹ نہ خرید لیتا ! “
” ٹھیک ہے ۔۔۔!” چیکر نے اشارہ کیا اور کانسٹیبل نے مولانا کا ہاتھ تھام لیا ۔۔۔ !

 

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*