
وہم کا مرض – ایک ذاتی مشاہدہ
وہم کا علاج ایسا موضوع ہے جسے سن کر اکثر لوگ مایوسی سے کہتے ہیں کہ اس مرض کا تو کوئی علاج ہی نہیں۔ ہم نے بچپن سے یہی سنا ہے کہ وہم کا علاج تو لقمانِ حکیم علیہ السلام کے پاس بھی نہیں تھا۔ لیکن قرآن حکیم کے معجزات کی کوئی حد نہیں، اور آج آپ کی خدمت میں ایک ایسا مجرب عمل پیش کیا جا رہا ہے جسے عام طور پر "waham ka ilaj” بھی تلاش کیا جاتا ہے اور جس سے وہم کی بیماری میں حیرت انگیز سرعت سے افاقہ آتا ہے۔
بات یوں ہے کہ راقم الحروف اپنے محلے کی مسجد میں بیٹھا وضو کر رہا تھا۔ میرے ساتھ ایک جوان لڑکا جو اسی مسجد کا موذن بھی ہے اور میرا پڑوسی بھی، وضو کر رہا تھا۔ عصر کی نماز میں ابھی کافی وقت تھا، وضو خانے میں صرف ہم دو ہی تھے۔ میں نے دیکھا کہ وہ وضو میں پانی کا استعمال کچھ غیر معمولی کر رہا تھا۔ میں نے عرض کی کہ آپ پانی کا استعمال زیادہ کر رہے ہیں، تو کہنے لگا کہ مجھے مسئلہ ہے، یعنی وہم کا مرض ہے۔ میں نے کہا کہ کوشش کریں تین بار سے پانی زیادہ نہ بہائیں۔ لیکن مجھے معلوم تھا کہ میرے کہنے کا کچھ فائدہ نہیں ہوگا کیونکہ یہ چیز ان کے اختیار سے باہر ہوتی ہے۔ خیر بات آئی گئی ہو گئی۔
تقریباً ڈیڑھ دو ماہ بعد اسی وقت، اسی جگہ دوبارہ ساتھ جمع ہونے کا اتفاق ہوا۔ اب کے جو میں نے دیکھا تو موصوف نے جلدی جلدی وضو کیا، جس طرح عام طور پر کیا جاتا ہے۔ میں نے حیرت سے کہا کہ آپ نے تو اس بار ٹھیک سے وضو کیا! کہنے لگا کہ ایک دعا پڑھتا ہوں اس سے بہت فائدہ ہوا ہے۔
ان کی اس بات سے مجھے حیرت و استعجاب کا ایک جھٹکا لگا، اور ہمہ تن گوش ان کی طرف متوجہ ہو کر استعجابیہ لہجے میں پوچھا: کون سی دعا؟
وہ قرآنی آیت جس نے وہم کا علاج کیا
"رَبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنْ هَمَزَاتِ الشَّيَاطِينِ، وَأَعُوذُ بِكَ رَبِّ أَنْ يَحْضُرُونِ”
(سورہ المؤمنون، آیات 97-98)
ترجمہ: "اے میرے رب، میں شیطانوں کے وسوسوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں، اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں اس سے کہ وہ میرے پاس آئیں۔”
یہ وہ آیت مبارکہ ہے جس کے ورد سے اس جوان کو وہم کی بیماری سے حیرت انگیز طور پر افاقہ ہوا۔ صرف ڈیڑھ دو ماہ میں ایسا فرق آیا کہ وضو بالکل معمول کے مطابق ہونے لگا۔ جو لوگ "weham ka ilaj in quran” تلاش کرتے ہیں، ان کے لیے یہ آیت مبارکہ ایک عظیم نسخہ ہے۔
وہم اور شیطانی وسوسوں کا تعلق
اس واقعے سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ وہم جیسی بیماریوں میں شیطانی اور جناتی اثرات کا دخل ضرور ہوتا ہے۔ شیطان اہل ایمان کو مسلسل پریشان کرتا رہتا ہے۔ اسی لیے ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ جب قرآن پڑھنے لگو تو شیطان سے اللہ کی پناہ مانگ لو۔
"فَإِذَا قَرَأْتَ الْقُرْآنَ فَاسْتَعِذْ بِاللّـٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ”
(سورہ النحل، آیت 98)
ترجمہ: "سو جب تم قرآن پڑھنے لگو تو مردود شیطان سے اللہ کی پناہ مانگ لیا کرو۔”
وسوسے کا علاج اصل میں شیطانی اثرات سے اللہ کی پناہ مانگنے میں ہی پوشیدہ ہے۔ جب بندہ اللہ کی پناہ مانگتا ہے تو شیطان کے وسوسے کمزور پڑ جاتے ہیں اور انسان کو سکون میسر آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سورہ المومنون کی مذکورہ آیات میں براہ راست شیطانی ہمزات سے پناہ مانگی گئی ہے جو شیطانی وسوسوں کا علاج ہے۔ کیونکہ شیطان اہلِ ایمان کو پریشان کرتا رہتا ہے، اس لیے قرآن نے ہمیں یہ ہتھیار دیا ہے کہ اس کے ہمزات سے پناہ مانگو۔
وہم کی شدت – مزید مشاہدات
آپ بخوبی جانتے ہیں کہ وہم کس قدر سخت و تکلیف دہ مرض ہے۔ بہت کچھ علاج کرانے کے بعد بھی خاطر خواہ کامیابی نہیں ہوتی۔ میں آپ کو اپنے مشاہدے کی دو اور مثالیں بتاتا ہوں تاکہ اس مرض کی شدت کا اندازہ ہو سکے۔
پہلی مثال: وضو میں وسوسے کی انتہا
ایک اور صاحب جو محلے کی دوسری مسجد کے پکے نمازی ہیں اور بہت نیک انسان ہیں، وہ اس مرضِ وہم میں اس قدر مبتلا ہیں کہ جہاں وضو میں بہت زیادہ وقت صرف کرتے ہیں وہاں ہر وضو میں پاؤں کو صابن سے ضرور دھوتے ہیں، اشتداد کے ساتھ۔ اس اشتداد کی وجہ سے ان کی پاؤں کی جلد کی رنگت بھی تبدیل ہو گئی ہے۔ پھر نماز وہ جس دقت سے ادا کرتے ہیں، اللہ کی پناہ۔ اللہ شفاء عطا فرمائے۔
دوسری مثال: وہم کی بیماری کا شدید مریض
ایک اور عزیزہ ہیں جو اس مرضِ وہم میں بری طرح مبتلا ہیں۔ اگر کسی سے ہاتھ ملانا پڑے تو فوراً ہاتھ دھونا ضروری سمجھتی ہیں۔ بس ایک کمرے تک محدود ہیں۔ علاج بھی بہتر سے بہتر ہوا لیکن شفاء ندارد۔ اللہ شفاء عطا فرمائے۔ ان مثالوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہم کی بیماری کا علاج کتنا مشکل سمجھا جاتا ہے اور لوگ مایوسی کے عالم میں رہتے ہیں۔
قرآن حکیم کا کھلا معجزہ
ایسے سخت مرض میں جہاں بڑے بڑے علاج ناکام ہو جائیں، وہاں کچھ کلمات کے ورد سے اتنی سرعت سے افاقہ آنا، قرآن حکیم کا کھلا ہوا معجزہ نہیں تو اور کیا ہے؟ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
"وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا هُوَ شِفَاءٌ وَرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِينَ”
(سورہ بنی اسرائیل، آیت 82)
ترجمہ: "اور ہم قرآن میں ایسی چیز نازل کرتے ہیں جو ایمان والوں کے لیے شفا اور رحمت ہے۔”
شاہ عبد القادر دہلویؒ اپنے ترجمہ قرآن موضح القرآن میں، جو قرآن مجید کا پہلا بامحاورہ ترجمہ ہے اور جسے اہل نظر نے الہامی ترجمہ کہا ہے، اس آیت کے حاشیے میں لکھتے ہیں کہ اس سے دل کے روگ چنگے ہوں، شبہے اور شک ہٹیں، اور اس کی برکت سے بدن کے روگ بھی دفع ہوں۔
روحانی اور طبی علاج میں اعتدال
یہاں ایک اہم بات کی وضاحت ضروری ہے۔ مذکورہ بالا تحریر سے کسی بھی علاج کی نہ نفی مقصود ہے اور نہ تنقیص۔ ہر علاج کی اپنی اہمیت اور افادیت ہے، جس کا انکار سراسر زیادتی ہے۔
نبی کریمﷺ کا طریقہ علاج
اگر احادیث مبارکہ کا مطالعہ کریں تو پتا چلتا ہے کہ بعض مواقع پر نبی کریمﷺ نے صرف اور صرف دم فرمایا ہے۔ بعض مواقع پر صرف طبی علاج تجویز فرمایا ہے۔ اس کی مثال سعد بن ابی وقاص کے واقعے سے ملتی ہے کہ انہیں دل کی تکلیف ہوئی تو نبی کریمﷺ نے انہیں بنو ثقیف کے طبیب حارث بن کلدہ کے پاس جانے کا فرمایا اور علاج بھی تجویز فرمایا کہ مدینہ کی عجوہ کھجوروں میں سے سات کھجوریں گٹھلیوں سمیت کوٹ کر کھلائے۔ آپ چاہتے تو دم بھی فرما سکتے تھے لیکن یہاں صرف طبی علاج تجویز فرمایا۔
بعض موقع پر آپ نے قرآنی اور طبی علاج دونوں کو یکجا کیا ہے۔ جس کی مثال اس حدیث سے ملتی ہے کہ دوران نماز بچھو نے کاٹ لیا تھا، پھر آپ نے نمک پانی میں حل کر کے متاثرہ جگہ پر لگاتے رہے اور اس دوران قرآن کی آخری تین سورتیں بھی پڑھتے رہے۔ یہاں طبی اور روحانی علاج دونوں یکجا فرمائے۔
"وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا”
(سورہ البقرہ، آیت 143)
ترجمہ: "اور اسی طرح ہم نے تمہیں معتدل امت بنایا۔”
طبیعت میں وسعت اور مزاج میں اعتدال رہنا چاہیے جو اس امت کی شان ہے۔ لہٰذا وہم کا علاج کرتے ہوئے روحانی اور طبی، دونوں طریقوں کو ساتھ ساتھ اپنایا جا سکتا ہے۔ مزید وظائف اور اعمال کے لیے ہماری ویب سائٹ ملاحظہ فرمائیں۔
آیت مبارکہ پڑھنے کی ترکیب اور عمل
وہم کا علاج کرنے کے لیے جو آیت مبارکہ آپ کی خدمت میں پیش کی گئی، اس کے پڑھنے کی ترکیب خود اسی جوان سے پوچھی گئی کہ کتنا پڑھتے ہیں؟ تو اس نے کہا: جب یاد آئے، یعنی کھلا ورد۔
وہم سے نجات کے لیے مذکورہ دعا کو کثرت سے پڑھیں۔ میرا مشورہ ہے کہ پانچوں نمازوں کے بعد کم از کم سات مرتبہ اس کا ورد معمول بنا لیں۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
وہم کا علاج کیا ہے؟
وہم کا علاج قرآن سے کیسے ممکن ہے؟
وسوسوں سے نجات کی دعا کون سی ہے؟
وضو میں وسوسے آئیں تو کیا کریں؟
کیا وہم کا کوئی علاج ہے یا نہیں؟





